Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیر حضرت حاجی شاہ عبداللہ ابوالعُلائی الہ آبادی

ریان ابوالعلائی

ذکر خیر حضرت حاجی شاہ عبداللہ ابوالعُلائی الہ آبادی

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے بعد جو سلسلہ سب سے زیادہ رائج ہوا وہ سلسلۂ ابوالعُلائیہ ہے، در اصل یہ نقشبندیہ سلسلے کی شاخ ہے، توحید اور عشق کی تعلیم یہاں لازمی ہے، گیارہویں صدی ہجری سے یہ سلسلہ اس قدر مشہور ہوا کہ برصغیر میں اس کی عظمت و رفعت قائم ہوگئی، جوق در جوق بندگانِ خدا دائرۂ ارادت میں داخل ہوگئے ،کیا امیر کیا غریب کیا گورے کیا کالے کیاعجمی کیا عربی، ہر ایک اس بہربے کراں میں غوطہ ظن ہو کر معرفت و حقیقت سے روشناس ہوئے، سیکڑوں میل کی سفر اختیار کرکے لوگ اس سلسلے میں داخل ہوتے اور من کی مراد پاکر بخوشی واپس ہوتے، سلسلۂ ابوالعُلائیہ کی خاص بات یہ رہی ہے کہ اس کی تعلیم و تلقین کا نصاب نہایت سہل رہا جس کی وجہ سے سالک مرید تو کسی سلسلے میں ہوتا مگر سلوک کے منازل اسی نصاب پر مکمل کرتا، توجہ عینی کا یہاں خاص غلبہ و دبدبہ ہے، ابوالعُلائی مشائخ میں ایک اہم اور وقیع نام عارف باللہ حضرت حاجی شاہ عبداللہ ابوالعُلائی احقرؔ الہ آبادی کا ہے جنہوں نے تذکیۂ نفس و تصفیۂ قلب کے مراحل سے گزرتے ہوئے سلوک کے منازل کو بآسانی طے فرمایا، خدمت گذار ایسے کہ اپنے سے کم عمرلوگوں کی جو تیاں صاف کرتے، حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری فرماتے ہیںکہ

    ’’میرے عزیزوں میں عبداللہ ابوالعُلائی سلمہٗ اپنے بھائیوں کا خادم بے عذر ہے‘‘

    (ادراک، ص؍ ۳۶)

    نرم مزاج ایسے کہ کبھی اپنی آواز دوسروں تک پہنچنے نہ دیا، خاموش طبیعت، پاک طینت، نرم کیفیت اور وجاہت و نجابت کے اعلیٰ شہسوار تھے۔

    حاجی صاحب سہارن پور کے رہائشی علاقہ قصبہ انبیٹھہ کے ایک نومسلم گھرانے میں پیدا ہوئے، خاندان کے زیر سایہ پروان چڑھتے رہے، جب تھوڑا عاقل ہوئے تو حصول تعلیم کے لیے گھر سے باہر نکلے تھوڑے ہی روز ہوئے تھے کہ آپ ہندوستانی فوج میں ملازم ہوئے، عنفوان شباب کا زمانہ تھا اس لیے سیرو سیاحت کا شوق خوب تھا، تھوڑے دنوں بعد آپ کا تبادلہ ہندوستان کی قدیم ترین چھاونی داناپور کینٹ میں ہوا ، ابھی آئے ہوئے کچھ ہی روز ہوئے تھے کہ حاجی صاحب نے داناپور اور اس کے اطراف و جوانب کی سیر شروع کردی ، پھرتے پھراتے ان کی نظر حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کے جمال کی طرف پڑی ایک ہی نظر میں عشق کا تیر دل پر لگا، خطرات کے بادل چھٹ گئے ، برسات کے موسم آگئے، اب تو حاجی صاحب بالکل بے قرار ہوگئے، رفتہ رفتہ خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپورکی مجلس میں شامل ہوتے رہے، دھیرے دھیرے آنا جانا ہوا اور ایک آنے میں دو آنہ ہوا، کچھ ہی عرصہ میں حاجی صاحب کا حضرت شاہ اکبرؔد اناپوری سے رشتہ عقیدت مندانہ ہوگیا ،حاجی صاحب آپ کے دست حق پرست پرداخل اسلام ہوئے اور عبداللہ کے نام سے پہچانے گئے، ابھی کچھ ہی روز گزرے تھے کہ فوج کی ملازمت کو ترک کردیااور خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ میں حاضر باش ہوئے، حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری نے آپ کی کمالِ عقیدت مندی کو دیکھتے ہوئے سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعُلائیہ سجادیہ میں بیعت کرکے اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا۔

    بیعت و ارادت کے بعد حاجی صاحب مستقل مزاجی سے خانقاہ میں مقیم ہوگئے، تما م کاموں کو خود ہی انجام دیتے، اپنا ہو یابیگانہ ہر ایک سے خلوص کے ساتھ ملتے، خاکساری و انکساری داخل فطرت ہوچکی تھی، اوصاف نہایت عمدہ تھے،لمبا قد، دبلے پتلے، مارکین کی لنگی، ٹائر کی چپل،سرپر عمامہ، بدن پر عملی جامہ اور لبوں پر ذکر جمیلہ کے ساتھ اوراد و وظائف میں مشغول رہتے، بہت جلد اپنے پیرو مرشد کے ذریعہ تحصیل علم ظاہری و باطنی حاصل کرلی، جب نعمت باطنی سے سرفراز ہوئے تو حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری آپ کو الہ آباد میں اپنی جگہ پر قائم مقام بناکر رشدو ہدایت کے لیے وقف کردیامگر حاجی صاحب آپ سے جدا ہونا نہیں چاہتے تھے وہ اپنی زندگی آپ کی صحبت میں تمام کرنا چاہتے تھے کچھ دنوں تک بے قرار رہے پھر حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری نے فرمایا کہ

    ’’اے بھائی ! جان لو کہ صوفی وہ ہوتا ہے جو دوسروں تک راحت پہنچائے‘‘

    حاجی صاحب کے دل پراس کا گہرہ اثر پڑا اور دوسرے ہی روز اپنے پیرو مرشد کی اجازت و ہدایت پر الہ آباد کی جانب رخت سفر باندھا، واضح ہوکہ الہ آباد کے قلب یعنی مان سرورچوک پرنیاحجرہ حضرت شاہ اکبرؔداناپوری کا ہی قائم کردہ ہے،یہ علاقہ اس وقت ویران اور قبائلی علاقوںسے دور تھا،یہ سفالہ پوش جھونپڑیاں بزرگوں کا حجرہ ہوا کرتاتھا جہاں انہوں نے نہ جانے کتنے چلّے اور کون کون سی مشق کی ہوگی،کتنے بگڑ کر بنے ہوں گے اور کتنوں کو ایمان و احسان کا نور ملا ہوگا،یہاں حضرت شاہ اکبرؔداناپوری اور ان کے عم اقدس سیّدالطریقت حضرت مولانا شاہ محمد قاسم ابوالعُلائی داناپوری اور والد ماجد حضرت مخدوم شاہ محمد سجاد پاک داناپوری کا قدیم حجرہ رہاہے، خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ کے مشائخ کرام الہ آباد میں اسی جگہ قیام فرماتے ہیں، مولانا شاہ قاسم داناپوری کے حلقۂ ارادت میں الہ آباد کی سرکردہ اور سرفراز ہستیوں شامل تھیں جیسے تفضل حسین الہ آبادی، منشی غلام غوث بے خبرؔ،طفیل علی الہ آبادی،حبیب علی الہ آبادی، اکبرؔ الہ آبادی اور مخدوم سجادپاک کے حلقہ میں میر سجاد حسین الہ آبادی وغیرہ نمایاں شان کے حامل تھے، خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپور اور الہ آباد کی صوفی روایت پر تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت ہے جو پھر کبھی۔

    حاجی صاحب اپنا پورا وقت رشد وہدایت میں صرف کرتے ،عرصۂ دراز تک اپنے کردار و عمل اور روحانی مشغولیات کے پیش نظر فقیرانہ زندگی گذارتے ہوئے رشدوہدایت کے فرائض میں مصروف رہے،ان کا زیادہ وقت تعلیم و تلقین میں گزرتا ، قلت منام،قلت طعام اور قلت کلام پر پورا عمل کرتے، تھوڑے ہی مدت میں شہر الہ آباد آپ کی بزرگی سے متاثر ہوااور رشدوہدایت اور ملفوظات اسلامیہ کا سلسلہ شروع ہوا، تقویٰ و طہارت کو دیکھتے ہوئے لوگ قریب سے قریب تر ہوتے چلے گئے ، الہ آباد کی بیشتر روحانی ہستیاں آپ کی بزرگی سے متاثر ہوئیں، کثرت سے مریدان کا حلقہ بڑھتا گیا، لوگ داخل سلسلہ ہوتے گئے اورآپ کی شہرت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا چلا گیا، اسی درمیان حضرت شاہ اکبرؔداناپوری کا انتقال پُرملال ہوا جس پر بہارو اتر پردیش میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی جس سےآپ حادثۂ قلب کا شکار ہوئے،پیرومرشد کے رنج و غم سے نڈھال ہوئے ، ظاہری زندگی سے دوچار ہوئے تو سفرحج پر نکل پڑے، دل کو سکون ملا ،زندگی کو چین ملا اور پھر الہ آبادمیں تبلیغ و ارشاد کا سلسلہ زوروں سے شروع کیا ، اس سفالہ پوش جھونپڑی میں مجردانہ زندگی گذاردی، خانقاہ میں حاجی صاحب کے علاوہ حافظ سراج الدین جو تقریباً ۴۵؍برس تک الہ آباد کی خانقاہ کی مسجدمیں نماز پڑھائی ہے وہ بھی بڑے متقی اور پرہیزگار شخص تھے، آپ کا انتقال ۲؍شعبان المعظم ۱۳۸۵ھ موافق ۲۶؍ نومبر ۱۹۶۵کو ہوا ، برابرحاجی صاحب کے ہمراہ رہا کرتے تھے، اس کے علاوہ آپ کےخاص مرید عبدالرحیم بن درگاہی میاں بھی برابرخانقاہ میں حاجی صاحب کی خدمت میں لگے رہتے تھے،حاجی صاحب آستانہ حضرت سیّدنا امیر ابوالعُلا(آگرہ) اور آستانہ حضرت مخدوم سجاد پاک (داناپور)پر برابر عقیدت کے ساتھ حاضر ہوتے رہے، اپنے پیرو مرشدحضرت شاہ اکبرؔد اناپوری کے سالانہ عرس(۱۴؍رجب) میں حالتِ ضعیفی میں بھی اپنے کاندھے پر آٹے کا بوریہ بازار سے خانقاہ پاپیادہ لاتے تھے، راستے میں کوئی شخص مدد کرتا تو کہتے کہ یہ میرا کام ہے مجھے کرنے دیجیے، عرس میں آنے والے تمام زائرین کی خدمت خود سے انجام دیتے۔

    (از افادہ حضرت شاہ خالدامام ابوالعُلائی)

    معاصر علما و مشائخ میں حاجی صاحب بلند مرتبہ پر فائز تھے، نام و نمود، عیش و عشرت اور عروج و اعتلا سے کوسوں دور تھے، آپ کی بزرگی پر شہر الہ آباد کو ناز تھا، شاہ محمد بشیر الدین اجملی (سجادہ نشیں:دائرہ شاہ اجمل،الہ آباد)، شاہ نعمت اللہ صابری(سجادہ نشیں ہفتم: دائرہ شاہ محب اللہ ، الہ آباد)، مولانا شاہ عبداللہ چشتی صابری (الہ آباد)، مولانا سیّد سخاوت حسین کاکوی، مولانا سیّد عبدالسبحان(الہ آباد) وغیرہ آپ کے خاص احباب میں شامل تھے۔

    حاجی صاحب ایک ذہن و فطین انسان تھے باضابطہ ان کی کوئی تصنیف تو موجود نہیں مگر اُن کی قلمی بیاض میں بزرگوں کے کئی رسالے نقل کئے ہوئے ملتے ہیں،جیسے رسالہ فناو بقا، جواہرالانوار،رسالہ مرشدیہ، غنیہ الطالبین،رسالہ درسوال و جواب دربیان صوفیہ، شجراۃ، عملیات،ادعیات، غزلیات وغیرہ۔

    طبیعت بہلانے کی خاطر تھوڑا شعرو شاعری سے بھی شغف رکھتے تھے، اس فن میں بھی اپنے پیرومرشد ہی سے اصلاح سخن لیا،احقر تخلص تھا ممکن ہو کہ بہت کچھ لکھا ہو، چند کلام ملاحظہ ہو۔

    تو ہی لاشریک اور واحد خدایا

    تری ذات ہر شئے سے بے شک بری ہے

    تو خالق ہے سالک ہے ہر جزوکل کا

    یہ جو کچھ ہے سب تری کاریگری ہے

    کرے غور لازم ہے انسان خاکی

    اسی کے ہرشے میں جلوہ گری ہے

    تیرے ہجر کی آگ نے گو جلایا

    مگر شاخِ امید مری ہری ہے

    محبت تری مرے سینہ میں اے جان

    دیر کا یہی وہ جیسی چھوتی دہری ہے

    مدد میری کی تُونے سب مشکلوں میں

    یہ بندہ نوازی کرم گستری ہے

    دیا خاک کو تُونے رتبہ جو عالی

    تیری شانِ اقدس کی یہ برتری ہے

    شمار اس کاہے ترے بندوں میں احقرؔ

    یہ تو بس تمہاری کرم گستری ہے

    دیگر

    نسیمِ مدینہ مسرت ہے میری

    نہ آنا ہی اس کا قیامت ہے میری

    ملیں تم سے کہوں کیا حقیقت ہے میری

    ہیں خود آپ موجد جو صورت ہے میری

    ہو خود رازداں تم کہوخود میں کیا ہوں

    بیاں میں کروں کیا حقیقت ہے میری

    وہ بت مجھ سے کہتا ہے صورت دکھاکر

    ہر اک شکل میں ہوں یہ صورت ہے میری

    تجھے کیا ہے حیرت کیوں حیران ہے

    جو پھیلی ہے ہرسو وہ نسبت ہے میری

    ہر اک دل پہ قبضہ کیا جس نے اپنا

    یہی فی الحقیقت محبت ہے میری

    اگر پردہ ہو تری صورت کو مجھ سے

    یہی تو مری جاں قیامت ہےمیری

    جو کرتی ہے بے چین عالم کے دل کو

    وہ کیا ہے تو کہتے ہیں الفت ہےمیری

    دیگر

    ہر شئے سے عیاں ہر اک شے میں نہاں ہوں

    مقصود ہوں کونین کا مطلوب جہاں ہوں

    میں صورتِ محمل ہوں سرا پردۂ لیلیٰ

    لیلیٰ ہوں مگر قیس کی صورت میں عیاں ہوں

    رہتا ہوں دل و دیدۂ عشاق میں روپوش

    تارِ نظر شوق ہوں میں رشتۂ جاں ہوں

    سنتے ہی ہر اک شخص جو ہوتا ہے بے چین

    کس عاشقِ بے تاب کی میں آہ و فغاں ہوں

    توحید میں عین انانیت عاشق ہے

    منصور انا گو کی طرح اپنا بیاں ہوں

    سب جانتے ہیں جن و ملک ارض وفلک سے

    اٹھا ہے نہ اٹھے گا میں وہ بارِ گراں ہوں

    یہ ظاہر وباطن میں سبھی جلوہ ہے اپنا

    پردے میں کبھی ہوں کبھی بے پردہ عیاں ہوں

    میں درد کی صورت میں لوگوں کی زباں ہوں

    پھر ہند سے جس وقت مدینہ کو رواں ہوں

    مذکورہ غزل آپ نے خانقاہ اسلام پور کے سالانہ مشاعرے میں پڑھی تھی۔

    دیگر

    عجب دلکش ہے شکل اس کی عجب ہے چال مستانہ

    دکھا کر اک جھلک مجھ کو بنایا اپنا دیوانہ

    ہمارے دم سے ہے ساقی مرا آباد میخانہ

    ہماری وجہ سے دن رات ہے گردش میں پیمانہ

    پلا چُلّو ہی سے مجھ کو اک مدت سے پیاسا ہوں

    کہاں کا جام ساقی کس کا ساغر کیسا پیمانہ

    خوشی ہے کس کی آمد کی جو تو سرگرم ہے ایسا

    سجا ہے کس کی خاطر مرے ساقی آج میخانہ

    بتوں نے گھر بنایا ہوگیا آباد دل مرا

    نہیں تو ایک مدت سے پڑا تھا یوں ہی ویرانہ

    گزرنام خدا اب تو ہے اس میں خوب رویوں کا

    بنایا ہے بتوں نے دل کو مرے اپنا بت خانہ

    دعا دیتے ہیں تجھ کو سب یہ رندانِ خراباتی

    خبر لے ان کی اے ساقی رہے آباد میخانہ

    خبرلے اپنے احقرؔ کی ذرا اے غیرتِ لیلیٰ

    گدا بن کر ہےبیٹھا تیرے در پر تیرا دیوانہ

    دیگر

    کبھی ظاہر تمہیں دیکھا کبھی پنہاں دیکھا

    ہر طرح سے میں نے غرض ایک جاں دیکھا

    ہم نے کافر کبھی اس بت کو مسلماں دیکھا

    ہر جگہ اس کو غرض آفت دوراں دیکھا

    تیرے آنے سے مریض شب غم جی اٹھا

    ہم نے اس درد کا ا ے جان تجھے درماں دیکھا

    دم آخر بھی نہ آیا وہ بت عہد شکن

    رہ گئے دل میں ہزاروں مرے ارماں دیکھا

    حسرت و یاس سے بہتر نہیں کچھ زادِ سفر

    لے چلا ساتھ میں اپنی یہی ساماں دیکھا

    کشش عاشق یہ ہے جذبۂ حسرت یہ ہے

    آبدیدہ ہوئے وہ مجھ کو جوگریاں دیکھا

    تم تو آگاہ ہو احوال سے اک عالم کے

    یہ بتاؤ کوئی مجھ سا بھی پریشاں دیکھا

    کیا جوش جنوں دست درازی نے تیری

    تیرے دامن کے ہوئے چاک گریباں دیکھا

    رخ سے برقع کو اٹھا ڈالامرے ذبح کے وقت

    اپنے قاتل کا دم مرگ یہ احساں دیکھا

    صورت بزم عجب ہے تیری او آئینہ رو

    تیری محفل میں جو آیا اسے حیراں دیکھا

    اس کے آنے میں جو کھٹکا ہے تجھے اے احقرؔ

    ہوگا بے چین وہ مجھ کو جو پریشاں دیکھا

    دیگر

    مرے دل میں وہ دلبروہ جلوہ نما ہے

    چھپا تھا جو پردہ میں ظاہر ہوا ہے

    لیا جس نے دل میرا اس اک نظر میں

    وہی مرا دلبر وہی دلربا ہے

    ہوا نحن اقرب سے معلوم ہم کو

    نہیں وہ کسی آن ہم سے جدا ہے

    مرے دل کو لے کر کیے تو نے ٹکڑے

    مری جاں تیرا ہی یہ آئینہ ہے

    پھرے چھانتا خاک دشتِ جنوں کی

    جسے زلف کا تیری سودا ہوا ہے

    دیگر

    جو سمجھا ہے اپنی حقیقت کو ابدال

    وہ بندہ ہے مالک کو پہنچانتا ہے

    عجب ہے یہ انساں ہو کے نہ سمجھے

    ذرا عقل پر اس کے پردہ پڑا ہے

    ذرا غور سے دیکھ دانے کی حالت

    کہ سر سبز مٹی میں ملا کر پڑا ہے

    مٹا کر مری بود ہستی وہ بولے

    تو پہلے تھا بگڑا ہوا اب بنا ہے

    نہیں بھید ملتا ہے انساں کا احقرؔ

    یہ کیا چیز ہے اس میں کیا بولتا ہے

    دیگر

    خبر لے جلد مرے ساقی مجھے ہے پیاس شدت سے

    پڑا ہوں تشنہ لب بھٹی پہ تیری ایک مدت سے

    ہماری عمر کے سب گنہ دھل جائیں دم بھر میں

    اگر مل جائے اک قطرہ تیرے دریائے رحمت سے

    رکھا ہے باز وہ سر پر قدم اپنے نہیں اٹھتے

    گناہوں سے دباجاتا ہوں وحشت ہے قیامت سے

    پلا کر مجھ کو اب سرخ کھودی سب یہ مستی

    سراپا بھردے میخانہ مرے ساقی کارحمت سے

    ہمارے قتل کرنے کا ارادہ ہے جواب قاتل

    نقاب رُخ کو سرکا آشنا ہونے دے صورت سے

    نہ ٹوٹے تاراشکوں کا میرے یارب قیامت تک

    سناہے شست و شو ہوتی ہے دل کی خوب رقت سے

    دیگر

    اس کی فرقت میں مزا یہ ہے کہ روتا جاؤں

    گوہرِ اشک میں تا عمر پروتا جاؤں

    روتے روتے میری آنکھوں سے ہو دریا جاری

    داغِ عصیاں کو اسی آب کے دھوتا جاؤ ں

    اس کے کوچے میں پہنچ کر یہ کہوں کیا اے شیوخ

    دانۂ دل اسی خاک میں بوتا جاؤں

    وہ طلب مجھ کو کریں ہو یہی حالت میری

    جب چلوں سامنے اس بت کے تو روتا جاؤں

    مرمٹوں عشق میں ایساکہ پتہ تک نہ رہے

    اس کو پیدا کروں اور آپ کو کھوتا جاؤں

    واہ شاباش یہی کام ہے اچھا احقرؔ

    فرقتِ یار میں تا عمر میں روتا جاؤں

    دیگر

    مرتے دم صورتِ زیبا جو دیکھائی تُونے

    بات بگڑی تھی مری خوب بنائی تُونے

    اٹھ گئے ظاہر و باطن کے حجاب آنکھوں سے

    خانۂ دل میں جوکی جلوہ نمائی تُونے

    خاک کر ڈالا مری جان جلا کر مجھ کو

    فرقتِ یار کیا آگ لگائی تُو نے

    تنگ جی سے ہوں گلاکاٹ کے مرجاؤں گا

    قتل میں مرے اگر دیر لگائی تُو نے

    دل میں رہ جائیں گے سب حسرت و ارماں میرے

    قتل کے وقت جو صورت نہ دکھائی تُو نے

    ہوگا ظلمت کدۂ خاک مرا نورانی

    قبر میں صورتِ زیبا جو دکھائی تُونے

    ندیاں خون سے بہہ جائیں گی آنکھوں سے مری

    وصل کی رات کو مہدی جو لگائی تُو نے

    میں تو کہتا تھا نہ لے نام محبت اے دل

    آپ کے سر پہ مصیبت یہ اٹھائی تُو نے

    روندڈالامرے مرقد کو دم عشق خرام

    دربدر خاک مری خوب اُڑائی تُو نے

    اک دن وصل کے بھی دیکھنا لوٹے گا مرے

    سخن ہجر ہے اے دل جو اٹھائی تُو نے

    شکل پروانہ جلادے نہ کہیں اے احقرؔ

    شمع رخسار سے لو تو ہے لگائی تُو نے

    دیگر

    جب سے دیکھی ہے مری جاں ہم نے صورت آپ کی

    ہوگئی ہے جاگزیں دل میں محبت آپ کی

    اک دم کر لیا قبضہ دلِ عشاق پر

    ہے عجب چلتا ہوا جادو محبت آپ کی

    ہے بہت دلچسپی مرے دل سے تیری ذات کو

    گھر بنا بیٹھی ہے مرے دل میں صورت آپ کی

    اشک جب جاری ہوئے آنکھوں سے دریا بہہ گئے

    جوش زن ہے یہ میرے دل میں محبت آپ کی

    مست کردیتا ہے دل کو نام نامی آپ کا

    یا علی میں کیا کہوں کیا ہے محبت آپ کی

    آپ کی دوری میں مری جان جائے گی ضرور

    ہے قضا مرے لیے اے جان فرقت آپ کی

    اس صفائے رخ نے آئینہ بنایا ہے مجھے

    مری صورت میں نظر آتی ہے صورت آپ کی

    دیگر

    حسرت تری کس کو رخِ زیبا نہیں ہوتی

    پتھر ہے وہ دل جس میں تمنا نہیں ہوتی

    کس وقت مجھے یادِ مدینہ نہیں ہوتی

    کب روضۂ اقدس کی تمنا نہیں ہوتی

    دکھلاتے دم مرگ جو وہ صورت زیبا

    سختی مجھے پھر موت کی اصلا نہیں ہوتی

    امید ہے مدت کے پھر جاؤں مدینہ

    کیوں پوری تمنا مرے مولیٰ نہیں ہوتی

    جو لوگ ہیں اچھے وہ نہیں کرتے بُرائی

    اچھوں کو بُری بات بھی زیبا نہیں ہوتی

    ہے وہ ترےدل کے طلب گار اے جاں

    تیرے مرے ملنے کی تمنا نہیں ہوتی

    ہم عاشق جاں باز ہیں راضی برضا ہیں

    جو ظلم و ستم ہو ہمیں پرواہ نہیں ہوتی

    اے جان جہاں تو جو رہے دیدۂ دل میں

    پھر غیر کے دیدار کی پرواہ نہیں ہوتی

    مرتا ہوں تیرے ہجر میں مدت سے میری جاں

    کیوں مجھ پے نظر رشکِ مسیحا نہیں ہوتی

    معلوم ہے مجھ کو ستم و جور ان کا

    مر جائے کوئی پر انہیں پرواہ نہیں ہوتی

    میں محو جمال رخِ دلدار ہوں ایسا

    سر تن سے اُتر جائے پرواہ نہیں ہوتی

    دیگر

    نام اُس کا لیا ہے جب دل سے

    ہوش قائم رہا ہے مشکل سے

    یہ ستم اور ڈھایا ہے قاتل نے

    منہ چھپا کر چلا ہے بسمل سے

    تاقیامت نہ جائے گی احقرؔ

    یاد اُس شوخ کی مرے دل سے

    دیگر

    لن ترانی کا ہے شوق احقرؔ اگر

    صورتِ موسیٰ بنانا چاہیے

    دیگر

    رہنے کا مرے خاص ٹھیکانے تو ملاہے

    میں سمجھوں گا جاگا ہے نصیبا مرا احقرؔ

    حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کے دیوان دوم جذباتِ اکبرؔمیں آپ کی تین تاریخیں درج ہیں۔

    ’’قطعہ تاریخ از نتیجۂ فکر بلیغ ،صوفی صافی منش ، جامع کمالات صوری و معنوی، ماہرفن سخنوری، متوکل باللہ ،جناب حاجی شاہ محمد عبداللہ صاحب ابوالعُلائی الاکبری داناپوری سلمہٗ اللہ الاکبر‘‘

    طبع گردید چو دیوان احقرؔ

    شور احسنت زماہی آمد

    دہ چہ پاکست کلامِ حضرت

    ناطقہ خود بگواہی آمد

    سالِ دیوان جناب مرشد

    ’’چشمۂ فیض الٰہی آمد‘‘

    ۱۳۲۹ھ

    ایضاً

    میں لکھوں اس صحیفہ کی تاریخ

    چھوٹا منہ بات گو بڑی ہے یہ

    دوست و احباب کے تقاضے سے

    فکر اک تازہ میں نے کی ہے یہ

    یعنی دیوان پیر و مرشد کی

    میں نے تاریخ اب لکھی ہے یہ

    بحر زخار فیض ہے دیوان

    موجِ دریا سے دلبری ہے یہ

    گر نہ دیں اہلِ فن کلام کی داد

    قہر ہے ظلم و دشمنی ہے یہ

    دو عدد گرچہ بڑھ گئے ہیں مگر

    ’’چشمۂ فیض ‘‘ دائمی ہے یہ

    ۱۳۳۱ھ

    ایضاً

    آپ کا نام رات دن جپنا

    اب تو احقرؔ کی زندگی ہے یہ

    ایضاً

    اربابِ سخن پڑھ کر احسنت پکار اٹھے

    جب طبع ہوا پیرومرشد کا مرے دیواں

    دل نے کہاں حضرت کے دیوان کی تاریخیں

    سب لکھ چکے اے احقرؔ کچھ تو بھی کر ساماں

    جب فکر ہوئی مجھ کو آئی یہ ندا لکھ دو

    محبوب دل آرا کا ’’مرغوب ہوا دیواں‘‘

    ۱۳۳۱ھ

    (جذباتِ اکبرؔ،ص ۷۷)

    حاجی صاحب کا ابتدائی عہد میں کلکتہ، بانکا، بھاگل پور،اسلام پور اور کاکو میں آنا جانا تھا، کاکو کے رئیس اعظم شیخ عبدالرحمٰن کے دولت کدہ پرٹہرتے تھے،آپ سال میں متعددبار کئی کئی ماہ تک الہ آباد سے باہر رہتےبالخصوص داناپور اور آگرہ میں زیادہ قیام رہتا، بعض لوگوں کے ادب و احترام کا یہ عالم تھا کہ جب اپنے تانگے پر بیٹھے ہوئے آپ کی خانقاہ کے سامنے سے گزرنے لگتے تو بلحاظ ادب تانگے سے اتر جاتے اور کچھ دور پیدل چلنے کے بعد سوار ہوتے۔

    ۱۳۴۳ھ کا یہ واقعہ مشہور ہے کہ آگرہ میںحضرت سیّدناامیرابوالعُلاکے عرس میں آستانے پرمحفل سماع میں آپ جلوہ افروز تھے کہ قوال کے کسی مصرعے پر ایک صاحبِ کیف مرید پر کیفیت طاری ہوگئی، دھیرے دھیرے اس میں شدت پیدا ہوتی گئی، یہاں تک کہ شدید بے چینی و بے کلی کے سبب سدھ بدھ ہوتا گیا، نقل و حرکت ساکت ہوگئی، یوں گماں گزرا کہ شاید اس کا دم نکل رہاہے، معاملہ تشویشناک بن گیا، اتنے میں حاجی صاحب نے قوال کو اسی مصرعے کی تکرار پیہم کا حکم دیا کہ اس کے سوا کچھ اور نہ پڑھنا، دریں اثنا آپ پر بھی کیفیت طاری ہوگئی اُسی عالم جذب و کیف میں اُٹھ کر اس بے حال مرید کے پاس گئے، اس کے ساتھ معانقہ کیا، سینے سے لگایا، آنکھوں سے آنکھیں ملیں اور اس کی اُکھڑی ہوئی سانس بحال ہونے لگی، معانقۂ پیر اور تکرارمصرعہ ہی اس کیفیت کاا صل علاج ہے، آپ پر اپنے اس وجد و کیف کا بہت گہرا اثر مرتب ہوا، طبیعت میں غیر معمولی تغیر پیدا ہوتا گیا پھر آپ آگرہ میں ٹھہرے ہی نہیں، اسی کیفیت میں الہ آباد تشریف لائے اور اکثر بسترا پر ہی رہتے مگر اس دوران فرض و سنن میں کسی بھی قسم کی کمی محسوس نہ ہوئی، روزانہ حکیم علاج و معالجہ کے لیے آیا کرتے ،حاجی صاحب کو شاہ نعمت اللہ صابری (سجادہ نشیں: دائرہ شاہ محب اللہ )سے غایت درجہ کی محبت تھی، اس لیے روزانہ آپ حاجی صاحب کی خیریت دریافت کرنے خانقاہ آیا کرتے، جب حاجی صاحب کاآخری وقت قریب آیا تو آپ وہیں پا س میں موجودتھے دونوں ہی بزرگ غمگین و تنہا تھے، حاجی صاحب اپنے سر کو شاہ نعمت اللہ کی گود میں رکھ کر اُن کی طرف دیکھ رہے تھے،اِدھرشاہ نعمت اللہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھی کہ کچھ ہی لمحے میں وقت عصرومغرب حاجی صاحب کی روح پُرفتوح دارِفانی سے دارِبقاکی جانب کوچ کرگئی، حاجی صاحب کے رحلت کی تاریخ ۵؍جمادی الثانی روز پنجشنبہ ۱۳۴۳ھ ہے، دوسرے روز خانقاہ میں مدفون ہوئے، محمد نظام الدین بن مولانا ولی محمد عطار الہ آبادی رقمطراز ہیں کہ

    ’’راقم الحروف کے بچپنکا زمانہ تھا، میں اپنے والد صاحب مرحوم کے ہمراہ تدفین کے وقت گیا تھا، مسجد کے دروازہ پر کھڑا دور سے دیکھ رہا تھا، مٹی کا ڈھیر پڑا تھا، چارون طرف لوگ جمع تھے، مٹی دینے جا رہے تھے‘‘

    (تاریخِ مشائخِ الہ آباد، ص؍۹۳)

    اس موقع پر منشی محمد نظرابوالعُلائی الہ آبادی نے قطعۂ تاریخِ رحلت بھی رقم کیا ہے۔

    صوفیٔ گوشہ نشیں زائرِ بیت الحرام

    شیخ عبداللہ حاجی پاک روح و پاک دم

    گوہرِ بحرِ ولایت ذات پاک او نظرؔ

    ’’محرمِ اسرارِ الٰہی منبع لطف و کرم‘‘

    ۱۳۴۳ھ

    (مولانا سیّدعبدالرشید قادری کی دینی خدمات و حیات کا مختصر جائزہ،ص؍۳۲)

    حاجی صاحب کے عرس کے مبارک موقع پر نظرؔالہ آبادی نے چند اشعار گلہائے عقیدت کے کہے ہیں، قارئین کی دلچسپی کے لیے وہ اشعار لکھے جارہے ہیں۔

    عبد وہ جو بندۂ فرمان ہے

    شکر مالک ہر نفس ہر آن ہے

    اس کے پیارے کی اطاعت کیجیے

    کملی والے کی محبت کیجیے

    دین و دنیا کے ہیں یہ مشکل کشا

    مانتا ہے بات ان کی سب خدا

    ساقیا پھر آگیا سالانہ دور

    ہے کریمانہ ترا رندانہ دور

    میکدہ آباد تیرے دور میں

    دوست و دشمن شاد تیرے دور میں

    ایک مستِ ابوالعُلا کا عرس ہے

    حاجی عبداللہ شاہ کا عرس ہے

    درسِ وحدت ہے حقیقت آپ کی

    الفتِ اکبر ہے الفت آپ کی

    بوالعُلائی سلسلہ کا ناز ہے

    پاک دل ہے چشم حق بیں لیجیے

    کیفیت تربیت کا نظارہ کیجیے

    لیجیے ہاں فیض بین لیجیے

    زینت بزم سماع حضرات آئیں

    تصدیعہ پرداز ہوں تشریف لائیں

    صبح ہے قرآن خوانی کے لیے

    رات ہے کیف ترانی کے لیے

    شام نورانی سہانی ہے سحر

    باخبر ہے آج قلب بے خبر

    عاجز و مسکیں فقیر عبدالحلیم

    بندۂ خاصانِ حق خادم قدیم

    فیض صحبت آپ سے حاصل کرے

    سال بھر پھر دم محبت کا بھرے

    فیض روحی ہے نظرؔ کے واسطے

    پھول پھل سوکھے شجر کے واسطے

    (اشتہار عرس حاجی عبداللہ، الہ آباد،۱۹۴۸ء)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے