Font by Mehr Nastaliq Web

چراغ پر اشعار

عاشق نہ ہو تو حسن کا گھر بے چراغ ہے

لیلیٰ کو قیس شمع کو پروانہ چاہیے

بیدم شاہ وارثی

مری آرزو کے چراغ پر کوئی تبصرہ بھی کرے تو کیا

کبھی جل اٹھا سر شام سے کبھی بجھ گیا سر شام سے

عزیز وارثی دہلوی

مرے داغ دل وہ چراغ ہیں نہیں نسبتیں جنہیں شام سے

انہیں تو ہی آ کے بجھائے گا یہ جلے ہیں تیرے ہی نام سے

فنا بلند شہری

نہیں آتی کسی کو موت دنیائے محبت میں

چراغ زندگی کی لو یہاں مدھم نہیں ہوتی

صادق دہلوی

بیدمؔ تمہاری آنکھیں ہیں کیا عرش کا چراغ

روشن کیا ہے نقش کف پائے یار نے

بیدم شاہ وارثی

وہ ظلمتیں ہیں رہ زیست میں قدم بہ قدم

چراغ دل بھی جلائیں تو کچھ سجھائی نہ دے

اخترؔ وارثی

میں اندھیری گور ہوں اور تو تجلی طور کی

روشنی دے جا چراغ روئے جانانہ مجھے

مضطر خیرآبادی

جلا ہوں آتش فرقت سے میں اے شعلہ رو یاں تک

چراغ خانہ مجھ کو دیکھ کر ہر شام جلتا ہے

عبدالرحمٰن احسان دہلوی

میں جلاتا رہا تیرے لیے لمحوں کے چراغ

تو گزرتا ہوا صدیوں کی سواری میں ملا

مظفر وارثی

مرے آنسوؤں کے قطرے ہیں چراغ راہ منزل

انہیں روشنی ملی ہے تپش دل و جگر سے

جوہرؔ وارثی

بجھ رہے ہیں چراغ اشکوں کے

کیسے تابندہ رات کی جائے

صادق دہلوی

لگتے ہیں یہ مہر‌‌ و ماہ و انجم

دہلی کے چراغ ہی کا پرتو

معین نظامی

کشش چراغ کی یہ بات کر گئی روشن

پتنگے خود نہیں آتے بلائے جاتے ہیں

پرنم الہ آبادی

مرے ماہ منور تیرے آگے

چراغ دیر کیا شمع حرم کیا

عزیز وارثی دہلوی

وہ کیا حیات ہے جو ترک بندگی نہ ہوئی

چراغ جلتا رہا اور روشنی نہ ہوئی

عزیز وارثی دہلوی

مرے نشیمن میں شان قدرت کے سارے اسباب ہیں مہیا

ہوا صفائی پہ ہے مقرر چراغ بجلی جلا رہی ہے

مضطر خیرآبادی

مہر خوباں خانہ افروز دل افسردہ ہے

شعلہ آب زندگانیٔ چراغ مردہ ہے

میر محمد بیدار

ہوا گل مری زندگی کا چراغ

نمایاں جو شام مصیبت ہوئی

عرش گیاوی

بڑے خلوص سے مانگی تھی روشنی کی دعا

بڑھا کچھ اور اندھیرا چراغ جلنے سے

مظفر وارثی

گئے پہلو سے تم کیا گھر میں ہنگامہ تھا محشر کا

چراغ صبح گاہی میں جمال شمع انور میں

راقم دہلوی

صبح نہیں بے وجہ جلائے لالے نے گلشن میں چراغ

دیکھ رخ گلنار صنم نکلا ہے وہ لالہ پھولوں کا

شاہ نصیر

چاند سی پیشانی سندور کا ٹیکا نہیں

بام کعبہ پر چراغ اس نے جلا کر رکھ دیا

کوثر خیرآبادی

نہ لالہ زار بنانا مزار کو نہ سہی

چراغ کے آگے کبھی شام کو جلا دینا

ریاض خیرآبادی

فراق میں ہیں ہم انداز دل کا پائے ہوئے

یہ وہ چراغ ہے جلتا ہے بے جلائے ہوئے

عرش گیاوی

نہیں لخت جگر یہ چشم میں پھرتے کہ مردم نے

چراغ اب کر کے روشن چھوڑے ہیں دو چار پانی میں

شاہ نصیر

سانسوں کی اوٹ لے کے چلا ہوں چراغ دل

سینے میں جو نہیں وہ گھٹن راستے میں ہے

مظفر وارثی

داغ سوزاں چھوڑ کر عاشق نے لی راہ عدم

پسرو تم کو چراغ رہ گزر درکار تھا

آسی غازیپوری

اندھیرے لاکھ چھا جائیں اجالا کم نہیں ہوتا

چراغ آرزو جل کر کبھی مدھم نہیں ہوتا

فنا بلند شہری

حاجت شمع کیا ہے تربت پر

ہم کہ دل سا چراغ رکھتے ہیں

احسن اللہ خاں بیان

جھونکے نسیم صبح کے آ آ کے ہجر میں

اک دن چراغ ہستیٔ عاشق بجھائیں گے

بیدم شاہ وارثی

چراغ گور نہ شمع مزار رکھتے ہیں

بس ایک ہم یہ دل داغ دار رکھتے ہیں

احسن اللہ خاں بیان

ہزار رنگ زمانہ بدلے ہزار دور نشاط آئے

جو بجھ چکا ہے ہوائے غم سے چراغ پھر وہ جلا نہیں ہے

افقر موہانی

آگے قدم بڑھائیں جنہیں سوجھتا نہیں

روشن چراغ راہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مرادآبادی

اپنا بنا کے اے صنم تم نے جو آنکھ پھیر لی

ایسا بجھا چراغ دل پھر یہ کبھی جلا نہیں

فنا بلند شہری

میں وہ گل ہوں نہ فرصت دی خزاں نے جس کو ہنسنے کی

چراغ قبر بھی جل کر نہ اپنا گل فشاں ہوگا

عرش گیاوی

متعلقہ موضوعات

بولیے