سلام اے مرشد_و_رہبر شہ_عالی گہر وارث
دلچسپ معلومات
سلام بہ بارگاہ حاجی وارث علی شاہ (دیوہ-بارہ بنکی)
سلام اے مرشد و رہبر شہ عالی گہر وارث
سلام اے مظہر داور شہ جن و بشر وارث
حبیب سید عالم شہ دیو سلام اللہ
فدا تم پر زمانہ ہے مرے مولا سلام اللہ
سلام اے نور چشماں جناب فاطمہ وارث
سلام اے جانشین حضرت مشکل کشا وارث
سلام اے مظہر حسن حسن سبط رسول اللہ
حسین ابن علی کے شاہزادے صد سلام اللہ
کہوں کیا آپ پہ رون ہے جو دل کی تمنا ہے
بنا مانگے دیا تم نے ہر اک سائل کا کہنا ہے
بنام مصطفیٰ امداد کیجیے یا مرے وارث
تصدق فاطمہ فریاد سنیے یا مرے وارث
زمانے میں نہ رکھنا غیر کا محتاج یا وارث
گدائے در کی تیرے ہاتھ ہے اب لاج یا وارث
ہوں مجرم بے عمل کھوٹا شہا عفو و کرم کر دو
جو تم چاہو تو پل میں میری مشکل کو بھی حل کر دو
گرفتار مصیبت کی خبر للہ اب لیجیے
کرم کیجیے کرم کیجیے کرم کیجیے کرم کیجیے
سنائیں حال غم کس کو ہے کون اپنا سوا تیرے
مٹانے پر تلا ہے یہ زمانہ آپ کے ہوتے
مجھے بھی سرخرو کر دو بنا دو شاد کاموں میں
پکارا جاؤں محشر میں شہا تیرے غلاموں میں
چلوں میں راہ حق پر آپ کی نظر عنایت سے
نہ ہوں غافل کبھی آداب ارباب محبت سے
سوا تیرے رہے دل میں نہ میرے کچھ شہا باقی
نگاہ ناز سوئے دل ذرا ساقی ذرا ساقی
ہو دل میں آپ کی یادیں نظر میں آپ کا چہرہ
یہ سانسیں آخری جب ہوں زباں پر نام ہو تیرا
سلامی کو ہے حاضر یادگارؔ مبتلا تیرا
فقیر بے نوا تیرا وہ مصروف ثنا تیرا
تصدق سیدہ کا التجا کو باریابی ہو
کرم سے آپ کے دونو جہاں میں کامیابی ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.