آج غوث_الوریٰ کا صندل ہے
آج غوث الوریٰ کا صندل ہے
ابن مشکل کشا کا صندل ہے
حور جنت سے کیوں بلائیں نہ لیں
جان خیر الوریٰ کا صندل ہے
سر کے بل چلئے ساتھ ساتھ اس کے
خلق کے رہنما کا صندل ہے
کیوں نہ ہو ہر ولی یہاں حاضر
سید الاولیا کا صندل ہے
پڑھنے آئیں نہ کیوں فرشتے درود
نور خیر الورا کا صندل ہے
نور سے راہ کیوں نہ ہو پر نور
شمع بزم ہدیٰ کا صندل ہے
لا تخف یا مرید جس نے کہا
یہ اسی با صفا کا صندل ہے
صوفیو صافیو صفائے ظہور
قدوۃ الاصفیا کا صندل ہے
نفی اس بات میں ہیں سب ذاکر
زبدۃ الاؤلیا کا صندل ہے
نام سے جس کے دل تڑپتا ہے
آج اسی دل ربا کا صندل ہے
تو بھی آنکھوں سے ساتھ چل شائقؔ
تیرے ہی پیشوا کا صندل ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.