Font by Mehr Nastaliq Web

زائرو پیش کرو جب شہ_ذیشاں کو سلام

حمید صدیقی لکھنوی

زائرو پیش کرو جب شہ_ذیشاں کو سلام

حمید صدیقی لکھنوی

MORE BYحمید صدیقی لکھنوی

    زائرو پیش کرو جب شہ ذیشاں کو سلام

    ہم غریبوں کا بھی سلطان غریباں کو سلام

    یاد رکھنا حرم پاک کے جانے والو

    اس گنہ گار کا بھی رحمت یزداں کو سلام

    خوابگاہ شہ کونین یہ ہر لحظہ درود

    سحر و شام میرے حاصل ایماں کو سلام

    جس سے ہوتی ہیں میری ہجر کی راتیں روشن

    حرم قدس کی اس شمع شبستاں کو سلام

    گنبد خضریٰ کا ہر روز جو کرتی ہیں طواف

    ان شعاعوں کو اور اس مہر درخشاں کو سلام

    در اقدس پہ جو مصروف گہر باری ہو

    نگہ شوق کا اس دیدۂ گریاں کو سلام

    نگہ سرور کونین پڑی ہے جس پر

    اس رہ منزل و کوہسار و بیاباں کو سلام

    محو آرام ہیں جس خاک پہ اصحاب احد

    ایک مہجور کا اس گنج شہیداں کو سلام

    جس میں ہے خلد در آغوش قبا کی مسجد

    اس خیاباں کو سلام اس چمنستاں کو سلام

    ان کی رحمت سے میسر ہوں وہ دن کاش حمیدؔ

    خود کریں عرض شہنشاہ رسولاں کو سلام

    مأخذ :
    • کتاب : گلدستۂ نعت (Pg. 75)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے