Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیر حضرت شاہ غفورالرحمٰن حمدؔ کاکوی

ریان ابوالعلائی

ذکر خیر حضرت شاہ غفورالرحمٰن حمدؔ کاکوی

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    کاکو کی قدامت پر سبھی متفق ہیں، آج سے تقریباً سات سو برس قبل یہاں مسلم آبادی کی بنیاد پڑی، اس طویل عرصے میں نہ جانے کتنے مشائخ اور اہلِ دانش گزرے، جن کے مزارات آج بھی کاکو کے مختلف مقامات پر خستہ حالی کے ساتھ موجود ہیں، کاکو میں چند ایسے خانوادے بھی آباد ہیں جو تقریباً ڈھائی سو برس سے یہاں سکونت پذیر ہیں، انہی میں ایک معزز خانوادہ وہ بھی ہے جس کی ابتدا کاکو میں ایک بزرگِ باوقار حضرت الحاج سیّد عبدالرحمٰن سیودھوی سے ہوتی ہے، جو اس خاندان کے جدِ اعلیٰ ہیں، بقولِ حمد کاکوی

    ’’یہ خاندان مُلک عرب سے نکل کر دیگر مقامات میں پھرتا پھراتا صوبہ بہار پہونچا پھر موضع سیودھا جو وہاں (کاکو)سے سات کوس پر واقع ہے سکونت پذیر ہوا اِ س خاندان کے مورثِ اعلیٰ کا نام سیّد تاج الدین رِضوی تھا ‘‘

    واضح ہو کہ سیّد عبدالرحمٰن سیودھوی کا عقد شیخ مبارک علی بن شیخ بدرالدین بن شیخ شمس الدین دوانقی کے فرزندِ چہارم شیخ عبدالرحمٰن شہ زور کی دخترِ دوم، مسماۃ رقیہ سے ہوئی، اسی نسبت سے آپ اپنے سسرال کاکو ہی میں سکونت پذیر ہوئے، بقولِ حمدؔ

    ’’یہ اپنے خاندان کے پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے کاکو میں مسکن آباد کیا ‘‘

    اس خاندان کو عہدِ فرخ سیرمیں فرامینِ شاہی کے تحت متعدد جاگیریں عطا ہوئیں، یہ خانوادہ رفتہ رفتہ اپنے اخلاقِ کریمانہ، فیاضی اور داد و دہش کے باعث عوام و خواص میں منظورِ نظر ہوتا چلا گیا، اس خاندان کے مشائخ میں شاہ عطاؤاللہ عرف کالن، شاہ حبیب اللہ قادری، شاہ کلیم اللہ عرف دھومن (متوفیٰ ۱۲۲۲ھ)، شاہ اہل اللہ عرف کالن، شاہ تیم اللہ (متوفیٰ ۱۲۶۴ھ)، شاہ امداد حسین، شاہ محمد مبین (متوفیٰ ۱۲۹۳ھ) اور بالخصوص مشہورِ زمانہ بزرگ حضرت شاہ تبارک حسین (متوفیٰ ۱۲۹۹ھ) کے اسمائے گرامی نہایت وقار کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے اپنے فقر و سلوک کی تاثیر سے قلوبِ انسانی کو خدا کی جانب مائل کیا اور نہ جانے کتنے گم گشتہ راہِ ہدایت سے آشنا ہوئے۔

    دوسری جانب یہ خاندان اپنی رئیسانہ شان اور ذوقِ شاعری کے اعتبار سے بھی حلقۂ عوام و خواص میں غیر معمولی مقبولیت کا حامل رہا، اس سلسلے کے ممتاز شعرا میں شاہ مبارک حسین مبارکؔ (متوفیٰ ۱۳۴۱ھ)، شاہ نورالرحمٰن لعل (متوفیٰ ۱۳۳۵ھ)، عبدالرحمن ابدؔ (متوفیٰ ۱۳۰۸ھ)، حاجی لطف الرحمٰن، محی الدین احمد کمالؔ (متوفیٰ ۱۳۵۵ھ) اور معین الدین احمد جلالؔ (متوفیٰ ۱۳۵۱ھ) وغیرہ کے نام خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، گویا فقر و سلوک کے ساتھ رئیسانہ وقار اور شاعرانہ ذوق کا ایک دل آویز سنگم یہاں جلوہ گر تھا۔

    یہ تمام افراد نیک سیرت، خوش مزاج، صابر و شاکر، متوکل علی اللہ، نہایت منکسر المزاج اور سراپا خدمتِ خلق تھے، ان کی ذات گرامی نہ صرف اہلِ اسلام بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ملجا و ماویٰ رہی، بزمانۂ حمدؔ آٹھ پشتوں سے یہ خاندان کاکو میں سکونت پذیر ہے، بقول حمدؔ

    ٍٍٍجد اعلیٰ تھے کاکو کے داماد

    آٹھ پشتوں سے ہوں یہیں آباد

    مشہور صوفی بزرگ حضرت شاہ محمد اکبرابوالعُلائی داناپوری اپنی کتاب ’نذر محبوب ص ؍۴۵میں حمدؔکاکوی کے متعلق رقمطراز ہیںکہ

    حضرت شاہ اکبر داناپوری اپنی کتاب نذرِ محبوبص ؍۴۵میں رقمطراز ہیں کہ

    ’’آپ معززو مکرم خاندان کے یادگار ہیں چونکہ حضرت والد ماجد(شاہ محمد سجادابوالعُلائی) مؤلف سے کمال درجہ کی محبت تھی لہذا آپ کو اپنے خاندان میں بیعت کااتفاق نہ ہوا حضرت والد ماجد قدس سرہٗ سے شرف بیعت حاصل کیا اور حلقہ ارشاد میں داخل ہوئے ،ماشاء اللہ فہم اچھی ہے رابطہ بہت قوی ہے حضرت سیّدنا (امیر ابوالعلاآگرہ)رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس کاکو میں نہم صفر المظفر کو کمال خلوص سے کرتے ہیں شرف اجاز ت و خلافت بھی حاصل ہے،زاداللہ تقواہ‘‘

    تفصیل ملاحظہ کیجیے ،حمدؔکی کہانی خود اُن کی زبانی۔

    آپ کی پیدائش ۵؍شوال المکرم ۱۲۷۹ھ بروز اتوار وقتِ صبحِ صادق، کاکو میں ہوئی، آپ کا اسمِ گرامی غفور الرحمٰن اور تخلص حمدؔ تھا، والد کا نام حاجی شاہ محمد مبین (متوفیٰ۱۲۹۳ھ) تھا اور والدہ رجب النسا عرف رجبن بنتِ قاضی اسد علی (متوفیٰ۱۲۷۴ھ) تھیں، والدہ کی جانب سے آپ فاروقی النسب تھے، جب کہ پدری سلسلے کا ناقص نسب نامہ’’آثارِ کاکو ‘‘میں حسبِ ذیل مذکور ہے، وہو اہذا

    غفور الرحمٰن بن محمد مبین بن امداد حسین بن سیّد تیم اللہ بن اہل اللہ بن حبیب اللہ بن عطاؤاللہ بن عبدالرحمٰن بن عبدالحئی بن فیرو ز۔

    آپ تین بھائی اور تین بہن تھے، برادران میں حاجی لطف الرحمٰن، عبدالرحمٰن ابدؔ اور ہمشیران میں سب صاحبِ اولاد اور جاہ و منصب تھیں۔

    خود رقم طراز ہیں کہ

    ’’جب چار سال کی عمر ہوئی تو میرے حقیقی ماموں قاضی احمد بخش نے میری بِسم اللہ خوانی کرائی ،منشی محمد ہاشم علی سے تعلیم کی ابتدا ہوئی اردو فارسی کی چند کتابیں مثلاً بہارِ دانش اور سکندرنامہ شروع کیا ‘‘

    مزید فرماتے ہیں کہ

    ’’دل میں حفظِ قرآن کا شوق پیدا ہوا‘‘

    چنانچہ حافظ کی تلاش ہوئی اور بالآخر حافظ خورشید علی سے سلسلۂ حفظِ قرآن کا آغاز ہوا لیکن نامعلوم اسباب کے باعث موقوف ہوگیا، زمانۂ طفلی میں چند روز کے لیے کاکو سے گیا کی جانب بغرضِ تعلیم منتقل ہوئے اور وہاں موضع ڈیانوں میں قیام کیا مگر جب یہاں سے طبیعت اچٹ گئی تو چند دن آرہ میں گزار کر پھر وطنِ عزیز لوٹ آئے۔

    مزید تحریر کرتے ہیں کہ

    ’’جب سلسلہ تعلیم ختم ہوگیا تو والد ماجد نے مجھ سے وہ خطوط پڑھوانے لگے جو اُن کے نام اِدھر اُدھر سے آتے تھے یاوہ بھی جوبعد میں لوگوں کو لکھتے تھے پھر اُن کے مَطالب ہم سے پوچھتے اور اس کی وضاحت فرماتے اِ س طرح یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک رہا‘‘

    یوں علم میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا اور فہم و ادراک کے ساتھ غور و فکر کے نئے دریچے وا ہوتے گئے، یہی نہیں بلکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ

    ’’جو سمجھ میں نہ آتا اس کو سمجھاتے اِ س طرح تعلیم کا سلسلہ عرصہ تک رہا خوش ہوکر انعام دیتے اور اُن کے فیضانِ صحبت سے بہت کچھ حاصل کیا‘‘

    اردو کے ساتھ فارسی میں بھی خاصی درک و مہارت حاصل ہو گئی تھی۔

    یہ خاندان اپنے عالمانہ روش اور فقیرانہ طرزِ حیات کے سبب کاکو میں خاص شہرت رکھتا تھا، خود اس خاندان کے اجداد سلسلۂ قادریہ اور چشتیہ کے بزرگوں سے مثلاً دہلی اور مرادآباد کے اکابر سے منسلک رہے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، ضرورت اس امر کی تھی کہ از سرِ نو فرزندانِ حضرت مخدومہ بی بی کمال کی روحانی تعلیمات اور سلسلۂ بیعت، اُن کے فرزندانِ معنوی کے ذریعے کاکو میں نشو و نما پائے۔

    چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں کہ

    ’’میری طبیعت میں بزرگان ِ دین سے عقیدت کا جذبہ کار فرما تھا حضرت شاہ سجادسجادہ نشیںخانقاہِ داناپور اکثر کاکو تشریف لاتے تھے اُن سے نیاز حاصل ہوچکا تھا ایک بار وہ حافظ احمد رضا صاحب وکیل کے نواسوں کی تقریب بِسم اللہ میں گیا تشریف لائے یہ اطلاع جوملی تو میں نے ایک عریضہ حضرت سجاد کی خدمت میں اِرسال کیا اور اپنے یہاں تشریف لانے کی دعوت دی آپ نے یہ کمال مہربانی یہ اعزاز بخشا اور غریب خانہ پر آنے اور فروکش ہونے کی زحمت گوارا کی دو روز آپ میرے غریب خانہ پر مہمان رہے پھر کاکو کے رئیسِ اعظم شیخ عبدالرحمن صاحب کے یہاں تشریف لے گئے اُن کی والدہ حضرت سے بیعت تھی ایک دن یکا یک دل میں بہ جذبہ غیبی پیدا ہواکہ مجھے حضرت سے بیعت لینی چاہیے عریضہ ارسال کیا شرف قبولیت بخشا گیااور بتاریخ ۷؍ربیع الثانی ۱۲۹۷ھ بعد نماز مغرب میرے قیام گاہ پر جو خاندانی خانقاہ تھی آپ تشریف لائے اور طریقہ قادریہ میں میری بیعت لے لی اور اس وقت از راہِ نوازش اجازت و خلافت سے بھی مشرف فرمایا بستی کے معزز ارکا ن اس موقع پر مدعو تھے میری عمر اس وقت کُل ۱۷/۱۸ سال کی تھی، حضرت کا کرم تھا کہ دل کی آرزو اس شعر کے مصداق پوری ہوئی۔

    خاک را بہ نظر کیمیا کند

    آیا بود کہ گوشہ چشمہ بما کند‘‘

    دوسری جگہ نظم یادِ وطن میں اپنے پیر و مرشد سے عقیدت کا اظہار اس انداز میں کرتے ہیں کہ

    کہاں ہوہوش میں آجاؤ اب سنبھل بیٹھو

    وہی کرو جو ہے اِرشاد حضرت سجاد

    انہیں کے دست مبارک پہ ہے مجھے بیعت

    مرید ان کا ہوں میں اور وہ ہیں میری مراد

    بلکہ ایک مقام پر تو عقیدت و محبت کی نہایت دل نشیں مثال پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

    ’’بزرگان دین سے گہری عقیدت رہی میں نے جو کچھ فیض پایا وہ اپنے مرشد کا مل شاہ سجاد علیہ الرحمہ سے اور کسی بزرگ سے نہ کچھ فیض حاصل کیا اور نامعانقہ تک کی نوبت آئی اور نہ کسی کی طرف طبیعت کا رجحان رکھا‘‘

    واضح رہے کہ آپ کے پیر و مرشد حضرت مخدوم شاہ محمد سجاد (متوفیٰ ۱۲۹۸ھ) کے مرید و مجاز کاکو میں کثرت سے ہوئے، جن میں شاہ محمد غزالی ابوالعلائی اور شاہ محمد قادر رضا رضویؔ وغیرہ بالخصوص شہرت رکھتے ہیں۔

    سخنِ گلستاں کے ضمن میں خود رقمطراز ہیں کہ

    ’’میری ابتدائی تعلیم کا زمانہ تھا ٹوٹے پھوٹے اشعار کہنے لگا ایک مختصر سا مجموعہ ہوگیاجو میرے ہندو ساتھی نند کشور سنگھ کے پاس تھا اُن سے واپس لینے کا موقع نہ ملا‘‘

    لڑکپن کا وہ شعر یہ تھا۔

    ہوا سے تیز ہے چلن میں

    اُڑے گا جاکے پہنچے گا عدن میں

    خاندان کے اکثر افراد کو شعر و سخن سے خاص رغبت تھی لیکن افسوس کہ کسی کا کلام انفرادی حیثیت سے شائع نہ ہوسکا، فنِ سخن میں آپ حضرت شاہ اکبر داناپوری کے شاگردِ رشید تھے، تفصیل انہی کی زبانی سنیے

    ’’جب پہلے ایک غزل کہی تو فکر ہوئی کہ کسی اُستاد سے اس پر اِصلاح لی جائے نظر اِنتخاب جناب سیّدشاہ محمد اکبرابوالعُلائی داناپوری پر پڑی آپ ہمارے حضرت پیرومرشد کے فرزند تھے صاحبِ دیوان شاعر تھے اُن سے قلبی تعلق بھی تھا الغرض اپنی غزل بذریعہ ڈاک داناپوری روانہ کردی اب یہ بھی یاد نہیں کہ کوئی تخلص بھی اپنا رکھا تھا یا نہیں حضرت اُستادی نے میرا تخلص احمدؔتجویز کیا غزل پر اصلاح فرمادی‘‘

    مزید لکھتے ہیں کہ

    ’’حضرت اُستادی چونکہ اکثر مختلف مقامات مثلاً الہ آباد، آگرہ،گولیار،اجمیر شریف وغیرہ پر اقامت پذیر رہتے تھے‘‘

    چنانچہ اصلاح کا سلسلہ بذریعۂ ڈاک برابر جاری رہا اور اسی طرح دس بارہ غزلیں حضرت کی اصلاح سے مزین ہوئیں، اس کے بعد پھر یہ موقع میسر نہ آ سکا، اب نمونۂ کلام ملاحظہ فرمائیے اور جنابِ حمدؔ کو داد و تحسین سے نوازئیے، اپنے استاذِ مکرم کی حمد ’’ائے بے نیاز مالک، مالک ہے نام تیرا‘‘ کے طرز پر یہ غزل کہی ہے۔

    فلک تیرا زمیں تیری چمن تیرا شجر تیرا

    یہ گل تیرا یہ بو تیری تری رنگت چمن تیرا

    تیرے خوانِ کرم سے نعمتیں ملتی ہیں ہر اک کو

    کوئی بھی بھول سکتا ہے یہ احساں عمر بھر تیرا

    یہ دست و پائیں ترے آنکھیں تیری ہیں زباں تیری

    یہ تن تیرا یہ جاں تیری یہ دل تیرا جگر تیرا

    تعجب ہے کہ پرستش حمدؔسے ہوتی ہے عصیاں کی

    ادب مانع ہے کیونکر دوں جواب اے داد گر تیرا

    کھینچ گیا ہے میری آنکھوں میں جو نقشا تیرا

    نظر آتا ہے ہر اک چیز میں جلوہ تیرا

    لکھنے پڑھنے کا شوق والد کے زمانے ہی سے تھا، آپ کا شعری و علمی سرمایہ جو آپ کے تبحرِ علمی پر دلالت کرتا ہے وہ کلیاتِ حمد اور آثارِ کاکو ہے، میرا خیال ہے کہ ہر دور میں آثارِ کاکو باشندگانِ کاکو کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا، بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنابِ حمدؔ نے اپنا مستقبل اسی تصنیف کے حوالے کر دیا تھا، چنانچہ وہ خود رقمطراز ہیں کہ

    ’’اپنی یادگار صرف آثارِ کاکوہے‘‘

    اور آنے والی نسل کو یہ دیوانہ (حمد) اپنی دیوانگی میں تلقین کررہا ہے۔

    ’’آثارِ کاکو کی ترتیب بڑی محنت اور کوشش سے ہوئی ہے، اپنے وقت میں اس کی طباعت نہ کرا سکا، اب اس کے متعلق میرے پسندگان اور یارانِ وطن کو لازم ہے کہ جو کچھ حالات و واقعات گزشتہ و آئندہ میں ان کو قلمبند کر کے طبع کرا دیں کیوں کہ یہ ۳۴؍ سال کا سرمایۂ ریاض میرا ہے اس کی قدر کرنی چاہیے، لمؤلفہ

    سلسلہ اس کا رکھو میرے عزیز و دائم

    یاد رکھو یہ میرے بعد وصیت میری‘‘

    پیرِ محترم سے جیسی عقیدت تھی، ویسی ہی والہانہ وابستگی استادِ مکرم سے بھی تھی، آثارِ کاکو کی نظرِ ثانی کے حوالے سے خود فرماتے ہیں کہ

    ’’ابتدا میں یہ دلی خواہش تھی کہ استاد ی حضرت شاہ محمد اکبررحمۃ اللہ علیہ کی نظر سے گزرکر زیور اصلاح سے مزین ہوجاتی حضرت استادی کا قیام ان دنوں زیادہ تر اکبرآباد (آگرہ)میں رہتا ارادہ ہواکہ وہیں جاکر یہ کام انجام پذیر ہومگرقدرت کو منظور نہ تھا حضرت استاد ی داناپورتشریف لائے اور بالاخر ۱۳۲۷ھ ۱۴؍رجب المرجب کو آپ اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے،الغرض یہ تمنا پوری نہ ہوسکی اورحسرت دل کی دل ہی میں رہی بقول استاد

    استاد تو بہشت میں ہیں اور ہم ہیں یہاں

    اصلاح کون دے یہ زمیں آسماں پر نہیں

    دوستوں نے مشورہ دیا کہ کسی اور صاحب قلم کو یہ تکلیف دی جائے کہ اس پر نظر ثانی کریں مگر دل اس پر راضی نہ ہوا اور اس شعر پر عمل ہواکہ

    کہن جامہ خویش آراستن

    بہ از جامہ عاریت خواستن

    اب یہ کتاب جس میں نثر و نظم دونوں ہیں بلا اصلاح ناظرین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، بھول چوک خاصہ انسانی ہے، بقول استاد علیہ الرحمہ

    آدمی ہوں میری اصلیت ہے اکبرؔبھول چوک

    ہے خطا میرے لیے میں ہوں خطا کے واسطے‘‘

    والد کی وفات (۵؍ذیقعدہ۱۲۹۳ھ)کے چھ ماہ بعد، چودہ برس کی عمر میں رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے، مولوی نورالحسن (پٹنہ) کی منجھلی صاحبزادی سے بتاریخ ۵؍جمادی الاول۱۲۹۴ھ عقدِ نکاح انجام پایا، اس ازدواج سے دو لڑکے اور تین لڑکیاں ہوئیں مگر سب کے سب یکے بعد دیگرے اس دنیائے آب و گل کو چھوڑ کر عالمِ جاودانی کی راہ کے مسافر ہوگئے، اہلیہ کا انتقال۶؍ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ کو بعارضۂ تپِ دق کاکو میں ہوا اور تدفین ڈینی باغ میں عمل میں آئی۔

    چند روز بعد احباب کی توجہ سے شیخ جلال منیری بن عبدالعزیز بن امام محمد تاج فقیہ کی اولادِ ذکور سے شیخ محمد صادق (شیخ پورہ) کی بڑی صاحبزادی مسماۃ رسولن سے ۲۱؍شوال ۱۳۰۸ھ کو دوسری شادی انجام پائی، اس ازدواج سے دو لڑکیاں (جو کم سنی ہی میں وفات پا گئیں) اور تین صاحبزادے ولی الرحمٰن ولیؔ کاکوی، منظور الرحمٰن اخترؔ کاکوی اور عطاؤالرحمٰن عطاؔ کاکوی پیدا ہوئے جن سے ایک زمانے نے علم و روشنی حاصل کی۔

    واضح رہے کہ سبھی بچوں کی بسم اللہ خوانی خود حضرت شاہ اکبر داناپوری نے کرائی، جس کا ذکر صاحبِ آثارِ کاکو نے نہایت دلکش انداز میں کیا ہے، ان کے فرزندان کے متعلق ایک مشہور بلکہ نہایت عجیب و غریب واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ تینوں بیٹوں کی تعلیم کے سلسلے میں زمینداری کی آمدنی اس کثیر خرچ کو پورا نہ کر سکتی تھی، لہٰذا آپ اپنی زمینداری کے حصے فروخت کر کے یہ اخراجات برداشت کرتے رہے، کاکو کے لوگوں کے لیے یہ نہایت انوکھی بات تھی کہ کوئی زمیندار اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لیے اپنی زمین فروخت کرے، چنانچہ ایک سائل نے دریافت کیا کہ اگر ساری زمین فروخت کر دی جائے گی تو لڑکوں کو ترکہ میں کیا ملے گا؟ اس پر آپ نے جواب دیا کہ اگر یہ لڑکے تعلیم حاصل نہ کر سکے اور جاہل رہ گئے تو یہ زمینداری بھی ان کی کفالت نہ کر سکے گی، بلکہ بنائے جہالت جو کچھ ہوگا اسے بھی بیچ ڈالیں گے لیکن اگر انہوں نے علم حاصل کر لیا تو ان میں سے ہر ایک ایسی کئی زمینیں خود خرید لے گا، آپ کا یہ عاقلانہ جواب مدتوں مضافات میں لوگوں کے لیے باعثِ عبرت و نصیحت بنا رہا، حالات نے ثابت کر دیا کہ یہ نظریہ کس قدر عاقلانہ اور الہامی تھا۔

    ارتحال کا حال منظور الرحمٰن اخترؔ کاکوی کی تحریر سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے، کیوں کہ گھروں کے حالات سے گھر والے ہی زیادہ واقف ہوتے ہیں، بقولِ اخترؔ کاکوی

    ’’آپ کا وصال کاکو ہی میں چند امراض میں مبتلا رہ کر ۹؍ جمادی الاول شنبہ ۱۳۵۷ھ دو بجے دن کو ہوا جولائی کا مہینہ تھا لیکن بارش نہ ہونے کے سبب سب لوگ پریشان تھے وصال کے بعد ہی اتفاق سے اتنی بارش ہوئی کہ اللہ دے اور بندہ لے، تجہیز و تکفین کے متعلق سب لوگ بہت متردد تھے لیکن خدا کی شان دیکھیے کہ گھنٹے دو گھنٹے کے بعد بارش بالکل تھم گئی ،فضا صاف ہوگئی،آسماں خوشگوار ہوگیا اس لیے بہت اطمینان سے سب کام باطمینان تمام انجام پاگیا، توقع کے خلاف جنازے میں مجمع کثیر تھا، میں ہی نے نمازِ جنازہ پڑھائی ڈینی باغ خاندانی قبرستان میں جسد خاکی کو سپرد خاک کیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون تقریباً نو بجے شب میں سب لوگ قبرستان سے واپس آئے‘‘

    حمدؔ بے چارے سے جو ہوسکا اُس نے کیا

    نکتہ چینی سے تو کوئی نہیں اب تک ہے بچا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے