ذکرِ خیر حضرت شاہ رضی الدین حسین منعمی
آپ حضرت شاہ مبارک حسین (متوفیٰ ۱۲۷۳ھ) کےفرزنداصغراورخانقاہ منعمیہ قمریہ،میتن گھاٹ،پٹنہ سیٹی کے سجادہ نشیں ہیں،آپ کی پیدائش۱۲۷۱ھ میںہوئی،آپ کی آمدپرحضرت شاہ محمدیحییٰؔ عظیم آبادی نےقطعۂ تاریخ کہااور’’نمونۂ خورشید‘‘ اور’’نورشمس وقمر د گر آمد‘‘سےسنِ پیدائش برآمدکیاہے۔
(کنزالتواریخ)
حضرت شاہ رضی الدین حسین جب دوبرس کےہوئےتووالدماجدکاسایۂ رحمت اٹھ گیااس لیےاپنےبرادرمعظم حضرت شاہ عزیزالدین حسین(متوفیٰ۱۳۲۳ھ) کے زیر اثرتعلیم وتربت حاصل کرتےرہے، آپ کےبرادرمعظم اپنی قلبی تمناؤںکی تکمیل کےلیےاخلاق سے آراستہ وپیراستہ ہونےکی طرف توجہ دی،آپ نہایت ہی پاک طبیعت،خوش اخلاق،خوش خصلت اورخدا ترس بزرگ تھے، فقر وتصوف سے دلچسپی رکھتے،صوفی صافی بزرگ کےساتھ ساتھ سماجی حلقوںمیںبھی ممتازتھے۔
آپ کانکاح حضرت شاہ علی حسین ابوالعُلائی بن شاہ سلطان احمد کی صاحبزادی بی بی امجدی سےہواجن سے دودختراورایک پسرحضرت شاہ تقی الدین حسین ہوئے،زوجۂ اولیٰ زیادہ دنوں تک حیات سےنہ رہ سکیںلہٰذادوسرےنکاح سےدو اولادسیّدعظیم الدین حسین اورایک دخترہوئیںیہ بھی جلدفوت کرگئیں،اس طرح آپ پرحادثۂ فاجعہ نےگہرااثرچھوڑا۔
(کیفیت العارفین)
شاہ رضی الدین حسین کم عمری ہی میںحضرت مخدوم سجاد پاک (متوفیٰ۱۲۹۸ھ) سےبیعت ہوکرروحانی منازل طےکرنےلگےتھے، حضرت مخدوم کی نظر کیمیائے اثر نے کچھ ایسا اثر دکھلایاکہ آپ بہت جلدنعمتِ باطنی سے سرفراز ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے،حضرت مخدوم آپ کوبہت عزیزرکھتےتھے ،سفروغیرہ میںاکثرہمراہ ہوتے، یہاں تک کہ پیرومرشدکےآخری ایّام میںچندخاص مریدین میںآپ بھی ساتھ ساتھ رہے اوراکثرواقعات کےچشمِ دیدگواہ بنے۔
حضرت شاہ اکبرؔداناپوری رقمطرازہیں کہ
’’ اوردوسرےچھوٹےبھائی آپ کےجناب سیّدشاہ رضی الدین حسین صاحب کو بیعت حضرت والدماجدمؤلف یعنی حضرت سیّد شاہ محمد سجادقدس سرہٗ سےہے،اللہ کے فضل سےیہ سب حضرات آفتاب ہیں‘‘ )نذرمحبوب،ص؍۲۹)
حضرت شاہ ظفر سجادابوالعُلائی رقمطرازہیںکہ
’’یہ انہیں روحانی تعلقات کےتاثرات تھےکہ مرشدزادۂ کونین حضرت سیّدشاہ عزیزالدین حسین وحضرت سیّدشاہ رضی الدین حسین قدس اللہ سرہٗ سجادہ نشیںخانقاہ قمریہ کی بیعت حضرت اقدس رحمۃاللہ علیہکےدستِ حق پرست پرواقع ہوئی اور دونوں حضرات شرف بخلافت ہوکریک بعددیگررونق افروزسجادہ آبائی ہوئے‘‘
(تذکرۃ الابرار،ص؍۳۱)
حکیم شعیب احمد پھلواروی لکھتے ہیں کہ
’’حضرت شاہ عزیزالدین حسین اپنے والد کی وفات کے بعد جانشیں ہوئے، ان کے بعد ان کے دوسرے بھائی شاہ رضی الدین حسین متوفیٰ ۱۳۴۹ھ جانشیں ہوئے، ان کے بعد ان کے صاحبزادے جناب شاہ تقی الدین حسین صاحب آستانۂ منعمیہ میتن گھاٹ، پٹنہ میں جانشیں ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے خلق خدا کو بہرہ اندوز کرے‘‘
(تجلیات انوار، جلد؍۱، ص؍ ۱۴۹)
اوراد و وظائف اور معمولات میں بہت ہی پابند تھے، سفر ہو یا حضر کہیں بھی اپنے معمولات میں فرق نہیں آنے دیتے، سلسلۂ طریقت کےساتھ خاندانی رواداری کا پاس و لحاظ بھی رکھتے، خاندان کا کوئی ایسا فرد نہ تھا جو آپ کے بلند خیالی، نیک نیتی کی تعریف نہ کرتا ہو، ضرورت منداورپریشان حال کی اعانت کرناآپ نےاپنی زندگی کا مقصد بنالیاتھا، اپنی تازہ عمر کے دنوں میں فن سخن کی طرف میلان دکھایااوراپنےکلام پر حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری سےاصلاح لیتے،راقم نےسناہےکہ شاہ ٹولی کےلوگوںکوآپ کی نعتیں یاد تھی، چند مکتوبات کابھی ذکر ملتا ہے۔
برادرِمکرم حضرت شاہ عزیزالدین حسین کی رحلت کےبعد۱۳۲۳ ھ میںآپ خانقاہ منعمیہ قمریہ،میتن گھاٹ کے سجادہ نشیں ہوئے اور تاعمر بحسن وخوبی اس متبرک خدمت کوانجام دیا۔
حضرت ادریس چشتی سیرداؔاپنی ایک غزل میں لکھتےہیں کہ
رضی میں دیکھتا ہوں حق کا جلوہ
کہ وہ کہیں سب سے بہتر نکلا
(دیوانِ سیرداؔ،ص؍۴)
حسیب عمادی لکھتےہیں کہ
’’سیّدشاہ عزیزالدین حسین کےبعدجناب سیّدشاہ رضی الدین حسین مدظلہٗ سجادہ نشیں ہوئےاورآپ سےسلسلۂ رشدوارشادجاری ہےاورمحلہ میتن گھاٹ میںہنوز خانقاہ قائم ہےمگرچوںکہ حضرت سیّدشاہ رضی الدین حسین مدظلہٗ کوعارضہ فالج ہوگیاہےاس وجہ سے اپنےصاحبزادےجناب سیّدشاہ تقی الدین حسین سلمہٗ مدفیوضہ کو اپناجانشیں کردیا‘‘
(تذکرۃ الصالحین،ص؍۲۲۵)
بدرالحسن عمادی نے بھی یہی لکھاہےکہ
’’اب(سجادہ نشیں) جناب رضی الدین ہیںوہ مفلوج ہوگئےہیں‘‘
(یادگارِروزگار،ص؍۱۲۲۵)
چند حضرات کو اجازت و خلافت سےمشرف بھی فرمایاتھاجن کےنام یہ ہیں۔
حضرت شاہ تقی الدین حسین منعمی ( صاحبزادۂ اکبروجانشیں)
حضرت شاہ حسین الدین احمدمنعمی(سجادہ نشیں:خانقاہ چشتیہ منعمیہ،رام ساگر،گیا)
حضرت شاہ زہیرحسن قادری ابوالعُلائی ہلسوی
حضرت شاہ عظیم الدین حسین منعمی ( صاحبزادہ)
حضرت شاہ محی الدین حسین برکاتی
(تجلیاتِ انوار،ج؍۱،ص؍۱۴۲)
آپ جب۷۶؍برس کے ہوئے تو ضعف کی ندامت نےنڈھال کردیا اور ۱۳۴۷ھ میںلکوےکااثرہواجس سےآپ کی صحت پرکافی گہرااثرپڑااوردن بدن صحت گرتی گئی،اس کااثر۱۳۴۸ھ میں پھر ہوا جس سےمرض میں شدت بڑھ گئی،رحلت سے دوروزقبل ہی آپ نےاپنی قبرکی نشاندہی کردی اور۱۷؍ جمادی الثانی۱۳۴۹ ھ سہ شنبہ موافق ۷؍نومبر۱۹۳۰ء کوآخرت کےسفرپرروانہ ہوئے، آپ کامزار حسبِ وصیت آستانہ حضرت مخدوم محمدمنعم پاک سے ملحق ہے۔ (سفینۂ برکاتیہ)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.