Font by Mehr Nastaliq Web

مدھیہ پردیش کے شاعر اور ادیب

کل: 118

اعظم شاہ

1653 - 1707

اورنگ زیب عالمگیر کا سب سے بڑا بیٹا اور قلیل مدت تک کے لئے برائے نام بادشاہ

عبداکشور ضیغم کے شاگرد

حضرت سیدنا امیر ابوالعلا کے عمِ گرامی، پیر و مرشد اور خواجہ محمد یحییٰ نقشبندی کے بھانجے اور خلیفہ۔

دربارِ ربانیہ، شرف آباد، جبل پور کے سجادہ نشیں

احمر علی وارثی کے شاگردِ رشید

مسیح الملت سید محمد داؤدالقادری نشتر کے صاحبزادے

قلندرزماں اور معروف مصنف و شاعر

نیر دموہی کے شاگرد

شبنم غضنفری کے شاگرد

فیضی

1547 - 1595

مغلیہ سلطنت کے شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے نو رتن میں سے ایک

ایک صاحبِ حال صوفی اور قادرالکلام شاعر تھے، جن سے مرزا غالب کو بھی عقیدت تھی۔

سلسلہ شطاریہ کے معروف صوفی

بزمِ آغاز سے وابستہ

جید عالم، زاہد صوفی اور عربی، فارسی و اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔

مدھیہ پردیش کے ممتاز شاعر اور بقا غازی پوری کے شاگرد تھے، "بستانِ حاذق" ان کی معروف ادبی یادگار ہے۔

راز نعمانی کے شاگرد اور بزم احبابِ ادب سے وابستہ

سلطان عبداللہ قطب شاہ کے درباری شاعر اور ’’پھول بن‘‘ اور’’طوطی نامہ‘‘ کے مصنف

سوز نظامی اور شبنم غضنفر کے شاگرد

ریاستِ آمیر کے نامور راجپوت حکمران اور مغل سلطنت کے ممتاز سپہ سالار تھے، 1621ء میں آمیر کے حکمران بنے اور تقریباً 46 برس تک حکومت کی، انہوں نے جہاں گیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے ادوار میں متعدد عسکری مہمات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن کے صلے میں "میرزا راجہ" کا خطاب پایا۔ 1667ء میں برہان پور میں انتقال ہوا۔

حضرت مولانا امجد برہان پوری کے صاحبزادے

بھارت کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار اور منظر نویس ہیں۔

جگل پریا

1928 - 1978

کیشو داس

1555 - 1617

عہدِ ریتی کے ممتاز ہندی شاعر تھے جو اورچھا کے راجا مدھوکر شاہ اور اندرجیت سنگھ کے دربار سے وابستہ رہے، ان کی نمایاں تصانیف ’’رسک پریا‘‘، ’’کوی پریا‘‘، ’’رتن باونی‘‘، ’’رام چندریکا‘‘ اور ’’جہاں گیر جس چندریکا‘‘ ہیں جنہوں نے انہیں ہندی ادب کے کلاسیکی شعرا میں ممتاز مقام عطا کیا۔

درگاہ خواجہ خانون، گوالیار کے گدی نشیں اور وہاں کے معروف صوفی شاعر

بولیے