تلاش کا نتیجہ "indo iranika shumara number 001 unknown editor magazines"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
پہلے صوفیانہ عمل پہچانا جاتا تھا اور دکھاوا ناواقف تھا، آج دکھاوا جانا پہچانا ہے اور صوفیانہ عمل غائب ہو چکا ہے۔
جب ہو در نبی پر تیرا جھکا ہوا سرفرط ادب سے اس دم جا کر قریب نمبر
فارسی ادب میں سمندروں کی تعداد سات مانی جاتی ہے- صوفیوں نے بھی سات سمندروں کا تذکرہ کیا ہے- دراصل سات سمندرسات منزلوں کی علامت ہیں-
شمع رو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھاصاف پردہ میں عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
آن را کہ تو عقبیٰ شمری عقبیٰ نیستیعنی جائے تقرب مولیٰ نیست
مخلوقات کی تعداد اٹھارہ ہزار بتائی جاتی ہے-
یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذبلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذ
روحانی ترقی کی حالت میں صوفی ان آسمانی کتابوں کو ایسی زبانوں اور حروف میں پڑھ سکتا ہے جنہیں وہ پہلے نہیں جانتا تھا اور چیزوں و مخلوقات کے آسمانی نام جان سکتا ہے، یہاں تک کہ اپنا اصل نام بھی جان لیتا ہے جو اس کے دنیاوی نام سے الگ ہوتا ہے۔
اب میں کبھی فخر نہ کروں گا اپنے سید ہونے پر، میرے محبوب کے لیے اے دوست! آج کی رات میرے آنگن میں ٹھہر جا، دل کی گرہیں کھول دے اور میرے ساتھ ہنس لے۔
پھر نہ آیا پھر کے گر وہ نامہ بر اچھا ہواخط کتابت اٹھ گئی اے سیم بر اچھا ہوا
تم ہی محمد پار لگیاپار لگیا نبی جی پار لگیا
ماتا پتا بچھڑے جن کارنابچھڑ گئے ہم سے من موہنا
نیکی لاگت سو ہے اپنے پیا کیآنکھیں رسیلی لاج بھری رے
برہ بروگ سے ترپت جیواب جن بول پپیہا پیو
انڈا جب آگے گرے تب گرو لیویں سیئیکریے برابر آپنی سکھ کو نسندیہہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books