ذکر خیر حضرت شاہ غفورالرحمٰن حمدؔ کاکوی
کمال آباد عرف کاکو کی قدامت سے سب واقف ہیں، آج سے تقریباً سات سو برس قبل یہاں مسلم آبادی کا آغاز ہوا، اس طویل عرصے میں نہ جانے کتنے مشائخ اور اہلِ دانش گزرے جن کے مزارات آج بھی کاکو کے مختلف مقامات پر شکستہ حال میں موجود ہیں، کاکو میں چند ایسے خاندان بھی آباد ہیں جو تقریباً ڈھائی سو برس سے یہاں سکونت پذیر ہیں، انہی میں ایک بزرگ حضرت الحاج سید عبدالرحمن سیودھوی نوراللہ مرقدہ ہیں جن سے اس خاندان کی کاکو میں ابتدا ہوئی اور جو اس خاندان کے جدِ اعلیٰ قرار پاتے ہیں۔
بقول حمدؔ کاکوی کہ
’’یہ خاندان ملکِ عرب سے نکل کر دیگر مقامات میں پھرتا پھراتا صوبہ بہار پہنچا پھر موضع سیودھا جو وہاں سے سات کوس پر واقع ہے سکونت پذیر ہوا اس خاندان کے مورثِ اعلیٰ کا نام سید تاج الدین رضوی تھا‘‘
واضح ہو کہ سید عبدالرحمٰن سیودھوی ثم کاکوی کی ازدواجی نسبت شیخ مبارک علی بن شیخ بدرالدین بن مخدوم شمس الدین دوانقی ثم کاکوی کے فرزند چہارم شیخ عبدالرحمٰن شہ زور کی دختر دوم مسماۃ رقیہ سے ہوئی، اسی وجہ سے آپ اپنے سسرال یعنی کاکو میں سکونت پذیر ہوئے، بقول حمدؔ
’’یہ اپنے خاندان کے پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے کاکو میں مسکن آباد کیا‘‘
سلطنتِ فرخ سیر کے عہد میں اس خاندان کو کئی جاگیریں عطا تھیں، یہ خاندان رفتہ رفتہ اپنے اخلاقِ کریمانہ اور سخاوت کے باعث عوام میں مقبول ہوتا گیا، اس خاندان کے مشائخ میں حضرت سید عطاؤاللہ عرف کالن، حضرت سید حبیب اللہ قادری، حضرت سید کلیم اللہ عرف دھومن، حضرت سید اہل اللہ عرف کالن، حضرت سید تیم اللہ، حضرت سید امداد حسین، حضرت سید محمد مبین اور حضرت سید شاہ تبارک حسین جیسے بزرگ شامل ہیں جنہوں نے اپنے فقر و سلوک سے لوگوں کے دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کیا۔
اسی خاندان میں رئیسانہ اور ادبی ذوق بھی نمایاں رہا، سید مبارک حسین مبارکؔ عظیم آبادی، سید نورالرحمٰن لعل نورؔ عظیم آبادی، سید عبدالرحمن ابدؔ، سید محی الدین احمد کمالؔ، سید معین الدین احمد جلالؔ اور سید غفور الرحمن حمدؔ جیسے شعرا نے اس روایت کو زندہ رکھا، فقر و سلوک کے ساتھ رئیسانہ اور شاعرانہ زندگی کا حسین امتزاج اس خاندان کی نمایاں خصوصیت تھا۔
بقول مؤلف
جد اعلیٰ تھے کاکو کے داماد
آٹھ پشتوں سے ہوں یہیں آباد
حضرت شاہ محمد اکبر ابوالعلائی داناپوری نے اپنی کتاب ’’نذر محبوب‘‘ میں حمدؔ کاکوی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
’’آپ معزز و مکرم خاندان کے یادگار ہیں… حضرت والد ماجد سے شرفِ بیعت حاصل کیا اور حلقہ ارشاد میں داخل ہوئے… شرفِ اجازت و خلافت بھی حاصل ہے زاد اللہ تقواہ‘‘
غفور الرحمٰن حمد کاکوی کی پیدائش 5 شوال 1279ھ مطابق 19 مارچ 1863ء کو کاکو میں ہوئی، آپ کے والد حاجی حضرت شاہ محمد مبین تھے جبکہ والدہ رجب النسا تھیں، ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی ہوئی اور اردو و فارسی کی تعلیم کا آغاز کیا، خود لکھتے ہیں کہ
’’دل میں حفظ قرآن کا شوق پیدا ہوا… حافظ خورشید علی سے سلسلہ حفظ شروع ہوا لیکن نامعلوم سبب سے موقوف ہوا‘‘
بچپن میں چند دنوں کے لیے گیا اور آرا بھی گئے مگر پھر کاکو واپس آگئے، تعلیم مکمل ہونے کے بعد والد کے خطوط پڑھنے اور ان کے مطالب سمجھنے کا سلسلہ جاری رہا جس سے علمی بصیرت میں اضافہ ہوا، فارسی پر بھی اچھی دسترس حاصل ہوئی۔
روحانی طور پر آپ کو حضرت مخدوم سجاد داناپوری سے بیعت کا شرف حاصل ہوا، خود لکھتے ہیں کہ
’’بتاریخ 7 ربیع الثانی 1297ھ بعد نماز مغرب میرے قیام گاہ پر آپ تشریف لائے اور طریقہ قادریہ میں میری بیعت لے لی… میری عمر اس وقت سترہ اٹھارہ سال کی تھی‘‘
اسی کیفیت کو ایک شعر میں یوں بیان کیا کہ
خاک را بہ نظر کیمیا کند
آیا بود کہ گوشہ چشمہ بما کند
شعری ذوق ابتدا ہی سے تھا، ابتدائی اشعار لڑکپن میں کہے، بعد میں حضرت شاہ اکبر داناپوری سے اصلاح لی، حمدؔ کاکوی کی تصانیف میں ’’یاد وطن‘‘، ’’قطعات تاریخ‘‘، ’’منظومات‘‘، ’’کلیات حمدؔ‘‘ اور خصوصاً ’’آثار کاکو‘‘ شامل ہیں جو کاکو کی تاریخ اور بزرگان کے حالات پر اہم کتاب ہے، خود لکھتے ہیں کہ
’’اپنی یادگار صرف آثارِ کاکو ہے۔‘‘
ازدواجی زندگی میں کئی صدمات بھی پیش آئے، پہلی اہلیہ کا انتقال ہوا پھر دوسری شادی ہوئی، اولاد میں تین بیٹے ہوئے، ولی الرحمٰن ولیؔ، منظور الرحمٰن اخترؔ اور عطاؤالرحمٰن عطاؔ، ان کی تعلیم کے لیے آپ نے اپنی زمینیں تک فروخت کر دیں، جب لوگوں نے پوچھا کہ ورثہ میں کیا دیں گے تو جواب دیا کہ اگر تعلیم یافتہ ہوئے تو اپنی زمینیں خود حاصل کر لیں گے، یہ جواب آج بھی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
آپ کا وصال 9 جمادی الاول 1357ھ کو کاکو میں ہوا، منظور الرحمٰن اخترؔ لکھتے ہیں کہ وفات کے بعد غیر معمولی بارش ہوئی اور جنازے میں کثیر مجمع شریک ہوا، آپ کو خاندانی قبرستان ڈینی باغ میں سپرد خاک کیا گیا۔
آخر میں حمدؔ کاکوی کے یہ اشعار گویا ان کی شخصیت کا خلاصہ پیش کرتے ہیں کہ
حمدؔ بے چارے سے جو ہو سکا اس نے کیا
نکتہ چینی سے تو کوئی نہیں اب تک ہے بچا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.