صندل لیے آتا ہے وہ مستانہ کسی کا
کچھ اور ہی مستی میں ہے مستانہ کسی کا
پیتا ہے کوئی جام کوئی خم کوئی شیشہ
اے بادہ کشو کھل گیا مے خانہ کسی کا
مستو کوئی دامن تو کوئی گود کو بھر لے
تقسیم یہاں ہوتا ہے نذرانہ کسی کا
سب پاتے ہیں اس در سے دوائے دل بیمار
سب کے لیے جاری ہے شفا خانہ کسی کا
عالم پہ ہے چھائی ہوئی رحمت کی گھٹائیں
آج اور ہی عالم میں ہے مستانہ کسی کا
عرفان کے عالم پہ ہے چھائے ہوئے دل
مخمور فضاؤں میں ہے مستانہ کسی کا
کہتا ہے کوئی حالت دل دل سے سلیمیؔ
سنتا ہے کوئی غور سے افسانہ کسی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.