Font by Mehr Nastaliq Web

صبا گزر ہو جو سوئے_طیبہ بصد درود_و_سلام کہنا

امیر بخش صابری

صبا گزر ہو جو سوئے_طیبہ بصد درود_و_سلام کہنا

امیر بخش صابری

MORE BYامیر بخش صابری

    صبا گزر ہو جو سوئے طیبہ بصد درود و سلام کہنا

    اس سبز گنبد کی جالیوں سے لپٹ کے میرا پیام کہنا

    لگی ہوئی ہے جو تن بدن میں جل گیا ہوں اسی جلن میں

    حضور بطحا نگر کے بن میں کب ہوگا میرا قیام کہنا

    یہ جس طرح سے گزر رہی ہے گویا قیامت اٹھی ہوئی ہے

    نظر مدینے لگی ہوئی ہے کرم یا خیر الانام کہنا

    وہ دیکھوں جلوہ نور کب تک تڑپنا ہے یہ حضور کب تک

    رکھو گے قدموں سے دور کب تک تڑپ رہا ہے غلام کہنا

    صبا خدا را مدینے جا کر در محمد پہ سر جھکا کر

    مرا فسانۂ غم سنا کر یہ حال میرا تمام کہنا

    ہے ختم ہونے کو زندگانی نہ رکتی اشکوں کی اب روانی

    مری کہانی مری زبانی حضور سے صبح و شام کہنا

    پکارتی پھر رہی ہے رحمت یہی ہے جنت یہی ریاضت

    امیرؔ افضل یہی عبارت درود پڑھنا سلام کہنا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے