تم پہ لاکھوں سلام ابن_حیدرؑ سرور_انبیا کے نواسے
تم پہ لاکھوں سلام ابن حیدرؑ سرور انبیا کے نواسے
دم بدم یہ صدا آ رہی ہے آج بھی مقتل کربلا سے
تم نے اپنا لہو بھر دیا ہے دین کو سرخرو کر دیا ہے
ورنہ اسلام بے رنگ ہوتا رنگ نکھرا ہے خون وفا سے
گھر کو راہ خدا میں لٹا کر اور سجدے میں سر کو کٹا کر
تم نے پورا کیا ہے وہ وعدہ جو کیا تھا حبیب خدا سے
تھی نہ دولت کی تم کو ضرورت اور نہ پیش نظر تھی حکومت
صرف تبلیغ حق سے غرض تھی کام کچھ بھی نہ تھا ماسوا سے
یہ بھی امت کی خاطر سبق ہے اور ہدایت کا زریں ورق ہے
ورنہ تسنیم و کوثر کے مالک دشت کرب و بلا میں ہوں پیاسے
زندگی راہ حق میں مٹانا پیش باطل نہ سر کو جھکانا
یہ بھی پیغام ہم کو ملا ہے اے صباؔ دین کے رہنما سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.