Font by Mehr Nastaliq Web

تبصرہ : ’’چلہ کشی‘‘

ریان ابوالعلائی

تبصرہ : ’’چلہ کشی‘‘

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    خدا تک پہنچنے کے لیے صوفیائے کرام نے ہمیشہ تگ و دو کی ہے، انہوں نے اپنے نفس کو تیاگ کر خدا کو پا لینے کے لیے بڑی بڑی ریاضتیں اور کوششیں کی ہیں، ان عبادت و ریاضات میں چلہ کشی بھی ایک اہم راستہ ہے، جس کے ذریعے بندہ خدا کو پا لینے کے اہتمام و انتظام میں مصروف رہتا ہے، اسی اہم موضوع پر ہمارے مکرمی نایاب علی شاہ نے بھی قلم اٹھایا ہے اور اس موضوع کو قرآن و حدیث، انبیا و اصفیا کے ملفوظات وغیرہ کے حوالوں سے بیان کیا ہے کہ چلہ کشی کیسے کی جاتی تھی اور اس کے اصول و ضوابط کیا ہیں، اس کتاب میں قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ صوفیائے کرام کے مکتوبات و ملفوظات سے بھی اقتباسات نقل کیے گئے ہیں جو کتاب کو پختہ بناتے ہیں، انبیائے عظام جیسے حضرت ایوب، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ یا پھر حضرت مریم کا محراب میں گوشہ نشیں ہونا، ان تمام کی تفصیلات بھی قلم بند کر دی گئی ہیں، چلہ کشی کے انسانی جسم اور روح پر اثرات اور اس کے مقصد اور افادیت کے حوالے سے بھی یہ کتاب قیمتی ہے، پھر صوفیائے کرام جیسے شیخ عبدالقادر جیلانی، شیخ ابراہیم بن ادھم بلخی، شیخ جنید بغدادی، شیخ بایزید بسطامی، شیخ عبدالواحد، شیخ ابوبکر شبلی، حاجی شریف زندنی، خواجہ عثمان ہارونی، خواجہ معین الدین چشتی، بابا فریدالدین گنجِ شکر، شیخ علاؤالدین علی احمد صابر، شیخ بدیع الدین مدار، امام محمد غزالی، شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری، سیدنا امیر ابوالعلا، شیخ نعمت ولی اور سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعلائیہ کے مشائخ وغیرہ کے مجاہدات و چلہ کی تفصیل بھی لکھ دی ہے، نیز اس کے شرائط و ضوابط اور برصغیر میں جن جگہوں پر چلہ گاہ موجود ہے، اس کی تاریخ بھی یکجا کر دی ہے۔

    مکرمی نایاب علی یقیناً قابلِ مبارک باد ہیں، جنہوں نے چلہ جیسے انتہائی اہم موضوع کو بڑی مستعدی کے ساتھ اور اس کے آس پاس کے ان تمام تذکروں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے، ان کی یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے، کئی گوشے جو تشنہ تھے انہیں بھی پُر کرنے کا کام کیا ہے، خداوندِ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت برسائے، ہمیں امید ہے کہ اہلِ علم اور وابستگانِ تصوف اس کتاب سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے