مظہرالحق - تحریک آزادی کے سچے مجاہد
۱۸۵۷ میں فرزندان ہندوستان نے انگریزی حکومت سے ملک کو آزاد کرانا چاہا لیکن ہندوستان انگریزوں سے اس لیے آزاد نہ ہوسکا کہ اس ہندوستانیوں میں میل نہ تھا، ذات و برادری، حسب و نسب کی کھینچا تانی اپنے عروج پر تھی، جنگ آزادی کے نو برس بعد بہار کی سر زمین بہہ پور (پٹنہ) میں مظہرالحق پیدا ہوئے، اس زمانے میں ہندوستان کا ہر سچا فرزند اسی فکر میں تھا کہ ۱۸۵۷ میں آزادی کی جنگ جو ناکام رہی اس کی تلافی پھر دوسری جنگ آزادی لڑکر کی جائے لیکن جنگ آزادی کی ناکامیابی کے بعد ہندوستانیوں کو اس طرح کچلا گیا کہ دوبارہ انگریزوں سے برسرِ پیکار ہونے کی مادی اور اجتماعی طاقت نہ رہی مگر انگریزوں کے خلاف غم و غصہ ہر ہندوستانی کے دل میں بھرا ہوا تھا۔
مظہرالحق ہندوستان کی آزادی کے وہ عظیم سپاہی ہیں جنہوں نے ملک کے لیے اپنی پوری جائیداد وقف کردی، وہ ہندو و مسلم اتحاد اور خصوصی طور سے تعلیمی بیداری کے علمبردار کہے جاتے تھے، کہا جاتا ہے کہ مظہرالحق اپنی رئیسانہ زندگی کو چھوڑ کر اپنی پوری زندگی وطن کے نام پر قربان کر دیا اور فقیرانہ زندگی بسر کرتے ہوئے تحریک آزادی کو فروغ بخشا۔
صوبۂ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ۲۲؍ دسمبر ۱۸۶۶ کو پیدا ہوئے، ان کے والد حاجی احمداللہ ایک رئیس زمیندار تھے، ایک متمول و تونگر گھرانے میں بڑے ناز و نعم میں پرورش پائی، ابتدائی تعلیم گھر پر ہی مولوی سجاد حسین سے حاصل کر لی، اس ماحول میں جب آپ نے ہوش سنبھالا تو بچپن گذرا اور جوان ہوئے یہ وہ دور تھا کہ ہندو اور مسلمانوں نے انگریزی تعلیم کو اپنی قومی صفات اور اخلاق کے برباد کرنے کے مترادف سمجھا مگر مظہرالحق نے اپنی مرضی سے انگریزی تعلیم حاصل کرنا شروع کیا اور پٹنہ کالجیٹ اسکول میں داخل ہوئے اور ۱۸۸۶ میں انہوں نے انٹرنس کا امتحان نہایت اچھی طرح سے پاس کر کے لکھنو چلے گئے اور وہاں کچھ دنوں کنینگ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہہ پور واپس آئے اور لندن جاکر تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا، مظہرالحق کا خاندان غایتِ اسلامی، تہذیبِ علم اور معاشرت کا خاندان تھا وہ لندن جاکر بیرسٹری کے امتحان پاس کریں اس کی اجازت کوئی نہ دیتا لہذا! والدین کی اجازت کے بغیر ممبئی روانہ ہوگئے اور ممبئی سے عدن (ملک یمن کا ایک بندرگاہ شہر ہے) پہنچ گئے اور عدن پہنچ کر انہوں نے اپنے والد کو تار دیا کہ میں لندن جا رہا ہوں عدن تک پہنچ گیا ہوں، لندن کا خرچ موجود نہیں ہے آپ لندن کے سفر کا خرچ بھیجیں اور اگر آپ خرچ نہ بھیجیں گے تو میں واپس نہیں آؤں گا اور یہیں سمندر میں ڈوب مروں گا، والد نے ان کے ولایت جانے کا پورا خرچ بھیج دیا اور کہا کہ لندن کی تعلیمی اخراجات میں تمہاری تکمیل تک بھیجوں گا، چنانچہ خرچ پہنچنے پر وہ ۱۵؍ ستمبر ۱۸۸۸ کو لندن پہنچے اور سر علی امام بیرسٹر کے پاس قیام کیا، انہوں نے اپنے وقت کو لندن کی دلچسپیوں میں ضائع نہیں کیا بلکہ پوری محنت و انہماک کے ساتھ قانون کی تعلیم حاصل کی اور نہایت کامیابی کے ساتھ بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔(معمارِ بہار، ص۳۱)
لطف امیز بات یہ ہے کہ مظہرالحق جس جہاز سے لندن جا رہے تھے اسی جہاز میں گاندھی جی بھی تھے اور وہ بھی ماں باپ سے اجازت کے بغیر لندن جارہے تھے، کہتے ہیں کہ دونوں میں پہلی ملاقات یہیں ہوئی، لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرنے کے بعد جولائی ۱۸۹۱ میں ہندوستان واپس آئے تو یہاں کے حالات کا جائزہ لیا، سیوان سے سولہ کلو میٹر جنوب آندر گاؤں (فریدپور) میں آپ کے والد کی جائیداد تھی وہاں اپنے لیے ۱۹۰۰ میں رہائش گاہ بنوائی اور اس کا نام ’’آشیانہ ‘‘رکھا، اس آشیانہ میں وہ بہت دنوں تک رہے، بیرسٹری کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پٹنہ اور پھر چھپرہ عدالت میں وکالت شروع کی اس زمانے میں وہ بالکل کلین شیو میں خوبصورت سے نوجوان تھے، انگریزی سوٹ اور ٹائی میں ان کی شخصیت پُروقار نظر آتی تھی، وہ بہت جلد ہی اچھے اور نامور بیرسٹر میں شمار کئے گئے، بیرسٹر حسن امام، بیرسٹر شرف الدین احمد، بیرسٹر آیت اللہ، بیرسٹر سلیمان، بیرسٹر یوسف اور بیرسٹر محمود حسین جیسے کہنہ مشق بھی مظہرالحق کی شخصیت کے معترف تھے، کہا جاتا ہےکہ جب وہ جرح شروع کرتے تو لوگ حیرت سے ان کو دیکھا کرتے تھے۔
۱۹۰۳ میں آپ کو سارن میونسپلٹی کا وائس چیرمین بنایا گیا وہ اس عہدے پر ۱۹۰۶ تک رہے اس مدت میں میونسپلٹی کی مالی حیثیت کافی مضبوط ہوگئی، ایک مدت کے بعد پھر وہ سارن میونسپلٹی میں آئے ۱۹۲۴سے ۱۹۲۷ تک چیرمین رہے، ترہٹ ڈویزن کے کمشنر انگریز افسر ڈی واٹسن (D. Whatson) نے ان کے کاموں کی خوب تعریف کی۔ (معمارِ بہار، ص۳۱)
نڈر اور بے لاک باتیں کرنا، ملک کے لیے بہترین سے بہترین تدبیریں، نیک مشورے، عوام کے اصول و نظام، آزادی کی سوچ و فکر جیسے خیالات ہمیشہ ان کے ذہن میں دوڑتے رہتے تھے، بڑی سے بڑی طاقت بھی انہیں سچ بولنے سے روک نہیں سکتی تھی اور نہ ان کے فیصلے کو بدلنے والا کوئی دوسرا تھا، ۱۹۱۰ میں امپریل کونسل کے ممبر تھے، اس کونسل کی صدارت عام طور پر وائسرائے کرتے تھے، وہاں بھی وہ حق بولنے سے نہ رکتے تھے جو کچھ سچ سمجھتے تھے وہ وائسرائے کے منہ پہ کہہ دیا کرتے تھے جب ۱۹۱۰ میں سیڈیشیئس میٹنگز ایکٹ (Seditious Meetings Act) کی توسیع کا معاملہ پیش ہوا تو مظہرالحق نے اس کی سخت مخالفت کی اور صاف کہہ دیا کہ اس ایکٹ سے ہندوستانیوں کو دبانے کا کام لیا جائے گا اسی طرح پھر ایک بار انہوں نے ۱۹۱۲ میں ابتدائی تعلیم کو مفت کردینے کا مطالبہ کیا لیکن یہ مطالبہ منظور نہیں ہوا تو انہوں نے امپریل کونسل سے استعفیٰ دے دیا دوستوں اور خیر خواہوں کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے استعفیٰ واپس نہیں لیا۔
مظہرالحق جوانی کے عالم میں انگریزی لباس اور کلین شیورہا کرتے تھے جس سے ان کی شخصیت کو پہچاننا تھوڑا مشکل مرحلہ تھا، معروف مصنف نواب صدیق حسن خاں والئی بھوپال کے پوتی داماد اچھے صاحب بیان کرتے ہیں کہ
وہ کلکتہ سے لکھنو آنے کے لیے فرسٹ کلاس کے ایک ڈبے میں بیٹھے تھے، کسی اسٹیشن پر ایک انگریز اور اس کے ساتھ ایک نوجوان ہندوستانی بھی سوٹ بوٹ میں آکر اے سی ڈبے میں بیٹھے اور دونوں انگریزی میں گفتگو کرتے رہے پھر یکا یک اس انگریزنے نوجوان کی طرف مخاطب ہوکر کہا کہ
’’الایا ایھاالساقی ادر کاساً وناولھا‘‘
اچھے صاحب انگریز کی زبان سے حافظؔ شیرازی کا یہ عربی مصرعہ سن کر بہت متحیر ہوئے پھر اس نےہنڈ بیگ کھول کر ایک گلاس میںکوئی شربت ڈھال کر بڑھایا اور اس انگریز نے گلاس منہ کے قریب لے جا کر زور سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھا اور گلاس پی گیا، اب اچھے صاحب کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی پھر دیر کے بعد دونوں حضرات ایک اسٹیشن پر اترپڑے، وہاں صاحب بہادر کے استقبال کو بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے، اچھے صاحب نے کسی سے دریافت کیا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ تو معلوم ہوا کہ یہ مشہور قانون داں مظہرالحق ہیں۔ (ماہنامہ بہار کی خبریں، ص۲۳)
جس قدر انگریزی زبان پرانہیں دسترس تھی اسی طرح عربی و فارسی اور اردو زبان میں بھی استعداد کامل رکھتے تھے، علم کلام، علم عقیدہ، شعر و سخن اور تاریخ و تذکرہ کے ساتھ ساتھ سیرت کے بڑے شوقین نظر آتے تھے، انہیں فارسی شاعری میں حافظؔ شیرازی کا کلام اور اردو سیرت نگار میں علامہ شبلی کی کتابیں کافی پسند تھیں۔ (ماہنامہ بہار کی خبریں، ص ۲۳)
مظہرالحق لوگوں کے اندر تعلیمی بیداری لانا چاہتے تھے، ان کا خیال تھا کہ ہم جس قدر اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے اس قدر آزادی کی راہ استوار کریں گے، وہ خود ایک ذہین و فطین اور زِیرک تھے جس سے ان کے جذبات و احساسات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، یورپ جاکر مغربی تہذیب کو بہت قریب سے دیکھا تھا اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کا راز بھی کھوج نکالا تھا، لندن کے قیام کے دوران انہوں نے وہاں کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور وہاں کی زندگی کے بعض پہلوؤں سے متاثر ہوکر اپنے والد کوایک خط لکھا، وہ یہ ہے۔
’’یہاں اخبار پڑھنا غذا کھانے سے بہتر سمجھا جاتا ہے، پہلے اخبار خرید لیں گے تب کھانے کی چیز مول لیں گے، نو برس کے لڑکے سے لے کر نوّے برس کے بوڑھے تک سب کے ہاتھ میں اخبار رہتا ہے، ہمارے یہاں کے کل مزدور کام کے بعد ناریل پیتے ہیں اور یہاں کے کل مزدور اخبار پڑھتے ہیں، حضور ہی خیال فرمائیں کہ جہاں کے لوگ ایسے تعلیم یافتہ ہوں گے پھر وہ کیوں نہیں سارے جہاں میں عملداری کریں گے‘‘ (مؤرخہ شانزدہم، ماہ نومبر از لندن)
اسی خط میں ایک اور اہم تجربے کا ذکر کرتے ہیں۔
’’یہاں کے انگریزوں سے اور ہندوستان کے انگریزوں سے بہت بڑا فرق ہے، وہاں کے انگریز اکثر چال وچلن میں کمینے ہوتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ یہ ہندوستان کا اثر ہے یا کیا بات ہے، وہ لوگ جو وہاں کلکٹر کمشنر ہیں یہاں ان کو وہ منزلت حاصل نہیں ہے جو ہم طالب علموں کو ہے، ہم لوگ بلا تکلف ہر شخص کے یہاں آ جا سکتے ہیں مگر وہ حضرات قدم بھی نہیں رکھ سکتے‘‘
لندن کا کھانا انہیں پسند نہیں تھا مگر اس جزوی بات میں بھی وہ افادیت کے پہلو کو نظر انداز نہیں کرتے۔
’’ہندوستان کے کھانے اور یہاں کے کھانے میں یہی فرق ہے کہ ہندوستان کا کھانا لذیذ ہوتا ہے اور یہاں کا قوت بڑھانے والا اور تندرستی لانے والا ہوتا ہے‘‘
یہ صرف خط نہیں بلکہ نصیحت ہے، ایک سبق ہے یاپھر ایک سچے مجاہد کا آج کی نسلوں کے لیے پیغام ہے، ان کے ذریعے انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کے اس روشن خیال گروہ کے ذہن و کردار اور ان کی ساخت و پرداخت کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے جو مشرقی اقدار کا حامل تھا مگر جسے مغربی تہذیب اور فلسفہ و فکر سے بھی بہت کچھ حاصل کرنے کا موقع ملا تھا چونکہ مولانا مظہرالحق اپنے زمانے میں آزادی کی تحریک کے رہنما بھی تھے اس لئے ان کی شخصیت کی تعمیر میں حصہ لینے والے عناصر کا مطالعہ اس دور کے اہم ترین گروہ کے افکار و احساسات اور ان کی شخصیت پر حالات کے رد عمل کا مطالبہ ہے جو اس دور کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے طالب علم کے لیے نہایت اہم ہے، مسلم یونیورسیٹی (علی گڑھ) کی بنا کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے سلسلے میں مولانا محمد علی جوہرؔ نے کامریڈ (۱؍ جولائی ۱۹۱۱) میں جو ذکر کیا ہے وہ پڑھنے کے قابل ہے۔ (ماہنامہ بہار کی خبریں، ص ۲۲)
مظہرالحق کو صحافت سے خاصی دلچسپی تھی اپنی آواز پہنچانے کے لیے وہ صحافت کو ضروری سمجھتے تھے، اس لیے انہوں نے انگریزی ماہنامہ ’’ماڈر ن بہار‘‘ شروع کیا لیکن یہ رسالہ بہت دنوں تک جاری نہ رہ سکا اس کے بعد انہوں نے ستمبر ۱۹۲۱میں ایک اور جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے پٹنہ ہی سے ہفتہ وار انگریزی اخبار ’’دی مدر لینڈ‘‘ نکالا تھا جسے وہ خود ایڈٹ کرتے تھے مگر یہ بھی زیادہ دنوں تک نہ چل سکا لیکن دوسرے اخبارات کے لیے اخلاقی سبق چھوڑ گیا، اس میں اشتہارات شائع ہونے کے لیے ایک معیار قائم کیا گیا، اس میں ملکی مصنوعات کے اشتہارات ہی شائع ہوتے تھے اور اس کے لیے اس میں قومی و بین الاقوامی خبروں کے ساتھ کانگریس کی سرگرمیاں شائع ہوتی تھیں، انگریز مخالف مضامین کو خاص جگہ دی جاتی تھی، ایک مضمون کی اشاعت پر تین ماہ قید یا ایک ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیاگیا لیکن مولانا مظہر الحق نے انگریز دشمنی میں جرمانہ ادا کرنے سے صاف انکار کر دیا جس کی وجہ سے انہیں تین ماہ کی سزا دی گئی اور اس طرح دی مدر لینڈ بند ہوگیا، ۲۶؍جولائی ۱۹۲۲ کو گرفتار ہوئے اور ۱۶؍ستمبر کو رہا کئے گئے، صحافت کے شعبے میں مظہرالحق کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،۱۹۲۱ میں ڈاکٹر سید محمودکی کتاب ’’خلافت اور انگلستان‘‘ جو صداقت آشرم (پٹنہ) ہی سے شائع ہوئی اس میں مظہر الحق کا بہترین مقدمہ جو انہوں نے ۲۸؍ اپریل کو لکھا تھا موجود ہے۔
ان کی چند کتابیں بھی خاصی اہمیت کی حامل ہیں اور وہ یہ ہیں۔
طوفان نوح، یہ کتاب تصوف کے موضوع پر بتائی جاتی ہے مگر اب تک اس کا کوئی نسخہ مجھے ملا نہیںہے، اسی طرح ’’مظہرالعلوم‘‘ اور ’’کبوتروں کی پرورش‘‘ کے عنوان سے بھی صرف تذکرہ ملتا ہے ، آپ نے اردو اور فارسی میں شاعری بھی کی ہےلیکن مجموعہ شائع نہیں ہوسکا، ان کا ایک فارسی مصرع ۲۶؍اگست ۱۹۲۳ کے خلافت گزٹ میں شائع ہوا تھا، ان کے دو فارسی شعر ملاحظہ ہو۔
نسل بزنہ رفتہ رفتہ بزنہ بیدم شدہ
نام آدم زاد گشت و شارب صد خم شدہ
از سر درِ وجست و حرکاتش شدہ پامالیاں
دورۂ باطل بپا و مظہرالحق ام شدہ
(Builders of modern India Mazharul Haque)
واضح ہوکہ مظہرالحق کا ادبی حصہ زیادہ تر ضائع ہوچکا یا پھر توجہ اور مزید تحقیق کا طالب ہے، اسی طرح آپ کے مکاتیب کا دو حصہ (اول) مکاتیب از لکھنو، (دوم) مکاتیب از لندن جو اردو و فارسی دونوں زبان میں اپنے والد حاجی احمداللہ صاحب کو لکھا گیا خط کا بہترین مجموعہ ہے وہ شائع ہوچکا ہے۔
مولانا مظہرالحق تحریک ترک موالات کے آغاز سے چند سال پہلے ایک مقدمہ مدعا علیہم کی طرف سےآپ اور ہندوستان کے شہرۂ آفاق قانون داں بیرسٹر حسن امام دونوں چھپرہ گئے تھے، یہ کسی کامقدمہ تھا اور چند ہندو رؤسا مدعا علیہم تھے، وہ دور دوسرا تھا معمولی سے واقعہ کی بھی بڑی اہمیت ہوجاتی تھی، بہار میں اس وقت کوئی اردو اخبار نہ تھا، کلکتہ کے چند اردو اخبارات یہاں پڑھے جاتے تھے، اس میں یہ خبر چھپی تھی کہ حسن امام استغاثہ کے گواہوں پر جِرح کر رہے تھے کہ جب استغاثہ کا سب سے اہم گواہ آیا تو حسن امام جرح کے لیے کھڑے ہوئے یکایک مظہرالحق نے کہا حسنو! اس پر ہم جرح کریں گے، حسن امام بیٹھ گئے اور مظہرالحق نے جرح شروع کی، ’’حسنو! اس پر ہم جرح کریں گے‘‘ بظاہر بالکل معمولی اور چھوٹا سا جملہ ہے مگر مخاطب کی عظیم الشان شخصیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مظہر الحق کی عظمت کا ایسا سکہ لوگوں کے ذہن پر جما کہ وہ تاریخ کا ایک حصہ بن گیا۔ (ماہنامہ بہار کی خبریں، ص ۲۲)
اسی درمیان وکالت کے ساتھ ساتھ قومی کاموں میں بھی حصہ لینے لگے اور بہت جلد ملک کے اہم رہنماؤں میں گنے جانے لگے، ۱۹۱۱ میں بہار صوبہائی کانفرنس کا اجلاس گیا میں مظہرالحق کی صدارت میں ہوا جس میں جداگانہ حق انتخاب کی تائید کرتے ہوئے اسے تمام اقلیتوں پر ہر صوبے میں عملی طور پر کرنے کی اپیل کی گئی، مظہرالحق بے باک اور حق بولنے والے انسان تھے جس کا اعلان ۱۹۱۱ ہی میں اسی کانفرنس کی صدارتی کرسی سے اپنا خطبہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ
’’میں مذہبی معاملات میں مسلمان ہوں اور ملکی سوالات پر ہندوستانی ہوں اور سب سے اوپر یہ کہ صوبائی معاملوں میں بہاری ہوں اور کسی حالت میں بھی اپنی شخصیت کے ان تینوں عوامل سے انحراف نہیں کرسکتا‘‘ (بہار ویکلی، ۸؍دسمبر ۱۹۱۱)
۱۹۱۲میں بہار ایک جداگانہ صوبہ کی حیثیت سے وجود میں آیا تو بہاریوں کی سیاسی سرگرمیاں بڑھیں اور کانگریس کی طرف رجحان زیادہ ہوا اس سال ۱۹۱۲ میں انڈین نیشنل کانگریس کا اٹھائیسواں سالانہ اجلاس بھی بانکی پور (پٹنہ) میں ہوا اس اجلاس کے صدر راؤ بہادر مدھولکر اور صدر مجلس استقبالیہ مظہرالحق تھے، آپ نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں پُرجوش طریقہ سے اعلان کیا کہ
’’ہم اہل مہاجر مادر وطن ہندوستان سے سچی محبت کرنے میں کسی بھی خطۂ ملک کے کسی فرزند کے مقابلہ میں کم نہیں ہیں جو خیال آزادی وطن ملک میں پھیلا ہوا ہے ہم بھی اس خیال سے معمور و سرشار ہیں‘‘ (معمارِ بہار، ص۳۲)
۱۹۱۳ میں کانپور میں جب سڑک چوڑا کرنے کے نام پر مچھلی بازارکی مسجد کے ایک حصہ کو شہید کیا گیا تو انگریزی حکومت کے خلاف مسلمانانِ ہند نے سڑک پر آکر مطالبہ شروع کیا، پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف نعرے لگے، کانپور کے مسلمانوں نے بھی احتجاج کیا اور فائرنگ میں کئی مسلمان مارے گئے اور مسلمانوں کے خلاف ہی مقدمہ کر دیا گیا تھا، خوف کا یہ عالم تھا کہ مسلمانوں کے حق میں کوئی مقدمہ لڑنے والا تیار نہیں تھا، اس وقت مظہرالحق پٹنہ سے کانپور آئے اور مقدمہ کی مفت میں پیروی کی اور بالآخر وائسرائے کی مداخلت پر معاملہ ختم ہوا تھا اس معاملے میں ۸۰؍ افراد کے دفاع کا معاملہ تھا اور اس کے ساتھ ان لوگوں کی مالی اور طبی مدد بھی شامل تھی جس میں مظہرالحق نے اہم کردار ادا کیا جس کی تعریف مولانا ابوالکلام آزادؔ نےہفتہ وار اخبار الہلال (کلکتہ) میں بھی کی تھی اور اس دن سے مظہرالحق ہندوستانیوں کے لیے ایک مثال بن گئے۔
سامراجیت کی چالیں ہوگئیں سب بے نقاب
مظہرالحق کی صدا سے جاگ اٹھا ہندوستاں
(انیس الرحمٰن انیسؔ)
بہار ایک علیحدہ صوبہ بن جانے کے بعد اور خاص کر یہاں کے رہنماؤں کی روشن خیالی اور وسیع المشربی کی وجہ سے بہار کی سیاسی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی، چنانچہ ۱۹۱۴ میں جب کانگریس نے اپنے سیاسی مطالبات کو پیش کرنے کے لیے ایک وفد انگلینڈ بھیجا تو اس میں بھوپیندر بسو، محمد علی جناح، ان ام اسمارتھ، بی ان شرما اور لالہ لاجپت رائے کے ساتھ بہار کے ڈاکٹر سچتا نندسنہا اور مظہرالحق صاحب بھی تھے، ۱۹۱۶ کے لکھنو اجلاس میں بہار سے بیرسٹر حسن امام، ڈاکٹر سید محمود، نواب سید وارث وغیرہ کی موجودگی میں مظہرالحق بھی شامل تھے۔ (آزدی کی تحریک میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ، ص ۱۵۹)
’’آئی سی ایس‘‘(I.C.S) ایک عہدہ تھا جس کا امتحان لندن میں ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے، ہندوستان کے کسی بھی شہر میں امتحان کے لیے کوئی مرکز نہیں تھا، اسی اجلاس میں آپ نے پُرزور مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں بھی امتحان کا مرکز بنایا جائے، ان کا یہ مطالبہ تھا کہ وکیلوں کے بیچ سے ہی جیوڈیشری کے افسران کا انتخاب ہو اوریہ بات تسلیم کی گئی۔
اسی زمانے میں ایک نئی اصطلاح ’’ہوم رول‘‘ کی آئی تھی جس کی کافی چرچہ ہوئی تھی، بہار میں ۱۶؍دسمبر ۱۹۱۶ کو بہار ہوم لیگ کی شروعات ہوئی اور مظہرالحق اس کے پہلے صدر بنائے گئے۔
اسی طرح چمپارن میں تحریک ’’ستیہ گرہ‘‘ کا آغاز ہوا جسے گاندھی جی کی کرم بھومی بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ یہیں سے بھارت کی آزادی کی تحریک شروع ہوئی، ہوا یوں کہ چمپارن میں برطانوی حکمرانی کے دوران زمیندار کسانوں پر بے انتہا ظلم کرتے تھے اور ان پر غیر قانونی ٹیکس بھی عائد کرتے تھے، ان سے زبردستی نیل کی کھیتی کرائی جاتی تھی، ۱۹۱۶ میں لکھنو کے کانگریس اجلاس میں گاندھی جی نے راج کمار شکلا سے ملاقات کی اور ان کی گزارش پر وہ ۱۹۱۷میں خود کسانوں کے دکھ درد کو دیکھنے چمپارن کی طرف بڑھے، کہا جاتا ہے کہ اس دوران پٹنہ میں ڈاکٹر راجندر پرشاد کے مکان پر ان کا قیام تھا لیکن راجندر پرشاد کی غیر موجودگی میں ان کے نوکر نے گاندھی جی کو بیت الخلا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی جب یہ خبر مظہرالحق تک پہنچی تو وہ گاندھی جی کو اپنی کوٹھی پر لے آئے اور اس وقت تک رکھا جب تک وہ رُکے، گاندھی جی پر چمپارن میں دفعہ ۱۴۴؍ کی خلاف ورزی کی الزام میں مقدمہ چلا تو اخباروں میں جب یہ خبر چھپی تومظہرالحق، راجندرپرشاد وغیرہ موتیہاری پہنچ گئے اور ستیہ گرہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا چونکہ مظہرالحق گاندجی کے پرانے شناسا تھے، گاندھی جی ان سبھوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ میری گرفتاری کے بعد آپ لوگ کیا کریں، گاندھی جی کا فلسفہ ان کی سمجھ سے باہر تھی، اس لیے پہلے تو انہوں نے گومگو سا جواب دیا جس سے گاندھی جی کو تسلی نہیں ہوئی مگر بعد میں سوچنے کے بعد جب انہوں نے یہ جواب دیا کہ آپ کی گرفتاری کے بعد بھی کام جاری رہے گا اور ہم بھی جیل جائیں گے تو گاندھی جی کا چہرہ کِھل اٹھا اور وہ بہت خوش ہوکر بول اٹھے کہ اب معاملہ فتح ہوجائے گا اور انہوں نے سب کا نام لکھ کر کئی ٹولیوں میں بانٹ دیا اور یہ بھی طے کر دیا کہ یہ ٹولیاں کس ترتیب سے جیل جائیں گی، پہلی ٹولی کے سردار مظہرالحق تھے، دوسری کے برج کشور اور ایک ٹولی کے سردار راجندر پرشاد بنائے گئے۔
۱۸؍ اپریل کو گاندھی جی سے مقدمہ اٹھا لیا گیا اور گاندھی، مظہرالحق کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے۔
اس سلسلے میں یہ بات بھی خاص طورپر یاد رکھنی چاہئے کہ اس آندولن کےآخری فیصلہ کن دور میں جب قیادت کلی طور پر گاندھی جی کے ہاتھوں میں آچکی تھی تو خود انہوں نے اپنے بعد جیل جانے والوں کی دوسری ٹولی کا قائد مظہرالحق صاحب کو نامزد کرکے بتادیا تھا کہ اس تحریک کی رہنمائی کے لیے وہ اپنے بعد سب سے زیادہ حقدار مظہرالحق کو سمجھتے ہیں، چنانچہ ان حقائق کے پیشِ نظر یہ بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ چمپارن کی جس تحریک کی بدولت ملک بھر کے کسانوں میں سیاسی بیداری کی لہر دوڑ گئی اسے اٹھانے اور ابھارنے میں مظہرالحق نے اپنے روایتی سامراج مخالف کردار کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آگے بڑھ کر حصہ لیا اور اسے کامیاب بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ (آزدی کی تحریک میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ، ص ۱۵۹)
ان کے زمانے میں بہار کی کوئی تحریک ایسی نہیں جسے ان کی رہنمائی حاصل نہ ہوئی ہو، چمپارن کے کسانوں کی جدوجہد میں انہوں نے جو نمایاں حصہ لیا وہ جہدِ آزادی کی تاریخ میں کبھی بھلایا نہیں جاسکتا، ان کا ذہن بچپن ہی سے آزادی کی سوچ کے ساتھ پروان چڑھ رہا تھا، لندن میں بیرسٹری کے دوران ایک مجلس ’’انجمن اسلام‘‘ کے نام سے قائم کی اس میں انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی صورتوں پر غور کیا جاتا رہا جس میں ہندو اور مسلم دونوں شریک تھے ،اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آپ انڈین نیشنل کانگریس کے چوٹی کے رہنماؤں میں شمار کئے جاتے تھے، انڈین نیشنل کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کاکوئی مشورہ بغیر آپ کی شرکت اور رائے کے مکمل نہیں سمجھا جاتا تھا۔
مظہر الحق صاحب، گاندھی جی کےبے حد قریبی دوستوں میں سے تھے، اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کمیٹی کے سالانہ اجلاس جو ہندوستان کے مختلف شہروں میں ہوتا تھا وہاں ان کی تقریریں بہت گرم اور حق بیانی پر ہوتی تھی،مظہرالحق ایسے جمہوریت نواز اور آزادی خواہ مسلمان رہنما بھی تھے جو کانگریس اور’’ ہوم رول لیگ‘‘ کے فارموں سے خود امتیازی اور سوراج کی لڑائی پہلے ہی لڑتے چلے آ رہے تھے اور جنگ کی فتح پر اب اس لڑائی کے لیے وسیع تر قومی اتحاد کی بنیاد پر عوام کو بڑے پیمانے پر گروہ بند کرنے لیے کوشاں تھے، مظہرالحق کی سیاسی تدبر اور پارلیمانی مہارت کی دھاک سارے ملک میں مچی ہوئی تھی اور اپنی حب الوطنی اور بلند کردار ی کی بدولت بلا امتیاز مذہب و ملت پوری قوم کا اعتماد انہیں حاصل تھا جن میں مظہرالحق اپنی گہری مذہبیت کی وجہ سے مسلمانوں میں خصوصی طور پر زیادہ مقبول اور بااثر تھے۔ (تحریک آزادی میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ، ص۱۸۴)
یاد رہے کہ وہ گفتار کے غازی نہیں بلکہ کردار کے غازی تھےجب عوام کو صرف تقریریں سننے کی عادت ہوچکی تھی تو لکھنو کے اجلاس میں انہوں نے کہا تھا کہ
’’میں نہایت اصرار، صفائی اور زور کے ساتھ کہتا ہوں کہ تقریر بازی اور صرف تجویز پاس کرنے کا دور گذر گیا یہ وقت عمل کا آیاہے، آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ ہندوستان کے لیے اپنی حکومت یعنی سوراج کا مطالبہ کر رہے ہیں،کیا ایک منٹ کے لیے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ صرف آپ کی زبانی مطالبہ سے اس کو سوراج مل جائے گا؟ جب تک کہ آپ اپنی کاروائیوں اور عملی کوششوں اور کارناموں سے اپنے حکمرانوں پر یہ ثابت نہ کر دیں کہ آپ کا مطالبہ سوراج کو ہرحال میں منوا کررہیں گے‘‘ (معمارِ بہار، ص۳۳)
اس طرح کے سخت الفاظ مظہرالحق بہت آسانی کے ساتھ کہہ دیا کرتے تھے، ان کے اندر سچائی، ایمانداری اور صداقت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، اس زمانہ میں منصفی بڑے فخر کی بات سمجھی جاتی تھی، مظہرالحق نے کچھ دنوں کے لیے یہ نوکری بھی کی لیکن وہ بڑے آزاد طبیعت انسان تھے اوپر کے افسروں سے میل نہ بیٹھا تو علیحدگی اختیار کر لی۔
اسی طرح ۱۸؍ مارچ ۱۹۱۹ کو برطانوی حکومت کی طرف سے ’’رولٹ ایکٹ‘‘ کے پاس ہوتے ہی گاندھی جی نے اس قانون کو ناجائز، انصاف کے اصولوں کے خلاف اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے مہلک قرار دیتے ہوئے اپنی جانب سے ستیہ گرہ کا اعلان کردیا اور ۶؍ اپریل کو ملک بھر میں عام ہڑتال کرنے کا پیغام دیا، اس کا اثر بہار میں بھی دیکھنے کو ملا، بیرسٹر حسن امام کے ساتھ مظہرالحق نے بھی اس میں کافی دلچسپی لی، اس کا اثر یہ ہوا کہ پورے بہار میں ہڑتال ہوا، دکانیں بند رہیں، لمبا جلوس چلا، ننگے پیر وطن کے سچے جاں بازوں نے سڑک پر انگریزوں کے کالے قانون کا احتجاج کیا، بہار کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں بھی اس کا اثر دکھنے لگا، چھپرہ تو مظہرالحق کا اپنا خاص ضلع تھا اور وہاں ان کا سیاسی اثر اور دبدبہ بھی بہت تھا لیکن اس ایجی ٹیشن کے سلسلے میں ان کا وقت زیادہ تر دہلی اور پٹنہ میں لگا اور ویسے صوبۂ بہار کے مقبول ترین عوامی رہنما ہونے کے باعث انہیں بہار کے ہر ضلع پردھیان دینا تھا اس لیے وہ اپنے خاص ضلع چھپرہ میں اتنا وقت نہیں دے سکے پھر بھی ان کی جگہ پر مولوی زکریا ہاشمی نے اس ضلع میں پوری مستعدی اور جوش و خروش کے ساتھ کام کیا اور ایجی ٹیشن کو پوری طرح سے کامیاب بنایا، پٹنہ میں حسن امام اور مظہرالحق کے علاوہ جو قومی رہنما تھے مقامی طور پر مولوی نورالحسن، خورشید حسنین، ڈاکٹر سید محمود اور سمیع احمد اس ایجی ٹیشن میںبہت سرگرم رہے، ۴؍ اپریل کو بھی ایک عام جلسہ پٹنہ سیٹی قلعہ کے میدان میں مظہرالحق کی صدارت میں ہوا تھا جسے کامیاب بنانے میں حسن امام نے اہم کردار ادا کیا تھا، اس اجلاس عام میں مظہرالحق اور حسن امام کے علاوہ راجندر پرشاد اور پرنند نرائن سنہا نے بھی تقریریں کی تھی، اس جلسہ میں دہلی کی مثال پیش کرتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد پر بہت زور دیا گیا تھا پھر ۶؍ اپریل کو ہڑتال کی تیاریوں کے سلسلے میں ۵؍ اپریل کی شام میں مظہرالحق کی رہائش گاہ پر پرنند نرائن سنہا کی صدارت میں ایک جلسہ ہوا جس میں نواب سرفراز حسین خاں نے بڑی جذباتی تقریر کی، ان کے علاوہ سید حسن اور مولوی خورشید حسنین نے بھی تقریریں کیں، اور ۶؍ اپریل کو ہر طبقہ کے لوگوں پر مشتمل ایک عظیم الشان جلوس ایک سرے سے دوسرے سرے تک پٹنہ کی عام شاہراہ سے گذرا، حسن امام کا اس جلوس پر گہرہ اثر تھا، یہاں بھی حسن امام، مظہرالحق، راجندر پرشاد، چندر بنسی سہائے، مترلال مسوڑھی، مولوی خورشید حسنین اور رائے بہادر پرنند نرائن سنہا نے تقریریں کیں، اس ایجی ٹیشن کو پٹنہ بلکہ اہل بہار میں جو کامیابی حاصل ہوئی اس کا سہرہ حسن امام اور مظہرالحق دونوں کو جاتا ہے، کہتے ہیں کہ حسن امام کا اوپری طبقہ پر بہت اثر تھا مگر عوام میں مظہرالحق زیادہ مقبول تھے۔ (تحریک آزدی میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ، ص۱۷۵)
تحریک خلافت میں مظہرالحق کا کردار بہار کے حوالے سے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا، آپ کی دعوت پر مولانا شوکت علی نے بہار کا دورہ کیا اور اس سلسلے میں ۲۴؍ اور ۲۵؍ اپریل ۱۹۲۰کو پٹنہ میں دو عام جلسوں سے انہوں نے خطاب کیا جن میں مولانا شوکت علی نے لوگوں سے عدم تعاون کی اپیل کرتے ہوئے قربانی دینے اور سرکاری نوکریوں کو چھوڑ دینے کے لیے تیار رہنے کو کہا، مرکزی مجلس خلافت نے ۱۲؍ مئی کو اپنی ممبئی کی نشست میں عدم تعاون کے پروگرام کو باضابطہ طور پر منظور کرلیا جس کی توثیق ۱؍ جون ۱۹۲۰ کو الہ آباد خلافت کانفرنس میں کی گئی اس درمیان بہار کے ممتاز سیاسی رہنماؤں اور علما کا ایک جلسہ پھلواری شریف (پٹنہ) میں ہوا جس میں مظہرالحق کے علاوہ مولانا عبدالقادر آزد سبحانی اور مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے مشورہ سے تحریک کو زور و شور سے جاری رکھنے کا فیصلہ ہواکہ وائسرائے کو ایک مہینے کی نوٹس دینے کا فیصلہ کیا چنانچہ اس میں بھی مظہرالحق کے ساتھ یعقوب حسن، مولانا شوکت علی اور مولانا ابوالکلام آزادؔ پر مشتمل ایک وفد وائسرائے سے جون کے آخر مہینے میں ملا اور ان سے کہا کہ آپ ہوم گورنمنٹ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدہ صلح ترکی میں مناسب ترمیمات ہمارے مطالبات کے مطابق کردے ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ ۱؍ اگست ۱۹۲۰ سے ترکِ موالات کی تحریک جاری کردیں۔ (تحریک آزدی میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ، ص۱۸۷)
مظہرالحق کی شخصیت کا جو نظارہ بہار کی معروف شخصیت مولانا سلیمان چشتی پھلواروی کے صاحبزادے مولانا غلام حسنین چشتی نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس کی چند مثالیں ذیل میں درج کرتا ہوں۔
’’۱۹۱۹ میں جب کہ تحریک ترکِ موالات کا بالکل آغاز ہواتھا اور الہ آباد میں پنڈت موتی لال نہرو نے اور پٹنہ میں مسٹر مظہرالحق بیرسٹر نے اپنی اپنی وکالتیں ترک کیں اور ایک نئی قوم کی تعمیر میں اپنے کوو قف کر دیا، اس وقت پٹنہ میں ایک عظیم الشان جلسہ مولانا مظہرالحق کی قیادت و صدارت میں (اس وقت کے زیر تعمیر) ’رضوان‘ کے وسیع میدان میں منعقد ہوا، مولانا مظہر الحق نے مسندِ صدارت سے پکارا، جواہر آؤ، یہاں آؤ! اس آواز پر ایک نہایت خوش روجوان کھدرکی شیروانی اور دھوتی میں ملبوس قریب آ گئے، مولانا مظہر الحق نےان کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا، یہ میرے دوست اور ہندوستان کے لیڈر پنڈت موتی لال نہرو کے لائق و فائق فرزند ہیں، آپ لوگوں کو اپنی تقریر سے مستفیض کریں گے، پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ میرے بزرگ نے میری تعریف کی ہے، حالانکہ میں تو اس فوج کا فقط ایک چھوٹا سا سپاہی ہوں جس کے یہ جنزل ہیں۔
مولانا مظہرالحق انگریزوں کی طرح گورے چٹے آدمی تھے اور لوگوں کو ان پر انگریزہونے کا دھوکا ہوتا تھا، یہاں تک کہ ان کے گھرمیں بڑے بڑے کتے پلے ہوئے تھے اور وہ بڑے پیار کے ساتھ انہیں گود میں بھی لے لیا کرتے تھے جو عام طور پر کوئی مسلمان نہیں کرتا، شراب کھلم کھلا پیتے تھے اور کبھی اس کی پرواہ نہ کی کہ کوئی کیا کہے گا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ انگریزوں سے کافی متاثر تھے اس کے چند سال بعد ہی ان کے نظریات میں تبدیلی ہوئی، جلیاں والاباغ سانحہ سے انہیں کافی دکھ ہوا، گاندھی جی، مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ اقبالؔ جیسے لوگوں کی وجہ سے ان کی سوچ بدلی، طرابلس اور بلقان کی جنگ کے بعد خلافت عثمانیہ کے زوال نے مولانا مظہر الحق کو بھی ابوالکلام آزاد اور گاندھی جی کی طرح انگریز مخالف کردیا، مقلب القلوب انسانوں کا رنگ کس طرح پلٹ دیتا ہے مظہرالحق اس کی زندہ مثال ہیں جس وقت یہ بہادر تھے اس وقت ان کا دل درد ملی سے بھرپور تھا جس وقت ظالم ایطالیہ نے طرابلس پر حملہ کیا اس وقت سلطنت عثمانیہ کے امیر کی حمایت میں مسلمانوں کا ایک عظیم الشان قافلہ جمع ہوا تھا ہر طرف افرا تفری تھی، مظہرالحق بخار کی حالت میں بھی سیاہ اووَر کوٹ پہنے ہوئے آگے آئے تھے اور اپنی جانب سے ایک ہزار روپے چندے کا اعلان کیا، حاضرین سے چندے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں مگر میرابھی اس میں ایک ہزار روپے کا چندہ ہے، ان کی آواز بڑی زور دار تھی، جب اردو بولتے تھے تو زبان شستہ ہوتی تھی۔
اس وقت لکھنو کے تاریخی لیگ کانگریس پیکٹ کی قیادت بھی آپ ہی کر رہے تھے، ان سب میں مظہرالحق نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے لہٰذا ان کا شمار آزادیٔ ہند کی خشتِ اول رکھنے والوں میں نہ کرنا بڑی احسان فراموشی ہوگی‘‘ (ماہنامہ بہار کی خبریں، ص۲۳)
اسی دوران مظہرالحق نے سب سے پہلے بیرسٹری چھوڑی، انگریزی لباس چھوڑا، شراب چھوڑی، سگریٹ تک پینا چھوڑ دیا اور موٹا کھدر پہننے لگے، وہ سگریٹ کے بدلے حقہ یا بیڑی پیتے تھے اور صوفے کے بدلے چٹائی پہ بیٹھتے تھے، مظہر الحق ابتدا میں اہل یورپ کو مہذب قوم کہتے تھے مگر بعد میں پھر انہوں نے ان سے بیزاری کا اعلان بھی کیااور دن رات ملک کی آزادی کی فکر میں لگے رہتے۔
’’کچھ عرصہ بعد جب مولانا مظہرالحق کی کاوش سے ’’صداقت آشرم‘‘ بن کر تیار ہوا اور مولانا سکندر منزل کی اقامت ترک کرکے صداقت آشرم میں آ گئے اس وقت ایک بار میں(غلام حسین) ان کے قریب بیٹھا تھا اور بھی چند آدمی تھے، مولانا آرام کرسی پر لیٹے تھے اور دونوں پیر سامنے کے ایک اسٹول پر تھا، اتنے میں راجندر بابوتشریف لائے، مولانا مظہرالحق کوغالباً ان کا انتظار تھا، دیکھتے ہی بولے، راجندر تم آ گئے؟ راجندر بابو نے دونوں ہاتھ جوڑ کر اور سرجھکا کر سلام کیا اور بیٹھ گئے۔۔۔مولانا مظہرالحق کی قیام گاہ سکندر منزل کی بہار اور ہماہمی اس وقت دیدنی تھی جب آندھی کی طرح تحریک ترکِ موالات پھیل چکی تھی اور بہار کے تمام افراد کی نگاہ مظہرالحق پر تھی‘‘۔ (ماہنامہ بہار کی خبریں، ص۲۱)
جس کے بعد سیکڑوں طلبہ کالج کو ترک کرکے ان کی تحریک کا حصہ بنے، اسی دوران۱۹۲۰ میں انہوں نے دیگھا (متصل داناپور) میں جہاں ان کا باغ تھا وہاں چند جھونپڑیاں بنوائیں اور اس کا نام’’ صداقت آشرم‘‘ رکھاوہ خود اسی آشرم میں اٹھ آئے اس وقت مظہر الحق بہار کانگریس کے صدر تھے، اسی آشرم میں انہوں نے لڑکوں کو پڑھانے کے لیے ۱۹۲۱ میں’’ بہار ودّیا پیٹھ ‘‘بھی قائم کیا تاکہ لڑکوں کی تعلیم ایسی ہوکہ ان میں قومی جذبہ نمودار ہو اور وطن کی خدمت کرنا سیکھیں، اصل مقصد یہ تھا کہ اس تعلیم گاہ سے آئندہ ملک کی آزادی کے لیے لڑنے والے سپاہی اور بہترین مشورےتیار ہوکرنکل سکیں۔ (مکاتیب مولانا مظہرالحق،ص۷)
اب ان کے سامنے یہ تین کام رہ گئے تھے۔
(الف)ہندوستان میں تعلیم کا فروغ
(ب) ہندوستانیوں میں بھائی چارگی کی فضا قائم کرنا
(ج) برطانوی سامراج کی مخالفت اور اسباب و علل
مظہرالحق نے جب بیرسٹری چھوڑی اور صداقت آشرم میں آ بیٹھے تو ان کے اکثر دوستوں نے رائے دی کہ کورٹ نہ جائیں لیکن گھر پر لوگوں کو مشورہ دے دیا کریں مگر انہوں نے اس تجویز کو بھی منظور نہ کیا اور غریبی کی زندگی گزارتے رہے، ان کی زندگی کا مقصد ملک کی آزادی ہندو و مسلم اتحاد اور ملک کی ترقی کے سوا اور کچھ نہ تھا، اس وقت چھوٹی سی چھوٹی بات کو بھی اہمیت مل جاتی تھی، انہوں نے ہر اس ظلم پر آواز اٹھائی جس کا تعلق ان کے ملک یا ان کی قوم سے تھا۔ (معمارِ بہار، ص۳۳)
پھریں گے کیسے دن ہندوستاں کے
بلا کے ظلم ہیں اس آسماں کے
اگر ہندو مسلماں میل کر لیں
ابھی گھر اپنے یہ دولت سے بھر لیں
الٰہی ایک دل ہوجائیں دونوں
وزارت انڈیا کی پائیں دونوں
(شاہ اکبرؔداناپوری)
کچھ لوگوں نے مسلم لیگ کو مسلم تنظیم اور اینڈین نیشنل کانگریس کو ہندو تنظیم کہا تھا جس پر آپ نے سخت مخالفت بھی کی تھی، مظہرالحق نے ہندوستانی صنعت کے تحفظ کی خاطر آواز اٹھائی اور یہاں کی انڈسٹری کے پچھڑے پن کا ذمہ دار انگریزی حکومت کو بتلایا، پرائمری تعلیم کی فیس ختم کرنے کے لیے آپ نے بہت کوششیں کی اس زمانے میں بال کرشن گوکھلے نے بھی پرائمری تعلیم سے متعلق اس طرح کے مطالبات پیش کئے، لڑکیوں کی تعلیم پر بھی خاص زور دیا کرتے تھے۔
مظہرالحق نے نہ صرف اپنے دور کی سیاسی زندگی میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا بلکہ ان کے بعد آنے والے دور کی سیاست پر بھی ان کی پرچھائیاں ملتی ہیں، جنگ آزادی کے آخری دور میں اور آزادی کے بعد ملک کی رہنمائی کرنے والی بعض شخصیتوں پر آپ کی ذات اور شخصیت کی گہری چھاپ ہے، ڈاکٹر راجندر پرشاداپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ
’’ہم کو ایک بار اور حق صاحب (مظہرالحق) کے حب وطن اور سچی قوم نوازی کا ثبوت ملا، ہم سمجھ گئے کہ ہم کو ایک ایسا لیڈر ملا ہے جو ہندومسلم اتحاد کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہے، اپنی زندگی کا بہت حصہ انہوں نے اسی کام میں گذارا تھا، جب تک وہ جیتےرہے اسی کوشش میں ہی لگے رہے‘‘ (میری کہانی، ص ۴۵۸)
اس صداقت آشرم میں انہوں نے جنگ آزادی کے سپاہیوں اور سرداروں کی ایک فوج تیار کی جس میں ڈاکٹر راجندر پرشاد، شاہ محمد زبیر، ڈاکٹر شری کرشن سنہا اور انوگرہ نرائن سنہا وغیرہ بھی تھے جو مظہرالحق کے بعد ملک کی آزادی کی لڑائی کو آگے ہی بڑھاتے رہے، یہاں تک کہ ہندوستان آزاد ہوا، اپنے تن من دھن سے قومی جد و جہد میں شریک ہوئے، انہیں کانگریس کے گوہاٹی سیشن کی صدارت پیش کش کی گئی جو بعد میں مسٹر سری نواس کو دی گئی،مگر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، نام و نمود کی خواہش سے اس حد تک اپنا دامن بچائے رکھنا اب تو ایک وہم سا ہوکر رہ گیا ہے مگر کسی زمانے میں یہ عام بات ہواکرتی تھی، ان عظیم رہنماؤں کی صرف یہ کوشش تھی کہ ملک آزاد ہو جائے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے ۱۹۲۶میں انہیں کانگریس کی صدارت کو قبو ل کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بڑی کوششیں کیں، چنانچہ اسی سلسلے میں ابوالکلام آزادؔ کا ایک خط ملاحظہ کیجیے۔
’’یقین کیجیے کہ گزشتہ چار پانچ سال سے میں برابر محسوس کرتا ہوں کہ آپ کی قابلیت اور آپ کے ایثار سے وقت کے مقاصد کو جو مدد ملنی چاہیے تھی نہیں مل سکی اور کچھ اسی طرح کے غیر موافق حالات جمع ہوگئے کہ ایک قیمتی وجود گمنامی کے حوالے ہوگیا، اب وقت ہے کہ آپ ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھیں اور اپنے لیے ایک بہتر میدانِ عمل پیدا کر لیں، یہ صحیح ہے کہ اس وقت لوگوں کی نظر آپ پر نہیں ہے، مشکل یہ ہے کہ آپ کے بیان نے تمام صوبوں کو صرف مسٹر سری نواس ہی پر متوجہ کردیا ہے، لیکن آپ اب بھی آمادہ ہو جائیں اور مجھے اطمینان دلائیں تو خود مسٹر سری نواس کو اس پر آمادہ کر لوں کہ وہ آپ کے حق میں دست بردار ہوجائیں‘‘ تاریخ ۲۰؍اگست ۱۹۲۶ (رودادِ آشیانہ، ص ۱۶۶)
تحریک خلافت و تحریک ترکِ موالات کے زمانے میں بہار میں اس وقت کے تمام مسلم قائدین میں مظہرالحق ہی وہ واحد رہنما تھے جو دونوں پارٹیوں کی سرگرمیوں میں ایک ساتھ اور یکساں طور پر رہنمایانہ کردار ادا کرتے ہوئے دونوں کو ایک دوسرے کے قریب اور سیاسی طور پر ہم آہنگ بنانے کے لیے جد و جہد کرتے چلے آ رہے تھے، ہندو مسلم اتحاد کے لیے ہمیشہ بے چین رہنے والے مظہرالحق بہار قانون ساز کونسل کے نومبر ۱۹۲۶ کے انتخاب میں شکست کھا گئے، اس سے ان کو بہت صدمہ پہنچا، کیونکہ شکست ان کی نہیں بلکہ ان کے نظریے کی ہوئی تھی، وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی یکساں مخالفت کی وجہ سے ہار گئے، ہندوؤں نے تو انہیں اپنا لیڈر ہی نہیں مانا اور مسلمانوں نے اس لیے مخالفت کی کہ ان کے خیالات ہندو حامی بتائے جاتے تھے، جس شخص نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ہندومسلم اتحاد پر زور لگایا اس کے لئے یہ صدمہ سب سے سفاک اور ظالمانہ وار تھا۔
اب مظہرالحق سیاست سے منہ موڑ کر صداقت آشرم کے کنج تنہائی میں پہنچ چکے تھے وہ یہاں روحانیت کے مطالعے میں اس قدر گم ہوگئے تھے کہ اب کوئی اور شئے ان کے دل کو اپنی طرف مائل ہی نہیں کرسکتی تھی، شروع سے ہی جب وہ بہادر تھے اس وقت بھی فقیروں اور صوفیوں سے انہیں خاصی عقیدت تھی ،اسی زمانے میں مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کی خدمت میں بہ کمالِ ارادت حاضر ہوئے تھے، جس کا تذکرہ شاہ سلیمان پھلواروی سے کرتے تھے کہ
’’جب میں قسطنطنیہ پہونچا تو شاہی مہمان ہوا اور خلیفۃ المسلمین سلطان عبدالحمیدخاں نے خاص دستر خوان پر کھانے کی عزت عطا فرمائی اس دستر خوان پر کیاکیا خوان نعمت نہ تھے مگر جو مزہ مجھےمولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کے یہاں روٹی اور دال میں ملا دنیا کے کسی کھانے میں وہ مزہ نہ حاصل ہوا‘‘ (ماہنامہ بہارکی خبریں، ص۲۴)
وہی صداقت آشرم جو انہوں نے تحریک خلافت و ترکِ موالات کے زمانے میں سرکاری کالجوں سے نکل کر آنے والےطلبہ کے لیے بنایا تھا اور جہاں وہ عیش و راحت کی زندگی کو ہمیشہ کے لئے ترک کرنے کے بعد آکر رہے تھے پھر یہیں ’’بہار ودّیاپیٹھ‘‘ کو منتقل کیا گیا،نوجوانوں میں متحدہ قومیت کے تصور کی تشہیر کی عملی کوششیں پہلی بار اسی آشرم سے مظہرالحق کی سرکردگی میں شروع ہوئی تھیں،جس میں گاندھی جی، مولانا شوکت علی، مولانا ابوالکلام آزادؔ وغیرہ برابردورہ کر رہے تھےبلکہ انہیں کی کوششوں سے سیکڑوں طالب علم کالج کو ترک کرکے مظہرالحق کی قیادت میںتحریک ترک موالات کاکام کرتے رہے۔
مولانا مظہرالحق کا یہ آشرم ہندوستان کے غریب اور یتیموں کا سہارا تھا جہاں ہر کوئی بغیر معاوضہ کے بہترین تعلیم اور زندگی کا طریقہ سیکھتا تھا۔ (معمارِ بہار، ص ۳۴)
مظہر الحق نے آخری زمانے میں صداقت آشرم چھوڑ کر اپنے مکان ’’آشیانہ‘‘ واقع موضع فریدپورضلع سیوان میں اقامت اختیار کر لی تھی، ان کے بڑے بیٹے حسن مظہر امام نے ان کے سامنے انتقال کیا جس کا اثر ان کے دل و دماغ پر بہت ہوا، گویا وہ بڑے بیٹے کی قبر کے مجاور بن گئے اسی سلسلے میں علم محاضرات ارواح سے انہیں گہرا ذوق ہوگیا، انہوں نے اس فن کی بے شمار کتابیں بالخصوص انگریزی زبان میں اکھٹا کر لیں اورا ن کا مطالعہ کیا کرتے تھے اور محاضرات ارواح کے عمل سے تسکین حاصل کرتے تھے، ان کا ایک مضمون اخبار اتحاد (پٹنہ) میں شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ مشاہدات و تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ جسم چھوڑنے کے بعد روح مرتی نہیں ہے اور اس سے تصرفات ہوتے رہتے ہیں، انہوں نے ایک مغربی طبیب کاجو صدیوں پہلے گذرا تھا نام دیاکہ علمائے محاضرات ارواح اس کی روح سے مریضوں کے علاج میں استمداد کرتے ہیں اور اس کے بتائے نسخوں سے کامیاب علاج کر رہے ہیں، افسوس کہ مظہر الحق نے ملک کو آزاد ہوتے نہیں دیکھا مگر ان کا خوبصورت خواب پورا ہوا، جب ملک آزادی کی لڑائی لڑ رہا تھا اسی وقت۲؍ جنوری ۱۹۳۰ کو فرید پور میں انتقال ہوااور یہیں اپنے آشیانہ کے صحن میں دفن کئے گئے۔ (ماہنامہ بہار کی خبریں، ص۲۴)
مولانا مظہرالحق کے انتقال پُرملال کے بعد ہندوستان کی بڑی بڑی شخصیات نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جس میں سے چند جملے یہاں لکھ دیئے جاتے ہیں۔
’’عظیم ترین تحریک عدم تعاون میں مولانا مظہرالحق نے نمایاں حصہ لیا وہ اس تحریک کے بہت ہی معروف رہنما تھے، ہمارا فرض ہے کہ ان کی یاد منائیں اور ان کو خراج عقیدت پیش کریں‘‘ جواہر لال نہرو
’’میں یہ معلوم کرکے بے حد مسرور ہوں کہ مشہور وممتاز محب وطن مظہرالحق مرحوم کی مستقل یادگار کے لئے مظہرالحق میموریل بورڈ قائم کیا گیا ہے‘‘ راجندرپرشاد
’’مظہرالحق مرحوم ایک عظیم المرتبت نیشنلسٹ اور سوشل ریفارمر تھے‘‘ رادھا کرشن
’’وہ ایک عظیم المرتبت قوم پرست تھے، انہوں نے ۱۹۲۰ اور ۱۹۲۱میں بڑا نام پیداکیا تھا‘‘ لال بہادر شاستری
(جنگ آزادی کے مسلم مجاہدین، ص ۱۵۸)
ہم آخر میں اپنی بات گاندھی جی کے تعزیتی پیغام پر ختم کرتے ہیں جو انہوں نے ان کے تیسری بیگم منیری طیب جی کو لکھا تھا۔
’’مظہر الحق صاحب ایک بڑے محبِ وطن، سچے مسلمان اور ایک عظیم فلسفی تھے، ابتداً وہ عیش پسندی و آرام طلبی کے شائق تھے لیکن جب عدم تعاون کی تحریک چلی تو انہوں نے سب کو اچھی طرح جھاڑ جھٹک دیا، جس طرح ہم اپنے نفس کے چمڑے کو پوست فاضل کو بہ آسانی نوچ کر پھینک دیتے ہیں، وہ فقیرانہ زندگی کے بھی اسی قدر گرویدہ ہوگئے جس قدر وہ کبھی شاہانہ زندگی کے دلدادہ تھے، ہمارے اختلافات سے تنگ آکر وہ عزلت گزینی پر مجبور ہوگئے تھے، جہاں وہ نادیدہ خدمات میں مشغول رہتے تھے اور حسنات کے لیے خدا سے دعا گو رہتے، وہ تقریر و تعمیل اور قول و فعل دونوں ہیں یکساں طور پر نڈر واقع ہوئے تھے، پٹنہ کے صداقت آشرم میں مستقبل جگہ دینا طے پا گیا جو دونوں فرقوں کو باہم متحد کرنے کے لئے سیمنٹ کا کام کرسکتا ہے، یوں تو ایسی شخصیت ہر زمانے میں نایاب رہے گی مگر ملک کی تاریخ کے موجودہ دور میں تو ایسی ہستی ڈھونڈھنے پر کہیں بھی نہ ملے گی‘‘ (رودادِ آشیانہ ،ص ۱۷۴)
مظہر الحق کتنا زندہ نام تھا یہ مسئلہ آج بھی غور و فکر کا موضوع ہے کہ وہ مسٹر تھے یا مولانا مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مظہرِ حق تھے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.