Font by Mehr Nastaliq Web

من بندۂ عاصیم رضائے تو کجاست

عمرخیام

من بندۂ عاصیم رضائے تو کجاست

عمرخیام

MORE BYعمرخیام

    من بندۂ عاصیم رضائے تو کجاست

    تاریک دلم نور صفائے تو کجاست

    ما را تو بہشت اگر بطاعت بخشی

    ایں مزد بود لطف و عطائے تو کجاست

    میں ایک گناہ گار بندہ ہوں، جو اپنے رب کی رضا کا محتاج ہے۔ میرے دل میں اندھیرا ہے اور میں نُورِ صفا کی بخشش کا طلبگار ہوں۔ اگر مولا صرف طاعت کے بدلے میں جنت عطا کرے، تو یہ مزدوری ہوئی۔ پھر اُس کی بے پایاں عطا اور رحمت کہاں رہی؟

    مأخذ :
    • کتاب : رباعیات عمر خیام رباعیات عمر خیام رباعیات عمر خیام (Pg. 38)
    • Author : اے۔ سی۔ بوس
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے