نوشاہِ چشت حضرت سید اصغر علی شاہ قادری چشتی نظامی نیازی
بیائید در بزم تو نوشاہ چشت
کہ در خور می گوئے برد از بہشت
(عرشی کاکوروی)
چشت کے دلہا قبلہ گاہی حضرت سید اصغر علی شاہ قادری چشتی نظامی نیازی جانشین سوم حضرت سید امجد علی شاہ قادری قدس سرہ العزیز ہیں اور فرزند رشید اور خلف اکبر مولانا مرشدنا قدوۃ الاؤلیا حضرت سید مظفر علی شاہ اللہی اکبرآبادی ؓ کے ہیں 26 محرم 1282ہجری بمقام میو کٹرہ اپنے آبائی مکان و خانقاہ میوہ کٹرہ آگرہ میں پیدا ہوئے
تعلیم : اس عہد کے جید علماء سے عربی فارسی قواعد پڑے علم منقولات و معقولات سیکھے والد بزرگ وار سے سلوک و علم تصوف کے رسائل و تصنیفات پڑیں چونکہ اجداد کا کتب خانہ تصوف و طب فقہ اذکار و وظائف کے دفاتر کا خازانہ تھا اسی لئے بہت کم عمر میں وہ اکثر کتابیں پڑ لیں جو عالم علماء کو ایک عمر یا پوری زندگی میں مشکل سے حاصل ہو پاتی ہیں ۔
مفتی انتظام اللّٰہ شہابی اپنی تصنیف سوانح غوث پاک میں لکھتے ہیں “حضرت سید اصغر علی شاہ جعفری قادری خلف و سجادہ نشین حضرت سید مظفر علی شاہ اللّٰہی جامع علوم ظاہر باطن صاحب مشاہدہ و کرامات تھے مرجع خواص و عوام اور حسن صورت و سیرت میں لاثانی تھے “
شمائل مبارک : دراز قد ستودہ ناک کشادہ آنکھیں وجیع البدن متاوضع لباس زیب طن مرماتے سفید لباس مرغوب تھا پیشانی کشادہ الغرض کتابی چہرہ تھا دیکھنے والے چہرے کے جمال اور نور سے مطاثر ہو جاتے آنکھو میں سرخی محویت رہتی کی وجہ سے مخمور رہتی تھی اور بیخودی طاری رہتی آپ کا سراپا حسن کے معیار کو بیان کر نے والا تھا بیان میرٹھی نے آپ کے شمائل پر یہ غزل لکھی
اصغر علی آں ولی عہدش
ہم یوسف وہم مسیح مہدش
یوسف پئے دیدش ابپوید
آلا ملک کہ کریم گوید
کس را کہ جمال روئے بنود
یا کف بیرید یا بہم سود
ہمائش ہزید چشم آفاق
در حلم و حیا و جود اخلاق
بقول صاحب تحفئہ طہران:
مدحش زیں مدح نیت برتر
نیکو خلف شہ مظفر ؒ
اخلاق : سادگی اور منکسر المزاجی طبیعت میں بدرجہ اتم تھی غریبوں مساکین سے بہت محبت فرماتے امرا ء رؤساء سے وجاہت سختی سے پیش آتے سیاست دانوں سے دوری اختیار فرماتے ،عوام ان سے محبت کرتے اور حکمران ان کی حمایت کے متمنی رہتے خوشامد نا پسند فرماتے تھے کوئی سچچی تعریف کرتا تو اس سے بھی گریز کرتے انتظام اللّٰہ شہابی لکھتے ہیں کتمان اسرار میں جہد بلیغ فرماتے یعنی راز ہائے معرفت کو چھپاتے اور باطنی حال ظاہر نہ کرتے تھے بیعت لینے میں بہت محتاط تھے ظاہر امیری اور باطن فقیری آپ کا مسلک تھا
رازؔ اس راز کو سمجھنگے کیا دنیا والے
یہی شاہی ہے میری حال فقیرانہ میرا
- امام السالکین حضرت قبلہ شاہ محمد تقی راز بریلوی
نفیس مزاج رکھے پاکیزگی اور طہارات کا بہت خیال رکھتے ہندو مسلم مرید سب ہی سے حسن خلق سے پیش آتے تھے ۔
ایک جمع کتاب تصوف پر (غیر مطبوعہ )لکھی تھی اور چند ناتمام تصنیف ہیں
شاعری : شعر و سخن کا مزاج اجداد سے ورثہ میں ملا تھا آپ کے والد اور دادا پر دادا سبھی تصوف کے مشہور شاعر گزرے ہیں باقائدہ شعر گوئی پر زیادہ وقت اور صلاحیت تو وقف نہیں لیکن بزرگ کے پیروی میں چند غزلیں فارسی اور اردو کی غیر مطموعہ ہیں
فارسی اشعار :
اے بصد حسرت ہمی آید یاد
گہ شبے در خانہ ام جائے تو بود
جاں زتن می رفت و معلوم نہ شد
چشم من محو تماشائے تو بود
اردو اشعار :
جس نے ملا کے خاک میں برباد کر دیا
رکھتے ہیں چشم لطف اسی بے وفا سے ہم
اصغرؔ امید وصل میں گزری تمام عمر
بیگانہ ہی رہے اس آشنا سے ہم
خطاب چشت کے دلہا : تذکرہ اللّٰہی میں محمد حسن فرید آبادی صفحہ 51-52 پر لکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ درگاہ معلٰی حضور خواجہ غریب نواز اجمیر شریف حاضری کے دوران درگاہ شریف کے صاحبزادہ حضرت سید امام الدین چشتی صاحب نے بشارت بیان کی کہ خواجہ خواجگان حضرت قبلہ خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ کے آستانہ سے حضرت سید اصغر علی شاہ صاحب کو چشت کے دلہا کا خطاب عطا ہوا یہ آواز خود انہوں نے مزار شریف سے سنی اور ان کو القاء ہوا ہے سب حاضرین نے اور صاحب زادگان نے مبارک باد پیش کی آپ کی دستار بندی کی گئی یہ بھی ایک اشارہ تھا آپ کے مقبول بارگاہ ہونے کا اور حضور خواجہ صاحب کی فیضیابی کا جو شاز ہی کسی کو یہ سعادت حاصل ہوتی ہے سفر سے واپسی پر آگرہ میں محفل فاتحہ خواجہ غریب نواز کی اور محفل تہنیت منعقد کی گئی اور لنگر عام ہوا اہل شہر اور مریدین عزیزوں اور عقیدت مندوں نے آپ کو مبارک بادیں پیش کی ساری عمر آپ کے چہرے پر اس فیضیابی کا نور نظر آتا تھا حضور غریب کے عاشق صادق تھے ۔
اسی مناسبت سے عرشی کاکوروی نے شعر کہا
بیائید در بزم تو نوشاہ چشت
کہ در خورمی گوئے برد از بہشت
- عرشی کاکوروی
بیعت خلافت و جانشینی :حضور قبلہ گاہی نے آپ کی تعلیم و تربیت مکمل کر نے کے بعد بعت کیا شغل و اشغال اور خاندانی رسالہ و وزائف کی تکمیل کی وصال سے ایک دن پہلے اپنا جانشین مقرر کیا تذکر اللہی میں محمد ابو الحسن فریدآبادی لکھتے ہیں حکیم سید مہر علی صاحب ابن سید نور الدین صاحب قادری نے درخواست کی کہ آپ اپنا جانشین مقرر فرمادیں تو 7 ربیع الاول ۱۲۹۹ھ کو وصال سے ایک دن پہلے رسم سجادگی منعقد کی گئی آگرہ کے سب شرفاء اور مشائخ حاضر تھے حکیم سید مہر علی قادری سید کرامت علی حکیم سید اولاد علی سید اولاد حسین سید قدرت علی سید اختر حکیم سید عاشق علی حکیم سید معصوم علی سید تصور علی سید برکت علی حکیم رجب علی سید رحمت علی سید احمد سید اکبر الزماں وغیرہ حاضر تھی ، تعلیم و تلقین خاندان قادریہ چشتیہ نظامیہ صابر یہ سہروردیہ نقشبندیہ کی فرمائی اور اپنا جانشین کیا دعاء سب حاضرین کے لئے کی گئی
اس تقریب سجادگی میں مہمان خصوصی سلسلہ ابوالعلائیہ نقشبندیہ کے بزرگ حضرت شاہ اکبر دانا پوری ابعلائی ؒ شامل تھے محفل کے بعد مبارک باد پیش کی اور مندرجہ اشعار پڑھے جو اس تقریب کی مناسبت سے انہوں نے کہے تھے
شاہ اصغر علی ستودہ صفات
باد با فیض او دریں دنیا
راز دار رموز فقر شدہ
بعنایات و نست آبا
باد معمون خلافت پدرش
بطفیل رسول ہر دوسرا
در ربیع نخست وہفتم و جمعہ
شد بجاے پدر قیام درا
پدرش کو علی مظفر شاہ
قادری چشتی ست او بخدا
متقی ابن متقے باشد
آن مہ آن فقر و فنا
سالش از رویے اصطفا اکبر
گفت حقا خلافت اولا
اتک تصنیف تصوف پر اور کچھ دوسرے موضوع پر لکھیں جو غیر مطبوعہ ہیں
عبادت : کثرت ذکر سے چہر سورخ رہتا راتیں عبادت اور محویت میں صرف ہوتی خاندانی اشغال کے سختی سے پابند اور عامل تھے دن کے وقت مخلوق خدا کی حاجت روائی کے لئے وقف تھے شہر میں اکثر مشائخ آپ سے ذکر کی اجازت لیتے مریدوں میں بہت سے لوگو درجہ قرب الٰہی کو پہنچے ۔
وصال:ابھی عمر کے 39 سال پورے نہیں پوتھے کہ دس رمضان 1321 ء کی شب کو کچھ دنیا پرتوں نے زہر دے کر اپنے مقصد کو پورا کیا پان میں آپ کو زہر دیا گیا تھا
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
-غالب
کم عمر میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے وصال کے وقت ذکر لاالہ الا اللّٰہ زبان پر تھا کہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے ۔
‘آگرہ اور آگرہ والے’ کتاب میں حضرت قبلہ سید محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی لکھتے ہیں میرے والد اپنے خاندان میں اولاد اکبر اور بزرگوں کے صحیح جانشین تھے
مجھے اپنے والد یاد نہیں ڈیڑ سال کے بچے کو یاد بھی کیا ہوسکتا ہے ۔ ان کے متعلق جو کچھ سنا ہے وہ اپنی ماں سے ، کنبہ داروں سے،ان کے معتقدوں اور دوستوں سے، سب ان کی خوش اخلاقی،بزلہ سنجی اور خوش طبعی کے قصے سناتے، ان کی غیر معمولی عزت اور مقبولیت کی داستانیں بیان کرتے اور ہر شخص ان کی جواں مردگی اور خوبصورتی کا بیان کرکے آنسو بہاتا،
نومبر 1903 ء / 1321ھ کو 11ویں شب رمضان وصال فرمایا۔ درگاہ پنجہ مدرسہ (درگاہ حضرت سید امجد علی شاہ قادری ) میں اپنے جد بزرگور کے پاس چبوترے پر تدفین ہوئی
حضرت سید انوار الرحمن بسمل بخاری نیازی جیپوری صاحب نے تاریخ وصال کہی۔
چشت کے دولہا شہ اصغر علی قادری
پر تو خلق حسن ابن حسین دلفگار
گیارویں روزے کی شب بسمل نگاہوں سے چھپے
عاشق بیچوں واحد واصل پروردگار
(ھ1321)
حضور غوث العظم کے عاشق صادق تھے جب ان کے نام آتا چہرے متعغیر ہوجاتا اسی طرح اہل بیت سے محبت کا یہ عالم تھا کے محرم شریف میں مجالس و لنگر کا اہتمام فرماتے آگرہ کے سب سے بڑے امام باڑے کی تعمیر میں حصہ لیا اور در پیش کئے جو آپ بھی قائم ہیں شہر بھر میں آپ کے مریدین محرم میں لنگر اور فاتحہ شہدائے کربلا کرتے جو شہر میں سب سے بڑی محافلیں ہوا کرتی تھیں اپنے دونوں صاحب زادوں کے نام حضور ﷺ کے نام پر محمد اور احمد رکھے ۔
صاحبزاد گان : فرزند اکبر حضرت سید محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی ؒ جو آپ کے جانشین ہوئے اور مشہور زمانہ شخصیت ہیں تصوف اور ادب میں آپ کا نام ادب و احترام سے لیا جاتا ہے ان کا مفصل ذکر آگے آئگا ۔
فرزند دوم حضرت احمد علی شاہ قمر اکبرآبادی ؒ خاندانی تعلیم دین و تصوف درس نظامیہ کے ساتھ ہی انگریزی ادب میں کمال حاصل کیا آئی ایس کی ڈگری حاصل کرکے راجستان کیڈر کے مقتلف شہروں میں گورنر اور جج رہے آخر میں علیگڑ مسلم یونیورسٹی میں عربی تعلیم کی خدمات انجام دی دونوں صاحبزادے نجیب الطریفین آفتاب ثابت ہوئے آپ کی والدہ حسنی سادات سے بھی والد کی انتقال کے وقت ان بڑی بھائی کی عمر 1۰5 سال اور چھوٹے بھائی کی عمر 6 مہینے تھی لیکن اللّٰہ نے والدہ کی جاں فشانی اور بزرگوں کی روحانی کرم کے وصیلے سے اس “باغ اصغری” کو شجرہ نورین سے نواز دیا ۔
ہر سال 11ویں رمضان کو عرس ہوتا ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں ۔
- سید فیض علی شاہ قادری چشتی نیازی
مصادر و مراجع :
* تذکر اللّٰہی مصنف محمد ابوالحسن فریدآبادی شیدائی صفحہ ۵۱،۵۲
* تحفۂ تحران مصنف محمد ابوالحسن فریدآبادی شیدائی صفحہ 79
* آگرہ و آگرہ والے مصنف حضرت سید محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی صفحہ 76,77,79
* حضرت غوث الاعظم ؓسوانح و تعلیمات مع تذکرہ فرزند غوث الاعظم ؓ تصنیف حضرت سید محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی صفحہ 194
* سوانح غوث پاک تصنیف حضرت انتظام اللّٰہ شہابی ؒ صفحہ صفحہ 73,74
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.