شیخ سیف الدین دہلوی کے صوفی اقوال
غفلت کے مواقع میں سے ایک کھانے کا موقع بھی ہے مگر زیرک شخص کے لیے یہ عین مشاہدہ ہے یعنی کھانے کی کیفیت اور اس کی لذت میں غور کرے کہ یہ کہاں سے ہے اور کیوں کر ہے اور اس بات کی کیا حقیقت ہے اور اس کے پانے والے کی کیا حیثیت ہے۔
مریدین کو چاہیے کہ اپنے شیخ کو مثل باپ کے سمجھے اور دوسرے مشائخ کو مثل چچا کے یقین کرے، ظاہر ہے کہ چچا بھی واجب الاحترام ہوتا ہے، اس کی تنقیص و توہین از روئے عرف و شرع کسی طرح گوارا نہیں کی جا سکتی مگر اب یہ غلو وبا کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
مجھے اپنی ذات میں ایک چیز بھی ایسی نظر نہیں آتی جسے میں ’’آخرت میں‘‘ اپنی دستاویز خیال کروں اور یہ سمجھوں کہ بار گاہِ ربانی میں کام آئے گی اور روتے تھے۔
نور کے ٹکڑے ہونا نا ممکن ہے، اگر ہزار چراغ ایک چراغ سے جلا لیے جائیں تاہم اس ایک چراغ کے نور میں کوئی نقصان نہ ہوگا اور نہ اس کا کوئی حصہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگا، اسی طرح خدا کی ذات پاک ہے کہ باوجودیکہ ساری چیزوں کا وہی سر چشمہ ہے، تاہم وہ اپنے حال اور تجرد اور اطلاق پر ہے، ان کا حال یہ تھا کہ اگر حفظانِ صحت اور بیماری دور کرنے کی خاطر کوئی علاج کرنا چاہتا تو اس کی پابندی نہ فرماتے۔
جب بھی خدا کی کبریائی اور بے نیازی کا خیال آتا ہے تو اپنی طاعتیں اور معرفتیں بیکار سی نظر آنے لگتی ہیں، خدا ہی جانے کہ کیا انجام ہوگا اور آخری مرحلہ کیسے طے ہوگا۔
اس جماعت سے مجھے حیرت ہے جو مخلوق کے لیے کوئی نیک کام کرتی ہے تاکہ ان کے نزدیک اعتبار و اعتماد قائم ہو، میاں! مخلوق سے کیا کام؟ کام تو در اصل خدا سے ہے۔
لذتِ دنیا کی نوعیت لذتِ احتلام کی سی ہے کہ ایک لمحہ میں فنا ہو جاتی ہے مگر اس کی کثافت و کدورت باقی رہ جاتی ہے۔
اگر تمہیں اپنے پیر سے محبت و عقیدت ہے تو اس کی وجہ سے دوسروں سے جنگ نہ کرو اور تعصب اختیار نہ کرو، اس لیے کہ در حقیقت یہی محبت کا تقاضہ ہے اور جس کو محبت نہیں ہوتی وہ آخر کیا کرے، فائدہ تو محبت و عقیدت اور ان کی اتباع میں ہے، لہٰذا اگر تم جنگ کرتے ہو تو وہ پیروں کے لیے نہیں ہے بلکہ اپنے نفس کے لیے ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere