ذکرِ خیر حضرت شاہ محمد محسن ابوالعلائی داناپوری
بہار کی سرزمین سے ناجانے کتنے لعل و گہر پیدا ہوئے اور زمانے میں اپنے شاندار کارنامے سے انقلاب پیدا کیا، ان میں شعرا، علما، صوفیا اور سیاسی رہنما سب شامل ہیں جب ضرورت پڑی تو قوم کی بلندی کی خاطر سیاست میں اترے، مذہب پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو بحیثیت عالمِ دین اس کا جواب دیا، قلم کی ضرورت محسوس ہوئی تو بطور صحافی و شاعر لکھ لکھ کر زمانے میں انقلاب پیداکیااور اپنی شاعری سے لوگوں کو راحت و سکون بھی میسر کرایاجی ہاں! ایسی بھی ہستیاں ہوئیں ہیں جن میں ایک نام حضرت شاہ محمد محسنؔ ابوالعلائی داناپوری کا ہے، آپ مشہور صوفی شاعر حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کے صاحبزادے اور خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور کے سجادہ نشیں تھے۔
حضرت شاہ محسنؔ داناپوری کا خانوادہ صوبۂ بہار میں اپنی عظمت و بزرگی کی وجہ سے روشن ہے، یہ خاندان بہار میں آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے، بعض بادشاہ تیموریہ کو اس خاندان سے نسبتِ خادمیت رہی، سر زمین بہار میں اسلام کی شمع حضرت محسن کے جد اعلیٰ فاتحِ منیر حضرت امام محمد المعروف تاج فقیہ سے پھیلی، ناجانے کتنے لعل و گہر اس خانوادے نے پیدا کیے اور بہار جیسی سر زمین کو اللہ والوں کا مسکن اور امن و آشتی کا پیکر بنایا۔
آپ کا نسب پدری حضرت امام محمد تاج فقیہ سے جا ملتا ہے، ترتیب یہ ہے۔
محمد محسن ابن محمداکبر ابن محمدسجاد ابن محمدتراب الحق ابن محمدطیب اللہ نقاب پوش ابن محمدامین اللہ ابن محمدمنور اللہ ابن محمدعنایت اللہ ابن تاج الدین محمد ابن محمداخوند شیخ ابن احمدچشتی ابن محمدعبد الوہاب ابن محمدعبد الغنی ابن محمدعبد الملک ابن محمدتاج الدین ابن محمدعطا اللہ ابن شیخ سلیمان لنگر زمین ابن مخدوم عبدالعزیز ابن امام محمد تاج فقیہ ۔(کنزالانساب، ص۲۸۷، مخزن الانساب، ص ۳۸۵)
آپ کا مادری نسب حضرت عمر خراسانی سے جاملتاہے اور وہ اس طرح ہے۔
محمد محسن ابن احمدی بیگم بنت میرولایت حسین ابن میر سخاوت علی ابن بہادر علی ابن نورعلی المعروف منور علی ابن مجیب اللہ ابن صدرالدین ابن ممریز ابن محمد فاضل ابن نصیبو ابن عمر خراسانی (پنجوڑہ) ابن علی حمزہ ۔(کنزالانساب و دیگر سفائن)
آپ کا نام محمد محسن، تاریخی نام خور شید حسنین، عرفی نام بو علی اور تخلص محسنؔ ہے، آپ کی پیدائش ۱۷؍جمادی الاول یکشنبہ ۱۲۹۸ھ موافق ۱۷ ؍اپریل ۱۸۸۱ء کو گولکھ پور ضلع پٹنہ اپنی نانیہال میں ہوئی، حضرت شاہ اکبرؔ داناپوی فرماتے ہیں کہ
’’نورِ چشم تمہارا نام تمہارے جدامجد(مخدوم سجاد پاک)نے ایک گھنٹہ مراقبہ کے بعدمحمد محسن رکھا ہے‘‘ (مولدِ فاطمی،ص؍ ۳۲)
آپ کی پیدائش پر حضرت شاہ محمد یحییٰؔ ابوالعُلائی عظیم آبادی نے قطعۂ تاریخ کہی ہے۔
در گلستان اکبر ذیشان
گل رعنا زفضل حق بشگفت
بلبل طبع سال میلادش
’’گل بازیب باغ اکبر‘‘گفت
۱۲۹۸ھ
(کنزالتواریخ)
تعلیم کی شروعات و الد سے ہوئی مزید حصول تعلیم کے لیے آپ الہ آباد گئے وہاں احیاؤ العلوم سے فارغ التحصیل ہوئے، حکیم احمداللہ ندوی رقمطراز ہیں کہ
’’تعلیم ظاہری آپ کی مدرسہ سے دارالعلوم الہ آباد میں ہوئی تھی وہیں کے فارغ التحصیل تھے، چنانچہ خانقاہی ماحول علم و ادب کی فضا اور بزرگوں کی صحبت نے آپ کے علم کو اور چمکا دیا اور آپ جید عالم دین کہے جانے لگے‘‘(تذکرہ مسلم شعرائے بہار، جلد چہارم، ص؍۱۲۹)
حضرت شاہ محسنؔ داناپوری اپنے والد ماجد کے دست حق پر ست پرسلسلۂ نقشبندیہ ابوالعلائیہ میں بیعت ہوئے اور اجازت و خلافت سے نوازے گئے پھر حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کے فاتحۂ چہلم کے موقع پر خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کی مسند سجادگی پر رونق افروز ہوئے۔
مولانا عبدالنعیم ظفری لکھتے ہیں کہ
’’حضرت فردالاؤلیا (شاہ اکبر) قدس سرہٗ کے وصال کے بعد ۱۶؍شعبان المعظم یوم الجمعہ۱۳۲۷ھ کو آپ کی رسم سجادگی خانقاہ ابوالعُلائیہ ،داناپور میں انجام پذیر ہوئی،آپ طریقت و تصوف کے وہ وہ رموز بیان کرتے تھے کہ سننے والے دنگ رہ جاتے تھے‘‘
(بزمِ ابوالعُلا،جلد دوم ،ص؍۲۴۸)
اُس دور کے بزرگوں کامقولہ ہے کہ
’’ایسا شاندار مجمع نہ دیکھا نہ سنا ‘‘
(تذکرۃ الابرار،ص؍ ۶۸)
خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور کے موجودہ سجادہ نشیں آپ کے پڑپوتے حضرت حاجی سید شاہ سیف اللہ ابوالعلائی مدظلہٗ ہیں، آپ بزرگوں کی خدماتِ جلیلہ کو پروان چڑھانے میں مصروفِ عمل ہیں۔
مولانا شاہ حسین الدین احمد منعمی کا بیان ہے کہ
’’داناپور میں سادات کا جو خاندان آباد تھاوہ محلہ شاہ صاحبان ہیں جو آج بھی موجود ہے اور بحمداللّٰہ تعالیٰ دورِ متاخراور دورحاضر میں بھی ذی علم وممتاز ہستیوں سے خالی نہیں ہوا، حضرت سید شاہ محمد اکبر داناپوری دور متاخر میں اور سید شاہ محمد محسن جیسی ذی علم و معزز و مقتدر ہستی دور حاضر میں بھی موجود ہیں‘‘
شاہ محسنؔ داناپوری خلیق اور منکسر المزاج بزرگ تھے، طبیعت میں اوالعزمی تھی، خوش پوشاک، فصیح البیان اور خو ش الحان تھے، وضع کے پابند تھے، انگرکھا اچکن اور عربی تراش کا پائجامہ پہنا کرتے ، کلیم احمد عاجزؔ یوں رقمطراز ہیں کہ
’’بہت دراز قد، شیروانی نما اچکن میں ملبوس صدر مقام پر تشریف رکھتے تھے ،گورے خوبصورت پُر بہار پُر وقار چہرے، سجی ہوئی زلف پر سفید کامدار ٹوپی نورانیت میں اور اضافہ کردیتی، زبان کم بولتی ،چہرے کی گفتگو طویل ہوتی‘‘ (انوارِ اکبری، جلد اول،ص؍ ۴۵)
طریقت اور تصوف کے رموز خوب بیان فرمایاکرتے ،کبھی کبھی وعظ و تقریر بھی فرماتے ،مولانا عبدالنعیم ظفری لکھتے ہیں کہ
’’آپ طریقت و تصوف کے وہ وہ رموز بیان کرتے تھے کہ سننے والے دنگ رہ جاتے تھے ‘‘ (بزمِ ابوالعُلا،جلد دوم ،ص؍۲۴۸)
حکیم شعیب احمد پھلواری لکھتے ہیں کہ
’’نہایت مغتنم، اپنے آباؤ واجداد کی روش پر ورع و تقویٰ کے ساتھ معمولاتِ خاندانی کے مدام تھے، جملہ امورِ سجادگی بحسن و خوبی انجام دیتے رہے‘‘(تجلیاتِ انوار، جلد اول)
ڈاکٹر سید صدرالحسن رقمطراز ہیں کہ
’’آپ بڑے کاسب بزرگ تھے، درویشی اور فقر تو آپ کے خاندان میں آباعن جدٍ چلا آرہا ہے‘‘ (ریاض الانساب، ص؍۲۲۴)
صبرو آزمائش کے پیکر تھے ،کل کی فکر کبھی نہ کرتے ،اپنے عہد کے مشاہیر میں تھے، نامور عالمِ دین، مشہور شیخِ طریقت اورلوگوں کے لیے ہر وقت تیار کھڑےملتے، تحریکِ خلافت کے علمبردار، اخوان الصفااور حفاظت المسلمین کے بانیان میں سے تھے،ایک وجیہ و شکیل، صاحبِ نفوذ و اثر،ذاتی خوبیوں کو شمار میں لایئے تو بڑے مہمان نوا ز، فراخدل اوربڑے فیاض، بڑے ذی مروت اور بڑے صاحبِ اخلاق اور جودو کرم کے پتلے، ہر شخص کے کام آنے والے ،اللہ کا دیاہوا بہت کچھ تھا ،سخنے اور قدمے کے علاوہ درمے بھی سب کی مدد کے لیے تیار، عقائد وہی جو مشائخ کے ہوتے ہیں،عبادت گاہوں اور مزارات پر پابندی سے حاضری کے پابند خود اپنے یہاں خانقاہ میں اعراس بڑے اہتمام و احتشام کے ساتھ کرنے والے ایک عظیم انسان تھے۔
حکیم احمد اللہ ندوی لکھتے ہیں کہ
’’راقم کی آپ سے پہلی اور آخری ملاقات تھی آپ کے نورانی چہرہ اور تقدس سے راقم بے حد متاثر ہوا‘‘(تذکرہ مسلم شعرائے بہار، جلد چہارم،ص؍ ۱۳۲)
علمی استعداد کے ساتھ حضرت محسن سیاسی شعور بھی رکھتے، ۱۹۲۴ء میں خلافت موومنٹKhilafat Movement میں آپ نے بھر پور ساتھ دیا اور جگہ جگہ تقریریں کیں اور عوام الناس کو بیدار کیا، آمد و رفت، تبلیغ و ارشاد اورپند و نصائح کے لیے وہ ملک کے مختلف حصوں میں بھی بلائے جاتے تھے، اسی سلسلے میں حفاظت المسلمین کی طرف سے ایک شاندار سہ روزہ اجلاس کا انعقاد ہوا تھا جس میں سر علی امام(پٹنہ)،مولانا شوکت علی(رام پور)،مولانا ظفر علی خاں (وزیرآباد)، مظہر الحق (پٹنہ)وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے اس میں پہلے روز کے جلسے کی صدارت آپ نے فرمائی تھی ۔
شاہ محسن نے ۱۹۲۶ء میں ’’اخوان الصفا ‘‘کی بنیاد رکھی جس کے تحت مشاعرے اورملک و سماج کے کام ہواکرتے تھے، یہ داناپور اور پٹنہ کی بڑی تنظیم میں شمار کی جاتی ، مسلمانوں کی امداد اور اس کی ضرورت کے تحت انجمن ہر وقت تیار رہتی، اس نے داناپور کی ادبی فضا کو قائم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، اسی طرح ۱۹۳۴ء کے زلزلے سے شہید ہوئی مساجد کی فکر میں اور اس کی مرمت وغیرہ کے خیال سے ایک کمیٹی تیار کی گئی جس کا نامCentrel Mosque Committe رکھا گیاتھا اس کے چیرمین سرسلطا ن احمد اور نائب چیرمین آپ منتخب ہوئے جس کے ذریعہ مونگیر ،مظفر پور،دربھنگہ اور پٹنہ وغیرہ کی مساجد کی مرمت ہوا کرتی، اس دوران داناپور اور مونگیر کی مساجدکو زیادہ مرمت کی ضرورت تھی جگہ جگہ میٹنگ اور دونوں میں خط و کتابت بھی ہواکرتے تھے ،شاہ محسن نے آگرہ،اجمیر اور گوالیار وغیرہ سے بہترین معمار بلوائے جس کے ذریعہ خوبصورت ترین جالیاں اور محراب بنائے گئے ۔
کہاجاتاہے اس کمیٹی کی ساری رقم ایک چھوٹے سے لوہے کے بکس میں آپ کے پاس رہاکرتی تھی اور جہاں جہاںضرورت پڑتی وہاں اس پیسے کو صرف کرتے ، آپ زیادہ تر دَورے پرہی رہاکرتے ، مستقل ایک جگہ قیام بہت مشکل تھا، اتفاق سے کسی روز آپ کی غیر موجودگی میں اہلیہ کو کھدرے پیسے کی ضرورت پیش ہوئی ،یہ وہ دور تھا جب کھدر ے کے لیے دو آنا پیسے زائد لگتے تھے مگر وہ بھی اس وقت میسر نہ تھا آپ کی اہلیہ نے دو روپے کا نوٹ اس بکس میں ڈال کر چار اٹھنی نکال لی جب آپ آگرہ سے داناپور آئے اور اس رقم کو ملایا تو پتہ چلاکہ چار اٹھنی کی جگہ دو روپے کا نوٹ ہے، لہٰذا آپ کی اہلیہ نے ماجرا سُنایا تو آپ سخت برہم ہوئے اورفرمایاکہ لوگوں کا اٹھنی بھی بہت قیمتی ہے اور دوسرے دن اس کے لیےروزہ رکھا اور اللہ پاک سے اپنی نجات کی دعاکی،ایسے تھے ہمارے اسلاف ۔
(از افادہ حضرت شاہ خالد امام ابوالعُلائی )
شاہ محسن ؔداناپوری کا حلقۂ احباب کافی وسیع رہا جو بھی ایک بار ملتا اُن کے اعلیٰ کردار، خدادا دذہانت اور بلند اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا،زاہدانِ خشک کی محفل ہویا رندانِ بلانوش کاجھرمٹ،خانقاہوں کی محفل ہو یا مشاعرے کی جگہ ،کسی شاعر یاادیب کامکان ہو یا اخوان الصفا ہو یا حفاظت المسلمین جہاں پہنچ جاتے پھول برساکر محفل کو خوشگوار بنادیتے، ملکی تحریکات اور سیاسی حالات سے بھی آپ کافی طور پر متاثر ہوئے، ان کی سیاسی نظمیں،قطعات و رباعیات اور مضامین نے لوگوں کے اندر بیداری کا شعور پیدا کردیا تھا، حضرت محسن کا زور تھا کہ مسلمانوں کے اندر ایمانی جذبہ، دور اندیشی، سیاسی بصیرت، معاشی حل، پرامن مستقبل اور جوش و ولولے کے ساتھ اپنا قدم بڑھائیں، مسلمانوں کے تجارتی مسائل کو لے کر ایک خط کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
’’۳؍ شوال المکرم، سہ شنبہ ۱۳۶۱ھ
مکرم اخوانی
ہدیۂ سلام مسنون باد
لطیف میاں نے آپ کا کارڈ دست بدست میرے پاس بھیج دیا تھا، اس دفع حضرت مولیٰ کے عرس میں ان کی شرکت نہ ہوسکی، آپ کا کوئی کارڈ مجھ کو ملا نہیں۔۔۔داناپور میں ۲۹؍ ماہِ مبارک سے کل تک مسلمانوں کی چینی، بھورا کوئی شئے نہ مل سکی، آج سنتے ہیں ہیں کہ ۷؍ کا بھاؤ ہے، بھورا ۶؍ ہے،بہر حال! یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔اور کسی کو احساس نہیں، مسلمان اگر کاروباری دنیا سے الگ تھلگ نہ رہتے تو یہ صورت نہیں پیدا ہوسکتی تھی، کراسن تیل کا قحط ہے، ملا بھی تو ۶؍ فی بوتل، بھائی یہ انقلاب نہیں تو اور کیا ہے، اب تو یہ کہہ کر دل کو سمجھا لیتے ہیں کہ
چناں نہ ماندو چنیں نیزہم نہ خواہد اند
اور کیا لکھیں، قلم اجازت نہیں دیتا کہ آپ بیتی لکھی جائے۔
برسرِ فرزندِ آدم ہرچہ آید بگزرد‘‘
حضرت محسنؔ کی فہرست میں بڑجن علما و سیاسی حضرات شامل ہیں، ان کے نام یہ ہیں۔
سر علی امام (پٹنہ)، سیّد حسن امام (پٹنہ)، سید عبدالعزیز(پٹنہ)،سرسلطان احمد (پٹنہ)،مولانا ظفر علی خاں(وزیرآباد)، مولانا شوکت علی (رام پور)،مولانا شاہ محی الدین قادری(پھلواری شریف)، مولانا عبدالباری فرنگی محلی (لکھنؤ)، ڈاکٹر محمد اقبالؔ (لاہور)، مولاناشاہ حسین چشتی سلیمانی (پھلواری شریف)،شاہ غلام شرف الدین بلخی (فتوحہ)، مولانا کریم الدین احمد (بہار شریف)، مولانا عبدالکافی نقشبندی(الہ آباد)، مولانا شاہ عبدالقادر (اسلام پور) وغیرہ سرِ فہرست نظر آتے ہیں۔
شاہ محسن کا حلقۂ تلامذہ اور حلقۂ مریدان کا دائرہ ہندوستان بھر میں پھیلا ہوا تھا جن میں آگرہ،کراچی، الہ آباد،پٹنہ، گیا، جہان آباد، نالندہ، دہلی، ڈھاکہ ، چٹگام،ڈام ڈِم، رنگ پور، لاہور،، کشن گنج،ارریہ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے، پٹنے میں عالم گنج، لودی کٹرہ اور شاہ گنج میں آپ کے کافی مریدین تھے جن میں سے زیادہ تر مریدین تقسیم ہندکے دوران پاکستان اور کچھ بنگلہ دیش جابسے۔
اردو کے اہم تذکرہ نگار میں ڈاکٹر عظیم الدین احمد،پروفیسرعطاالرحمٰن عطاؔ کاکوی،پروفیسر سیّد حسن عسکری،پروفیسر مختارالدین احمد آرزوؔ، ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ، ڈاکٹر شفیق ؔ اکبرآبادی اور صباؔ اکبرآبادی آپ سے بے حد قریب تھے، آپ ان کو اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازتے، ان میں زیادہ تر آپ کے مریدومعتقد ہیں۔
چند صاحبانِ اخیار کو آپ نے اجازت و خلافت سے بھی نوازاہے جن کی خانقاہیں ہندوستان کے علاوہ پاکستان اوربنگلہ دیش میں مصروفِ خدمت ہے، چند مشہور خلفا کے نام یہ ہیں۔
حضرت مولانا شاہ ظفر سجاد ابوالعلائی (سجادہ نشیں: خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ)
حضرت شاہ عبدالحلیم ابوالعلائی (خانقاہ حلیمیہ ابوالعُلائیہ، الہ آباد)
حضرت شاہ خادم حسین ابوالعلائی (سجادہ نشیں: خانقاہ قمریہ، جھنجھنو)
حضرت مولانا عبدالغنی ابوالعلائی ضیاؔ اکبرآبادی (ناظم آباد، کراچی)
حضرت شاہ ابوسعید ابوالعُلائی میکشؔ ہلسوی (کراچی)
حضرت مولانا غلام رسول خاں ابوالعلائی وفاؔ اکبرآبادی (آگرہ)
حضرت حاجی بابو خاں ابوالعلائی (آگرہ)
حضرت حکیم شاہ عبدالرحمٰن ابوالعلائی گرامی (کراچی)
حضرت شیخ نواب حسین ابوالعلائی (آگرہ)
حضرت شیخ محمد فیاض حسین ابوالعلائی (آگرہ)
حضرت شیخ احمداللہ ابوالعلائی (آگرہ)
حضرت حاجی بشیرالدین ابوالعلائی (آگرہ)
حضرت مرزا ظہور بیگ ابوالعُلائی (آگرہ)
حضرت میر برکت علی ابوالعُلائی (آگرہ)
حضرت اکرام الدین ابوالعُلائی اچھے میاں (آگرہ)
حضرت شیخ لطیف الدین ابوالعلائی (پشاور)
حضرت قاضی غلام کبریا ابوالعلائی (چورو، راجستھان)
حضرت حکیم احمد حسین ابوالعلائی (آرہ)
حضرت سیّد احمد محسنی ابوالعلائی (گیوال بیگہہ، گیا)
حضرت منشی حاجت اللہ ابوالعلائی (لال منیر ہاٹ)
ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ کاکہنا ہے کہ
’’میں انہیں (شاہ محسنؔ داناپوری)بزرگوں کا پروردہ، انہیں کے چشمِ آبرو کا ساختہ، انہیں کا تربیت یافتہ، ان کی یادوں میں غم زدہ ،ان کی تلاش میں گم گشتہ ،شاعری کرتا ہوں تو وہی میرے سامنے رہتے ہیں، بولتا ہوں تو انہیں کی سکھائی پڑھائی بولتا ہوں،لکھتا ہوں تو انہیں کا کہا سنا لکھتا ہوں، تو اب کون سمجھے اب کس شہر کس ملک میں ہیں وہ لوگ یا ایسے لوگ؟‘‘ (انوارِ اکبری، جلد اول، ص؍۴۵)
شاہ محسنؔ داناپوری کی شعری زندگی کا اگر مطالعہ کریں تو ان کی شاعری میں عرفان و آگہی، حسن و جمال اور عشقِ حقیق کی کارفرمائی زیادہ نظر آتی ہے، آپ کے اشعار پختگی، کہنہ مشقی اور دیدہ وری کی روشنی سے معمور ہے، آپ نے ہر طرح کی شاعری کی ہے، بعض غزلیں نہایت ہی عمدہ پیمانے کی ہیں، اکثر غزلوں میں انہوں نے بلندیوں کو بھی چھو لیا ہے، شاہ محسن اردو اور فارسی دونوںزبان میں کہتے، مشاعرے میں بھی شرکت کرتے ،درگاہ حضرت شاہ ارزاں (سلطان گنج،پٹنہ)،ہلسہ ، آرہ، اسلام پور، پٹنہ، بہارشریف، کشن گنج، تلہاڑہ،آگرہ،الہ آباد وغیرہ میں آپ نے کئی مشاعرے پڑھے ہیں، حضرت محسن اپنی خانقاہ میں بھی سالانہ مشاعرہ کرایا کرتے تھے جس میں مقامی و بیرونی شعرابھی تشریف لایاکرتے تھے۔
ان کے معاصرین شعرا میں نوحؔ ناروی، نسیمؔ ہلسوی، نثارؔ اکبرآبادی، ڈاکٹر مبارکؔ عظیم آبادی، سیمابؔ اکبرآبادی، حامدؔ عظیم آبادی، جگیشر پرشاد خلشؔ، یکتاؔ عظیم آبادی، نورؔ عظیم آبادی، حمدؔ کاکوی، کمالؔ عظیم آبادی، پروفیسر سید حسنؔ عظیم آبادی، شیداؔ عظیم آبادی، یاسؔ بہاری، شفیعؔ بہاری، حیراںؔ عظیم آبادی، نادمؔ بلخی، نورؔ نوحی وغیرہ شامل تھے۔
شاہ محسن نے اردو نثر نگاری پر کئی طریقوں سے اثر ڈالاہے ،انہوں نے مضامین و مقالات اور خطوط بھی لکھے ہیں ، نثری تصنیف میںایک رسالہ ’’برہان العاشقین‘‘کے نام سے ۱۳۵۰ھ میں طبع ہواجس میں زبان کو عام فہم رکھا گیا ہے اور ہر قسم کے مضامین ادا کیے گئے ہیں، اس رسالے میںآپ نے حضرت اکبرؔ اور ان کے خانوادۂ عالیہ کے حوالے سے قیمتی باتیںتحریر کی ہیں۔
ایک مختصر مضمون ’’الروح ماالروح‘‘ کے عنوان سے ماہنامہ ’’معارف‘‘ (پھلواری شریف)میں شائع ہوچکاہے، قارئین ملاحظہ فرمائیں۔
’’حضرت حجۃ الاسلام امام محمد غزالی ارشاد فرماتے ہیں کہ
’’بالیقین روح تیرا نفس اور تیری حقیقت ہی ہے اور وہ تمام چیزوں سے تجھ پر پوشیدہ تر ہے ‘‘ (احیاؤالعلوم)
نفس اور روح سے وہ شئے مراد ہے کہ انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کی نسبت اضافی اللہ پاک کی طرف کی گئی ہے’’ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوح وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِی قُلْ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی ‘‘اس سے روحِ لطیف جسمانی مراد نہیں ہے، روحِ جسمانی حاملِ قوت اور حس حرکت ہے یہ روح قلب سے اٹھتی ہے اور گہائے چندہ کے ذریعہ سے تمام بدن میں منتشر ہوتی ہے اور اسی سے انسانی قوتیں فائض ہوتی ہیں مثلاًباصرہ سامعہ وغیرہ کے جیسے چراغ کی روشنی تمام درودیوار اور صحن ِ خانہ کوروشن کردیتی ہے، اس روح میں انسان اور بہائم دونوں شامل ہیں یہی روح مرنے کے بعد فنا ہوجاتی ہے اس لیے کہ یہ روح ایک لطیف دُھواں ہے جو خون خالص سے پیدا ہوتا ہے اس کا نضج(جانور) احتلاط کے مزاج کے اعتدال کے موافق نہایت معتدل ہوتاہے پس جب مزاج تحلیل ہوا تو یہ روح بھی فنا ہوجاتی ہے جس طرح چراغ کی روشنی چراغ گُل ہونے کے بعد معدوم ہوجاتی ہے یا تو روغن نہ ہونے کے سبب سے چراغ گُل ہوتا ہے یا پھونک دینے سے اسی طرح غذا کے موقوف ہونے سے روح حیوانی فنا ہوجاتی ہے یعنی غذا انسانی بدن میں وہی کام کرتی ہے جو تیل چراغ میں کرتا ہے اور قتل حیوان مشابہ ہے چراغ کے پھونک دینے سے یعنی تیل موجود ہے اور روشنی معدوم ہوگئی۔
یوں بھی سمجھ لیجیے کے قویٰ حیوان کے ہیں قوی ہیں مگر روح نکل گئی اور اس روح میں علم طب کہ ذریعہ سے اُس کی تعدیل اور تقویم میں تصرف کرسکتے ہیں یہ روح حاملِ امانت اور معرفت خداوند تعالیٰ شانہٗ کی نہیں ہوسکتی بلکہ جو حامل امانت الٰہی ہے وہ دوسری روح ہے اور وہی روح انسان کے واسطے مخصوص ہے اور جاندار( دوسرے جانے محروم ہیں) اس سے محروم ہیں ،وہی روح باقی ہے اور یہی روح ہے جو انسان کے جسم میں مشارٌالیہ انا ہے، چنانچہ والدماجد حضرت شاہ محمد اکبرؔ داناپوری فرماتے ہیں ۔
کھلا نہ سِرّ مُشارٌ اِلیہ لفظِ انَا
کہ جسم خاکئی انسان میں بولتا کیا ہے
یہی وہ روح ہے جو فنائے بدن کی وجہ سے فنا نہیں ہوتی ، حضرت سیّدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ اسی کی طرف اشارہ فرماتے ہیں’’مَنْ عَرَفَ نَفسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ‘‘پاک پروردگار تعالیٰ فرماتا ہے ’’یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوحِ وَ نَفختُ فِیْہِ مِنْ رُّوْ حِی قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی‘‘
ترجمہ: یہ (کفار)آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں فرمادیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے۔(سورہ اسرائیل ،آیت نمبر؍۸۵)
ترجمہ: اور اس پیکر (بشری کے باطن)میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں۔ (سورہ حجر،آیت نمبر؍۲۹)
بقائے روح کی دلیل ہے سن لیجیے بصیغہ حاضر و امر ارشاد ہوتا ہے ’’وَلاَ تَقُوْ لُوْالِمَنْ یُّقْتَلُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ،بَلْ اَحْیآئٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرونَ‘‘
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہاکرو کہ یہ مردہ ہیں (وہ مردہ نہیں )بلکہ زندہ ہی لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا )شعور نہیں ۔ (سورہ بقرا،آیت نمبر؍۱۵۴)
صاحبانِ علم و تحقیق فرماتے ہیں کہ نفس انسانی جو ہر ِبسیط ہے اور ادراک معقولات اُس کی شان سے ہے ،نہ وہ جوہر ہے نہ جسم نہ جزو جسم،نہ کسی حواس کے ذریعہ سے اُس کا حِسّ ہوسکتا ہے۔
اب اثباتِ وجود کے واسطے کسی دلیل کی احتیاج نہیں رہی اس واسطے کہ سب سے زیادہ ظاہر اور کمال روشن اہل عقل کے ادراک میں اُس کی ذات اور حقیقت ہے،حتیٰ کہ خفتہ خواب میں بیدار بیدارہی میں ،مست مستی میں ،ہشیارہشیاری میں ہر شئے سے غافل ہوسکتا ہے مگراپنی ہستی سے غافل نہیں ہوسکتا،اہل تحقیق نے باتفصیل کہیں اور کسی مقام پر روح کی حقیقت بیان نہیں فرمائی اس واسطے کہ عقل انسانی اُس کے ادراک سے عاجز ہے ،اللہ پاک کا ارشاد ہے ’’ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی ‘‘ حضور پُرنور علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس کی تفصیل نہیں فرمائی اور یہ راز یوں ہی سربستہ رہااور جن پر اس کی حقیقت کھول دی گئی ہے وہ بھی اس کے بیان سے عاجز ہیں اس لئے کہ روح ایک ایسا جوہرِ بسیط ہے جس کے ادراک سے عقل انسانی عاجز ہے پھر بیان کریں تو کیسے بیان کریں اور سمجھیں تو کس کی سمجھیں ضرور ہے کہ عارفانِ حق پر روح کی حقیقت کھول دی جاتی ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا علی کرم اللّٰہ تعالیٰ وجھہ کا ارشادہے’’مَنْ عَرَفَ نَفسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ‘‘یہاں پر نفس سے مراد وہی روح ہے جو حاملِ امانت الٰہی ہے، واللہ اعلمو بالصواب۔ (ماہنامہ معارف ،پھلواری شریف، شوال المکرم ۱۳۳۳ھ ،ج؍۳،۴، ص؍۱۸)
حضرت محسن کا ایک مسدس ’’فغان درویش‘ کے نام سے ۱۹۳۹ء میں الہ آباد سے ۸؍ صفحات پر مشتمل منشی رحیم بخش نظرؔ الہ آبادی کی فرمائش پر اور حافظ محمد سلیم ابوالعلائی اکبری کے اہتمام سے سلیمی برقی پریس، الہ آباد سےشائع ہوچکاہے۔
شاہ محسنؔ اپنے بزرگ شعرا خواجہ حیدر علی آتشؔ،میر تقی میرؔ،امام بخش ناسخؔ، صائبؔتبریزی،خواجہ فیضیؔاور شاہ اکبرؔ داناپوری کے اشعار پر تضمین نگاری بھی کی ہے، انہیں اقبالؔ سے محبت تھی ان کے کلام کو پسند کرتے، اقبالؔ اور اپنے والد حضرت اکبرؔکی غزل پر مخمس بھی کہاہے۔
شاہ محسن ؔ بحیثیت عالمِ دین علمی حلقوں میں خوب سراہے گئے اعزازی طور پر مدرسہ حنفیہ( بخشی، پٹنہ سیٹی)اور مدرسہ نعمانیہ حنفیہ(شاہ ٹولی، داناپور) کے مدرس بھی ہوئے اور ا ن جگہوں پر تفسیر و حدیث کا درس دیا،اسی دوران مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے اپنے عربی قصیدہ ’’امال الابرار والام الا شر ار‘‘ میں لکھتے ہیں کہ
’’ومحسننا لاکبرنا ولید‘‘
ترجمہ: اور ہمارے محسن جو اکبر کے صاحبزادے ہیں۔
ڈاکٹر محمد طیب ابدالی لکھتے ہیں کہ
’’آپ فطری شاعر تھے ،قدرت نے آپ کو ذو قِ سلیم عطا فرمایاتھا،آپ اپنے والد حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری سے اصلاحِ سخن لیتے رہے ،آپ چوں کہ سلسلۂ ابوالعلائیہ کے صاحبِ سجادہ تھے، جس کی تعلیم میں عشقِ حقیقی کی لپٹ اور دردو سوز کی آنچ ہے، اس لیے حضرت محسنؔ کی شاعری میں بھی حقیقت و معرفت کے وہ تمام کوائف ہیں جس سے سالک دوچار ہوتاہے، وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے مسلک کو شاعر نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کیاہے ‘‘ (بہار میں اردوکی صوفیانہ شاعری ، ص؍ ۲۱۱)
مرنے کی تھی سبیل جیے جارہاہوں میں
ساقی پلارہاہے پیے جارہا ہوں میں
ساقی کو دل میں یاد کیے جارہاہوں میں
کعبہ میں بھی شراب پیے جارہا ہوں میں
محسنؔ حریم دل میں اسے دیکھ دیکھ کر
اپنا طواف آپ کیے جارہا ہوں میں
(روحانی گلدستہ ،ص؍۵۰)
حضرت محسن ،نقشبندی سلسلے کے بڑے پیروکار تھے ،انہیںخواجہ بہاؤالدین نقشبندسے روحانی فیضان بھی حاصل تھا، فرماتے ہیں کہ
پھولا پھلا ہوا ہے گلستانِ نقشبند
تازہ بہار پر ہے نہالِ ابوالعلا
خواجہ بہاؤالدین نقشبند کے علاوہ حضرت سیّدنا امیر ابوالعلا اور حضرت مخدوم منعم پاک سے انہیں اتحاد و اتفاق تھا، خواجہ نقشبند کی شان میں ایک مکمل فارسی غزل آپ کی عقیدت مندی کا ثبوت ہے، فرماتے تھے کہ
بدل داری نہاں تو الفتِ شاہ بہاؤالدین
کہ محسنؔ اندرونِ کوزہ کردی بند دریا را
مخدوم منعم پاک کی شان میں بھی ایک مکمل غزل لکھی ہے جس کا مقطع یہ ہے۔
مرا ز حولِ قیامت چہ باک ائے محسنؔ
کہ ہست پُشت پناہم جنابِ منعم پاک
شاہ محسنؔ کی یہ دونوں غزل آج بھی نقشبندی خانقاہوں میں منفردلب و لہجے میں پڑھی جاتی ہے جس سے سامعین کو روحانی تسکین ملتی ہے۔
دوسری جانب حضرت سیّدنا امیر ابوالعلاکی شان میں تاعمر یہ کہتے رہے کہ
آنکھوں میں پھر رہا ہے جمالِ ابوالعلا
دل میں بسا ہوا ہے خیالِ ابوالعلا
(خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کا تاریخی پسِ منظر، ص؍۳۳)
تصوف اور روحانیت آپ کو وراثت میں ملی ہے،آپ کے شعرو سخن میں تصوف کی آمیزش اور روحانی جلوہ گری نمایاںہے، فرماتے ہیں
ہماری خاک ہے وہ خاک محسنؔ
علی کا نور جس میں جلوہ گر ہے
میں تو محسنؔ اسی قابل ہوںکہ بھولے وہ مجھے
فضل اس کا ہے کہ اس پر بھی اسے یاد رہوں
فن شعرو ادب میں حُسنِ مطلع ،محاورہ اور تکرارِ لفظی کی بڑی اہمیت ہے ،آپ کا ایک شعر پیش ہے۔
عاشق کے کبوتر کو قاصد وہ سمجھتے ہیں
کہتے ہیں سیانا ہے اُڑ جائے گا پَر باندھو
۱۹۱۹ء میں درگاہ حضرت شاہ ارزاں کے سہ روزہ ’’کل ہند مشاعرہ‘‘ میں پڑھی گئی، حضرت محسنؔ کی غزل کا مطلع ملاحظہ ہو۔
قیس رخصت ہوا دنیا سے تو فرہاد آیا
ایک ناشاد گیا دوسرا ناشاد آیا
اس مشاعرے میں آپ نے کئی رباعیاں پڑھیں جن میں حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری، یکتاؔ عظیم آبادی، شیداؔ عظیم آبادی، بدرؔ آروی وغیرہ کی مدحت سرائی کی ، مبارکؔ عظیم آبادی، یکتاؔ عظیم آبادی، شیداؔ عظیم آبادی اور اخترؔ عظیم آبادی کی مدحت سرائی سے متعلق حسبِ ذیل رباعی ہے۔
دل تھام کے صاف نظم منظرؔ سنیے
پھر آج مبارکؔ کو مکرر سنیے
یکتاؔ شیداؔ کی سن لیں غزلیں محسنؔ
سنیے سنیے کلامِ اخترؔ سنیے
(شعاعِ نقد، ص ۶۳)
آج بھی حضرت محسنؔ کی غز ل جب خانقاہوں میں قوال پڑھتے ہیں تو مجلس کا عجب کیف و حال ہوتاہے،کوئی ہاتھ مارتا ہے تو کوئی پیر پٹختا ہے، یہاں تک کہ پوری محفل کیف ومستی سے لبریز ہوتی ہے۔
عرس کے ان کی دھوم ہے شور یہ بالعموم ہے
محفل سوز و ساز ہے چاروں طرف ہجوم ہے
ڈاکٹرکلیم احمد عاجز ؔ رقمطراز ہیں کہ
’’چند سال بعد میری بہن کی شادی ہوئی تو حضرت شاہ محمدمحسن صاحب ابوالعُلائی سجادہ نشیں خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ ،داناپور،پٹنہ میرے یہاں تلہاڑہ تشریف لائے، ہلسہ سے سیـد شاہ حکیم زہیر صاحب، سیـدشاہ حکیم بشیر صاحب دونوںبھائی بھی تشریف لائے یہ دونوں حضرت شاہ محسن صاحب کے ماموں زاد بھائی ہوتے تھے ،شادی کے بعد دوسرے تیسرے دن اسی شامیانے میں ایک مجلسِ مشاعرہ منعقد ہوئی جس کی روداد’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی‘میں باتفصیل مرقوم ہے،یہاں تھوڑا سا دھراتا ہوں کہ اس مجلس میں حضرت شاہ محسن ابوالعُلائی علیہ الرحمہ کے ساتھ ساتھ حکیم زہیر نانا اور حکیم بشیر نانا نے بھی اشعار پڑھے اور سننے والوں میں تلہاڑہ بستی کے تمام شرفااور مہذب ہندو سامعین بھی تھے ،کائستھ اور برہمن مدھو پرشاداگروال زمیندار تلہاڑہ اور ڈھنمن سہاے اور ان کے لڑکے گوپال پرشاد اور مندرپرشاد بھی تلہاڑہ کے شعرا میں مولانا عبدالصمد طیشؔاور شاہ عبدالحفیظ حفیظؔبھی تھے، جب حضرت سیـد شاہ محسنؔ داناپوری کی باری آئی تو حضرت نے چند رباعیاں ارشاد فرمائی جس نے تلہاڑہ کے دیہاتی ماحول میں آگ لگا دی، مجھے صرف یہ یاد ہے کہ حضرت شاہ صاحب نے ایک رباعی کا آخری مصرع پڑھا ۔
مصرع : مری آنکھوں میں آنکھیں ڈال ساقی
تو اعظم نانا کے سب سے چھوٹے بھائی سیـد احمد جو دیوبند سے فارغ ہوکر آئے تھے روتے ہوئے کھڑے ہوئے اور منشی ڈھنمن سہائے کماشتہ تمتمائے ہوئے سرخ چہرے کے ساتھ دونوں ہاتھ آگے پھیلاکر کرسی سے یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے، شاہ صاحب یا شاہ صاحب !!اور کچھ آگے نہ کہہ سکے اور مجمع دم بخود ہوگیا تھا‘‘ (انوارِ اکبری،جلد اول،ص؍ ۴۵)
شاہ محسن ؔنے قطعات،رباعیات،غزلیں،حمد، نعت، منقبت، مناجات، مسدس، نظم،رقعات، مجرا، قطعاتِ تاریخ،سہرا ،مخمس اور تضمین وغیرہ پر طبع آزمائی کی ہے، جس میں حد درجہ وہ کامیاب نظر آتے ہیں، ان کی شاعری میں ایک کشش ہے جو پڑھنے والے کو اپنی طرف کھینچتا ہے ،ماہنامہ ’’بزمِ سخن‘‘(گیا)میں بھی شاہ محسنؔ کے چند کلام شائع ہوئے ہیں، تحقیق کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حضرت محسنؔ کا یہ واحدشعری سرمایۂ ریاض ہے جسے کلیات کہنا چاہیے، اس میں انہوں نے اپنے سارے کلام خود یکجا کیے ہیں۔
چند کلام جو مطبوعہ ہیںاسے بھی شامل کر دیا گیا ہے،بعض کلام کی تحقیق جاری ہے، سیاسی کلام حذف کردئیے گئے ہیں،مندرجۂ ذیل حروف تہجی کی ردیفوں میں ۱۱۸؍ غزلیں ہیں، ظ-ع-غ-ف-ق کی ردیفوں میں غزلیں نہیں ہیں، تفصیل کے لیے فہرست دیکھیں۔
شاہ محسنؔ بحیثیت استاد بھی ایک اعلیٰ مقام کے مالک ہوئے، ویسے انہوں نے شاگرد بنانے کی طرف کبھی خیال ہی نہیں کیا ،جو آتا شوق سے اصلاح کردیاکرتے ، چند مخصوص شاگردان کے نام یہ ہیں ۔
ظفرؔ داناپوری، وفاؔ اکبرآبادی، غنیؔ اکبرآبادی، آسیؔ گیاوی،مظفرؔ کاکوی،منظر ؔ کاکوی،کیفیؔ کاکوی، ہمدمؔ داناپوری، احمدؔ جعفری گیاوی،حلیمؔ الہ آبادی،بدرؔ داناپوری، روح ؔ کاکوی، قیصرؔ داناپوری۔
حضرت محسن کو اللہ نے کئی خوبیوں سے نوازہ تھا وہ جس چیز کی طرف رغبت کرتے انہیں وہ حاصل ہوجاتا ،کمالِ علم و عمل اور بہترین اخلاق و اخلاص کے مالک رہے، اپنا زیادہ تر وقت اللہ کی عبادت میں صرف کرتے، عصر میں جب جانماز پر بیٹھے تو عشا پڑھ کر اُٹھتے ،خوش گفتار کے ساتھ کم گفتار بھی تھے مگر گفتگو کا نچوڑ کہتے ،اکثر موقعے کی اطلاع پہلے ہی دے دیاکرتے۔
کہاجاتا ہے کہ تاج محل اور اس کے اطراف میں کئی اجنّہ آپ کے حلقہ میں شامل ہیں، ہر جمعرات آپ آستانہ حضرت سیّدنا امیرابوالعُلاپر لنگر کا اہتمام کرواتے اور ضرورت مندوں میںاسے تقسیم کرادیتے ۔
ڈاکٹر افتخار احمد خاں (آگرہ) لکھتے ہیں کہ
’’میرے والد مرحوم حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری اور ان کے صاحبزادے حضرت شاہ محمد محسنؔ داناپوری کی عظمتوں اور فضیلتوں کے تعلق سے ایک سے ایک روحانی واقعات بیان کرتے تھے ،حضرت شاہ محسنؔ قدس سرہٗ صادق القول اور راست گو انسان تھے، کبھی کبھی کچھ غیبی و نجومی بات کہہ دیا کرتے تھے جو سامنے آنے پر صحیح ثابت ہوتی تھی ،کبھی بات کرتے وقت یہ کہہ د یا کرتے کہ فلاں شخص آنے والے ہیں کچھ ناشتہ وغیرہ کا نتظام کرلو ،ہم لوگ حیران ہوتے کہ کچھ دیر بعد وہ شخص جن کی خبر دی چلے آرہے ہیں،کچھ واقعات ایسے بھی ظاہر ہوتے رہتے جنہیں کرامات سے الگ نہیں کیاجاسکتا تھا ،حضرت شاہ محسنؔ ابوالعُلائی صاحب کا یہ عمل تھا کہ صبح ہوشام ہو رات کا کوئی بھی وقت اچانک سیّدنا امیر ابوالعُلاکے آستانے پر حاضری کے لیے روانہ ہوجاتے ،آپ کے ہمراہ کافی افراد ہوجایاکرتے ،اکثر آستانے پر کھانہ پکواتے اور فاتحہ کے بعد تقسیم کرتے ،مسجد کے نیچے کنواں پر قدیمی طاق ہے اس طاق پر بھی کھانہ رکھواتے اور حاجت مند استعمال کرلیتے ،اس زمانے میں آستانہ سیّدنا ابوالعلامیں کنویں پر کھانا بھیجوانا ایک معمہ بن چکا تھامگر ہمت کسی میں نہ تھی کہ میاں حضور سے پوچھے۔۔۔ ‘‘ (ا نوارِ اکبری، جلد اول، ص؍۴۱۱)
حضرت محسن کا خاندان ہی درویشوں کا خاندان تھا ،زہد و تقوے کے دامن میں انہوں نے پرورش پائی ،ریاضت و عبادت کے آغوش میں تربیت ہوئی ،ہوش سنبھالاآنکھیں کھول کردیکھا تو گھر میں سب کو اسی رنگِ درویشی میںڈوبا ہواپایا،بیشتر اوقات حضرت سیّدنا امیر ابوالعُلااور حضرت مخدوم سجاد پاک کے مزارِ اقدس سے فیض باطن حاصل کرتے ، مزاراقدس پر بیٹھے مراقب رہاکرتے تھے اور ذکر واشغال طریقۂ آبائی میں مشغول رہ کر بطور خود ریاضت کرتے ،حضرت سیّدنا کی روح پُر فتوح کی طرف متوجہ تھے اور اُسی جانب سے بعنایتِ الٰہی آپ کی تربیت بھی ہوتی رہی، یہاں تک ابدالِ وقت کہلائے۔
بڑے بڑے نوابین اور شاہانِ زمانہ حضرت محسن کی آمد کے مشتاق رہتے، ان میں نواب جیون یار جنگ بہادر (صدرالصدور: عدالت عالیہ ،حیدرآباد)، سربلند جنگ محمد حمیداللہ (دہلی)، نواب محمد اسمٰعیل خاں (آگرہ)،حافظ سیّد شاہ نورالرحمٰن لعل (کشمیری کوٹھی، پٹنہ)،خان بہادرسیّد شاہ محی الدین احمد کمالؔ (لودی کٹرہ، پٹنہ) وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
حضرت شاہ محمد ادریس چشتی فرماتے ہیں کہ
’’حضرت شاہ اکبرؔ صاحب داناپوری کے فرزند حضرت سیّد شاہ محمد محسنؔ صاحب ابوالعُلائی ہیں،ماشاء اللہ یہ بزرگ بھی بڑے کاسِب ہیں، دن رات یادِ الٰہی میں مشغول رہاکرتے ہیں اور صاحبِ نیک بخت وصاحبِ اخلاق ہیں، نورِالٰہی آپ کے چہرے سے جلوہ گر ہے اکثر لوگ مرید ہواکرتے ہیں اور فیض سے آپ کے معمور رہے ہیں، یہ فقرائی خاندان ہے،کیسے کیسے بزرگان داناپور میں لیٹے ہوئے ہیں‘‘ (گنجِ عرفان،ص؍۱۵۹)
حضرت محسن کی پہلی شادی مولانا شاہ نظیر حسن ابوالعُلائی کی صاحبزادی بی بی حفیظ النسا سے ہوئی جن سے دس اولاد ہوئیں مگر ان میں صرف ایک صاحبزادے ظفر المکرم حضرت مولانا شاہ ظفر سجاد ابوالعُلائی یادگار رہے جو آپ کے بعد خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ ، داناپور کے سجادہ نشیں ہوئے،دوسری شادی خانقاہ منیر شریف کے سجادہ نشیں حضرت شاہ فضل حسین فردوسی کی بڑی صاحبزادی بی بی مریم سے ہوئی جن سے تین لڑکے زین الساجدین ،عین الساجدین، امین الساجدین اور ایک صاحبزدی شمس النہار (منسوب سیّداختر عالم ابن سیّد ابو سعید ابوالعُلائی میکشؔ ہلسوی)ہوئیں، تینوں لڑکے کم عمری میں داغِ مفارقت دے گئے، آپ کی تیسری شادی سیّد عبدالصمد (نیّاواں ،نالندہ)کی صاحبزادی بی بی صالحہ سے ہوئی یہ لاولد رہیں۔
آپ کاانتقال۲۴ ؍محرم بوقت بعد نمازِ مغرب،یک شنبہ۱۳۶۴ ھ موافق۹؍جنوری ۱۹۴۵ ء کو ہوا، آخری آرام گاہ آستانہ حضرت مخدوم سجادپاک (شاہ ٹولی،داناپور) میں ہے۔ (تذکرہ مسلم شعرائے بہار،جلد چہارم ،ص؍۱۲۹)
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے
(مرزاغالبؔ)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.