تلاش کا نتیجہ "sar-shaar-e-imbisaat"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
بابا سیر
سرایڈون آرنلڈ
1832 - 1904
سر ایچ۔ ایم۔ ایلیٹ
سرکشن پرساد
سرسید احمد خاں
1817 - 1898
ساحر بھوپالی
شاعر لکھنوی
شیر میاں داد خان
مہر علی اور شیر علی
سردار شیر سنگھ
میاں شیر محمد شرقپوری
1865 - 1928
علی شیر
حافظ شیر محمد انبالوی
عبدالعزیز ساحر
میر علی شیر قانعؔ
1728 - 1788
برو اے طبیبم از سر کہ خبر ز سر ندارمبخدا رہا کنم جان کہ ز جان خبر ندارم
وہ اے سیمابؔ کیوں سرگشتۂ تسنیم و جنت ہومیسر جس کو سیر تاج اور جمنا کا ساحل ہے
اے سر پناہ بے کساں فریاد رس فریاد رسوے دستگیر عاجزاں فریاد رس فریاد رس
اے نام تو سر دفتر اسرار وجودنقش و صفت ہر در و دیوار و جود
نگشتم از تو ہرگز اے صنم سیرولے از ہجر گشتم دمبدم سیر
بہترین اردو شعر پڑھیں، ہندی شاعری، ایم پی 3 شعر و شاعری، شعر اور دو لائندوں کی شاعری ہندی اردو اور رومن میں سنیں۔ اس مشہور شاعری کو بھی اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
सर-शार-ए-इम्बिसातسرشار انبساط
intoxicated with ecstacy
ecstatic with joy
سیر شیرشاہ
مولانا ابوالحسنات عبدالغفور داناپوری
1906
سر مست
کیفی حیدرآبادی
نیر شیر
گنگا پرساد پانڈے
1939مطبوعات منشی نول کشور
سور ساراولی
نامعلوم مصنف
1962
بچوں کے شاعر
محمد اجمل جامعی
1993ادب اطفال
شیر شاہ سوری
ودیا بھاسکر
1990
سور ونے پتریکا
سور داس
2016
سور پربھا اور سور داس
درگا شنکر مشرا
1958
Sher Shah And His Times
1965تاریخ
لہو شعر
تسلیم نیازی
2012شاعری
تین شاعر
محی الدین قادری زور
1926
005
افتخار امام صدیقی
1982شاعر، ممبئی
004
1984شاعر، ممبئی
برج مادھوری سار
ویوگی ہری
2002
پنگل سار
رام کوی
اٹھے کیا زانوئے غم سے سر اپنابہت گزری رہی ہیہات تھوڑی
شور سودائے جنوں کیسا ازل سے سر میں ہےجو مزا صندل کا حاصل مجھ کو ہر پتھر میں ہے
کیا سیر سب ہم نے گلزار دنیاگل دوستی میں عجب رنگ و بو ہے
باغ سے دور خزاں سر جو ٹپکتا نکلاقلب بلبل نے یہ جانا میرا کانٹا نک
باغ سے دور خزاں سر جو ٹپکتا نکلاقلب بلبل نے یہ جانا میرا کانٹا نکلا
سر جب سے جھکایا ہے در یار پہ میں نےمحراب خودی جلوہ گہہ شمع حرم ہے
عشق میں اے کوہ کن کیا زخم سر درکار تھازخم دل درکار تھا زخم جگر درکار تھا
سیر کر دے اب کہ گلشن بیں ہے ہنگام بہارہم اسیروں کی رہائی اب تو اے صیاد ہو
دشت نوردی کے دوران مظفرؔ سر پر دھوپ رہیجب سے کشتی میں بیٹھے ہیں روز گھٹائیں آتی ہیں
ادب سے سر جھکا کر قاصد اس کے روبرو جانانہایت شوق سے کہنا پیام آہستہ آہستہ
آپ سے آئے نہیں ہم سیر کرنے باغباںلائی ہے باد صبا گلشن میں لپٹا کر لگا
یہ آداب محبت ہے ترے قدموں پہ سر رکھ دوںیہ تیری اک ادا ہے پھیر کر منہ مسکرا دینا
آگ لگی وہ عشق کی سر سے میں پاؤں تک جلافرط خوشی سے دل مرا کہنے لگا جو ہو سو ہو
عشق نے توڑی سر پہ قیامت زور قیامت کیا کہیےسننے والا کوئی نہیں روداد محبت کیا کہیے
مرا سر کٹ کے مقتل میں گرے قاتل کے قدموں پردم آخر ادا یوں سجدۂ شکرانہ ہو جائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books