سلام اس ذات_اقدس پر سلام اس فخر_دوراں پر
سلام اس ذات اقدس پر سلام اس فخر دوراں پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکاں پر
سلام اس پر جو حامی بن کے آیا غم نصیبوں کا
رہا جو بیکسوں کا آسرا مشفق غریبوں کا
مددگار و معاون بے بسوں کا زیر دستوں کا
ضعیفوں کا سہارا اور محسن حق پرستوں کا
سلام اس پر جو آیا رحمتہ اللعالمین بن کر
پیام دوست لے کر صادق الوعد وا میں بن کر
سلام اس پر جلائی شمع عرفاں جس نے سینوں میں
کیا حق کے لیے بیتاب سجدوں کو جبینوں میں
سلام اس پر بنایا جس نے دیوانوں کو فرزانہ
مے حکمت کا چھلکا یا جہاں میں جس نے پیمانہ
بڑے چھوٹوں میں جس نے اک اخوت کی بنا ڈالی
زمانہ سے تمیز بندہ و آقا مٹا ڈالی
سلام اس پر فقیری میں نہاں تھی جس کی سلطانی
رہی زیر قدم جس کے شکوہ و شان خاقانی
سلام اس پر جو ہے آسودہ زیر گنبد خضریٰ
زمانہ آج بھی ہے جس کے در پہ ناصیہ فرسا
سلام اس پر کہ جس نے ظلم سہہ سہہ کر دعائیں دیں
وہ جس نے کھائے پتھر گالیاں اس پر دعائیں دیں
سلام اس ذات اقدس پر حیات جاودانی کا
سلام آزادؔ کا آزاد کی رنگینیٔ بیانی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.