ذکر خیر حضرت سیدنا امیر ابوالعلا
دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے کرام کا کردار فراموش نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے مخلوق خدا کے سامنے اپنے قول کی بجائے اپنی شخصیت اور کردار کو پیش کیا، انہوں نے انسانوں کی نسل، طبقاتی اور مذہبی تفریق کو دیکھے بغیر ان سے شفقت و محبت کا معاملہ رکھا ،جماعتِ صوفیہ کے مقتدر مشائخ میں ایسی بھی ہستیاں ہوئیں جو اپنے لافانی کارناموںکی وجہ سے ممتاز و عدیل ہوئیں جیسے گیارہویں صدی ہجری کے مقبول زمانہ بزرگ حضرت محبوب جل وعلا سیّدنا امیر ابوالعُلا جن کی ولایت و کرامات اور خوارق و عادات سے زمانہ روشن ہے۔
حضرت سیّدناامیر ابوالعُلا کی ولادت با سعادت۹۹۰ھ میں قصبہ نریلہ (دہلی) میں ہوئی، اسم گرامی امیر ابوالعُلا،امیر آپ کا موروثی لقب ہے اور تخلص انسانؔ ہے، آپ میر صاحب،سیّدنا سرکار، محبوب جل و علا اورسرتاجِ آگرہ وغیرہ کے خطاب سے مشہور ہوئے،آپ کے والد کانام امیر ابوالوفا اور والدہ بی بی عارفہ تھیں،ان کے علاوہ آپ کی ایک ہمشیرہ بھی تھیں،والد کی طرف سے آپ حضرت سیّد عبداللہ باہر خلف امام زین العابدین کی اولاد سے ہیں اور والدہ کی جانب سے حضرت ابوبکر صدیق کی اولاد میں سے ہیں۔ (نجاتِ قاسم،ص۸)
امیر ابوالعُلابن امیر ابوالوفا بن امیر عبد السلام بن امیر عبد الملک بن امیر عبد الباسط بن امیر تقی الدین کِرمانی بن امیر شہاب الدین محمودبن امیر عمادالدین امر جاج بن امیر علی بن ا میر نظام الدین بن امیر اشرف بن امیرا عزالدین بن امیر شرف الدین بن امیر مجتبیٰ بن امیر گیلانی بن امیر بادشاہ بن امیرحسن بن امیر حُسین بن امیرمحمدبن امیر عبداللہ بن امیر محمد بن امیر علی بن امیر عبد اللہ بن امیر حسین بن امیر اسمعٰیل بن امیر محمدبن امیر عبدا للہ باہر بن زین العابدین بن امام حسین بن علی مرتضیٰ بن ابی طالب۔
(حجۃ العارفین ،ص؍۵۷)
امیر ابوالعُلا بن بی بی عارفہ بنت خواجہ محمد فیض بن خواجہ ابوا لفیض بن خواجہ عبد اللہ خواجکا بن خواجہ عبید اللہ احراربن خواجہ محمود بن خواجہ شہاب الدین شاشی (چار پشت بعد)خواجہ محمد النامی بغدادی سے ہوتے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق سے جاملتا ہے۔ (سلسلۃ العارفین وتذکرۃ الصدیقین)
حضرت امیر ابوالعُلاکے آباو اجداد کسی زمانے میں کِرمان (ایران)میں سکونت پذیر تھے، حضرت شاہ محمدقاسم ابوالعُلائی داناپوری لکھتے ہیںکہ
’’حضرت سیّدامیر عماد الدین اَمر جاج قدس اللّہ سرہٗ کہ مزار شریف ان کا بیچ قریہ بسم مضافات دارالامان کِرمان کے ہے تمام عالم میں روشن تھے‘‘
(نجاتِ قاسم ،ص؍۳۴)
حضرت امیر عماد الدین امر جاج کے نبیرہ حضرت امیر تقی الدین کِرمانی جو بادشاہ مرزا شاہ رخ کے عہد میں کِرمان (ایران)سے ہجرت کرکے سمر قند (ازبُکستان) تشریف لائے ،رقمطراز ہیںکہ
’’سولہ برس کی عمرمیںآپ (امیرتقی الدین)اپنے وطن مالوف کِرمان (ایران)سے ہجرت کرکے ولایت و ماورالنہر کو تشریف لے گئے اور مولانا قطب الدین رازی سے تحصیلِ علوم ظاہری کی کرکے تھوڑے دنوں میں عالم الدّہر اور فاضل العصر ہوگئے،چنانچہ سلسلۂ ارادت آپ کا بہ چند واسطہ شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی قدس سرہٗ سے ملتا ہے کہتے ہیں کہ اصرار سے مرزاشاہ رخ بادشاہ کے شہر سمر قند میں آپ نے توطن اختیار کیاوہیں انتقال فرمایا‘‘
(نجاتِ قاسم،ص؍۱۱)
واضح ہوکہ خواجہ عبید اللہ احرار اور امیر تقی الدین کِرمانی دونوں ہم عصر اور دوست ہیں، دونوں بزرگ کا مزار بھی ایک ہی جگہ پرسمر قند میں واقع ہے،روایت ہے کہ امیر تقی الدین کِرمانی کے جنازہ کو خواجہ عبید اللہ احرار اپنے دوش پر مزار تک لے گئے ہیں،اس وقت دونوں خانوادہ میں بڑی قربت ہوچکی تھی۔ (ایضا)
مؤلف نجاتِ قاسم لکھتے ہیں کہ
’’کئی پشتوں سے برابر بزرگوار حضرت محبوب جل و علا کے نواسے خواجگان احراری کے تھے‘‘
(ص؍۱۳)
یعنی حضرت سیّدنا ابوالعُلا، خواجہ محمد فیض المعروف فیضی بن خواجہ ابو الفیض کے نواسہ ہوئے،آپ کے والد امیر ابوالوفا، خواجہ ابوالفیض بن خواجہ عبداللہ عرف خواجکا (متوفیٰ ۹۰۸ھ)کے نواسہ ہوئے اور ہمارے حضرت کے جد امیر عبدالسلام، خواجہ عبداللہ عرف خواجکابن خواجہ عبیداللہ احرار( متوفیٰ ۸۹۵ھ) کے نواسہ ہوئے اور اس طرح امیر عبدالسلام کے والد ماجد حضرت امیر عبدالملک، خواجہ عبداللہ عرف خواجکاکے خویش عزیز ہوئے۔ (انفاس العارفین،ص؍۲۱)
ہمارے حضرت کا کئی پشتوں سے نانیہالی خاندان شاہ بیگ خان کے قبضے کے بعد مشکلات کا شکار ہوتاچلاگیا ، محرم ۹۰۶ھ میں خواجہ عبیداللہ احرار کے صاحبزادے خواجہ محمد یحییٰ احراری(متوفیٰ ۹۰۶ھ) اوران کے دو بیٹے (محمد زکریااحراری اور عبدالباقی احراری)اپنے والد محترم کے ہمراہ شہید ہوئے ۔
(سلسلۃ العارفین وتذکرۃ الصدیقین)
خواجہ محمد ہاشم کِشمی(متوفیٰ ۱۰۵۴ھ) رقمطراز ہیں ک
’’اب ان کامولد و مسکن سمر قند کوئی پُر امن جگہ نہ رہا تھا ،مجبوراً خواجہ احرار کے پسماندگان کو کاشغر(ایران)اور ہندوستان کارخ کرنا پڑا‘‘
(نِسمات القدس من حدائق الانس ،مقصد دوم)
حضرت امیر تقی الدین کِرمانی کے صاحبزادے امیر عبدلباسط سمرقند (ازبُکستان)کے رہنے والے تھے ،سمرقند میں آپ کے خاندان کے افراد دولت و ثروت اور جاہ و منصب کے علاوہ شجاعت و بہادری اور زہد و تقویٰ کے لیے مشہور تھے،ان کے دو فرزند تھے امیر عبدالملک اور امیر زین العابدین، امیر عبدالملک کے صاحبزادے یعنی ہمارے حضرت سیّدنا ابوالعُلاکے جد امیر عبدالسلام سمرقندسے سکونت ترک کرکےمغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر(متوفیٰ۱۰۱۴ھ)کےعہد حکومت(۹۶۳ھ تا ۱۰۱۴ھ)میں ہندوستان اپنے اہل و عیال کے ساتھ تشریف لائے، لاہور ہوتے ہوئے قصبہ نریلہ جو دہلی کے قریب واقع ہے پہنچ کر وہاں قیام فرمایا اوراسی اثنامیں حضرت ابوالعُلاکی پیدائش ہوئی، کچھ عرصہ وہاں قیام کرکے مع اہل و عیال فتح پور سیکری پہنچے وہاں شہنشاہ اکبر سے ملاقات ہوئی، اکبر کی درخواست پر آپ نے یہاں قیام کرنا منظور کیا ۔
(نجاتِ قاسم،ص؍۱۴)
ابھی آپ کم سِن ہی تھے کہ والد ماجد کو دردِ قولنج کی شکایت ہوئی اور اسی مرض میں انہوں نے فتح پور سیکری میں وفات پائی، نعش کو دہلی لے جایا گیا اور وہیں مدرسہ لعل دروازہ کے قریب سپردخاک کیا گیا لیکن اب کوئی واقف کارباقی نہ رہا کہ نشانِ مزار بتا سکے ،بقول نجاتِ قاسمؔ
’’چنانچہ کاتب (محمد قاسم)نے بہت تجسس کیا مگر زیارت (مزار)نصیب نہ ہوئی ‘‘
(ص؍۱۵)
والد محترم سے محروم ہونے کے بعد آپ کے جد امیر عبدالسلام آپ کی ہر طرح سے دل جوئی کرتے اور ہر بات کا خیال رکھتے، آپ کے جد حرمین شریفین کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے توپھر ہندستان واپس تشریف نہ لاسکے اوروہیں انہوںنے وفات پائی، مزار جنت البقیع میں ہے،سفرحج سے قبل آپ کے دادا نے آپ کو نانا خواجہ محمد فیض المعروف بہ فیضی خلف خواجہ ابوالفیض کے سپرد فرمایاتھا، ابھی آپ اچھی طرح سِن شعور کو پہنچے بھی نہ تھے کہ نانا نے ایک مہم میں جام شہادت نوش کیا، اس طریقے سے ہمارے حضرت کا خاندان بچپن میں کئی طرح کے صدمے کا شکار ہوتا چلا گیا لیکن کہتے ہیں کہ اللہ انہیں کو مقامِ ولایت سے نوازتا ہے جنہیں صبرو تحمل کے راستے سے گزارتا ہے۔
(نجاتِ قاسم،ص؍۸)
آپ کے نانا خواجہ محمد فیض المعروف خواجہ فیضی بردوان(بنگال) میںحاکم مان سنگھ کی طرف سے نظامت کے عہدے پر فائز تھے،دادا امیر عبدالسلام کی رحلت کے بعد خواجہ فیضی آپ کو اپنے ہمراہ بردوان لے گئے، آپ کی تعلیم و تربیت نانا کی نگرانی میں ہوئی،آپ کے نانا نہ صرف ایک مغل عہدے دار تھے بلکہ اپنے بلند مرتبہ آباو اجداد کے علوم و فنون سے بھی آراستہ و پیراستہ تھے، انہیں کی صحبت میں حضرت ابوالعُلاتیزی کے ساتھ کمال معرفت تک پہنچے۔
(حجۃ العارفین ،ص؍۵۹)
بقول نجاتِ قاسمؔ
’’تھوڑے ہی دِنوں میں جملہ علوم میں وحید العصر اور سب فنون میں فرید الدہر ہوگئے ‘‘
(ص؍۱۵)
آپ اپنے نانا کے ذریعہ فن سپہ گری اور تیراندازی میں بے مثال ثابت ہوئے ،معاملہ فہمی ،راست گوئی،خوش تدبیری،استقلال،شجاعت اور جواں مردی کا بہت جلد اعلیٰ نمونہ بن گئے ۔
جب دل بالکل اللہ کی جانب متوجہ ہوا تو بردوان (بنگال)سے کہیں دور جاکر عبادت میں مشغول ہونا چاہا ،بہ سلسلۂ ملازمت بردوان میں مقیم تھے کہ شہنشاہِ وقت محمد اکبرماہ اکتوبر ۱۰۱۴ھ میں کوچ کر گئے،نورالدین محمد جہاں گیر تختِ شاہی پرجب رونق افروز ہوئے تو عنانِ حکومت میںلینے کے بعد ایک فرمان جاری کیا کہ
’’جملہ صوبے دار ،منصب دار ،ناظم اورامرا آگرہ شاہی دربار میں حاضر ہوں‘‘
تاکہ ان کی ذہانت ،قابلیت،وجاہت اور شخصیت کو پرکھا جائے آپ تو خود ہی ملازمت سے بے زار تھے اور اس راہ کو ترک کرکے دوسری راہ اختیار کرنا چاہتے تھے جب یہ شاہی فرمان بردوان پہنچا تو اس کو تائیدِ غیبی سمجھ کر سفر پر نکل پڑے ،بردوان سے پٹنہ ہوتے ہوئے منیر شریف پہنچے کسی نے یہ اطلاع دی کہ یہاں حضرت امام محمد المشتہر بہ تاج فقیہ کے نبیرہ اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری (متوفیٰ ۷۸۲ھ)کے خانوادہ سے وابستہ حضرت ابا یزید مخدوم شاہ دولت منیری(متوفیٰ ۱۰۱۷ھ) تشریف رکھتے ہیں، واضح ہوکہ خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپورانہیں بزرگ کی اولاد امجاد سے ہے۔
مؤلف نجاتِ قاسم لکھتے ہیں کہ
’’یہ ننگ خاندان کاتب(محمد قاسم) اس رسالہ کا بھی اولاد ناخلف سے انہیں حضرت مخدوم یحییٰ منیری قدس سرہٗ کے ہے القصہ حضرت محبوب جل وعلاکو یہ احوال سن کر مخدوم شاہ دولت قدس سرہٗ کی ملاقات کاا شتیاق ہوا‘‘ (ص؍۲۸)
مؤلف آثارِ منیرلکھتے ہیںکہ
’’آپ(مخدوم دولت منیری) کی بزرگی کا شہرہ سن کر آپ کی خدمت اقدس میں آئے شرفِ ملاقات حاصل کیا اور پہلا فیض آپ ہی سے لیا جس کے جلوے نے ابوالعُلائیت کا شہرہ بلند کردیا‘‘
(ص؍۳۵)
جب آگرہ پہنچے تو جہاں گیر کے دربار میں آپ کے حسن و جمال کے چرچے ہونے لگے ایک روز دیوانِ خاص میں جہاں گیرنے لوگوں کی آزمائش کی خاطر نارنگی پہ نشانہ بازی رکھا، خیال ہواکہ ا میر ابوالعُلا کو بلاؤ، چنانچہ حضرت کا پہلا نشانہ نارنگی پےخطا کرگیا لیکن دوسرا نشانہ درست ہوا آپ کی اس سُبکدستی پر سب حیران تھے ،خوشی کے مارے جہاں گیر نے ایک جام شراب کاآپ کو بڑھایا لیکن آپ نے نظر بچاکر شراب کو آستین میں ڈال دیا، بادشاہ نے گوشہ ٔ چشم سے دیکھ لیا اور کبیدہ ہوکر کہا کہ یہ خود نمائیاں مجھ کو پسند نہیں نشۂ شراب میں بدمست توتھا ہی پھر جام دیا اور حضرت نے پھرویسا ہی عمل کیا، نہایت ترش رو ہوکر کہا کہ
’’کیا تم غضبِ سلطانی سے نہیں ڈرتے ہو ‘ ‘
بس اب محبوب جل و علا کو جلال آگیا اور فرمایاکہ
’’میں غصبِ خدا و ررسول سے ڈرتا ہوں ناکہ غضبِ سلطانی سے‘ ‘
نعرہ مارا سب کے سب کانپ اٹھے پھر مرضیٔ خدا دو شیر غرّاں آپ کے دونوں جانب نمودار ہوگئے ،خوف و بد حواس میں سارے کے سارے لوگ بھاگ کھڑے ہوئے بقول نجاتِ قاسمؔ
’’یہ بیت پڑھتے آپ باہر (دربار سے)نکلے‘‘
ایں ہمہ طمطراق کن فیکن
ذرۂ نیست پیش اہلِ جنوں
(انفاس العارفین،ص؍۲۲نجات قاسم،ص؍۳۳)
خواجہ بزرگ حضرت سیّد معین الدین حسن چشتی (متوفیٰ ۶۳۳ھ) کے حکم سے آپ اپنے عمِ معظم حضرت امیر عبداللہ احراری (متوفیٰ۱۰۳۳ھ) سے مرید ومجاز مطلق ہوئے کچھ عرصہ بعدحضرت عم محترم نے خلافت سے نواز کر آپ کو خاندانی جدی و مادری تبرکات تفویض فرمائے۔
(انفاس العارفین،ص؍۲۱)
بقول نجاتِ قاسمؔ
’’بوقت وفات کہ حضرت امیر (عبداللہ)نے حضرت محبوب جل و علا کو اپنا سجادہ نشیں کرکے بارامانتِ قطبیت کا آپ کے تفویض کیا‘‘
(ص؍۵۱)
واضح ہوکہ آپ کو سلسلۂ چشتیہ کی خلافت حضرت خواجہ بزرگ سے براہِ راست یعنی فیض اویسی تھی، جب کوئی سلسلۂ چشتیہ میں بیعت ہونا چاہتا تو خواجہ بزرگ کے بعد اپنا نام تحریر فرماتے، حضرت شاہ حیات اللہ منعمی لکھتے ہیں کہ
’’میں نے دارالخیر اجمیر میں خادموں کے پاس اگلے وقت کے شجرے سلسلۂ چشتیہ ابوالعُلائیہ کے اسی ترتیب سے لکھے ہوئے دیکھے‘‘
(ص؍۱۱۴)
اسی طرح ہمارے حضرت نے طالبوں کو معرفت کا جام پلایا اور خوب پلایا جس کی رمق آج بھی خوب سے خوب تر نظر آتی ہے ۔
حضرت امیر ابوالعُلاشعروشاعری کا بھی آپ ذوق رکھتے تھے،سیمابؔ اکبرآبادی لکھتے ہیں
’’آپ شاعر تھے، ایک رسالۂ مختصر جو مسائل’ فناو بقا ‘پر مشتمل ہے آپ کی تصنیف سے موجود ہے اس کے علاوہ چند مکتوبات اور ایک مختصر سا دیوان بھی آپ کی یادگار ہے‘‘
(کلیم عجم،ص؍۱۴۷)
صاحب ’’تذکرۃ الاؤلیائے ابوالعُلائیہ‘‘ لکھتے ہیں کہ
’’آپ انسانؔ تخلص کیا کرتے ،آپ فرماتے ہیں کہ
سر رِشتۂ نسب بہ علی ولی رسید
انسان تخلصم شد نامم ابوالعُلا‘‘
(ص؍۱۴)
مؤلف حجۃ العارفین رقمطرازہیں کہ
’’اور جو کچھ آنحضرت کی اپنی تحریر ہیں،اس کمترین کی نگاہ سے گزراہے وہ ایک بیت اور ایک مصرع ہے ؎
الٰہی شیوۂ مردانگی دہ
زنا مردان دین بیگانگی دہ
مصرع بہر حالیکہ باشی با خدا باش
اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ یہ شعر بھی ارشاد فرماتے تھے کہ
جدائی مبادا مرا ز خدا
دگر ہر چہ پیش آیدم شایدم‘‘
(ص؍۷۳)
مؤلف نجاتِ قاسمؔ لکھتے ہیںکہ
’’ہر وقت آپ کی زبان پر ایک شعر موزوں رہتا ۔
دردم از یارست و درما نیزہم
دل فدائے او شدہ و جاں نیزہم‘‘
(ص؍۶۱)
مؤلف مراۃ الکونین لکھتے ہیںکہ
’’وجد و سماع میں بہت مشغول رہتے کبھی کبھی غایت جذبۂ شوق میں یہ شعر حافظؔ کا پڑھتے۔
فیض روح القدس ار باز مدد فرماید
دیگراں ہم بکنند آں چہ مسیحا می کرد‘‘
(ص؍۴۱۸)
آپ کی تصنیفا ت میں اک مختصر رسالہ ’’فنا وبقا‘‘ہے اس کے علاوہ آپ کے مکتوبات بموسومہ’’مکتوبات ابوالعلا‘‘یہ اکیس مکاتیب پر مشتمل ہے۔
حضرت سیّدنا امیر ابوالعُلا ایک مدت تک بیمار رہے، جس سے نشست و برخاست میں کافی تکلیف ہوتی تھی بیماری نے طول کھینچا ،روز بروز کمزور ہوتے گئے ،آخری ایّام میں آپ کا کھانا پینا برائے نام ہو گیا ،حضرت امیر نورالعُلا فرماتے ہیںکہ
’’میں اس وقت خدمت میں حاضر تھا لیکن رات بھر جاگنے کی وجہ سے کچھ غنودگی تھی اسی وقت میں نے دیکھا کہ حضرت فرمارہے ہیں ،بابا!میں اپنی مرضی سے جاتا ہوں ،صبح تک میں ہوں فوراً بیدار ہوگیا کہ ابھی رات کا کچھ حصہ باقی ہے ،جیسے ہی صبح ہوئی،آنحضرت کی ذات مبارک میں گویا شورش برپاہوگئی اور ایسا محسوس ہواکہ آپ کے ہر بن منہ سے ذکر حق جاری ہے،اس کیفیت میں آپ واصل بحق ہوئے‘‘
(حجۃ العارفین،ص؍۹۱،نجاتِ قاسمؔ،ص؍۱۱۶)
اسی حالت میں آپ کی روح پُرفتوح ،گلزارِ جناں اور فضائے لامکان کی طرف پرواز کرگئی ،یارانِ ابوالعُلاکا حلقہ ہِجر میں تبدیل ہوگیاوہ وقت نمازِ اشراق بروز سہ شنبہ ۹صفر المظفر ۱۰۶۱ھ بمقام آگرہ تھا ، بقول صاحبِ تذکرۃ الکرام
’’حضرت امیر نورالعُلا اکبرآبادی نے قطعۂ تاریخِ رحلت کہی ہے۔
در سن الف و واحد و ستین
شد مقامش مقام علین
یافت تاریخ اودل غمناک
’’رفت قطب زمان بعالم پاک‘‘
۱۰۶۱ھ
(ص؍۶۶۱)
حضرت کا مزار پُرانوار لشکور پور،آگرہ میں مرجع خلائق ہے ،جہاں تمام مذاہب کے لوگ اپنی مرادوں کو لے کرحاضر ہوتے ہیںاور دل کی مراد پاکر واپس جاتے ہیں، آپ کا عرس ۹صفر کو عظیم الشان پیمانے پر منایا جاتا ہے ۔
آباد رہے آگرہ تا حشر الٰہی
اکبرؔ ہیں یہاں جلوہ گر انوارِ محمد
(شاہ اکبرؔ داناپوری)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.