ناز_لب انداز_کل شرم_و_حیا سہرے میں ہے
ناز لب انداز کل شرم و حیا سہرے میں ہے
اور کمال حسن کی ساری ادا سہرے میں ہے
روئے نوشہ پہ ہے دیکھو تابناکی شمس کی
دیکھیے شب تابی بد رالدجیٰ سہرے میں ہے
خانداں نوشہ کا سارا بن گیا سہرے کا پھول
مجمع احباب کا بھی مدعا سہرے میں ہے
ماہتاب دل نشیں ہے دل سے نوشہ پر فدا
حسن کے افلاک کا اک مہ لقا سہرے میں ہے
فیض خاص وارث ارث علی سہرا ہے یہ
جاں نثار وارث آل عبا سہرے میں ہے
ہیں شفیع و صائمہ تمثیل یک سلک گہر
زلف شب گوں ماہ رو دو آتشہ سہرے میں ہے
ایک عکس آئینہ ہے ایک حسن آئینہ
اس لیے تو آئنہ در آئنہ سہرے میں ہے
سنبل لب بستہ بھی سہرے پہ آ کر کھل گئی
معجزہ سہرے کا ہے معجز نما سہرے میں ہے
سایۂ و الشمس ہے جلوہ فگن مثل قنات
نور شمع والضحىٰ بدرالدجیٰ سہرے میں ہے
محو حیرت آفتاب نیل گوں ہے دیکھ کر
سورۂ والشمس کی ایسی ضیا سہرے میں ہے
کرتے خود سہرا رقم ہوتے جو اگر میر انیس
اس شاعر معجز رقم کا آشنا سہرے میں ہے
فیض بیدم ہے اثر انگیز پوری نظم پر
کہہ رہے ہیں سارے مصرع مرحبا سہرے میں ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.