صوفی ذی جاہ کے دربار کا صندل اٹھا
دھوم سے لو چشت کے سردار کا صندل اٹھا
جس کے دم سے ہے بہاروں پر ریاض امگنی
دین دارو اس گل زار کا صندل اٹھا
جیب و دامن کیوں نہ بھر جائیں در مقصود سے
صوفی کے دربار گوہر بار کا صندل اٹھا
سر کے بل حاضر ہیں ارباب عقیدت دیکھیے
بے کسوں کے مونس و غم خوار کا صندل اٹھا
کیوں نظر آئے نہ بے حد مجمع پیران چشت
ہے حبیب پاک کے دربار کا صندل اٹھا
مچ رہی ہے امگنی کے ہر گلی کوچہ میں دھوم
عارف حق شاہ خوش اطوار کا صندل اٹھا
اے تجملؔ جو کہ سرو بوستان فخر ہے
دھوم سے اس عاشق غفار کا صندل اٹھا
- کتاب : ریاض صوفی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.