Sufinama

قسمت پر اشعار

دردؔ کے دل کو بنا مخزن فوارۂ نور

میری تاریکیٔ قسمت کے اجالے ساقی

درد کاکوروی

صیاد اور گلچیں دونوں کی بن پڑی ہے

بلبل کی پھوٹی قسمت فصل بہار کیا ہے

حسن امام وارثی

نظر افزوزئی شمع تجلی اے زہے قسمت

کہاں بزم جمال ان کی کہاں پروانگی اپنی

ذکی وارثی

کچھ نہ ہو اے انقلاب آسماں اتنا تو ہو

غیر کی قسمت بدل جائے میری تقدیر سے

بیدم شاہ وارثی

جان چھوٹے الجھنوں سے اپنی یہ قسمت نہیں

موت بھی آئے تو مرنے کی مجھے فرصت نہیں

عرش گیاوی

ان کو گل کا مقدر ملا

مجھ کو شبنم کی قسمت ملی

فنا نظامی کانپوری

ہائے اس مرد کی قسمت جو ہوا دل کا شریک

ہائے اس دل کا مقدر جو بنا دل میرا

جگر مرادآبادی

میری آنکھ کا تارا ہے آنسو میری قسمت کا

قسمت کو میں روتا ہوں قسمت مجھ کو روتی ہے

ریاض خیرآبادی

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے

وہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے

حسرت موہانی

کوشش تو بہت کی میں نے مگر قسمت کی نہ تھی کچھ اپنی خبر

لے صبر سے کام دل مضطر جب داد نہیں فریاد نہ کر

محبوبؔ وارثی گیاوی

وصال یار جب ہوگا ملا دے گی کبھی قسمت

طبیعت میں طبیعت کو دل و جاں میں دل و جاں کو

راقم دہلوی

حسینوں نے قسمت میں اصلاح دی

نصیبوں کا لکھا دھرا رہ گیا

مضطر خیرآبادی

صدا ہی میری قسمت جوں صدائے حلقۂ در ہے

اگر میں گھر میں جاتا ہوں تو وہ باہر نکلتا ہے

عبدالرحمٰن احسان دہلوی

مضطرؔ مجھے چاہت میں سجدوں کی ضرورت کیا

خاک در جاناں نے قسمت مری چمکا دی

مضطر خیرآبادی

بتا کر شوخیاں اس کو ادا کی

ڈبوئی ہم نے قسمت مدعا کی

راقم دہلوی

پھر امیدوں کو شعاع کامرانی کر عطا

قسمت تاریک کو ہنگامۂ تنویر دے

سیدہ خیرآبادی

ماتھا میں رگڑتا ہوں قسمت مری چمکا دے

تجھ میں تو شرارے ہیں سنگ در جانانہ

مضطر خیرآبادی

ہجر کے آلام سے چھوٹوں یہ قسمت میں نہیں

موت بھی آنے کا گر وعدہ کرے باور نا ہو

رضا فرنگی محلی

ملا ہے جو مقدر میں رقم تھا

زہے قسمت مرے حصے میں غم تھا

واصف علی واصف

بگاڑ قسمت کا کیا بتاؤں جو ساتھ میرے لگی ہوئی ہے

کہیں کہیں سے کٹی ہوئی ہے کہیں کہیں سے مٹی ہوئی ہے

مضطر خیرآبادی

چرکے وہ دیے دل کو محرومیٔ قسمت نے

اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی

صوفی تبسم

ہم تلخیٔ قسمت سے ہیں تشنہ لب بادہ

گردش میں ہے پیمانہ پیمانے سے کیا کہئے

سیماب اکبرآبادی

کجی میری قسمت کی پھر دیکھنا

ذری اپنی ترچھی نظر دیکھئے

بیدم شاہ وارثی

ریاضؔ اپنی قسمت کو اب کیا کہوں میں

بگڑنا تو آیا سنورنا نہ آیا

ریاض خیرآبادی

وہ عزم باقی نہ رزم باقی نہ شوکت و شان بزم باقی

ہماری ہر بات مٹ چکی ہے کہ ہم کو قسمت مٹا رہی ہے

سیدہ خیرآبادی

خط قسمت مٹاتے ہو مگر اتنا سمجھ لینا

یہ حرف آرزو ہاتھوں کی رنگت لے کے اٹھیں گے

مضطر خیرآبادی

قسمت جاگے تو ہم سوئیں قسمت سوئے تو ہم جاگیں

دونوں ہی کو نیند آئے جس میں کب ایسی راتیں ہوتی ہیں

آرزو لکھنوی

یہ قسمت داغ جس میں درد جس میں

وہ دل ہو لوٹ دست نازنیں پر

ریاض خیرآبادی

قسمت کی نارسائیاں بعد فنا رہیں

مر کے بھی دفن ہو نہ سکا کوئے یار میں

حیرتؔ شاہ وارثی

اے قاصد اشک و پیک صبا اس تک نہ پیام و خط پہنچا

تم کیا کرو ہاں قسمت کا لکھا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا

شاہ نصیر

وائے قسمت شمع پوچھے بھی نہ پروانوں کی بات

اور بے منت ملیں بوسے لب گل گیر کو

بے نظیر شاہ وارثی

ملامت ہی لکھی ہے سربسر کیا

مری قسمت میں تیرے پاسباں سے

حسرت موہانی

مرید پیر مے خانہ ہوئے قسمت سے اے ناصح

نہ جھاڑیں شوق میں پلکوں سے ہم کیوں صحن مے خانہ

ابراہیم عاجزؔ

اس کی ناکامئ قسمت پر کہاں تک روئیے

غرق ہو جائے سفینہ جس کا ساحل کے قریب

افقر موہانی

ایک دن وہ میرے گھر ہے ایک دن وہ اس کے گھر

غیر کی قسمت بھی ہے میرے مقدر کا جواب

امیر مینائی

قسمت نے آہ ہم کو یہ دن بھی دکھا دیئے

قسمت پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا

بہزاد لکھنوی

رہ کے آغوش میں اے بحر کرم عاشق کو

قسمت سوختۂ سبزۂ ساحل دینا

آسی غازیپوری

چھٹے گی کیسے مظفرؔ سیاہی قسمت کی

نکل تو آئے گا خورشید رات ڈھلنے سے

مظفر وارثی

جلوۂ ہر روز جو ہر صبح کی قسمت میں تھا

اب وہ اک دھندلا سا خواب دوش ہے تیرے بغیر

سیماب اکبرآبادی

خوشی سے دور ہوں نا آشنائے بزم عشرت ہوں

سراپا درد ہوں وابستۂ زنجیر قسمت ہوں

شاہ محسن داناپوری

دیکھنا ان کا تو قسمت میں نہیں

دیکھنے والے کو دیکھا چاہیے

بیدم شاہ وارثی

بدلتی ہی نہیں قسمت محبت کرنے والوں کی

تصور یار کا جب تک فناؔ پیہم نہیں ہوتا

فنا بلند شہری

لذتیں دیں غافلوں کو قاسم ہشیار نے

عشق کی قسمت ہوئی دنیا میں غم کھانے کی طرح

خواجہ رکن الدین عشقؔ

چمک اٹھی ہے قسمت ایک ہی سجدہ میں کیا کہنا

لئے پھرتا ہے پیشانی پہ نقش آستاں کوئی

افقر موہانی

اپنی قسمت پہ فرشتوں کی طرح ناز کروں

مجھ پہ ہو جائے اگر چشم عنایت تیری

فنا بلند شہری

تکیے میں کیا رکھا ہے خط غیر کی طرح

دیکھوں تو میں نوشتۂ قسمت مرا نہ ہو

بیدم شاہ وارثی

بنے شعلے بجلی کے قسمت سے میری

جو تنکے تھے کچھ آشیانے کے قابل

ریاض خیرآبادی

یہ بھی قسمت کا لکھا اپنی کہ اس نے یارو

لے کے خط ہاتھ سے قاصد کی نہ میرا کھولا

شاہ نصیر

اگر ہم تم سلامت ہیں کبھی کھل جائے گی قسمت

اسی دور لیالی میں اسی گردوں کے چکر میں

راقم دہلوی

ترا غم سہنے والے پر زمانہ مسکراتا ہے

مگر ہر شخص کی قسمت میں تیرا غم نہیں ہوتا

عزیز وارثی دہلوی

متعلقہ موضوعات