Font by Mehr Nastaliq Web

مجھے اپنی ذات میں ایک چیز بھی ایسی نظر نہیں آتی جسے میں ’’آخرت میں‘‘ اپنی دستاویز خیال کروں اور یہ سمجھوں کہ بار گاہِ ربانی میں کام آئے گی اور روتے تھے۔

شیخ سیف الدین دہلوی

مجھے اپنی ذات میں ایک چیز بھی ایسی نظر نہیں آتی جسے میں ’’آخرت میں‘‘ اپنی دستاویز خیال کروں اور یہ سمجھوں کہ بار گاہِ ربانی میں کام آئے گی اور روتے تھے۔

شیخ سیف الدین دہلوی

MORE BYشیخ سیف الدین دہلوی

    مجھے اپنی ذات میں ایک چیز بھی ایسی نظر نہیں آتی جسے میں ’’آخرت میں‘‘ اپنی دستاویز خیال کروں اور یہ سمجھوں کہ بار گاہِ ربانی میں کام آئے گی اور روتے تھے۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے