ذکر خیر حضرت شاہ محمد محسن ابوالعُلائی داناپوری
بہارکی سرزمین سے ناجانے کتنے لعل و گہر پیدا ہوئے اور زمانے میں اپنے شاندارکارنامے سے انقلاب پیداکیا ان میں شعرا،علما،صوفیا اور سیاسی رہنما سب شامل ہیں جب ضرورت پڑی تو قوم کی بلندی کی خاطر سیاست میں اُترے ،جب مذہب پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو بحیثیت عالمِ دین اس کا جواب دیا،جب قلم کی ضرورت محسوس ہوئی تو بطور صحافی وشاعر لکھ لکھ کر زمانے میں انقلاب پیداکیااور اپنی شاعری سے لوگوں کو راحت و سکون بھی میسر کرایاجی ہاں ایسی بھی ہستیاں ہوئیں ہیں جن میں ایک نام حضرت شاہ محسن داناپوری کا ہے آپ مشہور صوفی شاعر حضرت شاہ محمد اکبرؔ داناپوری کے فرزند رشید اور خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ،شاہ ٹولی،داناپو ر کے سجادہ نشیں تھے۔
حضرت شاہ محسن کا خانوادہ صوبۂ بہار میں اپنی عظمت وبزرگی کی وجہ سے روشن ہے،یہ خاندان صوبۂ بہار میں آفتاب نیم روز کی طرح سے روشن ہے، بعض بادشاہ تیموریہ کو اس خاندان سے نسبتِ خادمیت تھی، سرزمین بہار میں اسلام کی روشنی شاہ محسن کے جد اعلیٰ امامحمد تاج فقیہ سے پھیلی،ناجانے کتنے لعل وگہر اس خانوادے نے پیدا کئے اوربہا ر جیسی سرزمین کو اللہ والوں کامسکن اور امن و محبت کا پیکر بنایا۔
آپ کانسب پدری امام محمد تاج فقیہ اور حضرت لطیف الدین دانشمند سے جا ملتا ہے ،ترتیب یہ ہے۔
محمدمحسن بن محمداکبر بن محمدسجاد بن تراب الحق بن طیب اللہ’’ نقاب پوش‘‘ بن محمدامین اللہ بن محمدمنور اللہ بن عنایت اللہ بن تاج الدین محمد بن اخوند شیخ بن احمد چشتی بن عبد الوہاب بن عبد الغنی بن عبد الملک بن تاج الدین بن عطاؤ اللہ بن شیخ سلیمان’’ لنگر زمین‘‘ بن عبدالعزیز بن امام محمد تاج فقیہ ۔ (کنزالانساب،ص؍۲۸۷)
آپ کا مادری نسب حضرت عمر خراسانی سے جاملتاہے اور وہ اس طرح ہے۔
محمد محسن بن احمدی بیگم بنت میرولایت حسین بن میر سخاوت علی بن بہادرعلی بن نورعلی المعروف منور علی بن مجیب اللہ بن صدرالدین بن ممریز بن محمد فاضل بن نصیبو بن عمرخراسانی (پنجوڑہ)بن علی حمزہ ۔ (کنزالانساب ودیگر سفینہ جات)
آپ کا نام محمد محسن ،تاریخی نام خور شید حسنین،عرفی نام بو علی اورتخلص محسن ؔ ہے،آپ کی پیدائش۱۷ ؍جمادی الاول یکشنبہ ۱۲۹۸ھ کوگولکھ پورضلع پٹنہ اپنی نانیہال میں ہوئی، حضرت شاہ اکبرؔ داناپوی فرماتے ہیںکہ
’’نور چشم تمہارا نام تمہارے جدامجد( حضرت مخدوم سجاد )نے ایک گھنٹہ مراقبہ کے بعدمحمد محسن رکھا ہے ‘‘
(خاتم نوری،ص؍ ۳۲)
آپ کی ولادت پر حضرت شاہ محمد یحییٰؔ ابوالعُلائی عظیم آبادی (متوفیٰ ۱۳۰۲ھ) نے قطعہ تاریخ کہی ہے۔
در گلستان اکبر ذیشان
گل رعنا ز فضل حق بشگفت
بلبل طبع سال میلادش
’’گل بازیب باغ اکبر‘‘ گفت
۱۲۹۸ھ (کنزالتواریخ)
تعلیم کی شروعات و الد ہی سے ہوئی، مزید حصول تعلیم کے لیے آپ الہ آباد گئے وہاں مدرسہ احیاؤ العلوم میں زیر تعلیم رہے اور فارغ التحصیل ہوئے ،حکیم احمداللہ ندوی رقمطراز ہیں کہ
’’ تعلیم ظاہری آپ کی مدرسہ سے دارالعلوم الہ آبادمیں ہوئی تھی وہیں کے فارغ التحصیل تھے ،چنانچہ خانقاہی ماحول علم وادب کی فضا اور بزرگوں کی صحبت نے آپ کے علم کو اور چمکا دیا اور آپ جیّد عالم دین کہے جانے لگے‘‘
(تذکرہ مسلم شعرائے بہار،جلدچہارم،ص؍۱۲۹)
شاہ محسن داناپوری اپنے والد ماجد کے دست حق پر ست پرسلسلۂ نقشبندیہ ابوالعُلائیہ میں بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت سے بھی نوازے گئے پھر ۱۶؍شعبان المعظم ۱۳۲۷ھ بروز جمعہ حضرت شاہ اکبر داناپوری کے فاتحۂ چہلم کے موقع پر خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ کی مسند سجادگی پر رونق افروز ہوئے،اس دور کے بزرگوں کامقولہ ہے کہ
’’ایسا شاندار مجمع نہ دیکھا نہ سنا ‘‘
ہنوز آں ابر رحمت در فشاں است
خم و خمخانہ بامہر و نشاں است
(تذکرۃ الابرار،ص؍ ۶۸)
مولانا عبدالنعیم ظفری لکھتے ہیں کہ
’’حضرت فردالاؤلیا(شاہ اکبر) قدس سرہٗ کے وصال کے بعد ۱۶؍شعبان المعظم یوم الجمعہ ۱۳۲۷ھ کو آپ کی رسم سجادگی خانقاہ ابوالعُلائیہ ،داناپور میں انجام پذیر ہوئی،آپ طریقت و تصوف کے وہ وہ رموز بیان کرتے تھے کہ سننے والے دنگ رہ جاتے تھے ‘‘
(بزم ابوالعُلا،جلد دوم ،ص؍۲۴۸)
شاہ محسنؔ کی خانقاہ کے موجودہ سجادہ نشیں ان کے پڑپوتے حضرت حاجی شاہ سیف اللہ ابوالعُلائی مدظلہٗ ہیں،آپ اپنے بزرگوں کی خدماتِ جلیلہ کو پروان چڑھانے میں مصروف عمل ہیں ۔
مولانا شاہ حسین الدین احمد منعمی(متوفیٰ ۱۳ھ) کا بیان ہے کہ
’’داناپور میں سادات کا جو خاندان آباد تھاوہ محلہ شاہ صاحبان ہیں جو آج بھی موجود ہے اور بحمداللّٰہ تعالیٰ دور متاخراور دورحاضر میں بھی ذی علم وممتاز ہستیوں سے خالی نہیں ہوا، حضرت سیّدشاہ محمد اکبر داناپوری دورمتاخرمیں اور سیّدشاہ محمد محسن جیسی ذی علم و معزز ومقتدر ہستی دورحاضر میں بھی موجود ہیں‘‘
شاہ محسن ؔ داناپوری بہت خلیق اور منکسر المزاج بزرگ تھے، طبیعت میں اوالعزمی تھی ،خوش پوشاک تھے ، فصیح البیان اور خو ش الحان تھے،وضع کے پابند تھے، انگرکھا اچکن اور عربی تراش کا پائجامہ پہنا کرتے تھے ،طریقت اور تصوف کے رموز خوب بیان فرمایاکرتے تھے ،کبھی کبھی وعظ و تقریر بھی فرماتے تھے ،علمی استعداد کے ساتھ ساتھ آپ سیاسی شعور بھی رکھتے تھے، وہ مہمان نواز اورفراخدل تھے،لوگوں کی مدد اور دلجوئی کرنا ان کا پسندیدہ عمل تھا ،صبرو آزمائش کے پیکر تھے ،کل کی فکر کبھی نہ کرتے ،اپنے زمانے کے مشاہیر میں تھے،ایک نامور عالم ایک مشہور شیخ طریقت اور قوم کے لیے ہر وقت تیار کھڑے رہتے،تحریک خلافت کے علمبردار،انجمن اخوان الصفااور انجمن حفاظت المسلمین کے بانیان میں سے تھے،ایک وجیہہ و شکیل صاحب نفوذ و اثر،ذاتی خوبیوں کو شمار میں لایئے تو بڑے مہمان نوا زاوربڑے فیاض ،بڑے ذی مروت اور بڑے صاحب اخلاق ، جود و کرم کے پتلے، ہر شخص کے کام آنے والے ،اللہ کا دیاہوا بہت کچھ تھا ،سخنے اور قدمے کے علاوہ درمے بھی سب کی مدد کے لیے تیار، عقائد وہی جو عام طور مشائخ کے ہوتے ہیں، درگاہوں اور مزارات پر پابندی سے حاضری کے پابند خود اپنے یہاں خانقاہ میں اعراس بڑے اہتمام و احتشام کے ساتھ کرنے والے ایک عظیم انسان تھے۔
آپ فطری شاعر تھے، اپنے والد سے اصلاح سخن لیتے رہے ،آپ کی شاعری کامطالعہ کرنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میںجہاں متعدد شعرا کا رنگ وبو پایاجاتا ہے تو وہیں خاندانی صوفیانہ شاعری کا اثر بھی نمایاں ہوتا ہے،وہی عارفانہ تخیلات ،وہی صوفیانہ اندازبیاںاور وہی تغزل کے حسین تصورات جن کی بھینی بھینی چھاؤں میں شاعری کا سفر جاری رہتا ہے ،بقول شاہ محسنؔ داناپوری
آئینہ سامنے رکھ کر یہ تماشہ دیکھا
اپنی صورت میں ترے حسن کا جلوہ دیکھے
آپ بڑ ے پُر گو شاعر تھے ،ہر صنف شاعری پر طبع آزمائی کی ہے اور اکثر جگہوں پر انہوں نے بلندیوں کو چھو بھی لیاہے۔
۱۹۲۴ء میں خلافت موومنٹ میں آپ نے بھر پور ساتھ دیا تھااور جگہ جگہ تقریریں کیں اور عوام الناس کو بیدار کیا، اسی سلسلے میں انجمن حفاظت المسلمین (پٹنہ)کی طرف سے ایک شاندار سہ روزہ اجلاس کا انعقاد ہوا تھا جس میں بیرسٹرسر علی امام ،مولانا شوکت علی،مولانا ظفر علی خاں،بیرسٹر مظہر الحق وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے، اس میں پہلے روز کے جلسے کی صدارت شاہ محسنؔ داناپوری نے فرمائی تھی ۔
شاہ محسن نے ۱۹۲۶ء میں ’’اخوان الصفا ‘‘کی بنیاد رکھی جس کے تحت مشاعرے اورملک و سماج کے کام بھی ہواکرتے تھے،اسی طرح ۱۹۳۴ء کے زلزلے سے شہید ہوئی مساجد کی فکر میں اور اس کی مرمت وغیرہ کے خیال سے ایک کمیٹی تیار کی گئی جس کا نام ’’ Centrel Mosque Committe ‘‘ رکھا گیاتھا جس کے چیرمین سر سلطا ن احمد تھے اور نائب چیرمین شاہ محسن داناپوری ہوئے، جس کے ذریعہ مونگیر ،مظفر پور،دربھنگہ اور پٹنہ وغیرہ کی مساجد کی مرمت ہوا کرتی تھی اس دوران داناپور اور مونگیر کی مساجد زیادہ کو مرمت کی زیادہ ضرورت تھی جگہ جگہ میٹنگ اور دونوں میں خط و کتابت بھی ہواکرتے تھے ،شاہ محسن نے آگرہ اور گوالیار وغیرہ سے بہترین معمار بھی بلایاتھا جس کے ذریعہ خوبصورت خوبصورت جالیاں اور محراب بنائے گئے تھے۔
کہاجاتاہے اس کمیٹی کی ساری رقم ایک چھوٹے سے لوہے کے بکس میں آپ کے پاس رہاکرتی تھی اور جہاں جہاںضرورت پڑتی وہاں اس پیسے کو صرف کرتے تھے،شاہ محسن زیادہ تر دورے پرہی رہاکرتے تھے، مستقل ایک جگہ ان کا قیام بہت مشکل تھا، اتفاق سے کسی روز شاہ محسن کی غیر موجودگی میں ان کی اہلیہ کو کھدرے پیسے کی ضرورت پیش ہوئی یہ وہ دور تھا جب کھدر ے کے لیے دو آنا پیسے زائد لگتے تھے مگر وہ بھی اس وقت میسر نہ تھا آپ کی اہلیہ نے دو روپے کا نوٹ اس بکس میں ڈال کر چار اٹھنی نکال لی جب آپ آگرہ سے داناپور آئے اور اس رقم کو ملایا تو پتہ چلاکہ چار اٹھنی کی جگہ دو روپے کا نوٹ ہے لہذا آپ کی اہلیہ نے ماجرا سنایا تو آپ سخت برہم ہوئے اور کہاکہ
’’قوم کا اٹھنی بھی بہت قیمتی ہے‘‘
اور دوسر دن اس کے لیے ایک روزہ رکھا اورخداسے اپنی نجات کی دعا کی، ایسے تھے ہمارے اسلاف ۔ (از افادہ حضرت شاہ خالد امام ابوالعُلائی)
شاہ محسنؔ اپنے خاندان کی قابل فخر یادگار اور جانشیں تھے، یہ خاندان علم وفضل اور درویشی کی حیثیت ہر دور میں معزز ومحترم رہاہے، علاوہ عوام الناس کے شاہی خاندانوں میں بھی وہ مؤقر تھا، اطمینان آزادی کے ساتھ علوم و فنون مجاہدہ اور مشاہدہ میں مصروف تھے۔
شاہ محسنؔ کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا جو بھی ایک بار ملتا ان کے اعلیٰ کردار، خداداد ذہانت اور بلند اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا،زاہدان خشک کی محفل ہویا رندان بلانوش کاجھرمٹ،خانقاہوں کی محفل ہو یا مشاعرے کی جگہ ،کسی شاعر یاادیب کامکان ہو یا انجمن اخوان الصفا ہو یا انجمن حفاظت المسلمین جہاں پہنچ جاتے پھول برساکر محفل کو خوشگوار بنادیتے۔
شاہ محسنؔکی شعری زندگی کا اگر مطالعہ کیا جائے تو کلیات محسن ؔ اس کا وا ضح ثبوت ہے، آپ نے ہر طرح کی شاعری کی ہے بعض غزلیں آپ کی نہایت ہی عمدہ پیمانے کی ہیں، آپ اردو اور فارسی دونوںزبانوں میں کہتے تھے، وہ مشاعرے میں بھی شرکت کرتے تھے، درگاہ حضرت شاہ ارزاں(پٹنہ)،ہلسہ ،آرہ، پٹنہ، بہار شریف، کشن گنج، تلہاڑہ، آگرہ، الہ ٰآباد وغیرہ میں آپ نے کئی مشاعرے پڑھے ہیں، حضرت محسن ؔ اپنی خانقاہ میں بھی سالانہ مشاعرہ کرایاکرتے تھے جس میں نوحؔ ناروی وغیرہ بھی تشریف لایاکرتے تھے۔
ان کے معاصرین شعرا میں نوح ؔ ناروی،نسیمؔ ہلسوی،نثارؔ اکبرآبادی، ڈاکٹر مبارکؔ عظیم آبادی،سیماب ؔ اکبرآبادی، حامدؔ عظیم آبادی،اخترؔ داناپوری، رفیق ؔ داناپوری، نیرؔ داناپوری، یکتاؔ عظیم آبادی،نورؔ عظیم آبادی،حمدؔ کاکوی،کمالؔ عظیم آبادی،شیداؔ عظیم آبادی، یاسؔ بہاری، حیراں ؔ عظیم آبادی،نورؔ نوحی وغیرہ شامل تھے۔
شاہ محسن ؔنے اردو نثر نگاری پر کئی طریقوں سے اثر ڈالاہے ،انہوں نے مضامین و مقالات اور خطوط بھی لکھے ہیں ،آپ کی نثری تصنیف میںایک رسالہ ’’برہان العاشقین‘‘کے نام سے ۱۳۵۰ھ میں طبع ہواجس میں زبان کو عام فہم رکھا گیا ہے اور ہر قسم کے مضامین ادا کرنے کی صلاحیت بھی پیداکی گئی ہے،آپ کا ایک مختصر مضمون ’’الروح ماالروح‘‘کے عنوان سے ماہنامہ ’’معارف‘‘(پھلواری شریف)میں شائع ہوچکاہے۔
حضرت محسن کا ایک مسدس ’’فغان درویش‘‘کے نام سے ۱۹۳۹ء میں الہ آباد سے شائع ہوچکاہے۔
شاہ محسنؔاپنے بزرگ شعرا خواجہ حیدر علی آتشؔ،میر تقی میرؔ،امام بخش ناسخؔ، صائبؔ تبریزی، خواجہ فیضیؔاور شاہ اکبرؔ داناپوری کے اشعار پر تضمین لگایاہے،انہیں اقبالؔ سے محبت تھی ان کے کلام کو خوب پسند کرتے تھے ان کی غزل پرآپ نے مخمس کہاہے۔
شاہ محسنؔ بحیثیت عالمِ دین علمی حلقوں میں خوب سراہے گئے ہیں، انہوں نے اعزازی طور پر مدرسہ حنفیہ(پٹنہ سیٹی)اور مدرسہ نعمانیہ حنفیہ(شاہ ٹولی،داناپور)کے مدرس بھی رہ چکے ہیں، ان جگہوں پرآپ نے تفسیر و حدیث کا درس دیاہے،مولانا احمد رضاؔ بریلوی نے اپنے عربی قصیدہ ’’امال الابرار والام الاشرار‘‘میں فرماتے ہیں کہ
’’و محسننا لاکبرنا ولید‘‘
ترجمہ : اور ہمارے محسن جو اکبر کے صاحبزادے ہیں۔
جناب محسنؔ کی فہرست میں بڑے بڑے علما و سیاسی حضرات شامل ہیں ان میں بیرسٹر علی امام(پٹنہ)، بیرسٹر عبدالعزیز(پٹنہ)، بیرسٹرسلطان احمد (پٹنہ)، مولانا ظفر علی خاں(پنجاب) ، مولانا شوکت علی (رام پور)،مولانا شاہ محی الدین قادری (پھلواری شریف)، مولانا عبدالباری فرنگی محلی(لکھنؤ)،ڈاکٹر محمد اقبالؔ(لاہور)،مولاناشاہ حسین چشتی سلیمانی (پھلواری شریف)،حکیم شاہ غلام شرف الدین بلخی (فتوحہ)، بیرسٹرحسن امام (پٹنہ) ، مولاناعبدالکافی نقشبندی(الہ آباد) وغیرہ سر فہرست نظر آتے ہیں۔
شاہ محسن کا حلقۂ تلامذہ اور حلقۂ مریدان کا دائرہ ہندوستان بھر میں پھیلا ہوا تھا جن میں آگرہ،کراچی، الہ آباد،پٹنہ، گیا، جہان آباد، نالندہ، دہلی، ڈھاکہ ، چٹگام،ڈام ڈم، رنگ پور، لاہور، پنجاب، کشن گنج،پورنیہ،ارریہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے،پٹنہ میں عالم گنج، لودی کٹرہ اور شاہ گنج میں آپ کے کافی مریدین تھے جن میں سے زیادہ تر مریدین تقسیم ہند کے دوران پاکستان اور کچھ بنگلہ دیش جابسے تھے،کشمیری کوٹھی کے شاہ نورالرحمٰن لعل کے یہاں ان کی نشست خوب رہتی تھی۔
ڈاکٹرکلیم احمدعاجز ؔ رقمطراز ہیں کہ
’’چند سال بعد میری بہن کی شادی ہوئی تو حضرت شاہ محمدمحسن صاحب ابوالعُلائی سجادہ نشین خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ ،داناپور،پٹنہ میرے یہاں تلہاڑہ تشریف لائے ہلسہ سے سیّدشاہ حکیم زہیر صاحب، سیّد شاہ حکیم بشیر صاحب دونوںبھائی بھی تشریف لائے یہ دونوں حضرت شاہ محسن صاحب کے ماموں زاد بھائی ہوتے تھے ،شادی کے بعد دوسرے تیسرے دن اسی شامیانے میں ایک مجلس مشاعرہ منعقد ہوئی جس کی روداد’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی‘میں باتفصیل مرقوم ہے،یہاں تھوڑا سا دہراتا ہوں کہ اس مجلس میں حضرت شاہ محسن ابوالعُلائی علیہ الرحمہ کے ساتھ ساتھ حکیم زہیر نانا اور حکیم بشیر نانا نے بھی اشعار پڑھے اور سننے والوں میں تلہاڑہ بستی کے تمام شرفااور مہذب ہندو سامعین بھی تھے ،کائستھ اور برھمن مدھو پرشاداگروال زمیندار تلہاڑہ اور ڈھنمن سہاے اور ان کے لڑکے گوپال پرشاد اور مندرپرشاد بھی تلہاڑہ کے شعرا میں مولانا عبدالصمد طیشؔ اور شاہ عبدالحفیظ حفیظؔبھی تھے جب حضرت سیّدشاہ محسن داناپوری کی باری آئی تو حضرت نے چند رباعیاں ارشاد فرمائی جس نے تلہاڑہ کے دیہاتی ماحول میں آگ لگا دی مجھے صرف یہ یاد ہے کہ حضرت شاہ صاحب نے ایک رباعی کا آخری مصرع پڑھا ۔
مصرع: مری آنکھوں میں آنکھیں ڈال ساقی
تواعظم نانا کے سب سے چھوٹے بھائی سیّد احمد جو دیوبند سے فارغ ہوکر آئے تھے روتے ہوئے کھڑے ہوئے اور منشی ڈھنمن سہائے کماشتہ تمتمائے ہوے سرخ چہرے کے ساتھ دونوں ہاتھ آگے پھیلاکر کرسی سے یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے شاہ صاحب یا شاہ صاحب !!اور کچھ آگے نہ کہہ سکے اور مجمع دم بخود ہوگیا تھا‘‘
(جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی)
شاہ محسنؔ داناپوری کے تلامذہ کی تعداد بھی اچھی خاصی ہوئی مگر انہوں نے شاگرد بنانے کی طرف کبھی خیال ہی نہیں کیا ،جو آتا شوق سے اصلاح کردیاکرتے ،چند مخصوص شاگردان کے نام یہ ہیں
وفاؔ اکبرآبادی، غنیؔ اکبرآبادی، نظر ؔ الہ آبادی، آسیؔ گیاوی،مظفرؔ کاکوی،منظر ؔ کاکوی،کیفیؔ کاکوی،ظفرؔ داناپوری،حلیمؔ الہ آبادی،بدرؔ داناپوری،روح ؔ کاکوی۔
اردو کے اہم تذکرہ نگاروں میں ڈاکٹر عظیم الدین احمد،پروفیسرعطاؤالرحمن عطاؔ کاکوی، پروفیسر سیّد حسن عسکری،پروفیسر مختارالدین احمد آرزوؔ، ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ،ڈاکٹر شفیق ؔ اکبرآبادی اور مشہور شاعرصباؔ اکبرآبادی آپ سے بے حد قریب تھے، آپ ان کی خوب مددبھی کیاکرتے اور اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازتے تھے۔
ڈاکٹر طیب ابدالی لکھتے ہیں کہ
’’آپ فطری شاعر تھے ،قدرت نے آپ کو ذو ق سلیم عطا فرمایاتھا،آپ اپنے والد حضرت شاہ اکبر داناپوری سے اصلاح سخن لیتے رہے ،آپ چوں کہ سلسلہ ابوالعُلائیہ کے صاحب سجادہ تھے، جس کی تعلیم میں عشق حقیقی کی لپٹ اور دردو سوز کی آنچ ہے، اس لیے حضرت محسن کی شاعری میں بھی حقیقت و معرفت کے وہ تمام کوائف ہیں جس سے سالک دوچار ہوتاہے، وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے مسلک کو شاعر نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کیاہے ‘‘
(بہار میں اردوکی صوفیانہ شاعری ، ص؍ ۲۱۱)
مرنے کی تھی سبیل جیئے جارہاہوں میں
ساقی پلارہاہے پیئے جارہاہوں میں
ساقی کو دل میں یاد کئے جارہاہوں میں
کعبہ میں بھی شراب پیئے جارہاہوں میں
محسنؔ حریم دل میں اسے دیکھ دیکھ کر
اپنا طواف آپ کئے جارہاہوں میں
(روحانی گلدستہ ،ص؍۵۰)
تصوف اور روحانیت آپ کو وراثت میں ملی تھی ،آپ کے شعرو سخن میں تصوف کی آمیزش اور روحانی جلوہ گری نمایاں تھی، فرماتے ہیںکہ
ہماری خاک ہے وہ خاک محسنؔ
علی کا نو جس میں جلو ہ گر ہے
دیگر
میں تو محسنؔ اسی قابل ہوںکہ بھولے وہ مجھے
فضل اس کا ہے کہ اس پر بھی اسے یاد رہوں
(کلیات محسنؔ)
فن شعرو ادب میں حسن مطلع ،محاورہ اور تکرار لفظی کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ،آپ کا ایک شعر پیش ہے۔
عاشق کے کبوتر کو قاصد وہ سمجھتے ہیں
کہتے ہیں سیانا ہے اُڑ جائے گا پَر باندھو
۱۹۱۹ء میں درگاہ حضرت شاہ ارزاں کے سہ روزہ کل ہند تاریخی مشاعرہ میں پڑھی گئی، حضرت محسنؔ کی غزل کا مطلع ملاحظہ ہو
قیس رخصت ہوا دنیا سے تو فرہاد آیا
ایک ناشاد گیا دوسرا ناشاد آیا
آج بھی حضرت محسن کی غز ل جب خانقاہوں میں قوال حضرات گاتے ہیں تو مجلس کا عجب کیف و حال ہوجاتاہے،کوئی ہاتھ مارتا ہے تو کوئی پیر پٹختا ہے یہاں تک کہ پوری محفل کیف ومستی سے لبریز ہوجاتی ہے۔
عرس کے ان کی دھوم ہے شور یہ بالعموم ہے
محفل سوز و ساز ہے چاروں طرف ہجوم ہے
(محسنؔ)
شاہ محسن نے قطعات ،رباعیات،غزلیں،حمد، نعت ، منقبت،قصیدہ ،حاجات، مسدس، نظم، رقعات،قطعات تاریخ،،سہرا ،مخمس اور تضمین وغیرہ پر طبع آزمائی کی ہے،جس میں حد درجہ وہ کامیاب نظر آتے ہیں ان کی شاعری میں ایک کشش ہے جو پڑھنے والے کو اپنی طرف کھینچتا ہے ،ماہنامہ ’’بزم سخن‘‘میں بھی شاہ محسنؔ کے چند کلام شائع ہوئے ہیں،حضرت محسن کو اللہ نے کئی خوبیوں سے نوازہ تھا وہ جس چیز کی طرف رغبت کرتے انہیں وہ حاصل ہوجاتا ، کمال علم و عمل اور بہترین اخلاق و اخلاص کے مالک تھے، اپنا زیادہ تر وقت اللہ کی عبادت میں صرف کرتے، عصر میں جب جانماز پر بیٹھے تو عشا پڑھ کر اٹھتے ،خوش گفتار کے ساتھ کم گفتار بھی تھے مگر گفتگو کا نچوڑ کہتے ،اکثر موقعے کی اطلاع پہلے ہی دے دیا کرتے۔
کہا جاتا ہے کہ آگرہ میں تاج محل اور اس کے اطراف میں کئی اجنہ آپ کے حلقہ میں شامل تھے، ہر جمعرات آپ آستانہ حضرت سیّدنا امیرابوالعُلاپر لنگر تقسیم کرواتے اور ضرورت مندوں میں تقسیم کراتے ۔
ڈاکٹر افتخار احمد خاں (آگرہ) اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ
’’میرے والد مرحوم حضرت شاہ اکبر داناپوری اور ان کے صاحبزادے حضرت شاہ محمد محسن داناپوری کی عظمتوں اور فضیلتوں کے تعلق سے ایک سے ایک روحانی واقعات بیان کرتے تھے ،حضرت شاہ محسن قدس سرہٗ صادق القول اور راست گو انسان تھے کبھی کبھی کچھ غیبی و نجومی بات کہہ دیا کرتے تھے جو سامنے آنے پر صحیح ثابت ہوتی تھی ،کبھی بات کرتے وقت یہ کہد یا کرتے کہ فلاں شخص آنے والے ہیں کچھ ناشتہ وغیرہ کا نتظام کرلو ،ہم لوگ حیران ہوتے کہ کچھ دیر بعد وہ شخص جن کی خبر دی چلے آرہے ہیںکچھ واقعات ایسے بھی ظاہر ہوتے رہتے جنہیں کرامات سے الگ نہیں کیاجاسکتا تھا ،حضرت شاہ محسن ابوالعُلائی صاحب کا یہ عمل تھا کہ صبح ہوشام ہو رات کا کوئی بھی وقت اچانک سیّدنا سرکار حضور امیر ابوالعُلاعلیہ الرحمہ کے آستانے پر حاضری کے لیے روانہ ہوجاتے ،آپ کے ہمراہ کافی افراد ہوجایاکرتے ،اکثر آستانے پر کھانہ پکواتے اور فاتحہ کے بعد تقسیم کرتے ،مسجد کے نیچے کنواں پر قدیمی طاق ہے اس طاق پر بھی کھانہ رکھواتے اور حاجت مند استعمال کرلیتے ،اس زمانے میں آستانہ سیّدنا ابوالعلامیں کنویں پر کھانا بھیجوانا ایک معمہ بن چکا تھامگر ہمت کسی میں نہ تھی کہ میاں حضور سے پوچھے۔۔۔ ‘‘ (تفصیل کے لیے ا نوار اکبری کا مطالعہ کریں)
فقر و درویشی آپ کی گھٹی میں پڑی تھی کیوں کہ آپ کا خاندان ہی درویشوں کا تھا ،زہد و تقوے کے دامن میں انہوں نے پرورش پائی ،ریاضت و عبادت کے آغوش میں تربیت ہوئی ، ہوش سنبھالا آنکھیں کھول کردیکھا تو گھر میں سب کو اسی رنگ درویشی میںڈوبا ہواپایا،بیشتر اوقات حضرت سیّدنا امیر ابوالعُلااور حضرت مخدوم سجادکے مزارِ اقدس سے فیض باطن حاصل کرتے، مزاراقدس پر بیٹھے مراقب رہاکرتے تھے اور ذکر واشغال طریقہ آبائی میں مشغول رہ کر بطور خود ریاضت کرتے تھے،حضرت سیّدنا کی روح پُر فتوح تعلیم باطنی کی طرف متوجہ تھی اوراسی جانب سے بعنایت الٰہی شاہ محسن کی تربیت بھی ہوتی رہی یہاں تک وہ ابدال وقت کہلائے۔
صباؔ اکبرآبادی ،غنیؔ اکبرآبادی،وفاؔ اکبرآبادی آپ ہی کے دست گرفتہ اور پروردہ تھے ،ان کا بیان ہے کہ ہمارے حضرت اپنے وقت کے ابدال تھے، آپ کی دعامیں ایسی تاثیر تھی کہ جو کہہ دیا کرتے بفضلہٖ تعالیٰ وہ ہوجاتا، ہمیشہ اپنی ہستی کو چھپائے رکھا آپ کی رحلت کے بعدبیشترکرا مات کا ظہور ہوا ہے جو ناقابل فراموش ہے۔
کلیم عاجزؔ کاکہنا ہے کہ
’’میں انہیں (شاہ محسن داناپوری)بزرگوں کا پروردہ انہیں کے چشم آبرو کا ساختہ انہیں کا تربیت یافتہ ان کی یادوں میں غم زدہ ان کی تلاش میں گم گشتہ ،شاعری کرتا ہوں تو وہی میرے سامنے رہتے ہیں بولتا ہوں تو انہیں کی سکھائی پڑھائی بولتا ہوں،لکھتا ہوں تو انہیں کا کہا سنا لکھتا ہوں تو اب کون سمجھے اب کس شہر کس ملک میں ہیں وہ لوگ یا ایسے لوگ؟‘‘ (انوارِ اکبری،ص؍ ۴۵)
شاہ محسن کی شکل و صورت کی طرف کلیم عاجزؔ یوں رقم طراز ہیں کہ
’’بہت دراز قد، طویل اور جسم بزرگ شیروانی نما اچکن میں ملبوس صدر مقام پر تشریف رکھتے تھے ،گورے خوبصورت پُر بہار پُر وقار چہرے سجی ہوئی زلف پر سفید کامدار ٹوپی نورانیت میں اور اضافہ کردیتی زبان کم بولتی چہرے کی گفتگو طویل ہوتی‘‘ (انوارِاکبری،ص؍۴۵)
حکیم احمد اللہ ندوی لکھتے ہیں کہ
’’راقم کی آپ سے پہلی اور آخری ملاقات تھی، آپ کے نورانی چہرہ اور تقدس سے راقم بے حد متاثر ہوا‘‘
( تذکرہ مسلم شعرائے بہار، جلد چہارم،ص؍ ۱۳۲)
بڑے بڑے نوابین اور شاہان زمانہ حضرت محسن کی آمد کے مشتاق رہتے تھے ان میں نواب جیون یار (بہادر رکن عدالت العالیہ ،حیدرآباد)،نواب سر بلند جنگ (لکھنؤ)، نواب محمد اسمٰعیل خاں (آگرہ)، شیخ عبدالرحمٰن (رئیس اعظم کاکو)،خان بہادر شاہ محمد کمال (لودی کٹرہ،پٹنہ سیٹی)وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
حضرت شاہ محمد ادریس چشتی فرماتے ہیں
’’حضرت شاہ اکبر صاحب داناپوری کے فرزند حضرت سیّدشاہ محمد محسن صاحب ابوالعُلائی ہیں، ماشاء اللہ یہ بزرگ بھی بڑے کاسب ہیں، دن رات یاد الٰہی میں مشغول رہاکرتے ہیں اور صاحب نیک بخت وصاحب اخلاق ہیں، نورالٰہی آپ کے چہرے سے جلوہ گر ہے اکثر لوگ مرید ہواکرتے ہیں اور فیض سے آپ کے معمور رہے ہیں، یہ فقرائی خاندان ہے،کیسے کیسے بزرگان داناپور میں لیٹے ہوئے ہیں‘‘
(گنج عرفان،ص؍۱۵۹)
حضرت محسن نقشبندی سلسلے کے بڑے پیروکار تھے ،انہیںخواجہ نقشبندسے روحانی فیضان بھی حاصل ہواتھا، فرماتے ہیں کہ
پھولا پھلا ہوا ہے گلستانِ نقشبند
تازہ بہار پر ہے نہالِ ابوالعُلا
حضرت بہاؤالدین نقشبند کے علاوہ حضرت سیّدنا امیر ابوالعلااور حضرت مخدوم منعم پاک سے خوب اتحاد و اتفاق تھا بلکہ اکثرو بیشتر آپ ان صوفیائے کرام کی یاد میں محو رہتے ،خواجہ نقشبند کی شان میں ایک مکمل فارسی غزل آپ کی شان میں کہی ہے، فرماتے تھے کہ
بدل داری نہاں تو الفت شاہ بہاؤالدین
کہ محسنؔ اندرون کوزہ کردی بند دریا را
مخدوم منعم پاک کی شان میں ایک مکمل غزل لکھی ہے، جس کا مقطع یہ ہے۔
مراز حول قیامت چہ باک ائے محسنؔ
کہ ہست پشت پناہم جنابِ منعم پاک
شاہ محسنؔ کی یہ دونوں غزل آج بھی نقشبندی خانقاہوں میں منفردلب و لہجے میں گایاجاتاہے جس سے سامعین کی کیفیت بدل جاتی ہے اور انہیں روحانی تسکین ملتی ہے۔
دوسری جانب حضرت سیّدنا امیر ابوالعُلاکی شان میں تاعمر یہ کہتے رہے کہ
آنکھوں میں پھر رہا ہے جمال ابوالعُلا
دل میں بسا ہوا ہے خیال ابوالعُلا
(خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ کا تاریخی پسِ منظر،ص؍۳۳)
حضرت محسن کی پہلی شادی شاہ نظیر حسن ابوالعُلائی کی صاحبزادی حفیظ النسا سے ہوئی جن سے دس اولاد ہوئیں مگر ان میں صرف ایک صاحبزادے ظفر المکرم حضرت مولانا شاہ ظفر سجاد ابوالعُلائی (متوفیٰ ۱۳۹۴ھ)زندہ بچے جو آپ کے بعد خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ ، داناپور کے سجادہ نشیں ہوئے،دوسری شادی حضرت محسن کی خانقاہ منیر شریف کے سجادہ نشیں حضرت شاہ فضل حسین فردوسی (متوفیٰ۱۳۴۱ھ) کی بڑی صاحبزدی بی بی مریم سے ہوئی جن سے تین لڑکے زین الساجدین ، عین الساجدین، امین الساجدین اور ایک صاحبزدی شمس النہار (منسوب سیّد اختر عالم ابن ابو سعید میکشؔ ہلسوی) ہوئیں، تینوں لڑکے کم عمری میں داغ دے گئے، آپ کی تیسری شادی سیّد عبدالصمد (نیاواں، نالندہ)کی صاحبزادی بی بی صالحہ سے ہوئی جو لاولد رہیں۔
حضرت محسن کی ذات سے بے شمار کرامتوں کا بھی صدور ہوا، وہ سلسلۂ ابوالعُلائیہ کے صاحب سجادہ تھے، تقریباً ۳۷ ؍برس تک اپنی ظاہری حیات میں بحسن و خوبی اس کام کو انجام دیا، آپ کے مریدوں کا حلقہ کافی وسیع و عریض تھا، ملک کے مختلف علاقوں میں آپ کے نام لیوا موجود تھے، چند صاحبان اخیار کو آپ نے اجازت وخلافت سے بھی مشرف فرمایاہے،بیشتر سلسلۂ ابوالعُلائیہ کی خانقاہیں ہندوستان کے علاوہ پاکستان اوربنگلہ دیش میں آپ کے توسل سے معرض وجو دمیں آئیں، خلفا کی بیشتر تعداد کے ساتھ شاگردوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی۔
آپ کاانتقال ۲۴ ؍محرم بوقت بعد نماز مغرب بروز یک شنبہ۱۳۶۴ ھ کو ہوا، آخری آرام گاہ آستانہ حضرت مخدوم سجاد میں ہے۔
(تذکرہ مسلم شعرائے بہارجلد چہارم، ص؍۱۲۹)
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے
(غالبؔ)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.