تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "اس"
انتہائی متعلقہ نتائج "اس"
صوفی اقوال
حق تعالیٰ کریم ہے جب بندہ اس کی درگاہ میں خلوص پیش کرتا ہے تو اس کی درگاہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کے صدق عمل سے اس کی جزا سے اسے محروم رکھے۔
مخدوم خادم صفی
مزید نتائج "اس"
صوفی اقوال
کوئی شخص ہمیں برائی سے یاد کرتا ہے تو ہمیں اس سے کوئی شکایت نہیں اس لیے کہ ہم اس سے زیادہ برائی کے مستحق ہیں، اس نے لطف کیا اور ہمیں کم گالیاں دیں، ہم نے اسے معاف کر دیا تم بھی اسے معاف کر دو۔
شیخ کلیم اللہ چشتی
صوفی اقوال
فقیر یا قرابت دار کو صدقہ دے کر نہ جتاؤ بلکہ اس کے قبول کر لینے سے خود اس کے احسان مند رہو کیوں کہ اس نے تمہارے لیے ذخیرۂ آخرت جمع کیا۔
امام غزالی
صوفی اقوال
میرے رب کا ذکر بلند ہے، سب سے زیادہ حق اس کا قول ہے، سب سے زیادہ سچی بات اس کی بات ہے، سب سے زیادہ اچھا کلام اس کا کلام ہے۔
اویس قرنی
صوفی اقوال
جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کو اٹھائیں گے اور اس سے حساب لیں گے اور پھر گناہوں سے نہیں چوکتا وہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے دل میں مطلق ایمان نہیں۔
ابو حفص حداد
صوفی اقوال
جب میت کو قبر میں رکھتے ہیں تو تین دنوں تک وہ میت حیران و پریشان رہتی ہے کہ اس مقام تک اس سے پہلے کبھی گذر نہیں ہوا تھا اور وہ اس عذاب حیرت میں رہتا ہے، اس کے لیے صلوٰۃ الحول پڑھنا چاہیے جس سے حیرانی و پریشانی میں راحت ملتی ہے۔
شاہ قمرالدین حسین
صوفی اقوال
عالم کتنا ہی علم حاصل کر لے، اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو سارا علم اس کا نہ اس کے لیے منفعت بخش ہے نہ دوسروں کے لے پُر تاثیر و فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
حضرت علی
صوفی اقوال
اگر کسی شخص کو ہوا میں چار زانو بیٹھا ہوا دیکھو بھی تو اس کی پیروی اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ خدا کے امر و نہی میں اس کا عمل درست نہ پا لو۔
جنید بغدادی
صوفی اقوال
انسان کا فضول کاموں میں وقت گنوا دینا اس بات کی دلیل ہے کہ خدا اس سے ناراض ہے۔
انسان کا فضول کاموں میں وقت گنوا دینا اس بات کی دلیل ہے کہ خدا اس سے ناراض ہے۔
نا معلوم
صوفی اقوال
فقیر وہ ہے کہ اپنے دشمن سے بھی دوستی کرے اور ہر شخص کا اعزاز و اکرام کرے، کسی شخص کو چشم دوئی سے نہ دیکھے، بالفرض اگر کسی نے اس کو گالی بھی دی تو وہ اس کے لیے دعائے خیر کرے یا اس کو کوئی تحفہ دے تاکہ اس کا دل شاد و خرم ہو جائے۔
خواجہ عبیداللہ خرد
صوفی اقوال
ایمان کی سچائی خدا کو بڑا سمجھنے میں ہے اور خدا کی بڑائی کے احساس سے خدا سے شرم پیدا ہوتی ہے، اس شرم سے باطن اور ظاہر کی تعظم پیدا ہوتی ہے، اس کے بعد سالک کا شاہد خدا ہو جاتا ہے اور وہ اس کو مختلف صورتوں میں مشاہدہ کرتا ہے، جن کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں مثلا وہ خدا کے غنا کے کمال کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے دل سے ساری طمع جاتی رہتی ہے اور خدا کی قدرت کا مشاہدہ کرتا ہے تو پھر اس کے سوا کسی اور سے اس کو انس پیدا نہیں ہوتا، وہ خدا کے فضل کا مشاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنے افعال اور احوال سے بے نیاز ہوتا ہے وہ خدا کے کرم کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کو خدا سے ایسا انبساط حاصل ہوتا ہے کہ کون و مکاں اسی کے حاجت مند ہو جاتے ہیں، خدا کے قہر کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس پر خدا کا خوف ایسا طاری رہتا ہے کہ اس کو کبھی آرام نہیں ملتا۔
ایمان کی سچائی خدا کو بڑا سمجھنے میں ہے اور خدا کی بڑائی کے احساس سے
شیخ شرف الدین یحییٰ منیری
صوفی اقوال
جو شخص تجھ سے کم تر ہو اس سے تواضع و انکساری سے پیش آ اور جو شخص تجھ سے بڑا ہے اس سے ادب و تواضع سے مل اور جو متکبر ہے اس کی پرواہ نہ کر۔
عبد اللہ بن مبارک
صوفی اقوال
فرزندانِ گرامی جس قدر ہمیشہ ساتھ رہنے کے خواہش مند ہیں، اسی قدر ہم بھی مشتاق ہیں مگر اس کا کیا علاج کہ تمام آرزوئیں میسر نہیں ہوا کرتیں، لشکر میں اس طرح بے اختیار اور بے بس رہنے کو بہت غنیمت جانتا ہوں، اس جگہ وہ میسر ہے کہ دوسری جگہ بظاہر وہ میسر نہیں آ سکتا، اس جگہ کے علوم و معارف احوال و مقامات کچھ اور ہی ہیں، ایک رکاوٹ جو بادشاہ کی جانب سے ہے، میں اس کو خدا کی انتہائی رضا مندی کا دریچہ تصور کرتا ہوں اور اس قید ہی میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں، خصوصاً ان جھگڑوں کے زمانے میں عجیب کاروبار ہے۔
فرزندانِ گرامی جس قدر ہمیشہ ساتھ رہنے کے خواہش مند ہیں، اسی قدر ہم بھی مشتاق
شیخ احمد سرہندی
صوفی اقوال
آدمی دو چیزوں سے عبارت ہے، صورت اور صفت، ان میں سے قابل اعتنا آدمی کی صفت ہے، خدائے عزوجل صورتوں کو نہیں بلکہ قلوب کو دیکھتا ہے، اگر کسی کا قلب اوصافِ ذمیمہ سے پُر ہے تو اس کا شمار بہائم میں ہے، اوصافِ ذمیمہ کو دور کرنے کے لیے’’تزکیۂ نفس‘‘ کی ضرورت ہے اور ’’تزکیۂ نفس‘‘ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک بندہ خدا سے التجا و اسعانت نہ کرے یعنی اس کی بارگاہ میں گڑگڑائے اور اس سے مدد طلب کرے، التجا و استعانت سے خدا کی طرف سے ’’فضل اور رحمت‘‘ حاصل ہوتی ہے، فضل اور رحمت کے ظہور کی علامت یہ ہے کہ بندہ کی چشمِ بینا میں اس کے عیوب ظاہر ہو جاتے ہیں اور عظمتِ الٰہی کے انوار کے پرتو سے ساری کائنات اس کی نظر میں ہیچ ہو جاتی ہے، دنیا کے بھیدوں میں پھنسے رہنے والوں کی وقعت اس کے دل سے بالکل جاتی رہتی ہے اور جب اس کے قلب پر یہ کیفیت مستولی ہو جاتی ہے تو اس کے اوصاف فرشتوں کے اوصاف میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس میں ’’ظلم کے بجائے عفو ‘‘غضب کے بجائے حلم کبر" کے بجائے تواضع ’’بخل کے بجائے سخاوت‘‘ اور ’’حرص کے بجائے ایثار‘‘ کی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
آدمی دو چیزوں سے عبارت ہے، صورت اور صفت، ان میں سے قابل اعتنا آدمی کی

