بولی تقدیر بندھا دیکھ کے سر پر سہرا
بولی تقدیر بندھا دیکھ کے سر پر سہرا
کامیابی کا ہمیشہ ہو ترے سر سہرا
دل احباب کو دیتا تھا خوشی کا پیغام
سر بد بیں کے لئے بن گیا خنجر سہرا
نشۂ بادہ عشرت سے بس آہی تو گیا
جھوم کے گوشۂ دامن کے برابر سہرا
کبھی نوشاہ کی قسمت کی قسم کھاتا ہے
دیکھتا ہے کبھی خود اپنا مقدر سہرا
فرق سے تا بہ قدم دیکھیے سہرے کی بہار
نور سے کاہکشاں رہ گیا بن کر سہرا
ہر کلی جوش مسرت سے کھلی جاتی ہے
پھول جامے میں سماتے نہیں بن کر سہرا
شاد و آباد رہیں طارق و سملیٰ یارب
لب خاموش سے کہتا ہے یہ بندھ کر سہرا
- کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 305)
- Author : عرفان عباسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.