Font by Mehr Nastaliq Web

مظہرالحق - آزادیِ وطن کا بے باک سپاہی

ریان ابوالعلائی

مظہرالحق - آزادیِ وطن کا بے باک سپاہی

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    ۱۸۵۷ء میں فرزندانِ ہندوستان نے انگریزی حکومت سے ملک کو آزاد کرانا چاہا لیکن ہندوستان انگریزوں سے اس لیے آزاد نہ ہوسکا کہ اس ہندوستانیوں میں میل نہ تھا، ذات و برادری، حسب و نسب کی کھینچا تانی اپنے عروج پر تھی، ۱۸۵۷ء کے بغاوت کے نو برس بعد بہار کی سرزمین بہہ پور(پٹنہ) میں مظہر الحق پیدا ہوئے ، اس زمانے میں ہندوستان کا ہر سچا فرزند اسی فکر میں تھا کہ ۱۸۵۷ ءمیںبغاوت جو ناکام رہی اس کی تلافی پھر دوسری جنگ آزادی لڑکر کی جائے لیکن جنگِ آزادی کی ناکامیابی کے بعد ہندوستانیوں کو اس طرح کُچلا گیا کہ دوبارہ انگریزوں سے برسرِپیکار ہونے کی مادی اور اجتماعی طاقت نہ رہی مگر انگریزوں کے خلاف غم و غصہ ہر ہندوستانی کے دل میں بھرا ہوا تھا۔

    مظہرالحق ہندوستان کی آزادی کے وہ عظیم سپاہی ہیں جنہوں نے ملک کے لیے اپنی پوری جائیداد وقف کردی، وہ ہندو مسلم اتحاد اور خصوصی طور سے تعلیمی بیداری کے علمبردارکہے جاتےتھے، کہا جاتا ہے کہ مظہر الحق اپنی رئیسانہ زندگی کو چھوڑ کر اپنی پوری زندگی وطن کے نام پر قربان کردیا اور فقیرانہ زندگی بسر کرتے ہوئے تحریکِ آزادی کو فروغ بخشا۔

    بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ۲۲؍دسمبر۱۸۶۶ءکو پیدا ہوئے، ان کے والدحاجی احمداللہ ایک رئیس زمیندار تھے، ایک متمول و تونگر گھرانے میں بڑے ناز و نعم میں پرورش پائی، ابتدائی تعلیم گھر پر ہی مولوی سجاد حسین سے حاصل کرلی ، اس ماحول میں جب آپ نے ہوش سنبھالاتو بچپن گزرا اور جوان ہوئے، یہ وہ دور تھا کہ ہندواور مسلمانوں نے انگریزی تعلیم کو اپنی قومی صفات اور اخلاق کے برباد کرنے کے مترادف سمجھا مگر مظہرالحق نے اپنی مرضی سے انگریزی تعلیم حاصل کرنا شروع کیا اور پٹنہ کالجیٹ اسکول میں داخل ہوئے اور ۱۸۸۶ء میں انہوں نے انٹرنس کا امتحان نہایت اچھی طرح سے پاس کرکے لکھنو چلے گئے اور وہاں کچھ دنوں کنینگ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہہ پور واپس آئے اورلندن جاکر تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا ،مظہرالحق کا خاندان غایتِ اسلامی، تہذیبِ علم اور معاشرت کا خاندان تھا وہ لندن جاکر بیرسٹری کے امتحان پاس کریں اس کی اجازت کوئی نہ دیتا، لہٰذا! والدین کی اجازت کے بغیر ممبئی روانہ ہوگئے اور ممبئی سے عدن(یمن کا ایک بندرگاہ) پہنچ گئے اور عدن پہنچ کر انہوں نے اپنے والد کو تار دیا کہ میں لندن جا رہا ہوں عدن تک پہنچ گیا ہوں، لندن کا خرچ موجود نہیں ہے، آپ لندن کے سفر کا خرچ بھیجیں اور اگر آپ خرچ نہ بھیجیں گے تو میں واپس نہیں آؤں گااور یہیں سمندر میں ڈوب مروں گا ، والد نے ان کے ولایت جانے کا پورا خرچ بھیج دیا اور کہا کہ لندن کی تعلیمی اخراجات میں تمہاری تکمیل تک بھیجوں گا،چنانچہ خرچ پہنچنے پر وہ ۱۵؍ستمبر۱۸۸۸ءکولندن پہنچے اور بیرسٹرعلی امام کے پاس قیام کیا، انہوں نے اپنےوقت کو لندن کی دلچسپیوں میں ضائع نہیں کیا بلکہ پوری محنت و انہماک کے ساتھ قانون کی تعلیم حاصل کی اورنہایت کامیابی کے ساتھ بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔

    (معمارِبہار،ص؍۳۱)

    لطف امیز بات یہ ہے کہ مظہر الحق جس جہاز سے لندن جا رہے تھے اسی جہاز میں گاندھی جی بھی تھے اور وہ بھی ماں باپ سے اجازت کے بغیر لندن جارہے تھے ،کہتے ہیں کہ دونوں میں پہلی ملاقات یہیں ہوئی، لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرنے کے بعد جولائی ۱۸۹۱ ءمیں ہندوستان واپس آئے تو یہاں کے حالات کا جائزہ لیا ، سیوان سے ۱۶؍کلو میٹر جنوب آندر گاؤں(فریدپور) میں آپ کے والد کی جائیداد تھی وہاں اپنے لیے ۱۹۰۰ ءمیں رہائش گاہ بنوائی اور اس کا نام ’’آشیانہ ‘‘رکھا، اس آشیانہ میں وہ بہت دنوں تک رہے، بیرسٹری کی تعلیم مکمل کرنے کےبعد پٹنہ اور پھر چھپرہ عدالت میں وکالت شروع کی، اس زمانے میں وہ بالکل کلین شیو میں خوبصورت سے نوجوان تھے، انگریزی سوٹ اور ٹائی میں ان کی شخصیت پُروقار نظر آتی تھی، وہ بہت جلد ہی اچھے اور نامور بیرسٹر میں شمار کئے گئے،بیرسٹرحسن امام ،بیرسٹرشرف الدین احمد، بیرسٹر آیت اللہ، بیرسٹر سلیمان، بیرسٹر یوسف اوربیرسٹر محمود حسین جیسے کہنہ مشق بھی مظہرالحق کی شخصیت کے معترف تھے، کہا جاتا ہےکہ جب وہ جرح شروع کرتے تو لوگ حیرت سے ان کو دیکھا کرتے تھے۔

    ۱۹۰۳ ءمیں آپ کو سارن میونسپلٹی کا وائس چیرمین بنایا گیا، وہ اس عہدے پر ۱۹۰۶ ءتک رہے اس مدت میں میونسپلٹی کی مالی حیثیت کافی مضبوط ہوگئی، ایک مدت کے بعد پھر وہ سارن میونسپلٹی میں آئے اور ۱۹۲۴ءسے ۱۹۲۷ ءتک چیرمین رہے، ترہٹ ڈویزن کے کمشنر انگریز افسر ڈی واٹسن((D. Whatsonنے ان کے کاموں کی خوب تعریف کی تھی۔

    (معمارِبہار،ص؍۳۱)

    نڈر اور بے لاک باتیں کرنا،ملک کے لیے بہترین سے بہترین تدبیریں، نیک مشورے، عوام کے اصول و نظام،آزادی کی سوچ وفکرجیسے خیالات ہمیشہ ان کے ذہن میں دوڑتے رہتے تھے،بڑی سے بڑی طاقت بھی انہیں سچ بولنے سے روک نہیں سکتی تھی اور نہ ان کے فیصلے کو بدلنے والاکوئی دوسرا تھا، ۱۹۱۰ ءمیں امپریل کاؤنسل کے ممبر تھے، اس کاؤنسل کی صدارت عام طور پر وائسرائے کرتے تھے، وہاں بھی وہ حق بولنے سے نہ رکتے تھے، جو کچھ سچ سمجھتے تھے وہ وائسرائے کے منہ پہ کہہ دیا کرتے تھے ، جب۱۹۱۰ ءمیں Seditious) Meetings Act)کی توسیع کا معاملہ پیش ہوا تو مظہرالحق نے اس کی سخت مخالفت کی اور صاف کہہ دیا کہ اس ایکٹ سے ہندوستانیوں کو دبانے کا کام لیا جائے گا، اسی طرح پھر ایک بار انہوں نے ۱۹۱۲ ءمیں ابتدائی تعلیم کو مفت کردینے کا مطالبہ کیا لیکن یہ مطالبہ منظور نہیں ہوا تو انہوں نے امپریل کاؤنسل سے استعفیٰ دے دیا، دوستوں اور خیرخواہوں کے سمجھانے کے باوجود بھی انہوں نے استعفیٰ واپس نہیں لیا ۔

    مظہرالحق جوانی کے عالم میں انگریز ی لباس اور کلین شیورہا کرتے تھے جس سے ان کی شخصیت کو پہچاننا تھوڑا مشکل مرحلہ تھا،بھوپال کے نواب صدیق حسن خاں کے پوتی داماد اچھے صاحب بیان کرتے ہیں کہ

    وہ کلکتہ سے لکھنو آنے کے لیے فرسٹ کلاس کے ایک ڈبّے میں بیٹھے تھے، کسی اسٹیشن پر ایک انگریز اور اس کے ساتھ ایک نوجوان ہندوستانی بھی سوٹ بوٹ میں آکر AC ڈبّے میں بیٹھے اور دونوں انگریزی میں گفتگو کرتے رہے پھر یکا یک اس انگریزنے نوجوان کی طرف مخاطب ہوکرکہا کہ

    ’’الایا ایھاالساقی ادر کاساً وناولھا‘‘

    اچھے صاحب انگریز کی زبان سے حافظؔ شیرازی کا یہ عربی مصرعہ سن کر بہت متحیر ہوئے پھر اس نےہنڈ بیگ کھول کر ایک گلاس میںکوئی شربت ڈھال کر بڑھایا اور اس انگریز نے گلاس منہ کے قریب لے جا کر زور سے’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘پڑھا اور گلاس پی گیا، اب اچھے صاحب کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی پھر دیر کے بعد دونوں حضرات ایک اسٹیشن پر اترپڑے،وہاں صاحب بہادر کے استقبال کو بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے، اچھے صاحب نے کسی سے دریافت کیا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ تو معلوم ہوا کہ یہ مشہور قانون داں مظہرالحق ہیں۔

    (ماہنامہ بہار کی خبریں،ص؍۲۳)

    جس قدر انگریزی زبان پرانہیں دسترس تھی، اسی طرح عربی و فارسی اورا ردو زبان میں بھی استعداد کامل رکھتے تھے، علم کلام، علم عقیدہ، شعروسخن اور تاریخ و تذکرہ کے ساتھ ساتھ سیرت کے بڑے شوقین نظر آتے تھے، انہیں فارسی شاعری میں حافظؔ شیرازی کا کلام اور اردو سیرت نگار میں شبلی نعمانی کی کتابیں کافی پسند تھیں۔

    (ماہنامہ بہار کی خبریں،ص؍ ۲۳)

    مظہرالحق لوگوں کے اندر تعلیمی بیداری لانا چاہتے تھے، ان کا خیال تھا کہ ہم جس قدر اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے اس قدر آزادی کی راہ استوار کریں گے، وہ خود ایک ذہین وفطین اور زیرک تھے، جس سے ان کے جذبات و احساسات کابخوبی اندازہ ہوتا ہے ، یورپ جاکر مغربی تہذیب کو بہت قریب سے دیکھا تھا اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کا راز بھی کھوج نکالاتھا، لندن کے قیام کے دوران انہوں نے وہاں کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور وہاں کی زندگی کے بعض پہلوؤں سے متاثر ہوکراپنے والد کوایک خط لکھاکہ

    ’’یہاں اخبار پڑھنا غذا کھانے سے بہتر سمجھا جاتا ہے، پہلے اخبار خرید لیں گے تب کھانے کی چیز مول لیں گے، نو برس کے لڑکے سے لے کر نوّے برس کے بوڑھے تک سب کے ہاتھ میں اخبار رہتا ہے ،ہمارے یہاں کے کل مزدور کام کے بعد ناریل پیتے ہیں اور یہاں کے کل مزدور اخبار پڑھتے ہیں ،حضور ہی خیال فرمائیں کہ جہاں کے لوگ ایسے تعلیم یافتہ ہوں گے پھر وہ کیوں نہیں سارے جہاں میں عملداری کریں گے‘‘

    (مؤرخہ شانزدہم، ماہ نومبر ا زلندن)

    اسی خط میں ایک اور اہم تجربے کا ذکر کرتے ہیں۔

    ’’یہاں کے انگریزوں سے اور ہندوستان کے انگریزوں سے بہت بڑا فرق ہے، وہاں کے انگریز اکثر چال وچلن میں کمینے ہوتے ہیں، مجھے معلوم نہیںکہ یہ ہندوستان کا اثر ہے یا کیا بات ہے، وہ لوگ جو وہاں کلکٹر کمشنر ہیں یہاں ان کو وہ منزلت حاصل نہیںہے جو ہم طالب علموں کوہے، ہم لوگ بلا تکلف ہر شخص کے یہاں آجاسکتے ہیں مگر وہ حضرات قدم بھی نہیںرکھ سکتے‘‘

    لندن کا کھاناانہیں پسند نہیں تھا مگر اس جزوی بات میں بھی وہ افادیت کے پہلو کو نظر انداز نہیں کرتے۔

    ’’ہندوستان کے کھانے اور یہاں کے کھانے میں یہی فرق ہے کہ ہندوستان کاکھانا لذیذ ہوتا ہے اور یہاں کا قوت بڑھانے والااور تندرستی لانے والاہوتا ہے‘‘

    یہ صرف خط نہیں بلکہ نصیحت ہے، ایک سبق ہے یاپھر ایک سچے مجاہد کا آج کی نسلوںکے لیے پیغام ہے، ان کے ذریعے انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کے اس روشن خیال گروہ کے ذہن و کردار اور ان کی ساخت و پرداخت کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے جومشرقی اقدار کا حامل تھا مگر جسے مغربی تہذیب اور فلسفہ و فکر سے بھی بہت کچھ حاصل کرنے کا موقع ملا تھا چونکہ مظہرالحق اپنے زمانے میں آزادی کی تحریک کے رہنما بھی تھے، اس لیے ان کی شخصیت کی تعمیر میں حصہ لینے والے عناصر کا مطالعہ اس دور کے اہم ترین گروہ کے افکار و احساسات اور ان کی شخصیت پر حالات کے ردعمل کا مطالبہ ہے جو اس دور کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے طالب علم کے لیے نہایت اہم ہے،مسلم یونیورسیٹی(علی گڑھ) کی بنا کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے سلسلے میں مولانامحمد علی جوہرؔ نے کامریڈ( ۱؍ جولائی ۱۹۱۱ء)میں جو ذکر کیا ہے وہ پڑھنے کے قابل ہے۔ (ماہنامہ بہار کی خبریں،ص؍ ۲۲)

    مظہرالحق کو صحافت سے خاصی دلچسپی تھی ،اپنی آواز پہنچانے کے لیے وہ صحافت کو ضروری سمجھتے تھے، اس لیے انہوں نے انگریزی ماہنامہ ’’ماڈر ن بہار‘‘شروع کیا لیکن یہ رسالہ بہت دنوں تک جاری نہ رہ سکا، اس کے بعد انہوں نےستمبر ۱۹۲۱ءمیں ایک اور جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے پٹنہ ہی سے ہفتہ وار انگریزی اخبار’’دی مدر لینڈ‘‘نکالاتھا جسے وہ خود ایڈٹ کرتے تھےمگر یہ بھی زیادہ دنوں تک نہ چل سکا لیکن دوسرے اخبارات کے لیے اخلاقی سبق چھوڑ گیا، اس میں اشتہارات شائع ہونے کے لیے ایک معیار قائم کیا گیا ، اس میں ملکی مصنوعات کے اشتہارات ہی شائع ہوتے تھے اور اس کے لیے اس میں قومی و بین الاقوامی خبروں کے ساتھ کانگریس کی سرگرمیاں شائع ہوتی تھیں، انگریز مخالف مضامین کو خاص جگہ دی جاتی تھی، ایک مضمون کی اشاعت پر تین ماہ قید یا ایک ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیاگیا لیکن مظہر الحق نے انگریز دشمنی میں جرمانہ ادا کرنے سے صاف انکار کردیا جس کی وجہ سے انہیں تین ماہ کی سزا دی گئی اور اس طرح دی مدر لینڈ بند ہوگیا، ۲۶؍جولائی ۱۹۲۲ ءکو گرفتار ہوئے اور ۱۶؍ستمبر کو رہا کئے گئے،صحافت کے شعبے میں مظہرالحق کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،۱۹۲۱ ءمیں ڈاکٹر سیّد محمودکی کتاب ’’خلافت اور انگلستان‘‘جو صداقت آشرم،پٹنہ ہی سے شائع ہوئی اس میں مظہر الحق کابہترین مقدمہ شامل ہے جو انہوں نے ۲۸؍اپریل کو لکھا تھا۔

    ان کی چند کتابیں بھی خاصی اہمیت کی حامل ہیں اور وہ یہ ہیں۔

    طوفانِ نوح، یہ کتاب تصوف کے موضوع پر بتائی جاتی ہے مگر اب تک اس کا کوئی نسخہ مجھے ملا نہیںہے، اسی طرح ’’مظہرالعلوم‘‘اور ’’کبوتروں کی پرورش‘‘کے عنوان سے بھی صرف تذکرہ ملتا ہے ، آپ نے اردو اور فارسی میں شاعری بھی کی ہےلیکن مجموعہ شائع نہیں ہوسکا، ان کا ایک فارسی مصرع ۲۶؍اگست ۱۹۲۳ ءکے’’ خلافت گزٹ‘‘ میں شائع ہوا تھا، ان کے دو فارسی شعر ملاحظہ ہو۔

    نسلِ بُز نہ رفتہ رفتہ بُز نہ بیدُم شدہ

    نامِ آدم زاد گشت و شاربِ صد خم شدہ

    از سرِ دردجست و حرکاتش شدہ پامالیاں

    دورۂ باطل بپا و مظہرالحق گم شدہ

    (Builders of modern India Mazharul Haque)

    واضح ہوکہ مظہرالحق کا ادبی حصہ زیادہ ترضائع ہوچکا یا پھر توجہ اور مزید تحقیق کا طالب ہے، اسی طرح آپ کے مکاتیب کا دو حصہ مکاتیب از لکھنو (اول)، مکاتیب از لندن(دوم) جو اردو و فارسی دونوں زبان میں اپنے والد حاجی احمد اللہ کو لکھاگیا خط کا بہترین مجموعہ ہے وہ شائع ہوچکا ہے۔

    مظہرالحق تحریک ترکِ موالات کے آغاز سے چند سال پہلے ایک مقدمہ مدعا علیہم کی طرف سےآپ اور ہندوستان کے شہرۂ آفاق قانون داں بیرسٹر حسن امام دونوں چھپرہ گئے تھے، یہ کسی کامقدمہ تھا اور چند ہندو رؤسا مدعا علیہم تھے، وہ دور دوسرا تھا، معمولی سے واقعہ کی بھی بڑی اہمیت ہوجاتی تھی، بہار میںاس وقت کوئی اردو اخبار نہ تھا، کلکتہ کے چند اردو اخبارات یہاں پڑھے جاتے تھے، اس میں یہ خبر چھپی تھی کہ حسن امام استغاثہ کے گواہوں پر جِرح کر رہے تھے کہ جب استغاثہ کا سب سے اہم گواہ آیا تو حسن امام جرح کے لیے کھڑے ہوئے یکایک مظہرالحق نے کہا کہ

    ’’حسنو! اس پر ہم جرح کریں گے‘

    حسن امام بیٹھ گئے اور مظہرالحق نے جرح شروع کی، ’’حسنو! اس پر ہم جرح کریں گے‘‘ بظاہر بالکل معمولی اور چھوٹا سا جملہ ہے مگر مخاطب کی عظیم الشان شخصیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مظہر الحق کی عظمت کا ایسا سکہ لوگوں کے ذہن پر جما کہ وہ تاریخ کا ایک حصہ بن گیا۔ (ماہنامہ بہار کی خبریں، ص؍ ۲۲)

    اسی درمیان وکالت کے ساتھ ساتھ قومی کاموں میں بھی حصہ لینے لگے اور بہت جلد ملک کے اہم رہنماؤں میںگنے جانے لگے،۱۹۱۱ ءمیں بہار صوبہائی کانفرنس کا اجلاس گیا میں مظہرالحق کی صدارت میں ہوا، جس میں جداگانہ حق انتخاب کی تائید کرتے ہوئے اسے تمام اقلیتوں پر ہر صوبے میںعملی طورپرکرنے کی اپیل کی گئی،مظہرالحق بے باک اور حق بولنے والے انسان تھے جس کا اعلان ۱۹۱۱ءہی میں اسی کانفرنس کی صدارتی کرسی سے اپناخطبہ دیتے ہوئے کہاتھاکہ

    ’’میں مذہبی معاملات میں مسلمان ہوں اور ملکی سوالات پر ہندوستانی ہوںاور سب سے اوپر یہ کہ صوبائی معاملوں میں بہاری ہوں اور کسی حالت میںبھی اپنی شخصیت کے ان تینوں عوامل سے انحراف نہیں کرسکتا‘‘

    (بہارویکلی،۸؍دسمبر ۱۹۱۱ء)

    ۲۲؍مارچ ۱۹۱۲ءمیں بہار ایک جداگانہ صوبہ کی حیثیت سے وجود میں آیا تو بہاریوں کی سیاسی سرگرمیاں بڑھیں اور کانگریس کی طرف رجحان زیادہ ہوا اس سال ۱۹۱۲ میںانڈین نیشنل کانگریس کا اٹھائیسواں سالانہ اجلاس بھی بانکی پورمیں ہوا اس اجلاس کے صدر راؤ بہادر مدھولکر اور صدرمجلسِ استقبالیہ مظہرالحق تھے،آپ نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں پُرجوش طریقہ سے اعلان کیا کہ

    ’’ہم اہل مہاجر مادر وطن ہندوستان سے سچی محبت کرنے میں کسی بھی خطۂ ملک کے کسی فرزند کے مقابلہ میں کم نہیں ہیں جو خیال آزادی وطن ملک میں پھیلا ہوا ہے، ہم بھی ا س خیال سے معمور و سرشار ہیں‘‘

    (معمارِ بہار،ص؍۳۲)

    ۱۹۱۳ءمیں کانپور میں جب سڑک چوڑا کرنے کے نام پرمچھلی بازارکی مسجد کے ایک حصہ کو شہید کیا گیا تو انگریزی حکومت کے خلاف مسلمانانِ ہندنےسڑک پر آکر مطالبہ شروع کیا، پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف نعرے لگے،کانپور کے مسلمانوں نے بھی احتجاج کیا اور فائرنگ میں کئی مسلمان مارے گئے اور مسلمانوں کے خلاف ہی مقدمہ کردیا گیا تھا ،خوف کا یہ عالم تھا کہ مسلمانوں کے حق میں کوئی مقدمہ لڑنے والاتیار نہیں تھا، اس وقت مظہرالحق پٹنہ سے کانپور آئے اور مقدمہ کی مفت میں پیروی کی اور بالآخر وائسرائے کی مداخلت پر معاملہ ختم ہوا تھا، اس معاملے میں ۸۰؍افراد کے دفاع کا معاملہ تھا اور اس کے ساتھ ان لوگوں کی مالی اور طبی مدد بھی شامل تھی جس میں مظہرالحق نے اہم کردار اداکیا، جس کی تعریف مولانا ابوالکلام آزاد ؔنےہفتہ وار اخبار الہلال(کلکتہ) میں بھی کی تھی اور اس دن سے مظہرالحق ہندوستانیوں کے لیے ایک مثال بن گئے۔

    سامراجیت کی چالیں ہوگئیں سب بے نقاب

    مظہرالحق کی صدا سے جاگ اٹھا ہندوستاں

    (انیس الرحمٰن انیسؔ)

    بہار ایک علیحدہ صوبہ بن جانے کے بعد اور خاص کر یہاں کے رہنماؤں کی روشن خیالی اور وسیع المشربی کی وجہ سے بہار کی سیاسی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی، چنانچہ ۱۹۱۴ ءمیں جب کانگریس نے اپنے سیاسی مطالبات کو پیش کرنے کے لیے ایک وفد انگلینڈ بھیجا تو اس میں بھوپیندر بسو، محمد علی جناح، ان ام اسمارتھ، بی ان شرما اور لالہ لاجپت رائے کے ساتھ بہار کے ڈاکٹر سچتا نندسنہا اور مظہرالحق بھی تھے، ۱۹۱۶ءکے لکھنؤ اجلاس میں بہار سے بیرسٹرحسن امام، ڈاکٹر سیّد محمود، نواب سیّد وارث وغیرہ کی موجودگی میں مظہرالحق بھی شامل تھے۔

    (آزدی کی تحریک میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ،ص؍ ۱۵۹)

    ’’آئی سی ایس‘‘(I.C.S)ایک عہدہ تھا جس کا امتحان لندن میں ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے ، ہندوستان کے کسی بھی شہر میں امتحان کے لیے کوئی مرکز نہیں تھا ،اسی اجلاس میں آپ نے پُرزور مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں بھی امتحان کا مرکز بنایا جائے، ان کا یہ مطالبہ تھا کہ وکیلوں کے بیچ سے ہی جیوڈیشری کے افسران کا انتخاب ہو اوریہ بات تسلیم کی گئی۔

    اسی زمانے میں ایک نئی اصطلاح ’’ہوم رول‘‘ کی آئی تھی، جس کی کافی چرچہ ہوئی تھی، بہار میں ۱۶؍دسمبر ۱۹۱۶ ءکو بہار ہوم لیگ کی شروعات ہوئی اور مظہرالحق اس کے پہلے صدر بنائے گئے۔

    اسی طرح چمپارن میں تحریک’’ ستیہ گرہ ‘‘کا آغاز ہوا،جسے گاندھی جی کی کرم بھومی بھی کہا جاتاہےکیوں کہ یہیں سے بھارت کی آزادی کی تحریک شروع ہوئی،ہوا یوں کہ چمپارن میں برطانوی حکمرانی کے دوران زمیندار کسانوں پر بے انتہا ظلم کرتے تھے اور ان پر غیر قانونی ٹیکس بھی عائد کرتے تھے، ان سے زبردستی نیل کی کھیتی کرائی جاتی تھی،۱۹۱۶ءمیں لکھنؤ کے کانگریس اجلاس میں گاندھی جی نے راج کمار شکلا سے ملاقات کی اور ان کی گزارش پر وہ ۱۹۱۷ءمیں خود کسانوں کے دکھ درد کو دیکھنے چمپارن کی طرف بڑھے ،کہا جاتا ہے کہ اس دوران پٹنہ میں ڈاکٹر راجندر پرشاد کے مکان پر ان کا قیام تھا لیکن راجندر پرشاد کی غیر موجودگی میں ا ن کے نوکر نے گاندھی جی کو بیت الخلااستعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ،جب یہ خبر مظہرالحق تک پہنچی تو وہ گاندھی جی کو اپنی کوٹھی پر لے آئے اور اس وقت تک رکھا جب تک وہ رُکے،گاندھی جی پر چمپارن میں دفعہ ۱۴۴؍ کی خلاف ورزی کی الزام میں مقدمہ چلا تو اخباروں میںجب یہ خبر چھپی تو مظہرالحق، راجندرپرشادوغیرہ موتیہاری پہنچ گئے اور ستیہ گرہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا چونکہ مظہرالحق گاندجی کے پرانے شناسا تھے، گاندھی جی ان سبھوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ میری گرفتاری کے بعد آپ لوگ کیا کریںگے،گاندھی جی کا فلسفہ ان کی سمجھ سے باہر تھی، اس لیے پہلے تو انہوں نے گومگو سا جواب دیا جس سے گاندھی جی کو تسلی نہیں ہوئی مگر بعد میں سوچنے کے بعد جب انہوں نے یہ جواب دیا کہ آپ کی گرفتاری کے بعد بھی کام جاری رہے گا اور ہم بھی جیل جائیں گے تو گاندھی جی کا چہرہ کِھل اٹھا اور وہ بہت خوش ہوکر بول اٹھے کہ اب معاملہ فتح ہوجائے گا اور انہوں نے سب کا نام لکھ کر کئی ٹولیوں میں بانٹ دیا اور یہ بھی طے کردیا کہ یہ ٹولیاں کس ترتیب سے جیل جائیں گی، پہلی ٹولی کے سردار مظہرالحق تھے، دوسری کے برج کشور اور ایک ٹولی کے سردار راجندر پرشاد بنائے گئے ۔

    ۱۸؍ اپریل کو گاندھی جی سے مقدمہ اٹھا لیا گیاا ور گاندھی جی مظہرالحق کے ساتھ ان کے گھر چلےگئے۔

    اس سلسلے میں یہ بات بھی خاص طورپر یاد رکھنی چاہیے کہ اس آندولن کےآخری فیصلہ کن دور میں جب قیادت کلی طور پرگاندھی جی کے ہاتھوں میں آچکی تھی تو خود انہوں نے اپنے بعد جیل جانے والوں کی دوسری ٹولی کا قائد مظہرالحق کو نامزد کرکے بتادیا تھا کہ اس تحریک کی رہنمائی کے لیے وہ اپنے بعد سب سے زیادہ حقدارمظہرالحق کو سمجھتے ہیں، چنانچہ ان حقائق کے پیشِ نظر یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ چمپارن کی جس تحریک کی بدولت ملک بھرکے کسانوں میں سیاسی بیداری کی لہر دوڑ گئی اسے اٹھانے اور ابھارنے میں مظہرالحق نے اپنے روایتی سامراج مخالف کردار کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آگے بڑھ کر حصہ لیا اور اسے کامیاب بنانے میں بڑا اہم کردار اداکیا۔ (آزدی کی تحریک میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ،ص؍ ۱۵۹)

    ان کے زمانے میں بہار کی کوئی تحریک ایسی نہیں جسے ان کی رہنمائی حاصل نہ ہوئی ہو،چمپارن کے کسانوں کی جدوجہد میں انہوںنے جو نمایاں حصہ لیا وہ جہدِ آزادی کی تاریخ میں کبھی بھلایا نہیں جاسکتا،ان کا ذہن بچپن ہی سے آزادی کی سوچ کے ساتھ پروان چڑھ رہا تھا،لندن میں بیرسٹری کے دوران ایک مجلس’’انجمن اسلام‘‘ کے نام سے قائم کی، اس میں انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی صورتوں پر غور کیا جاتا رہا، جس میں ہندواور مسلم دونوں شریک تھے ،اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آپ انڈین نیشنل کانگریس کے چوٹی کے رہنماؤں میں شمار کئے جاتے تھے، انڈین نیشنل کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کاکوئی مشورہ بغیر آپ کی شرکت اور رائے کے مکمل نہیں سمجھا جاتا تھا ۔

    مظہر الحق، گاندھی جی کےبے حد قریبی دوستوں میں سے تھے، اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کمیٹی کے سالانہ اجلاس جو ہندوستان کے مختلف شہروں میں ہوتا تھا وہاں ا ن کی تقریریںبہت گرم اور حق بیانی پر ہوتی تھی،مظہرالحق ایسے جمہوریت نواز اور آزادی خواہ مسلمان رہنما بھی تھے جو کانگریس اور’’ ہوم رول لیگ‘‘ کے فارموں سے خود امتیازی اور سوراج کی لڑائی پہلے ہی لڑتے چلے آرہے تھے اور جنگ کی فتح پر اب اس لڑائی کے لیے وسیع تر قومی اتحاد کی بنیاد پر عوام کو بڑے پیمانے پر گروہ بند کرنے لیے کوشاں تھے، مظہرالحق کی سیاسی تدبر اور پارلیمانی مہارت کی دھاک سارے ملک میں مچی ہوئی تھی اور اپنی حب الوطنی اور بلند کردار ی کی بدولت بلا امتیاز مذہب و ملت پوری قوم کا اعتماد انہیں حاصل تھا جن میں مظہرالحق اپنی گہری مذہبیت کی وجہ سے مسلمانوں میں خصوصی طور پر زیادہ مقبول اور بااثر تھے۔ (تحریک آزادی میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ، ص؍۱۸۴)

    یاد رہے کہ وہ گفتار کے غازی نہیں بلکہ کردار کے غازی تھے،جب عوام کو صرف تقریریں سننے کی عادت ہوچکی تھی تو لکھنوؤکے اجلاس میں انہوں نے کہا تھا کہ

    ’’میں نہایت اصرار، صفائی اور زور کے ساتھ کہتا ہوں کہ تقریر بازی اور صرف تجویز پاس کرنے کا دورگزر گیا، یہ وقت عمل کا آیاہے، آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ ہندوستان کے لیے اپنی حکومت یعنی سوراج کا مطالبہ کر رہے ہیں،کیا ایک منٹ کے لیے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ صرف آپ کی زبانی مطالبہ سے اس کو سوراج مل جائے گا؟ جب تک کہ آپ اپنی کاروائیوں اور عملی کوششوں اور کارناموں سے اپنے حکمرانوں پر یہ ثابت نہ کردیں کہ آپ کا مطالبہ سوراج کو ہرحال میں منوا کررہیں گے‘‘

    (معمارِ بہار،ص؍۳۳)

    اس طرح کے سخت الفاظ مظہرالحق بہت آسانی کے ساتھ کہہ دیا کرتے تھے ، ان کے اندر سچائی، ایمانداری اور صداقت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا،اس زمانہ میں منصفی بڑے فخر کی بات سمجھی جاتی تھی، مظہرالحق نے کچھ دنوں کے لیے یہ نوکری بھی کی لیکن وہ بڑے آزاد طبیعت انسان تھے، اوپر کے افسروں سے میل نہ بیٹھا توعلیحدگی اختیار کرلی۔

    اسی طرح۱۸؍مارچ ۱۹۱۹ءکوبرطانوی حکومت کی طرف سے’’ رولٹ ایکٹ‘‘ کے پاس ہوتےہی گاندھی جی نے اس قانون کو ناجائز ، انصاف کے اصولوں کے خلاف اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے مہلک قرار دیتے ہوئے اپنی جانب سے ستیہ گرہ کا اعلان کردیا اور ۶؍اپریل کو ملک بھر میں عام ہڑتال کرنے کا پیغام دیا،اس کا اثر بہار میں بھی دیکھنے کو ملا، بیرسٹرحسن امام کے ساتھ مظہرالحق نےبھی اس میں کافی دلچسپی لی، اس کا اثر یہ ہواکہ پورے بہار میں ہڑتال ہوا، دکانیں بند رہیں، لمبا جلوس چلا،ننگے پیر وطن کے سچے جاں بازوں نے سڑک پر انگریزوں کے کالے قانون کا احتجاج کیا، بہار کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں بھی اس کا اثر دکھنے لگا، چھپرہ تو مظہرالحق کا اپنا خاص ضلع تھا اور وہاں ان کا سیاسی اثر اور دبدبہ بھی بہت تھا لیکن اس ایجی ٹیشن کے سلسلے میں ان کا وقت زیادہ تر دہلی اور پٹنہ میں لگا اور ویسے صوبۂ بہار کے مقبول ترین عوامی رہنما ہونے کے باعث انہیں بہار کے ہر ضلع پردھیان دینا تھا، اس لیے وہ اپنے خاص ضلع چھپرہ میں اتنا وقت نہیں دے سکے پھر بھی ان کی جگہ پر مولوی زکریا ہاشمی نے اس ضلع میں پوری مستعدی اور جوش و خروش کے ساتھ کام کیااور ایجی ٹیشن کو پوری طرح سے کامیاب بنایا،پٹنہ میں حسن امام اور مظہرالحق کے علاوہ جو قومی رہنما تھے مقامی طور پر مولوی نورالحسن، خورشید حسنین، ڈاکٹر سیّد محمود اورسمیع احمد اس ایجی ٹیشن میںبہت سرگرم رہے،۴؍اپریل کو بھی ایک عام جلسہ پٹنہ سیٹی قلعہ کے میدان میں مظہرالحق کی صدارت میں ہوا تھا، جسے کامیاب بنانے میں حسن امام نے اہم کردار ادا کیا تھا، اس اجلاس عام میں مظہرالحق اور حسن امام کے علاوہ راجندر پرشاد اور پرنند نرائن سنہا نے بھی تقریریں کی تھی ،اس جلسہ میں دہلی کی مثال پیش کرتے ہوئے ہندومسلم اتحاد پر بہت زور دیا گیا تھا پھر ۶؍اپریل کو ہڑتال کی تیاریوں کے سلسلے میں ۵؍اپریل کی شام میں مظہرالحق کی رہائش گاہ پر پرنند نرائن سنہا کی صدارت میں ایک جلسہ ہوا جس میں نواب سرفراز حسین خاں نے بڑی جذباتی تقریر کی ، ان کے علاوہ سیّد حسن اورمولوی خورشید حسنین نے بھی تقریریں کیں اور ۶؍ اپریل کو ہر طبقہ کے لوگوں پر مشتمل ایک عظیم الشان جلوس ایک سرے سے دوسرے سرے تک پٹنہ کی عام شاہراہ سے گزرا،حسن امام کا اس جلوس پر گہرہ اثر تھا، یہاں بھی حسن امام، مظہرالحق،راجندر پرشاد،چندر بنسی سہائے، مترلال مسوڑھی، مولوی خورشید حسنین اور رائے بہادر پرنند نرائن سنہا نے تقریریں کیں،اس ایجی ٹیشن کو پٹنہ بلکہ اہل بہار میں جو کامیابی حاصل ہوئی اس کا سہرہ حسن امام اور مظہرالحق دونوں کو جاتا ہے،کہتے ہیں کہ حسن امام کا اوپری طبقہ پر بہت اثرتھا مگر عوام میں مظہرالحق زیادہ مقبول تھے۔

    (تحریک آزدی میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ، ص؍۱۷۵)

    تحریک خلافت میں مظہرالحق کا کردار بہار کے حوالے سے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا،آپ کی دعوت پر مولانا شوکت علی نے بہار کا دورہ کیا اور اس سلسلے میں ۲۴؍اور ۲۵؍ اپریل ۱۹۲۰کو پٹنہ میںدو عام جلسوں سےانہوں نے خطاب کیا ،جن میں مولانا شوکت علی نے لوگوں سے عدم تعاون کی اپیل کرتے ہوئے قربانی دینے اور سرکاری نوکریوں کو چھوڑ دینے کے لیے تیار رہنے کو کہا،مرکزی مجلس خلافت نے ۱۲؍ مئی کو اپنی ممبئی کی نشست میں عدم تعاون کے پروگرام کو باضابطہ طور پر منظور کرلیا ،جس کی توثیق ۱؍ جون ۱۹۲۰ ءکو الہ آباد خلافت کانفرنس میں کی گئی اس درمیان بہار کے ممتاز سیاسی رہنماؤں اور علما کا ایک جلسہ پھلواری شریف میں ہوا ،جس میں مظہرالحق کے علاوہ مولانا عبدالقادر آزد ؔسبحانی اور مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے مشورہ سے تحریک کو زور وشور سے جاری رکھنے کا فیصلہ ہواکہ وائسرائے کو ایک مہینے کی نوٹس دینے کا فیصلہ کیا چنانچہ اس میں بھی مظہرالحق کے ساتھ یعقوب حسن، مولانا شوکت علی اور مولانا ابوالکلام آزادؔ پر مشتمل ایک وفد وائسرائے سے جون کے آخر مہینے میں ملا اور ان سے کہا کہ آپ ہوم گورنمنٹ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدہ صلح ترکی میں مناسب ترمیمات ہمارے مطالبات کے مطابق کردے ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ ۱؍اگست ۱۹۲۰ ءسے ترکِ موالات کی تحریک جاری کردیں۔

    (تحریک آزدی میں بہار کے مسلمانوں کا حصہ، ص؍۱۸۷)

    مظہرالحق کی شخصیت کا جو نظارہ بہار کی معروف شخصیت مولانا سلیمان چشتی پھلواروی کے صاحبزادے مولانا غلام حسنین چشتی نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس کی چند مثالیں ذیل میں درج کرتا ہوں۔

    ’’۱۹۱۹ ءمیں جب کہ تحریک ترکِ موالات کا بالکل آغاز ہواتھا اور الہ آباد میں پنڈت موتی لال نہرو نے اور پٹنہ میں مسٹر مظہرالحق بیرسٹر نے اپنی اپنی وکالتیں ترک کیں اور ایک نئی قوم کی تعمیر میں اپنے کوو قف کردیا، اس وقت پٹنہ میں ایک عظیم الشان جلسہ مولانا مظہرالحق کی قیادت و صدارت میں (اس وقت کے زیر تعمیر) ’رضوان‘ کے وسیع میدان میں منعقد ہوا ، مولانامظہر الحق نے مسندِ صدارت سے پکارا، جواہر! آؤیہاں آؤ اس آواز پر ایک نہایت خوش روجوان کھدرکی شیروانی اور دھوتی میں ملبوس قریب آگئے، مولانا مظہر الحق نےان کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا، یہ میرے دوست اور ہندوستان کے لیڈر پنڈت موتی لال نہرو کے لائق و فائق فرزند ہیں، آپ لوگوں کو اپنی تقریر سے مستفیض کریں گے، پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ میرے بزرگ نے میری تعریف کی ہے، حالاں کہ میں تو اس فوج کا فقط ایک چھوٹا سا سپاہی ہوں جس کے یہ جنزل ہیں۔

    مولانا مظہرالحق انگریزوں کی طرح گورے چٹے آدمی تھے اور لوگوں کو ان پر انگریزہونےکا دھوکا ہوتا تھا، یہاں تک کہ ان کے گھرمیں بڑے بڑے کتّے پلے ہوئے تھے اور وہ بڑے پیار کے ساتھ انہیں گود میں بھی لے لیا کرتے تھے جو عام طور پر کوئی مسلمان نہیں کرتا، شراب کھلم کھلا پیتے تھے اور کبھی اس کی پرواہ نہ کی کہ کوئی کیا کہے گا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ انگریزوں سے کافی متاثر تھے، اس کے چند سال بعد ہی ان کے نظریات میں تبدیلی ہوئی ، جلیاں والاباغ سانحہ سے انہیں کافی دکھ ہوا، گاندھی جی،مولانا ابوالکلام آزاد،علامہ اقبالؔ جیسے لوگوں کی وجہ سے ان کی سوچ بدلی، طرابلس اور بلقان کی جنگ کے بعد خلافتِ عثمانیہ کے زوال نے مولانا مظہر الحق کو بھی ابوالکلام آزادؔ اور گاندھی جی کی طرح انگریز مخالف کردیا،مقلب القلوب انسانوں کا رنگ کس طرح پلٹ دیتا ہے مظہرالحق اس کی زندہ مثال ہیں، جس وقت یہ بہادر تھے اس وقت ان کا دل دردملّی سے بھرپور تھا، جس وقت ظالم ایطالیہ نے طرابلس پر حملہ کیا، اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کے امیر کی حمایت میں مسلمانوں کا ایک عظیم الشان قافلہ جمع ہوا تھا، ہر طرف افراتفری تھی، مظہرالحق بخار کی حالت میں بھی سیاہ اووَر کوٹ پہنے ہوئے آگے آئے تھے اور اپنی جانب سے ایک ہزار روپے چندے کا اعلان کیا ، حاضرین سے چندے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں مگر میرابھی اس میں ایک ہزار روپے کا چندہ ہے، ان کی آواز بڑی زور دار تھی، جب اردو بولتے تھے تو زبان شستہ ہوتی تھی۔

    اس وقت لکھنؤ کے تاریخی لیگ کانگریس پیکٹ کی قیادت بھی آپ ہی کر رہے تھے، ان سب میں مظہرالحق نے بڑا اہم کردار ادا کیاہے، لہٰذاان کا شمار آزادیٔ ہند کی خشتِ اول رکھنے والوں میں نہ کرنا بڑی احسان فراموشی ہوگی‘‘

    (ماہنامہ بہار کی خبریں،ص؍۲۳)

    اسی دوران مظہرالحق نے سب سے پہلے بیرسٹری چھوڑی، انگریزی لباس چھوڑا، شراب چھوڑی، سگریٹ تک پینا چھوڑ دیا اور موٹا کھدر پہننے لگے، وہ سگریٹ کے بدلے حقہ یا بیڑی پیتے تھے اور صوفے کے بدلے چٹائی پہ بیٹھتے تھے،مظہر الحق ابتدا میں اہل یورپ کو مہذب قوم کہتے تھے مگر بعد میں پھر انہوں نے ان سے بیزاری کا اعلان بھی کیااور دن رات ملک کی آزادی کی فکر میں لگے رہتے۔

    ’’کچھ عرصہ بعد جب مولانا مظہرالحق کی کاوش سے ’’صداقت آشرم‘‘بن کر تیار ہوااور مولانا ’سکندر منزل‘ کی اقامت ترک کرکے صداقت آشرم میں آ گئے اس وقت ایک بار میں(غلام حسنین) ان کے قریب بیٹھا تھا اور بھی چند آدمی تھے، مولانا آرام کرسی پر لیٹے تھے اور دونوں پیر سامنے کے ایک اسٹول پر تھا، اتنے میں راجندر بابوتشریف لائے،مولانا مظہرالحق کوغالباً ان کا انتظار تھا،دیکھتے ہی بولے، راجندر! تم آگئے؟ راجندر بابو نے دونوں ہاتھ جوڑ کر اور سرجھکا کر سلام کیا اور بیٹھ گئے۔۔۔مولانا مظہرالحق کی قیام گاہ سکندر منزل کی بَہار اور ہماہمی اس وقت دیدنی تھی، جب آندھی کی طرح تحریک ترکِ موالات پھیل چکی تھی اور بہار کے تمام افراد کی نگاہ مظہرالحق پر تھی‘‘

    (ماہنامہ بہار کی خبریں،ص؍۲۱)

    جس کے بعد سیکڑوں طلبہ کالج کو ترک کرکے ان کی تحریک کا حصہ بنے ،اسی دوران۱۹۲۰ ءمیں انہوں نے دیگھامتصل داناپورمیں جہاں ان کا باغ تھاوہاں چند جھونپڑیاں بنوائیں اور اس کا نام’’ صداقت آشرم‘‘ رکھاوہ خود اسی آشرم میں اٹھ آئے، اس وقت مظہر الحق بہار کانگریس کے صدر تھے، اسی آشرم میں انہوں نے لڑکوں کو پڑھانے کے لیے۱۹۲۱ ءمیں’’ بہار ودّیا پیٹھ ‘‘بھی قائم کیا تاکہ لڑکوں کی تعلیم ایسی ہوکہ ان میں قومی جذبہ نمودار ہو اور وطن کی خدمت کرنا سیکھیں،اصل مقصد یہ تھا کہ اس تعلیم گاہ سے آئندہ ملک کی آزادی کے لیے لڑنے والے سپاہی اور بہترین مشورےتیار ہوکرنکل سکیں۔ (مکاتیب مولانا مظہرالحق،ص؍۷)

    اب ان کے سامنے یہ تین کام رہ گئے تھے۔

    (الف) ہندوستان میں تعلیم کا فروغ

    (ب) ہندوستانیوں میں بھائی چارگی کی فضا قائم کرنا

    (ج) برطانوی سامراج کی مخالفت اور اسباب و علل

    مظہرالحق نے جب بیرسٹری چھوڑی اور صداقت آشرم میں آ بیٹھے تو ان کے اکثر دوستوں نے رائے دی کہ کورٹ نہ جائیں لیکن گھر پر لوگوں کو مشورہ دے دیا کریں مگر انہوں نے اس تجویز کو بھی منظور نہ کیا اور غریبی کی زندگی گزارتے رہے، ان کی زندگی کا مقصد ملک کی آزادی ہندوومسلم اتحاد اور ملک کی ترقی کے سوا اور کچھ نہ تھا، اس وقت چھوٹی سی چھوٹی بات کو بھی اہمیت مل جاتی تھی، انہوںنے ہر اس ظلم پر آواز اٹھائی جس کا تعلق ان کے ملک یا ان کی قوم سے تھا۔

    (معمارِ بہار،ص؍۳۳)

    پھریں گے کیسے دن ہندوستاں کے

    بلا کے ظلم ہیں اس آسماں کے

    اگر ہندو مسلماں میل کر لیں

    ابھی گھر اپنے یہ دولت سے بھرلیں

    الٰہی ایک دل ہو جائیں دونوں

    وزارت انڈیا کی پائیں دونوں

    (شاہ اکبرؔداناپوری)

    کچھ لوگوں نے مسلم لیگ کو مسلم تنظیم اور اینڈین نیشنل کانگریس کو ہندو تنظیم کہا تھا جس پر آپ نے سخت مخالفت بھی کی تھی،مظہرالحق نے ہندوستانی صنعت کے تحفظ کی خاطر آواز اٹھائی اور یہاں کی انڈسٹری کے پچھڑے پن کا ذمہ دار انگریزی حکومت کو بتلایا، پرائمری تعلیم کی فیس ختم کرنے کے لیے آپ نے بہت کوششیں کی اس زمانے میں بال کرشن گوکھلے نے بھی پرائمری تعلیم سے متعلق اس طرح کے مطالبات پیش کئے، لڑکیوں کی تعلیم پر بھی خاص زور دیا کرتے تھے۔

    مظہرالحق نے نہ صرف اپنے دور کی سیاسی زندگی میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا بلکہ ان کے بعد آنے والے دور کی سیاست پر بھی ان کی پرچھائیاں ملتی ہیں، جنگِ آزادی کے آخری دور میں اور آزادی کے بعد ملک کی رہنمائی کرنے والی بعض شخصیتوں پر آپ کی ذات اور شخصیت کی گہری چھاپ ہے،ڈاکٹر راجندر پرشاداپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ

    ’’ہم کو ایک بار اور حق صاحب (مظہرالحق)کے حب وطن اور سچی قوم نوازی کا ثبوت ملا، ہم سمجھ گئے کہ ہم کو ایک ایسا لیڈر ملا ہے جو ہندومسلم اتحاد کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہے، اپنی زندگی کا بہت حصہ انہوں نے اسی کام میں گزارا تھا، جب تک وہ جیتےرہے اسی کوشش میں ہی لگے رہے‘‘

    (میری کہانی، ص؍ ۴۵۸)

    اس صداقت آشرم میں انہوںنے جنگِ آزادی کے سپاہیوں اور سرداروں کی ایک فوج تیار کی جس میں ڈاکٹر راجندر پرشاد، شاہ محمد زبیر، ڈاکٹر شری کرشن سنہا اور انوگرہ نرائن سنہا وغیرہ بھی تھےجو مظہرالحق کے بعد ملک کی آزادی کی لڑائی کو آگےہی بڑھاتے رہے، یہاں تک کہ ہندوستان آزاد ہوا،اپنے تن من دھن سے قومی جدوجہد میں شریک ہوئے، انہیں کانگریس کے گوہاٹی سیشن کی صدارت پیش کش کی گئی جو بعد میں مسٹر سری نواس کو دی گئی مگر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا،نام و نمود کی خواہش سے اس حد تک اپنا دامن بچائے رکھنا اب تو ایک وہم سا ہوکر رہ گیا ہےمگر کسی زمانے میں یہ عام بات ہواکرتی تھی، ان عظیم رہنماؤں کی صرف یہ کوشش تھی کہ ملک آزاد ہوجائے۔

    مولانا ابوالکلام آزادؔ نے ۱۹۲۶ءمیں انہیں کانگریس کی صدارت کو قبو ل کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بڑی کوششیں کیں، چنانچہ اسی سلسلے میں ابوالکلام آزادؔ کا ایک خط ملاحظہ کیجیے۔

    ’’یقین کیجیے کہ گزشتہ چار پانچ سال سے میں برابر محسوس کرتا ہوں کہ آپ کی قابلیت اور آپ کے ایثار سے وقت کے مقاصد کو جو مدد ملنی چاہیے تھی نہیں مل سکی اور کچھ اسی طرح کے غیر موافق حالات جمع ہوگئے کہ ایک قیمتی وجود گمنامی کے حوالے ہوگیا، اب وقت ہے کہ آپ ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھیں اور اپنے لیے ایک بہتر میدانِ عمل پیدا کرلیں، یہ صحیح ہے کہ اس وقت لوگوں کی نظر آپ پر نہیں ہے،مشکل یہ ہے کہ آپ کے بیان نے تمام صوبوں کو صرف مسٹر سری نواس ہی پر متوجہ کردیا ہے لیکن آپ اب بھی آمادہ ہوجائیںاور مجھے اطمینان دلائیں تو خود مسٹر سری نواس کو اس پر آمادہ کرلوں کہ وہ آپ کے حق میں دست بردار ہوجائیں‘‘ تاریخ ۲۰؍اگست ۱۹۲۶ء

    (رودادِ آشیانہ، ص؍ ۱۶۶)

    تحریک خلافت و تحریک ترکِ موالات کے زمانے میں بہار میں اس وقت کے تمام مسلم قائدین میں مظہرالحق ہی وہ واحد رہنما تھے جو دونوں پارٹیوں کی سرگرمیوں میں ایک ساتھ اور یکساں طور پر رہنمایانہ کردار ادا کرتے ہوئے دونوں کو ایک دوسرے کے قریب اور سیاسی طور پر ہم آہنگ بنانے کے لیے جدوجہد کرتے چلے آرہے تھے ، ، ہندومسلم اتحاد کے لیے ہمیشہ بے چین رہنے والے مظہرالحق بہار قانون ساز کونسل کے نومبر ۱۹۲۶ ءکے انتخاب میں شکست کھا گئے، اس سے ان کو بہت صدمہ پہنچا، کیوں کہ شکست ان کی نہیں بلکہ ان کے نظریے کی ہوئی تھی،وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی یکساں مخالفت کی وجہ سے ہار گئے، ہندوؤں نے تو انہیں اپنا لیڈر ہی نہیں مانا اور مسلمانوں نے اس لیے مخالفت کی کہ ان کے خیالات ہندو حامی بتائے جاتےتھے،جس شخص نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ہندومسلم اتحاد پر زور لگایا اس کے لیے یہ صدمہ سب سے سفاک اور ظالمانہ وار تھا۔

    اب مظہرالحق سیاست سے منہ موڑ کر صداقت آشرم کے کنج تنہائی میں پہنچ چکے تھے، وہ یہاں روحانیت کے مطالعے میں اس قدر گم ہوگئے تھے کہ اب کوئی اور شئے ان کے دل کو اپنی طرف مائل ہی نہیں کرسکتی تھی، شروع سے ہی جب وہ بہادر تھے اس وقت بھی فقیروں اور صوفیوں سے انہیں خاصی عقیدت تھی ،اسی زمانے میںحضرت شاہ فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کی خدمت میں بہ کمالِ ارادت حاضر ہوئے تھے، جس کاتذکرہ شاہ سلیمان پھلواروی سے کرتے تھے کہ

    ’’جب میں قسطنطنیہ پہنچا تو شاہی مہمان ہوا اور خلیفۃ المسلمین سلطان عبدالحمیدخاں نے خاص دستر خوان پر کھانے کی عزت عطا فرمائی، اس دستر خوان پر کیاکیا خوان نعمت نہ تھے مگر جو مزہ مجھےمولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کے یہاں روٹی اور دال میں ملا دنیا کے کسی کھانے میں وہ مزہ نہ حاصل ہوا‘‘

    (ماہنامہ بہارکی خبریں،ص؍۲۴)

    وہی صداقت آشرم جو انہوں نے تحریک خلافت و ترکِ موالات کے زمانے میں سرکاری کالجوں سے نکل کر آنے والےطلبہ کے لیے بنایا تھا اور جہاں وہ عیش و راحت کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنے کے بعد آکر رہے تھے پھر یہیں ’’بہار ودّیاپیٹھ‘‘ کو منتقل کیا گیا،نوجوانوں میں متحدہ قومیت کے تصور کی تشہیر کی عملی کوششیں پہلی بار اسی آشرم سے مظہرالحق کی سرکردگی میں شروع ہوئی تھیں،جس میں گاندھی جی، مولانا شوکت علی، مولانا ابوالکلام آزادؔ وغیرہ برابردورہ کر رہے تھےبلکہ انہیں کی کوششوں سے سیکڑوں طالبِ علم کالج کو ترک کرکے مظہرالحق کی قیادت میںتحریک ترک موالات کاکام کرتے رہے۔

    مظہرالحق کا یہ آشرم ہندوستان کے غریب اور یتیموں کا سہارا تھا جہاں ہر کوئی بغیر معاوضہ کے بہترین تعلیم اور زندگی کا طریقہ سیکھتا تھا۔

    (معمارِ بہار،ص؍ ۳۴)

    مظہر الحق نے آخری زمانے میں صداقت آشرم چھوڑ کر اپنے مکان ’’آشیانہ‘‘ واقع موضع فریدپور، سیوان میں اقامت اختیار کر لی تھی، ان کے بڑے بیٹے حسن مظہر امام نے ان کے سامنے انتقال کیا، جس کا اثر ان کے دل و دماغ پر بہت ہوا، گویا وہ بڑے بیٹے کی قبر کے مجاور بن گئے، اسی سلسلے میں علم محاضراتِ ارواح سے انہیں گہرا ذوق ہوگیا، انہوں نے اس فن کی بے شمار کتابیں بالخصوص انگریزی زبان میں اکھٹاکر لیں اورا ن کا مطالعہ کیاکرتے تھے اور محاضراتِ ارواح کے عمل سے تسکین حاصل کرتے تھے، ان کا ایک مضمون اخبار اتحاد(پٹنہ)میں شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ

    ’’ مشاہدات و تجربات نے ثابت کردیاہے کہ جسم چھوڑنے کے بعد روح مرتی نہیں ہے اور اس سے تصرفات ہوتے رہتے ہیں‘‘

    انہوںنے ایک مغربی طبیب کاجو صدیوں پہلے گزرا تھا، نام دیاکہ علمائے محاضرات ارواح اس کی روح سے مریضوں کے علاج میں استمداد کرتے ہیں اور اس کے بتائے نسخوں سے کامیاب علاج کررہے ہیں،افسوس کہ مظہر الحق نے ملک کو آزاد ہوتے نہیں دیکھا مگر ان کا خوبصورت خواب پوراہوا،جب ملک آزادی کی لڑائی لڑ رہا تھا اسی وقت۲؍ جنوری ۱۹۳۰ ءکوفریدپور میںانتقال ہوااور یہیں اپنے آشیانہ کے صحن میں دفن کئے گئے۔ (ماہنامہ بہار کی خبریں، ص؍۲۴)

    مظہرالحق کے انتقال پُرملال کے بعد ہندوستان کی بڑی بڑی شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جس میں سے چند جملے یہاں لکھ دیئے جاتے ہیں۔

    ’’عظیم ترین تحریک عدم تعاون میں مولانا مظہرالحق نے نمایاں حصہ لیا، وہ اس تحریک کے بہت ہی معروف رہنما تھے، ہمارا فرض ہے کہ ان کی یاد منائیں اور ان کو خراج عقیدت پیش کریں‘‘ جواہرلال نہرو

    ’’میں یہ معلوم کرکے بے حد مسرور ہوں کہ مشہور وممتاز محب وطن مظہرالحق مرحوم کی مستقل یادگار کے لیے مظہرالحق میموریل بورڈ قائم کیا گیا ہے‘‘

    راجندرپرشاد

    ’’مظہرالحق مرحوم ایک عظیم المرتبت نیشنلسٹ اور سوشل ریفارمر تھے‘‘ رادھاکرشن

    ’’وہ ایک عظیم المرتبت قوم پرست تھے، انہوں نے ۱۹۲۰ء اور ۱۹۲۱میں بڑا نام پیداکیا تھا‘‘ لال بہادر شاستری

    (جنگِ آزادی کے مسلم مجاہدین، ص؍ ۱۵۸)

    ہم آخر میں اپنی بات گاندھی جی کے تعزیتی پیغام پر ختم کرتے ہیںجو انہوں نے ان کے تیسری بیگم منیری طیب جی کو لکھا تھا۔

    ’’مظہر الحق صاحب ایک بڑے محبِ وطن، سچے مسلمان اور ایک عظیم فلسفی تھے، ابتداً وہ عیش پسندی و آرام طلبی کے شائق تھے لیکن جب عدم تعاون کی تحریک چلی تو انہوںنے سب کو اچھی طرح جھاڑ جھٹک دیا، جس طرح ہم اپنے نفس کے چمڑے کو پوست فاضل کو بہ آسانی نوچ کر پھینک دیتے ہیں، وہ فقیرانہ زندگی کے بھی اسی قدر گرویدہ ہوگئے جس قدر وہ کبھی شاہانہ زندگی کے دلدادہ تھے، ہمارے اختلافات سے تنگ آکر وہ عزلت گزینی پر مجبور ہوگئے تھے، جہاں وہ نادیدہ خدمات میں مشغول رہتےتھے اور حسنات کے لیے خدا سے دعا گو رہتے، وہ تقریر و تعمیل اور قول و فعل دونوں میں یکساں طور پر نڈر واقع ہوئے تھے، پٹنہ کے صداقت آشرم میں مستقبل جگہ دینا طے پاگیا جو دونوں فرقوں کو باہم متحد کرنے کے لیے سیمنٹ کا کام کرسکتا ہے، یوں تو ایسی شخصیت ہر زمانے میں نایاب رہے گی مگر ملک کی تاریخ کے موجودہ دور میں تو ایسی ہستی ڈھونڈھنے پر کہیں بھی نہ ملے گی‘‘

    ( رودادِ آشیانہ ،ص؍ ۱۷۴)

    مظہر الحق کتنا زندہ نام تھا یہ مسئلہ آج بھی غوروفکر کا موضوع ہے کہ وہ مسٹر تھے یا مولانا مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مظہرِ حق تھے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے