ذکر خیر حضرت شاہ نظیر حسن ابوالعُلائی داناپوری
زندگی کے مختلف گوشہ ہائے حیات میں کچھ شخصیات اپنی انفرادی خوبیوں کے سبب نمایاں ہوتی ہیں مگر ان میں بعض ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو دوسروں کی خوشی اور کمال میں اپنی خوشی محسوس کرتی ہیں، طریقت میں مرید کی حقیقی معراج اس وقت ہوتی ہے جب پیرِ مغاں کی تعلیمِ باطنی اس کے لیے باعثِ افتخار اور بلند مقام کا ذریعہ بن جائے، انہی کامل شخصیات میں حضرت مولانا سیّد شاہ نظیر حسن ابوالعلائی داناپوری ایک نمایاں اور کامیاب شخصیت کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں، جنہوں نے طالبانِ حق کے لیے اپنے پیرانِ سلسلہ کی تعلیمات کو روشن کیا، آپ کی شخصیت میں بیک وقت صالح جوان، تلمیذِ رشید، عالمِ باعمل، کامل مرید اور صوفیِ باصفا کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور اپنے خانوادے میں ہر اعتبار سے عزت و وقار اور روشن خیالی کے حامل تھے، جنہوں نے عاشق و معشوق کا روحانی سلسلہ قائم رکھ کر آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت کا چراغ روشن کیا، جیسا کہ حمدؔ کاکوی نے بھی فرمایا ہے۔
انہیں کے دست مبارک پہ ہے مجھے بیعت
مرید ان کا ہوں میں اور وہ ہیں میری مراد
اور دوسری جگہ اس کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے اس خیال کو بھی ظاہر کردیا کہ
میری باتوں کو نہ مانوگے تو شکوا کیا ہے
اپنا نقصان کروگے میرا بگڑتا کیا ہے
حضرت نظیر حسن داناپوری کا خاندان صوبۂ بہار کے کاشی تکیہ میں ایک مہمان نواز، صاحبِ عزت اور زمیندار خانوادہ تھا، جس کی شرافت، دینی وابستگی اور خاندانی وجاہت اہلِ علاقہ میں معروف تھی اور آپ کا پدری نسب نامہ یوں بیان کیا جاتا ہے۔
نظیر حسن بن غوث علی بن میر امداد علی بن میر غلام مخدوم علی بن میر نجف علی بن میر ولی اللہ سہروردی بہاری ۔
بارہویں صدی ہجری کے وسط میں داناپور ہجرت کرنے والے اہم خاندانوں میں ایک خاندان سیّد غوث علی کا تھا، جن کی شادی حضرت شاہ تراب الحق موڑوی (متوفیٰ ۱۲۵۴ھ) کی دختر بی بی کلثوم سے ہوئی، جن سے دو صاحبزادے نظیر حسن اور عمر دراز آفتاب و ماہتاب کی طرح پیدا ہوئے، عمر دراز کم سنی ہی سے دانشمند تھے اور بزرگوں کے سفینوں کی نقل و اشاعت میں ہمہ وقت مصروف رہتے مگر شعبان المعظم ۱۲۸۸ھ میں وہ اللہ کو پیارے ہوگئے، حضرت شاہ محمد اکبر ابوالعلائی داناپوری نے انہیں ’’بردارم لخت جگرم‘‘ کے الفاظ سے یاد فرمایا ہے، واضح رہے کہ سیّد غوث علی کی پہلی شادی بہار شریف میں ہوئی تھی، جن سے ایک صاحبزادی بی بی وجیہن پیدا ہوئیں جو حکیم حمید الدین بہار شریف سے منسوب ہوکر صاحبِ اولاد ہوئیں۔
پیشے کے اعتبار سے یہ خاندان زمیندارانہ تھا مگر عزت و منصب کے لحاظ سے بھی نمایاں حیثیت رکھتا تھا، ابتدا میں اس خاندان کا رشتۂ طریقت سہروردی سلسلے سے تھا، بعد ازاں پورا خاندان ابوالعلائی رنگ سے معمور ہوگیا، بہار شریف کے کاشی تکیہ اور موڑہ تالاب کے قرب کی وجہ سے سیّد غوث علی کا دوسرا رشتہ خانقاہ موڑہ تالاب کے حضرت شاہ تراب الحق کی صاحبزادی بی بی کلثوم سے قرار پایا، جن کی ضیاباریوں کی کرنیں داناپور تک پھیل رہی تھیں اور رشتۂ ازدواج سے منسلک ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہی آپ داناپور میں آ بسے، رفتہ رفتہ قلبی میلان بڑھتا گیا، دل سے دل ملتا گیا، یہاں تک کہ ۱۲۷۸ھ میں نظیر حسن داناپوری کی پیدائش اپنے نانیہال محلہ شاہ ٹولی میں ہوئی، جس پر آپ کے خالِ اقدس حضرت مخدوم شاہ محمد سجاد داناپوری (متوفیٰ ۱۲۹۸ھ) نے آپ کا نام نظیر حسن رکھا، یعنی وہ نظیر جس کا کوئی نظیر نہیں؛ ابتدائی تعلیم خاندان کے بزرگوں سے حاصل کی، پھر تعلیم ظاہری و باطنی اپنے حقیقی خالِ اقدس حضرت مخدوم سجاد سے مکمل کی، جلد ہی درسی کتابوں پر مہارت حاصل کر کے فقہ و اصولِ فقہ کے ساتھ ادب میں بھی مشہور ہوئے اور والدۂ محترمہ کی نگرانی و حسنِ اخلاق کے زیرِ اثر ماہرِ فن اور یگانۂ عصر بن گئے، جیسا کہ صاحبِ نذرِ محبوب نے بھی ذکر کیا ہے۔
’’برادموصوف فقیر مؤلف کے حقیقی پھوپھی زاد بھائی عالم علوم معقول و منقول ہیں‘‘
زندگی کے ابتدائی دور ہی سے آپ اخلاقِ وسیع اور تربیت کے ماہر تھے، بڑے ہوں یا چھوٹے، سب کی تعظیم شریعت کے عین مطابق کیا کرتے، مزاج میں نرمی، گفتار میں شیرینی اور اخلاق میں جامعیت پائی جاتی تھی، علم و عمل کے لحاظ سے جس قدر بلند مقام پر فائز تھے، اسی قدر خاکساری، انکساری اور تواضع سے بھی معمور تھے، یقیناً آپ ہر اعتبار سے سچے عاشق کی پہچان تھے، کیونکہ انسان کی قدر و منزلت محض علم سے نہیں بلکہ ہر دور میں عمل سے ہوتی آئی ہے، آپ نے خاندانی جائداد کی پروا کیے بغیر طریقت کے ماحول اور علم و عمل کے سمندر کو اسلام کی حقانیت اور اصلاحِ خلق کے لیے وقف کر دیا، اور کم سنی ہی میں حضرت مخدوم شاہ سجاد دپاک کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ ابوالعلائیہ میں شرفِ بیعت حاصل کیا، جیسا کہ صاحب نذرِ محبوب نے بھی بیان کیا ہے۔
’’بہت ہی کم عمری میں حضرت والد ماجد (حضرت سجاد داناپوری)قدس سرہ سے شرف بیعت حاصل کیا اور تازمانہ وصال برابر مشرف حضور ہیں حضر ت والد ماجد (مخدوم سجاد)قدس سرہ کو برادر موصوف کے ساتھ تاحال وہی شیفتگی کی حالت تھی زاداللہ محبتہ و عشقہ ‘‘
(ص؍۳۷)
اور بقول صاحب تذکرۃ الکرام
’’مولوی شاہ نظیر حسن صاحب داناپوری کہ آپ کے بھانجے اور مرید تھے ‘‘
(ص؍۷۱۲)
خاندان کے معاصر بزرگوں میں عالی مرتبت تھے مشہور صوفی بزرگ حضرت شاہ محمد اکبرابوالعُلائی داناپوری (متوفیٰ۱۳۲۷ھ )نے
’’برادربجان برابر قوت بازو فقیر اکبر،سعید زمن سیّدشاہ نظیر حسن ابوالعُلائی سلمہ اللہ تعالیٰ‘‘
حضرت مخدوم شاہ سجادپاک آپ کو محبت بھرے اسما و القاب سے یاد فرمایا کرتے تھے اور آپ کے چھوٹے بھائی سیّد شاہ عمر دراز کو ’’برادرم لخت جگرم سیّد شاہ عمر دراز‘‘ کہا کرتے تھے، جن کی تاریخِ رحلت ۱۱؍ شعبان ۱۲۸۸ھ ہے، نظیر حسن داناپوری اپنے پیر حضرت مخدوم شاہ سجاد کے ہر اعتبار سے عاشقِ صادق تھے، ہمیشہ سفید لباس زیبِ تن فرماتے اور شانے پر اپنے پیر و مرشد مخدوم شاہ سجاد کا عطا کردہ سیاہ پٹکہ رکھتے، جسے زندگی کے ہر لمحے اپنی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے دیتے، سفر ہو یا حضر، اکثر آپ پیر و مرشد کے ہمراہ رہتے، اور حقیقت یہ ہے کہ قلم کی سیاہی آپ کے حقیقی عشق و محبت کی داستان مکمل طور پر رقم کرنے سے قاصر ہے، کیونکہ بے پناہ محبت کو الفاظ میں نہیں سمیٹا جاسکتا، تاہم حضرت شاہ محمد ادریس چشتی ابوالعلائی (متوفیٰ ۱۳۵۴ھ) کی کتاب مجموعاتِ گنجِ عرفان کی تحریر سے اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ماموں اور بھانجے کے درمیان عشق و عقیدت کی کیفیت کس درجہ والہانہ تھی۔
’’اور ہمارے پیرومرشد کے بھانجہ حقیقی جناب مولوی سیّدشاہ محمد نظیر حسن ابوالعُلائی صاحب عرفانہ اور آپ نے ہی ماموں صاحب سے انہیں بیعت حاصل ہے اور مولوی صاحب موصوف اپنے ماموں صاحب کی صحبت میں تاوفات رہے اور بہت کچھ فیض آپکو اپنے ماموں صاحب سے حاصل ہے اوردونوں ماموں بھانجہ میں عاشق معشوق کی حالت تھی از حد محبت دونوں میں تھی جو تحریر نہیں کرسکتے ہیں اور مولوی صاحب بڑے خدمت گزار تھے جو چاہیے تھا وہ بجالاتے اور مولوی صاحب بھی نہایت عالی جات و صاحب اخلاق و درد مندہر کسی کے ساتھ و غربا پرور کم سخن اور بڑے عابد و متقی و پرہیزگار ہیں وخندہ صورت ہیں اوصاف ان کے ہم بیان نہیں کرسکتے ہیں ،خداوندحقیقی انہیں حیات درازی عطافرمائے کیونکہ ایسے لوگوں کے دیدار ہونے سے ایمان انسان کا تازہ ہوجایا کرتا ہے ،اللہ ان کے بال بچوں کو عمردراز عطافرمائے‘‘
(ص؍۱۶۰)
پیر و مرشد کی رحلت کے بعد جب دل بالکل مغموم و مایوس ہوگیا تو دل کو بہلانے اور دینی خدمت کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے آپ نے اپنے ہی گھر میں مدرسہ نعمانیہ حنفیہ کی بنیاد رکھی، اور مولانا سلطان احمد کابلی قندھار، افغانستان وغیرہ کے ہمراہ تفسیر، حدیث اور دیگر علومِ دینیہ کا درس دینا شروع کیا۔
بقول صاحب بردران شغال کہ
’’جناب نظیر حسن صاحب کا مشہور ومعروف مدرسہ نعمانیہ حنفیہ موجود تھا جس میں صرف صوبۂ بہار ہی نہیں بلکہ اور دوسرے صوبہ کے طلباء علم دین حاصل کررہے تھے اور فارغ التحصیل ہوکر جاتے تھے اور اس زمانے کی جلیل القدر ہستی یعنی مولوی سلطان احمد صاحب قندھاری بھی درس دیا کرتے تھے بعد ازاں شاہ نظیر حسن کے بڑے صاحبزادے جناب مولوی سیّد واعظ الدین صاحب جیسے جید عالم نے درس و تدریس کا کام سنبھالا‘‘
(ص؍۱۶)
اس مدرسہ کے باعث صوبۂ بہار کے اکثر طلبہ یہاں سے علمی فیض حاصل کرتے رہے، جن میں آپ کے نواسہ مولانا سیّد شاہ ظفر سجاد ابوالعلائی(سجادہ نشیںخانقاہِ سجادیہ ابوالعلائیہ داناپور)، مولانا سیّد شاہ محمد اسمعیل ابوالعلائی روحؔ کاکوی، سیّد مسعود حسن منظرؔ اقبال کاکوی، سیّد ابراہیم کیفیؔ کاکوی، سیّد شاہ عین الساجدین، منشی منیف نعمانی ابوالعلائی(خادم خانقاہ چشتیہ، بشن پور) اور مفتی عبدالحافظ (نائب قاضیِ شریعت ادارۂ شرعیہ)خاص طور پر مشہور ہوئے، اگرچہ یہ مدرسہ زیادہ عرصہ تک رہبری کا فریضہ انجام نہ دے سکا اور چند ہی سالوں میں موقوف ہوگیا، لیکن شعر و شاعری کے گلشن میں آپ کے قلم سے ایسی پاکیزہ نعتیں منظرِ عام پر آئیں جنہیں سننے اور پڑھنے سے ایمان تازہ ہوتا ہے اور عشقِ رسول کی کیفیت دل میں اترتی ہے، آپ منفرد لب و لہجے کے شاعر تھے، جب بھی کہا حضور کی شان میں کہا، شاعری میں آپ حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کے تلمیذ تھے، اور آپ کی لکھی ہوئی نعتیں آج بھی خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ کی محافل میں اپنے قدیم انداز میں پڑھی جاتی ہیں، جن کی ایک جداگانہ روحانی حیثیت ہے؛ نمونۂ کلام ملاحظہ فرمائیے اور نظیرؔ حسن داناپوری کو دادِ سخن دیجئے۔
سمجھ میں جب نہ نعت پاک ختم الانبیا آئے
تو پھر کیوں کر کسی کی عقل میں حمد خدا آئے
نبی ہو کے اگلوں میں خلیل باصفا آئے
مسلمانو مبارک ہو تم میں محبوب خدا آئے
جہاں میں لوگ سب بھولے پڑے تھے اپنے خالق کو
لگے پھر یادکرنے جب محمد مصطفیٰ آئے
ہر اک سو کفر کی ظلمت تھی اور تاریک تھی دنیا
منور ہوگیا سارا جہاں جب مصطفیٰ آئے
نظیرؔ اسکو یقیں کر جب ملائک اس میں حیراں ہیں
سمجھ میں نعت پتلۂ خاکی کہ کیا آئے
نظیر ؔداناپوری کی اس سادگی اور صفائی کا اندازہ اس پاکیزہ غزل سے لگایئے۔
عنایت مجھ پہ درپردہ ستم ایجاد کرتے ہیں
جفا اوروں پہ کرتے ہیں ہمیں تو شاد کرتے ہیں
پیام آیا اسیروں کا چمن سے ہم صفیروں
ذرا صورت دکھاجاؤ تمہیں ہم یاد کرتے ہیں
نظیرؔ اللہ کو کیا منہ دیکھائیں گے قیامت میں
برہمن اسکو بھولے ہیں بتوں کو یاد کرتے ہیں
نظیر ؔحسن کے چند مقطع کے شعر اختصار کے ساتھ ملاحظہ کیجیے
دونوں جہاں کے غم سے چھٹنا چاہتا ہے گر نظیرؔ
دامنِ پاک حبیب خالق اکبر نہ چھوڑ
اس رشک کے آفتاب کے شانو تلک نظیر
زلف سیاہ آئی ہے کس پیچ و تاب سے
جو نکلا زلف شبگوں سے نظیرؔا س کا رخ روشن
اڑا بن بن کے جگنوں نور روئے ماہ کامل سے
دیگر
اخوت کی نظیرؔایسی کہاں جو تم نے قائم کی
مسیحی کے عقیدے میں توخیرالاصفیاء آئے
دیگر
سن لیجیے آپ کچھ حقیقت نماز کی
ہے ہدیہ نظیرؔ وصیت نماز کی
باضابطہ طور پر آپ کی کوئی تصنیف یا مجموعۂ کلام محفوظ نہیں، البتہ چند کلام خانقاہِ سجادیہ کے کتب خانے میں موجود ہیں جو آپ کی علمی استعداد اور شعری ذوق کی واضح دلیل ہیں، سلسلہ کے مرید ہونے کے بعد آپ حضرت شاہ عطا حسین منعمی (متوفیٰ ۱۳۱۱ھ) اور حضرت حکیم شاہ کاظم حسین داناپوری (متوفیٰ ۱۲۹۹ھ) سے مجازِ مطلق ہوئے اور اپنے نانیہال ہی میں ابتدا سے انتہا تک زندگی گزاری، آپ نے جن مقدس حضرات کو اجازت و خلافت سے نوازا، ان کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں۔
حضرت مولانا سیّدشاہ محمد محسن ابوالعُلائی داناپوری
حضرت مولانا سیّدشاہ واعظ الدین حسین ابوالعُلائی داناپوری (صاحبزادہ و جانشین )
حضرت مولانا سیّدشاہ حسین الدین احمد منعمی گیاوی
حضرت مولانا سیّدشاہ ظفر سجاد ابوالعُلائی داناپوری
حضرت مولانا سیّدشاہ محمد اسمعیٰل ابوالعُلائی کاکوی
حضرت مولانا سیّدشاہ محمد الیاس ابوالعُلائی داناپوری وغیرہ
صاحب کنزالانساب ’’ثمرہ ششم ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں جس کوبجنسہ یہاں رقم کیا جاتا ہے۔
’’در ذکر دختر ثانی عمہ ایں فقیر مسماۃ بی بی کلثوم کہ از میر غوث علی شدند کہ خدا بیعت دارند از خال الاعظم خود خواہر عزیزہ صاحب عفت و عصمت از بطن ایں بی بی دو پسر شدند یکی عمر دراز کد خدا شد عمردراز نماند ثانی پسر مرید پسر شاہ نظیر حسن سلمہ موجود است بپایہ ثبات و تعلیم و ذی شعور در علم عربیت بے نظیر عبارت فارسی نیز تحصیل کثیر بسیار در طبیعت دارد صلاحیت بیعت و تربیت ایشاں از خال خود یعنی از حیات اخی سیّدشاہ محمد سجاد مسند نشیں ارشاد کد خدائی شداز دختر سیّد ابوالبرکات ذی الولاد است ‘‘
(ص ؍)
آپ کا پہلا نکاح بی بی نبی النسا عرف نبن چھپرا سے ہوا، جن سے دو صاحبزادیاں بی بی حمیدہ خاتون جو ڈاکٹر سیّد وجاہت التوحید بلخی سے منسوب ہوئیں اور بی بی خدیجہ خاتون پیدا ہوئیں مگر یہ زوجہ جلد ہی اللہ کو پیاری ہوگئیں، اس کے بعد آپ کا دوسرا نکاح حضرت شاہ ابوالبرکات ابوالعلائی عرف برکت مدن پوری ثم داناپوری (متوفیٰ ۱۳۲۶ھ) کی صاحبزادی بی بی تمیز النسا سے ہوا، جن سے بی بی حفیظ النسا جو مولانا شاہ محسن ابوالعلائی( سجادہ نشیں خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ) سے منسوب ہوئیں، رابعہ جو حکیم سیّد سعید احمد کاکوی سے منسوب ہوئیں، مولانا شاہ واعظ الدین حسین ابوالعلائی داناپوری (متوفیٰ ۱۳۵۹ھ) اور حافظ شاہ ریاض الدین حسین ابوالعلائی پیدا ہوئے، اسی شادی کے موقع پر حضرت شاہ یحییٰؔ عظیم آبادی نے قطعۂ تاریخ تحریر فرمایا۔
’’قطعۂ تاریخ زواج نظیر حسن عرف دمڑی میاں ابن الاخت جناب حاجی سیّد محمد سجاد صاحب
نظیر حسن نوجوان کد خدائی شد
بودخانہ اش ای خدا دائم آباد
چوں گر یست نوشاہ آں ہمہ لقا را
زبس شاد شد خاطر شاہ سجاد
چہ سجاد کو را عنایت نمود ست
خدائے جہاں منصب پاک او ارشاد
چہ سجادکز نسبت ابوالعلاہست
کرامت چو ابدال قوت چو اوتاد
ہمیں سال ثروج برجستہ فرمود
زواج نظیر حسن بادل شاد
۱۲۹۶ھ (کنزالتواریخ،ص؍ ۲۲۴)
سیّد واعظ الدین حسین اپنے والد کے تعلیم یافتہ تھے، عیدگاہ و مسجد کے امام و خطیب رہے، اور حضرت شاہ محمد اکبر ابوالعلائی داناپوری سے بیعت، اجازت اور شاعری میں تلمذ رکھتے تھے، زندگی کے آخری دور تک اپنے پیر و سلسلہ کی نشر و اشاعت میں پیش پیش رہے، آپ کی چار شادیاں یکے بعد دیگرے ہوئیں، زوجۂ اولیٰ امینہ خاتون بنت قاضی شیخ عبدالکریم شیرگھاٹی، جن سے سیّد الیاس ابوالعلائی قیصرؔ داناپوری پیدا ہوئے، زوجۂ دوم عصمت النسا بنت شاہ کفایت گوری گھاٹ تھیں،جن سے اولاد نہ ہوئی، زوجۂ سوم بی بی محفوظ بنت خواجہ عبدالرحمٰن شیرگھاٹی، فرزندۂ بی بی کلثوم تھیں اور زوجۂ چہارم آمنہ خاتون بنت الطاف حسین بیوڑی تھیں، جن سے سیّد فیضان احمد، سیّد رضوان احمد اور بی بی حبیبہ خاتون پیدا ہوئے جو آج بھی شاہ ٹولی میں آباد ہیں جبکہ حافظ شاہ ریاض الدین کا نکاح سعیدہ خاتون بنت ڈاکٹر عظیم الدین بھدول سے ہوا جن سے ایک صاحبزادی میمونہ خاتون پیدا ہوئیں جو سیّد ابو سعید کراچی خلف نسیم ہلسوی سے منسوب ہوئیں اور ان کی اولاد میں سیّد اختر عالم، جن کی زوجہ شمس النہار بنت شاہ محسن داناپوری تھیں، معینہ خاتون، جو ضیاؤالحق خلف سیّد الیاس سے منسوب ہوئیں وغیرہ شامل ہیں جن کی اولاد شاہ ٹولی داناپور اور کراچی میں آباد و شاد ہیں۔
المختصر، خاندان کے افراد آپ کوڈمڑ داد اورمولوی صاحب کے نام سے یاد کرتے تھے،ایک واقعہ یہ ہے کہ حافظ محمد یعقوب جو دربھنگہ کے باشندہ تھے شاہ ٹولی کی مسجد میں پندرہ روزہ تراویح پڑھایا کرتے تھے اور اس زمانے میں یہی خدمت انجام دیتے تھے، وہ بڑے بے نفس، متقی اور پرہیزگار انسان تھے اور آپ سے نہایت درجہ مودّت رکھتے تھے، آخری وقت میں جب حافظ صاحب روانگی کی اجازت لینے حجرہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور! ان شاء اللہ آئندہ سال پھر ملاقات ہوگی تو آپ نے فرمایا کہ ہم آپ کو اب نہیں بلائیں گے، حافظ صاحب نے اس جملے کو مذاق سمجھا اور بخوشی دربھنگہ روانہ ہوگئے، مگر اسی سال چند ماہ بعد آپ کا انتقال ہوگیا، جب حافظ صاحب اس جانکاہ واقعہ سے آگاہ ہوئے تو اسی کیفیت میں آپ کی طرف بڑھے اور لوگوں سے فرمایا کہ حضور بالکل درست فرماتے تھے کہ ہم تم کو نہیں بلائیں گے، آپ کا وصال ۶۵ ؍برس کی عمر میں ۱۵؍ ذی الحجہ ۱۳۴۳ھ، بروز دوشنبہ، دو بجے دن کو ہوا اور آپ کی آخری آرام گاہ اپنے مکان کے افتادہ حصے میں واقع ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.