ذکر خیر حضرت حکیم شاہ علیم الدین بلخی
برصغیر ہند و پاک کی جن شخصیتوں کو صحیح مانوں میں عہد ساز اور عبقری کہا جاسکتا ہے، ان میں ایک نمایاں اور محترم نام خانقاہ بلخیہ فرودسیہ، فتوحہ کے سجادہ نشیں اور صوبۂ بہار کی مشہور علمی شخصیت حضرت مولانا حکیم سیّد شاہ علیم الدین بلخی فردوسی کا ہے، آپ قدآور عالم دین، فاضل متین، بلند پایہ حکیم، صاحبِ طرز ادیب، زہد و تقویٰ کے امین اور توکل و استغنا اور توضع و انکساری سے بھرپور تھے، آج وطن کی ہوائیں اور چمن کی فضائیں شاہ صاحب کی عجز و انکساری کو سلام و نیاز پیش کر رہی ہیں، آپ پیکر صدق و وفا تھے جو ایک بار ان کے پاس جاتا وہ باربار جانے کی لگن میں لگا رہتا۔
لگن لگی ہے کسی سے ایسی کہ مرنے پر بھی نہ چھٹ سکے گی
یہ عاشقی دل لگی نہیں ہے جو ہم مٹے ہیں تو دل لگا ہے
(شاہ اکبرؔ داناپوری)
راقم الحروف اگر ان کے کارہائے نمایاں کا تذکرہ کرے گا تو بالیقین یہ بات بہت مشکل ہے، ان کا اعجاز یہ ہے کہ جہاں بھی گئے جس سے بھی ملے داستاں چھوڑ آئے، وہ ہمیشہ اپنے آبا و اجداد کے نقش پاپر چلتے رہے، جہاں بیٹھا دو بیٹھ جاتے ،جو کھلا دو کھا لیتے،جہاں بلالو آ جاتے، شہرت، عزت ،مقام اور مرتبہ کے کبھی متلاشی نہیں رہے، بڑے سنجیدہ مزاج، پُر لطف اور پُرانے قصے سنانے کے شوقین تھے، تحقیر و تذلیل سے بہت دور تھے بلکہ عیب داروں کے عیوب پر بھی اچھائیوں کی چادر ڈال دیتے، لباس سبز ہے یا سرخ، ٹوپی دو پلیہ ہے یا چوگشیہ، پٹکہ صندلی ہے یا سبز، جوتی راجستھانی ہے یا کولا پوری ان سب چیزوں سے کوئی مطلب نہ رہتا، ہر حال میں مست بادۂ الست رہتے اور جھومتے ہوئے نکل پڑتے، کس کو کہاں خوش کرنا ہے ایسی دنیاوی سازشوں سے وہ لاعلم تھے، آج چند ہی اشخاص نے شاہ صاحب کے والد ماجد حضرت حکیم شاہ تقی حسن بلخی (متوفیٰ ۱۳۹۲ھ) کو دیکھا ہے وہ بہار کی مشہور علمی شخصیت تھی، جگہ جگہ ان کے بیانات و تحریرات شائع و ذائع ہوا کرتے تھے، حکمت و دانائی اور اسرار و رموز ان میں خوب پائی جاتی تھی، اپنے عہد کے ممتاز علماو مشائخ میں وہ اپنی چھاپ رکھتے تھے، شاہ صاحب حکیم شاہ تقی حسن بلخی کے صحیح مانوں میں جانشیں اور ان کی یادگار تھے، راقم کی نظر میں اب حسنین پاشا فردوسی اپنے پیر و مرشد حکیم شاہ تقی حسن بلخی کے آخری یادگار ہیں۔
بہار میں خانوادۂ بلخیہ کی ایک پہچان ہے کہ جہاں دیکھیے بلخیوں کی نمایاں شان ہے، علم وادب،شعروسخن،تاریخ و تذکرہ ،حکمت و دانائی، اسرار و رموز، علم و عمل اور تحقیق وتدقیق گویاہر میدان میں بلخی حضرات پیش پیش رہے ہیں، ہم فصیح الدین بلخی، عزیزالدین بلخی، نادم بلخی، سیف الدین احمد بلخی، یعقوب بلخی، یوسف بلخی اور ابوالحسن بلخی وغیرہ کی خدماتِ جلیلہ کو فراموش نہیں کرسکتے ہیں یہ وہ بہار کا گذرا ہوا عظیم قافلہ ہے جس کو پانے کی تمنا ہم سب کی ہے مذکورہ ناموںمیں شامل حکیم شاہ علیم الدین بلخی کی شخصیت بھی ہے جو حکمت ودانائی اور علم وعمل کے ساتھ رونق بزم تھے۔
بزمِ ہستی میں ابھی آکے تو ہم بیٹھے تھے
یوں اجل آئی کہ زانوں بھی بدلنے نہ دیا
( شاہ اکبرؔ داناپوری)
اس خانوادہ میں اؤلیا، اصفیا، علما، زہاد، عباد، ابدال، اوتاد وغیرہ سب ہیں، بہار میں اس خانوادہ کے سب سے بڑے بزرگ تن مظفر جاں شرف الدین یعنی حضرت مولانا مظفر بلخی کہے جاتے ہیں جو حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری (متوفیٰ ۷۸۲ھ)کے خلیفۂ اعظم اور جانشیں ہیں۔
شاہ علیم الدین بلخی نے ۱۹۴۶ء کا فساد بھی دیکھا تھا جب ملک میں قتل و غارت کا سلسلہ زوروں پر تھا ،لوگ دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب کوچ کر رہے تھے تو ان میں شاہ صاحب بھی اپنے والد کے ساتھ فتوحہ سےعالم گنج آنے والوں میں شریک تھے، مولانا ابوا لکلام آزادؔ، مولانا عبدالقادر آزاد سبحانی، بیرسٹر علی امام وغیرہ کی صحت و سنگت نے بھی شاہ صاحب کو بہت کچھ زندگی کے عملی میدان میں سکھا گئی۔
راقم السطور آپ سے ملاقات کرنے جاتا رہتا تھا، جب کسی خاص موضوع پر گفتگو ہوتی تو کہتے کہ ’’ہم تو بھول چکے ہیں، ارے بھائی ہمیں کچھ یاد نہیں ہے‘‘ مگر اس کچھ نہیں میں دو گھنٹے تک اس موضوع پر کلام کرتے، ہم لوگوں نے بڑے بڑے ذہین وفطین کے بارے میں سنا ہے آپ نے بھی سنا ہوگا، مگر ہم نے شاہ صاحب کے ذہن و دماغ جیسا نہیں دیکھا، بھلا کوئی ۹۷؍برس کی عمر میں اس طرح بیان کر سکتا ہے، فرزدقؔ، میثمؔ اور متنبیؔ کے سیکڑوں عربی اشعار تو شاہ صاحب ایسے خوشگوار انداز میں سناتے کہ مانو ہم غالبؔ یا اقبالؔ کے اشعار سن رہے ہیں، مذکورہ شعرا کے اشعار کثرت سے یاد تھے، امام احمد غزالی، امام سعدالدین تفتا زانی اور ملا علی قاری جیسی عالمی شخصیت کی خدمات اور ان کے نکتہ کو بہت سہل انداز میں سناتے تھے، تعجب ہوتا تھا کہ اس عمر میں شاہ صاحب کو احیاؤالعلوم کی سطریں بھی یاد تھیں، بوعلی سینا اور حکیم لقمان کے قصے بھی سناتے تھے اور مسکراتے تھے اور اسی دوران کہتے کہ ہائے وہ دن۔۔۔
شاہ صاحب بڑے متحرک و فعال تھے، بڑے بڑے علما و سرکردہ شخصیات سے تعلقات ان کے عام تھے، اردو ،فارسی کے ساتھ عربی زبان پر ملکہ رکھتے تھے، آپ کے خاندانی وجاہت کا اعتراف کئی چھوٹی بڑی، نئی پُرانی کتابوں میں مل جائے گا، ان کے داداحکیم شاہ غلام شرف الدین بلخی بہار کے مشہور و معروف خانقاہی شخصیت کے علاوہ ایک سماجی اور مثالی آدمی تھے، مسلمانوں کی حمایت میں ہر جگہ پیش پیش رہتے تھے، اسی طرح آپ کے والد بھی قوم کی خاطر مصروف رہاکرتے، مولانا عبدالقادر آزاد سبحانی جیسی ہستیوں کی صحبت پائی تھی، یہ سب کچھ شاہ صاحب کی زندگی پر ایک خاص اثر چھوڑ گئی، مجھ سے برابر کہتے تھے کہ
’’میں اپنے والد ماجد سے مجاز مطلق ہوںنیز خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، شاہ ٹولی،داناپور کے سجادہ نشیں اور میرے خالو حضرت مولانا سیّد شاہ ظفر سجاد ابوالعُلائی رحمتہ اللہ علیہ (متوفیٰ ۱۳۹۴ھ) سے بھی بعض اوراد ووظائف کی اجازت حاصل تھی‘‘
واضح ہوکہ شاہ صاحب کے والد حکیم شاہ تقی حسن بلخی اور میرے جد امجد حضرت شاہ ظفر سجاد ابوالعُلائی دونوں ہم زلف تھے، اس لیے خانوادۂ ابوالعُلائیہ سجادیہ اور خانوادۂ بلخیہ میں بڑی محبت وانسیت رہی ہے، خود شاہ صاحب کہتے تھے کہ
’’میرے بچپن کے اکثر اوقات خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، شاہ ٹولی میں گذرا ہے‘‘ ندوہ کی چھٹی پر آتے تھے تو شاہ ٹولی ضرور آیا کرتے تھے، حضرت شاہ محفوظ اللہ ابوالعُلائی ، حضرت شاہ خالد امام ابوالعُلائی اور جہانگیرہ خاتون جو میرے خالہ زاد بھائی ہیں ہمیشہ ان لوگوں کی خیریت و سلامتی کی دعاکرتے اور خوشگوار لمحوں میں ڈوپ جاتے اور پھر کہتے کہ ہائے وہ دن۔۔۔
شاہ صاحب کے خالہ زاد بھائی اور خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپور کی بزرگ شخصیت حضرت شاہ خالد امام ابوالعُلائی کے روز نامچہ سے کچھ سطریں آپ کی عیادت پر یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
’’میرے اپنے خلیرے بھائی حضرت مولانا سیّد شاہ حکیم علیم الدین بلخی سجادہ نشیں خانقاہ بلخیہ فردوسیہ، فتوحہ طویل عرصہ سے بیمار ہیں،موصوف کی عمر قریب ۹۶؍سال ہے، ان کی عیادت کے لیے ہم آج صبح دس بجے عالم گنج،پٹنہ ان کے گھر گئے، میرے ساتھ اہلیہ اور عزیزم سیّد ریان سلمہٗ بھی تھے، ہم لوگ ایک گھنٹہ ٹھہرے، موصوف بے حد کمزور ہوگئے ہیں، ماضی کے تذکرے اور بہت مبارک گفتگو رہی،ابھی بھی حافظہ مضبوط ہے، اس وقت بہار کی مایہ ناز بزرگ ہستی ہیں، شرف نیاز حاصل کرکے روحانی سکون ملا،
فقط محمد خالد امام ابوالعُلائی، مؤرخہ ۳؍ربیع الثانی ۱۴۴۰ھ‘‘
ہندوستان کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش اور سات سمندر پار دوسرے دیشوں میں حضرت مخدوم محمد حسین بلخی نوشہ توحیدکی آل و اولاد پائی جاتی ہے، خانوادۂ بلخیہ آج ایک وسیع وعریض علاقہ میں پھیل چکا ہے مگر شاہ صاحب کا مرتبہ آج بھی سب سے بلندو بالا ہے، ہمارے خانوادۂ ابوالعُلائیہ سجادیہ کے علاوہ کئی خاندان کے افراد جو ہندوستان کے علاوہ دوسرے ممالک میں رہتے ہیں جیسے قمر النسا بلخی اور ان کی اولاد فاروق حیدر، تابندہ واصف وغیرہ نے بھی آپ کی شخصیت کا اعتراف کرتی رہتی ہیں۔
’’موت اس کی ہے جس کاکرے زمانہ افسوس‘‘یہ جام کبھی نہ کبھی تو پینا ہی تھا مگر اس طرح شاہ صاحب کو ایک گھونٹ میں پینا ہوگا یہ نہیں معلوم تھا، ابھی تو کئی احساسات باقی تھے، ابھی توپوری رات باقی تھی،کئی امیدیں اور کئی لوگ باقی تھے، کل کی بات جو ادھوری تھی وہ سب باقی تھی، کہیں ایسا بھی ہوتا ہے تو پھر ایسے وقت میں اکثر یہی کیوں ہوتاہے، شاہ صاحب کی اہلیہ صادقہ خاتون کے گزر جانے کی خبر ایسی تھی جیسے چنگاری کی لپیٹ میں انسان کا لپٹ جانا، پہلی ملاقات تھی، وہاں برادرم ابصار میاں بھی بیٹھے تھے، صادقہ دادی نے اس پہلی ملاقات کو ناجانے کیسے برسوں کی ملاقات بنادی؟دو گھنٹہ کیسے گزر گیا یہ معلوم ہی نہیں ہوا، اس دو گھنٹہ کی گفتگو میں صادقہ دادی نے بیٹھے بیٹھائے پٹنہ مارکیٹ اور ہتوا مارکیٹ کی سیر کرادی خاص طور سے سبزی باغ میں جوکلکتہ بیکری ہے وہاں سے پپّا بسکٹ بھی خریدوا دیا، عام طور سے ایسا نہیں ہوتا ہے پر کبھی ایسی ملنسار اور خوشگوار خاتون کے ساتھ وقت گزارنے میں ایسا ہو جاتا ہے، انہوں نے مجھے احساس بھی نہیں ہونے دیا کہ میں ان سے پہلی بار مل رہا ہوں، انہوں نے مجھے کافی متاثر کیا مگر کیاکیجیے گا قدرت کو کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے کہ آج وہ صرف ہماری یادوں میں ہی محفوظ ہیں۔
شاہ صاحب کی اہلیہ کا غم ابھی تھما ہی نہیں تھا کہ شاہ صاحب خود داغِ مفارقت دے گئے، ان کے جانے کا تو غم ہے ہی مگر اس سے بھی زیادہ غم اس بات کا ہے کہ ساتھ وہ ایک زمانہ بھی لے گئے جو شاید اب نہ ملے، ہم ترقی تو کررہے ہیں، بلندیوں کے مینارہ کو تو چھو رہے ہیں مگر بہار کی خانقاہی روش جو تھی اس کا دامن ہم چھوڑ رہے ہیں، شاید یہ سوال انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔
اللہ پاک شاہ صاحب کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کا نعم البد ل عطا فرمائے، آپ کی رحلت پر تعزیتی نشست حجرۂ اکبری (آگرہ) میں خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپور کے سجادہ نشیں حضرت شاہ سیف اللہ ابوالعُلائی کی سرپرستی میں عمل میں آئی ہے، شاہ صاحب کے بعد خانقاہ بلخیہ فردوسیہ، فتوحہ کے سجادہ نشیں آپ کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر شاہ مظفر الدین بلخی منتخب ہوئے ہیں آپ ’الولد سر لاابیہ‘ کے مصداق ہیں۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.