Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیر حضرت شاہ عزیزالدین حسین منعمی

ریان ابوالعلائی

ذکر خیر حضرت شاہ عزیزالدین حسین منعمی

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    صوبۂ بہار کا دارالسلطنت عظیم آباد نہ صرف معاشی و سیاسی اور قدیمی لحاظ سے ممتاز رہاہے بلکہ اپنے علم و عمل ،اخلاق و اخلاص ،اقوال وا فعال ،گفتار و بیان اور معرفت و ہدایات سے کئی صدیوں کو روشن کیا ہے، یہاں اؤلیا واصفیاکی کثرت ہے، بندگان خدا کی وحدت ہے، چاروں جانب صوفیوں کی شہرت ہے ،وہیں اہل دنیا کے لیے یہ جگہ نشان ہدایت ہے، چودہویں صدی ہجری میں بہار کے مشائخ کا عظیم کارنامہ ظاہر ہوا ان میں خانقاہ منعمیہ قمریہ ،میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی کے معروف سجادہ نشیں حضرت مولانا سیّد شاہ عزیزالدین حسین منعمی القمری کی پاکیزہ شخصیت نمایاں شان کی حامل ہے، آپ بہار کی خانقاہ کے ان چند بلند پایہ سجادگان ذیشان میں سے ایک ہیں جن پر اس سرزمین کو بجا طور پر ناز ہے۔

    حضرت شاہ عزیز الدین حسین ۱۲۶۶ھ میں پیداہوئے آپ اپنے بھائیوں میں منجھلے تھے،کم سنی میں آپ کے والد ماجد حضرت شاہ مبارک حسین(متوفیٰ ۱۲۷۳ھ) کا انتقال ہوا اس لیے آپ کی پرورش و پرداخت خانوادہ کے مقتدر بزرگان عظام نیز برادر اکبر حضرت حافظ شاہ منیر الدین حسین(متوفیٰ ۱۲۸۷ھ)کے ذریعہ ہوتی رہی ،زمانۂ طفولیت ہی سے آپ کی شخصیت ظاہر ہونے لگی تھی، خاندانی روش کے پرتو اور اسلاف کے پیروکار ہوتے چلے گئے ،کم عمرہی سے کچھ کرجانے کا جذبہ اور ولولہ آپ کے اندر موجود تھا ،خانوادہ عالیہ کے افراد ہوں یا سلسلۂ طریقت کے شہسوار دونوں جگہ آپ قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے، آپ کے اوصاف و کمالات کادائرہ کافی وسیع ہے راقم الحروف صرف چند ظاہری اوصاف و کمالات کوجمع کرکے ہدیۂ تبریک پیش کرنا چاہتاہے کیوں کہ اپنے اسلاف کے اوصاف جمیلہ اور الطاف حمیدہ کا تذکرہ کرنا باعث خیروبرکت ہے ۔

    ذرہ سنبھل کر فقیروں پہ تبصرہ کرنا

    یہ سوکھی ندی سے بھی پانی نکال دیتے ہیں

    شاہ عزیزالدین حسین کے والد حضرت شاہ مبارک حسین(متوفیٰ ۱۲۷۳ھ) اور جد امجد اعلیٰ حضرت شاہ قمرالدین حسین(متوفیٰ ۱۲۵۵ھ) عظیم آباد میں یکتائے روزگار اور عدیم المثال بزرگ گزرے ہیں ، عظیم آباد کی سرزمین پر اس خانوادہ کے فقر کا سکہ بہت بلند ہے،کندن کو سونا بنانا،زمین کو مثل آسمان کرنا یہ اس خانوادہ کا خاصہ رہا ہے، تاریخ عظیم آباد میں اس خانوادے کا ایک روشن باب ہے۔

    شاہ عزیز الدین حسین کا خانوادہ حسب ونسب کے لحاظ سے کافی بلند ہے یہاں آپ کا پدری نسب نامہ درج کیاجاتاہے ۔

    عزیزالدین حسین بن مبارک حسین بن قمرالدین حسین بن شمس الدین حسین بن ولی اللہ بن محمد یٰسین بن محمد باصر بن محمد حسینی بن اؤلیا بن صدرجہاں بن قطب الدین بن تقی الدین بڑے بن جلال الدین بن محمد کالپی بن جمال الدین بن علاؤالدین بن تاج بن اسمعٰیل بن اسحٰق لاہوری بن داؤد بن یعقوب بن یوسف بن عبداللہ بن حسن بن ابوالقاسم ابن براہیم بن اسمعٰیل بن حسین بن علی رضا بن جعفر خراسانی بن محسن بن ہاشم بن عبداللہ بن امام محمد باقربن زین العابدین بن امام حسین بن علی مرتضیٰ بن ابی طالب۔

    (تذکرۃ الکرام ،ص؍ ۶۷۷)

    مذکورہ نسب نامے میں ایسے ایسے پاکیزہ نام شامل ہیں کہ ان ناموں کا ورد بھی باعث برکت ہے ۔

    شاہ عزیزالدین حسین علوم متداولہ میں جب کامل و اکمل ہوئے تو سلسلہ ٔ فقر کی طرف متوجہ ہوئے ،آپ کوبچپن ہی سے حضرت مخدوم شاہ محمد سجاد پاک(متوفیٰ۱۲۹۸ھ) کی ذات سے اتحاد تھا، انہیں کی صحبت فیض منزلت کو اختیار کیا اور نعمت باطنی سے فیضیاب کیا، حضرت مخدوم محمد سجاد نے آپ کے حفظ ومراتب میں جلا بخشی اور سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعُلائیہ میں بیعت کرکے مجاز مطلق فرمایا۔

    چنانچہ اس سلسلے میں حضرت شاہ اکبر داناپوری رقمطراز ہیں کہ

    ’’آپ حضرت سیّدشاہ قمرالدین حسین قدس اللہ سرہٗ العزیز کے پوتے اور سجادہ نشیں ہیں اور جناب حضرت سیّدشاہ مبارک حسین قدس اللہ سرہٗ العزیزکے فرزند اوسط ہیں، صاحب نسبت قویہ و فہم سلیم ہیں، بشرے سے آثار کیفیت و نسبت پائے جاتے ہیں آپ کو کم عمری سے والد ماجد حضرت سیّدشاہ محمد سجادقدس اللہ سرہٗ العزیزسے شرف بیعت و خلافت حاصل کیا اور اب اس سجادہ کو آپ کی ذات بابرکات سے رونق ہے،الھمہ زد‘‘

    (نذرِمحبوب،ص؍۳۸)

    شاہ عزیزالدین حسین کو اپنے پیرومرشدسے بے پناہ محبت تھی، اکثر سفر وغیرہ میں بھی اپنے پیر کے ہمرا رہاکرتے تھے آپ کو اپنے پیر سے ایسی نسبت ہوئی کہ ساری نسبت وہاں پھیکی پڑگئی ۔

    حضرت شاہ محمد کبیر ابوالعُلائی داناپوری (متوفیٰ ۱۳۲۹ھ) لکھتے ہیں کہ

    ’’اور آخری سفر حج آپ (حضرت سجاد)کا ۱۲۹۶ھ میں ہوااس سفر میں آپ کی ہمرکابی میں جناب سیّدشاہ عزیزالدین حسین مدظلہٗ بھی تھے کہ صاحبزادے جناب حضرت سیّد شاہ فخرالدین حسین المشہور شاہ مبارک حسین بن حضرت سیّدشاہ قمرالدین حسین عظیم آبادی قدس اللہ سرہٗ کے اور آپ کے خلفائے عظام سے ہیں اور فیض بخش مسند ارشاد ہیں‘‘

    (تذکرۃ الکرام،ص؍ ۷۱۱)

    حضرت شاہ محمد یحییٰؔ ابوالعُلائی عظیم آبادی(متوفیٰ ۱۳۰۲ھ) نے آپ کے سفر حرمین و شریفین پر قطعۂ تاریخ لکھاہے۔

    قطعہ اول

    عزیز اللقب سیّد وشاہ من

    کہ دارد بسر تاج فقر و فنا

    مع الخیر باز آمدہ از عرب

    نمودہ اداحج بیت خدا

    پس از حج طواف مزاررسول

    اداکردباعشق وصدق و صفا

    بتاریخ گفتیم و قت قدوم

    کہ’’خوش آمدی سیّدی مرحبا‘‘

    ۱۲۹۶ھ

    دیگر

    شاہاہند نکہت جاںبخش کوہے دوست

    اندرحشام جان من از بوے پاک تو

    درمکہ و مدینہ اداکردۂ نماز

    مامسجد می کنم درابروے پاک تو

    مابین قبر و منبر احمد نشیۂ

    جائے نشست ماست گیسوئے پاک تو

    تاریخ گو ئمت چہ مبارک پے آمدی

    اے کعبہ و مدینہ من کوے پاک تو

    شاہ عزیزالدین حسین کی کمال محنت و معرفت سے ان کے پیرومرشد حضرت قبلہ وکعبہ مخدوم شاہ محمدسجادقدس سرہٗ (متوفیٰ۱۲۹۸ھ) بھی ان کی عظمت ورفعت کے قائل ہو چکے تھے، حضرت مخدوم سجاد حضرت عزیز کو مرشدزادے اورمخدوم زادے کی نسبت سے بھی قدر کیاکرتے تھے۔

    حمدؔ کاکوی (متوفیٰ ۱۳۵۷ھ) لکھتے ہیں کہ

    ’’جناب سیّد شاہ عزیز الدین علیہ الرحمۃ قریب میں آپ کے بیٹھے ہوئے تھے اور یہ مرشد کے پوتے تھے،ایک مرتبہ کا چشم دید واقعہ ہے کہ میر سجاد حسین مرحوم (ساکن:محلہ چک، الہ آباد) آپ کے مرید تھے،حضرت شاہ قمرالدین علیہ الرحمت کے عرس میں آئے ہوئے تھے ،اس مجلس میں ناچیز بھی حاضر تھاکہ میرممدوح (مریدوخلیفہ حضرت مخدوم محمد سجاد داناپوری) کو کیفیت آئی اور اُس حالت میں حضور کے قدم پر سر رکھ دیا حضور نے اُن کے سر کو اپنے ہاتھ سے اُٹھاکر پہلو میں جناب سیّدشاہ عزیزالدین صاحب تھے ان کے قدم پر رکھ دیا‘‘ (آثارِ کاکو)

    شاہ عزیزالدین حسین کی سجادگی کے بعد ان کی اہمیت میں دوبالااضافہ ہوگیا تھا، مریدان ومعتقدان بھی بکثرت ہوئے یہاں تک کہ علمابھی آپ کی ذات سے متاثر ہوکر صحبت کے متلاشی ہوئے ،غرض کہ مولانا محمد حسین قادری رمزؔحاجی پوری (متوفیٰ ۱۳۴۳ھ) کا نام علمائے بہار کے متحرک علمامیں شمارہوتاہے، آپ کو تعلیم وارشاد حضرت شاہ عزیز الدین حسین سے حاصل تھا۔

    چنانچہ اس سلسلے میں حکیم سیّداحمد اللہ ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ

    ’’اور جناب سیّدشاہ منیرالدین حسین وجناب سیّدشاہ عزیز الدین سجادہ نشینان تکیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی سے تعلیم پاتے رہے ‘‘

    (تذکرہ مسلم شعرائے بہار، جلد دوم ،ص؍ ۷۸)

    وقت حالات کے تحت بدلتے گئے لیکن آپ زمانہ کے ساتھ مراحل ومقامات طے کرتے چلے گئے اور چودہویں صدی ہجری کے اوائل بحیثیت سجاہ نشیں کے خاصان و عامیان کے درمیان معروف ہوئے ،آپ کے عہد سجاگی میں خانقاہ منعمیہ قمریہ، میتن گھاٹ کو خوب شہرت ملی آپ اپنے برادر اکبر حضرت حافظ شاہ منیرالدین حسین کے وصال کے بعد ۱۲۸۷ھ سے تاعمر وفات سجادہ نشیں رہے، آپ اس سجادہ پر طویل مدت تک رونق افروز رہے یعنی ۳۶؍برس ،نام ونمود اور عروج و اعتلا سے کافی دور رہے ،ہمعصر مشائخ میں آپ کی ذات روشن تھی، آپ کی بلندشخصیت سے متاثر ہوکر حضرت شاہ محمد اکبر ابوالعُلائی داناپوری (متوفیٰ ۱۳۲۷ھ) آپ کو

    ’’افتخارالاخوان، برادرِ والاشان سیّد شاہ عزیزالدین حسین صاحب زاداللہ عرفانہ‘‘

    سے یاد فرماتے تھے۔

    شاہ عزیزالدین حسین نے چودہویں صدی ہجری کے اوائل میں علماو صلحا کے درمیان محبتوں چراغ روشن کیا ہے ،آپ اہلِ سنت کی خدمات جلیلہ کو خوب شائع و ذائع کرتے،علما کے اختلافات و تنازعات ،تکافل و تغافل اور افراد وتفریط کو مطمئن خاطر کرنے کے لیے قاضی عبدالوحید فردوسی (متوفیٰ ۱۳۲۶ھ)جو قاضی اسمعٰیل قدیمیؔ کے نبیرہ ہیں،رائے و مشورہ کے بعد عظیم آباد میں اہل سنت کا عظیم اجلاس منعقد کیا، اس میں علمائے ہند کا ایک بڑاطبقہ عظیم آباد میں شامل اجلاس ہوا، ان میں علمائے بدایوں،بریلی،رام پور، الہ آباد وغیرہ سے مخصوص جماعت عظیم آباد تشریف فرماہوئے ،تحفظ عقائد کی مہم خاصان و عامیان کے درمیان خوب چل رہی تھی اس موقع پرآپ ان پاکیزہ تحریکوں کا ساتھ دیابلکہ معاون و مددگار ہوکر اجلاس کے لیے اپنی خانقاہ سے دریاں، توشک،تکیے اور شمع دان وغیرہ تک بھیجے تاکہ ہرحال میں اجلاس کو کامیاب بنایاجاس کے اس مبارک موقع پر بیشتر علماو صلحا کے ساتھ خوش عقیدگی کی بہار دیکھنے کو مولانا احمد رضاںخاں (متوفیٰ ۱۳۴۰ھ) بھی عظیم آباد تشریف لائے۔

    رضاؔ بریلوی اپنے عربی قصیدہ امال الابراروالام الاشرارمیں یوں ذکرِ عزیز کرتے ہیں۔

    ’’عزیزالدین ذَاعِز یسَّوُد‘‘

    (ص؍۱۲)

    دوسری جگہ حسنؔ رضا بریلوی نے مثنوی صمصام حسن بردابر فتنمیں کہتے ہیں کہ

    ’’شاہ سماعیل و عزیز و امیر‘‘

    (ص؍۴۰)

    اسی سلسلے میں شاہ عزیزالدین حسین کی تحریر مکتوبات و علماو کلام اہل صفا میں بھی درج ہوئی۔

    ’’تحریر جناب مولانا سیّد شاہ عزیز الدین حسین صاحب قمری ابوالعُلائی،زیب سجادہ قمریہ ،عظیم آباد،چوں کہ میں حنفی المذہب ہوں اور یہ ندوہ اجتماع مذاہب مختلفہ سے قائم کیا گیا ہے، لہٰذا میں اس کے خلاف ہوں‘‘

    (متوبات علماوکلام اہل صفا،ص؍ ۸۲)

    مذکورہ مکتوبات علماوکلام اہل صفا کے علاوہ دوسرے مختلف رسائل میں بھی ملتے ہیں ،وہیں دوسری طرف رسالہ تہدیدالندوہکے صفحہ نمبر ؍۱۰ پر ،دربار حق و ہدایت کے صفحہ۵/۱۶۱ پر اور فک فتنہ از بہار و پٹنہ کے صفحہ پر بھی حضرت کانام نامی اور تذکرہ گرامی شامل کتاب ہے۔

    کچھ اس طرح

    ’’جناب مولوی سیّدشاہ عزیزالدین صاحب قمری ابوالعُلائی ، سجادہ نشین حضرت مولانا منعم پاک‘‘

    (ص؍۱۶۱)

    حضرت شاہ نصیر الحق چشتی سجادہ نشیں خانقاہ چشتیہ نوآباد خُرد،پٹنہ بھی شاہ عزیز الدین حسین کے شانہ بشانہ تھے ،فرماتے ہیںکہ

    ’’میں جناب شاہ عزیزالدین حسین کا ہم زبان ہوں‘‘

    (مکتوبات علماوکلام اہل صفا ،ص؍۱۰۰)

    شاہ عزیز الدین حسین کی عالمانہ شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے ان کی محفل میں اکتساب فیض کرنے والے افراد صرف عالم دین اور فاضل متین ہی نہیں بلکہ مختلف اوصاف و کمالات کے افراد بھی کمال عقیدت مندی سے حاضر ہواکرتے تھے۔

    اصلاح ندوہ تحریک کے افراد ہوں یا سرسیّد احمدخاں کی تعلیمی بیداری سے متاثر شدہ افراد وہ شاہ عزیز الدین حسین کی صحبت سے مالامال رہے ہیں ،معاصر علماومشائخ آپ کو

    ’’قطب الاقطاب و غوث دوران وپیشوائے سالکان و ہادی گمراہان محبوب خدا شاہ غل لاہوت ،عالم ظاہری و باطنی ،مرجع خلائق جناب مولانا مولوی سیّدشاہ محمد عزیزالدین صاحب ابوالعُلائی دام برکاتہ محلہ میتن گھاٹ عظیم آباد ‘‘ (دافع المہمات،ص؍۱۲)

    سے یاد کیاکرتے تھے۔ شاہ عزیز الدین حسین مختلف خوبیوں کے مالک تھے، وہ ایک بہتر عالم دین، فاضل متین ،صاحب صدق و یقین ،بزرگوں کے امین ،شعروسخن کے شوقین،علمائے اہل سنت کے معاونین اور خانقاہ منعمیہ قمریہ ،میتن گھاٹ ،پٹنہ سیٹی کے معروف سجادہ نشیں تھے۔

    شاہ عزیز الدین حسین حنفی المذہب ،منعمی قمری مشرب اور رضوی النسب بزرگ تھے۔

    سیّد بدرالحسن (متوفیٰ ۱۳۵۴ھ) ان کی شکل و شباہت ،اوصاف و کمالات کے عینی شاہدہیں، شاہ عزیز الدین حسین پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

    ’’راقم نے اس گدی پر شاہ عزیز الدین حسین کو دیکھا تھا، واقعی جوان صالح تھے اور فقیری کی شان ان میں دیکھا ،سیّدھے سادھے نیک مزاج صاحب دل باخلاق پُر کیف آدمی تھے‘‘ (یادگار روزگار،ص؍۱۲۲۴)

    آپ کو شعرو سخن سے رغبت رہی ہے،آپ شعرو سخن کے شوقین ہی نہیں بلکہ دل دادہ تھے ،آپ کی غزلیں ،نعت ،قطعات ورباعیات وغیرہ خانقاہ منعمیہ قمریہ کے کتب خانہ میں موجود ہے ،جاننا چاہیے کہ حضرت عزیز کے دست خاص کا نوشہ

    ( رسالہ فناوبقا (از حضرت سیّدنا امیر ابوالعُلا)

    ( رسالہ مرشدیہ (از جامع حضرت سیّدقمرالدین حسین)

    ( رسالہ جواہر الانوار (از حضرت سیّدقمر الدین حسین )

    بھی خانقاہ منعمیہ قمریہ کے کتب خانے کی زینت ہے ۔

    حضرت شاہ محمد یحییٰؔ ابوالعُلائی عظیم آبادی(متوفیٰ ۱۳۰۲ھ) کی رحلت پر آپ کا ایک قطعۂ تاریخ فتوحاتِ شوقمیںدرج ہے۔

    ’’قطعۂ تاریخ طبع سیّدشاہ عزیزالدین حسین صاحب دام فیضہٗ خلف الصد ق میر مبارک حسین قدس سرہٗ مرشد صاحب دیوان علیہ الرحمۃ والرضوان

    شاہ یحییٰ بفقہ زہدو ورع

    شدچوں زندہ ہنوز ذات قدم

    تیرہ یمنود عالم فانی

    دیدۂ دل شد از غممش پُر نم

    یکسر از موت آں خجستہ صفات

    دفتر نظم و نثر شد برہم

    بطفیل جناب رکن الدین

    یافت نعمت زمنعم عالم

    قمری و ابوالعُلائی بود

    برکات و فیوض داشت اتم

    ازمبارک حسین قطب زماں

    نسبت فقر داشت اولحکم

    یاالٰہی بحق آل عبا

    نظرے کن باوزلطف و کرم

    بدعائے عزیز ؔ کن یارب

    حشر باحمد شفیع امم

    پئے تاریخ آں ولیِ خدا

    ’عاشقِ خاص بوالعُلا فگتم‘

    ۱۳۰۲ھ (فتوحاتِ شوق ،ص؍ ۵۵۶)

    حضرت عزیزؔ کی لکھی ہوئی ایک غزل بھی ملتی ہے،ملاحظہ ہو

    پتلے میں آیاخاک کے آدم کہاگیا

    جلوہ ہر ایک رنگ میں ہم کو دکھایا گیا

    توحید کا سبق ہمیں اُس ے پڑھادیا

    پردہ تھا اک خودی کا سووہ بھی اُٹھا گیا

    آخر جنون عشق نے کیا کیا کیا سلوک

    سب استخوان اور رگ و پ کو جلاگیا

    تھی آرزویہی کہ کوئی گھونٹ ہونصیب

    وہ خم کا خم مجھے مئے وحدت پلایاگیا

    قاتل بناہے آپ اور مقتول ہے وہی

    منصور بن کے آپ کو سولی چڑھا گیا

    جس کو تلاش کرتا ہے تو کو بکو عزیز

    اب دیکھ ہر بشر میں وہ آکے سما گیا

    (وظائف العارفین، ص؍۶۳)

    حضرت شاہ عطاحسین منعمی(متوفیٰ۱۳۱۱ھ)رقمطراز ہیں کہ

    ’’دومی سیّدشاہ عزیزالدین حسین کہ ایں نیز در علم عربی و فارسی حیثیت دارند وافر بیعت ایشاں راہست از عم الاصغر سیّدشاہ محمد سجاد مسند نشین ارشاد‘‘

    (کنزلانساب،ص؍۳۱۹)

    شاہ عزیز الدین حسین کا حلقہ مریدان ومعتقدان بھی ہوا آپ نے بعض افراد کو اجازت و خلافت سے بھی مشرف فرمایاہے۔

    حضرت شاہ رضی الدین حسین منعمی: آپ کو بیعت و خلافت حضرت مخدوم شاہ محمد سجادپاک سے حاصل تھی، نیز تعلیم وارشادات برادر اوسط شاہ عزیزالدین حسین سے حاصل تھی ،حضرت عزیز کی رحلت کے بعد آپ ہی جانشیں و سجادہ نشیں ہوئے۔

    حضرت شاہ تقی الدین حسین منعمی : آپ کو بیعت وخلافت نیز تعلیم وارشادات کُل حقیقی عم گرامی حضرت شاہ عزیزالدین حسین سے حاصل تھی، آپ حضرت رضی الدین حسین کے فرزندرشیدتھے، اس طرح آپ حضرت عزیز کے برادرزادہ بھی ہوئے،حضرت رضی الدین حسین کے بعد آپہ ہی خانقاہ منعمیہ قمریہ میتن گھاٹ کے سجادہ نشیں ہوئے۔

    سیّدمنظور امام: آپ کو بیعت سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعُلائیہ میں حاصل ہے، آپ کو اپنے پیرومرشد سے پانچ طریقوں میں اجازت وخلافت بھی حاصل ہے،سلسلہ نقشبندیہ، ابوالعُلائیہ ،چشتیہ،قادریہ،فردوسیہ اور مداریہ ۔

    (سفینۂ حضرت عزیز،مخزونہ کتب خانہ خانقاہ منعمیہ قمریہ)

    قاضی سیّدرضا حسین : آپ شہرعظیم آبادکی رونق تھے، آپ کو بیعت و خلافت حضرت امیر ابوالحسن منعمی(متوفیٰ ۱۲۸۸ھ)سے تھا ،سال رحلت ۱۳۰۹ھ ہے، مولوی سیّد عبدالغنی (متوفیٰ ۱۳۳۸ھ)لکھتے ہیں کہ

    ’’اکثر سجادہ نشینوں سے اُن کوپورا خلوص اور سچاروحانی تعلق تھا جس میں خصوصیت کے ساتھ جناب سیّدشاہ میاں جان صاحب ، جناب سیّدشاہ محمد یحییٰ ،شاہ عزیز الدین صاحب ،شاہ حفاظت حسین صاحب قدس سرہٗ کا تذکرہ ضروری‘‘

    (قاضی سیّد رضا حسین ،ص؍ ۸۴)

    منشی حسن علی : قاضی سیّد رضا حسین کو شاہ عزیز الدین حسین سے بے پناہ قلبی ربط تھا، یہی وجہ رہی کہ انہوں نے منشی حسن علی (متوفیٰ ۱۳۱۴ھ )کو جو معروف واعظ و مصنف تھے، شاہ عزیز الدین حسین سے بیعت کرائی ۔

    چنانچہ ڈاکٹر مظفراقبال لکھتے ہیں کہ

    ’’انہیں ایک مرشد کامل کی تلاش ہوئی اور انہوں نے اپنے ہم دم قاضی رضا حسین صاحب سے مشورہ کیا ،قاضی صاحب نے انہیں اپنے پیرومرشد سیّدشاہ عزیزالدین صاحب قمری ابولعُلائی کی طرف رجوع کیا چنانچہ وہ مرید ہوگئے اور مرشد نے روز اول سند خلافت بھی عنایت فرمائی‘‘

    (بہار میں اردو نثر کا رتقا،ص؍ ۱۰۸)

    جاننا چاہیے کہ منشی حسن علی بعد میں قادیانی جماعت کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔

    حضرت مخدوم شاہ محمد سجادپاک(متوفیٰ ۱۲۹۸ھ) کے مریدوخلیفہ یعنی آپ کے پیر بھائی حضرت شاہ محمد ادریس چشتی (متوفیٰ ۱۳۵۴ھ) کو بعض اوراد ووظائف کی اجازت آپ سے حاصل ہے۔

    (دافع المہمات، ص؍ ۱۲)

    حضرت ادریس سیرداؔ عظیم آبادی فرماتے ہیں کہ

    حضرت عزیز جو تھے ہر دل عزیز

    غورکر دیکھ وہ پیش نظر نکلا

    (دیوان سیرداؔ،ص؍ ۴)

    شاہ عزیز الدین حسین کے دو خاص مرید بااختصاص کا ذکر سیّدبدرالحسن نے اپنی کتاب یادگارِ روزگارمیں کیاہے ۔

    ’’ڈاکٹر ایثارالحق کے دو لڑکے تھے ایک کانام پیارے میاں دوسرے لڑکے کانام نبَّامیاں ہیں، یہ دونوں ہنوززندہ ہیں ان لوگوں کومریدی کا تعلق میتن گھاٹ میں خانقاہ شاہ عزیزالدین مرحوم سے تھا‘‘ (ص؍۳۶۳)

    شاہ عزیزالدین حسین کا نکاح ۱۲۹۲ھ میں علی گنج سیوان کے شیخ غلام صمدانی کی صاحبزادی سے ہوا تھا ،حضرت عزیز کے ساتھ ان کے دو چھوٹے بھائی شاہ شرف الدین حسین رضویؔ و شاہ رضی الدین حسین کا عقد بھی اسی موقع پر ہواتھا ،واضح ہوکہ شاہ عزیز الدین اور شاہ شرف الدین دونوں کا نکاح دختران شیخ غلام صمدانی سے ہوا اور حضرت شاہ رضی الدین کا عقد حضرت شاہ علی حسین داناپوری(متوفیٰ۱۲۹۹ھ)کی صاحبزادی سے ہوا،اس پر مسرت موقع پر ’’تاریخ ہائے زواج سراسرمنہاج صاحبزادگان عالی شان ‘‘ کے عنوان سے حضرت شاہ یحییٰ ؔ عظیم آبادی نے پانچ مختلف قطعات لکھے ہیں ۔

    ’’تاریخ ہائے زواج سراسر منہاج صاحبزادگان عالی شان تزویج اور اکبر واوسط بادختران شیخ غلام صمدانی صاحب بمقام علی گنج سیوان وکدخدائی برادر کوچک بادختر سیّدشاہ علی حسین صاحب داناپوری گردید ،زقیم اللہ تعالیٰ اولاد

    قطعہ اول

    ہر سہ فرزند مرشد نوشاہ

    باہمہ زیب زفر دہ چاہ شدن

    عقل بے درد سر بسال زواج

    گفت ’نوشاہ دہر سہ شاہ شدند‘

    ۱۲۹۲ھ

    (کنزالتواریخ ،قلمی ،ص؍۱۷۱)

    قطعہ دوم

    چوں عزیزالدین و شرف الدین رضی الدین ما

    کدخداگشتہ از افضل سلطان حجاز

    درد عا تاریخ انشا ساختم باجان شاد

    ’ہرسہ صاحبزادہ رایارب عطا فرزند ساز‘

    ۱۲۹۱ھ

    (کنزالتواریخ ،قلمی ،ص؍۱۷۱)

    قطعہ سوم

    سہ صاحبزادہ گردیدند ازفضل خدا نوشاہ

    مبارک بادالٰہی ہر یکسر خانہ آباد

    شد ایں مصرع کہ گفتم دردعا تاریخ لب یحییٰؔ

    ’مہینے و مبارک ایزداہر شہ شود شاہ بر‘

    ۱۲۹۲ھ (کنزالتواریخ ،قلمی ،ص۱۷۱)

    قطعہ چہارم

    شد انجام سہ شادی باکمال جشن وآرائش

    بدولت خانہ مول من بر خالق اکرم

    بہر سہ نوشہ دہر بہ فرزندان کرامت کز

    کہ گر د خاطر مسکین یحییٰؔ خرم و بینم

    مئے تاریخ جشن ایںسرشادی دردعا یارب

    مبارک ساز جشن ایں شاد ایزد ا گوہد

    (کنزالتواریخ ،قلمی ،ص؍۱۷۱)

    قطعہ پنجم

    عزیز الدین و شرف الدین رضی الدین نوشہ

    الٰہی تینوں بھائی کے مبارک خانہ آباد

    کہا تاریخ میں نے مجمع اقران میں ابر یحییٰؔ

    مبارک ہو سب کو تینوں بھائی کو حور شادیر

    (کنزالتواریخ ،قلمی ،ص؍۱۷۲)

    مذکورہ قطعات تاریخ حضرت یحییٰؔ عظیم آبادی کی کتاب ’کنزالتواریخ ‘میں موجود ہے اس کتا ب کا قلمی نسخہ خدابخش خاں اورینٹل پبلک لائبریری کے شعبۂ فارسی مخطوطات میں محفوظ ہے۔

    آپ کو ایک فرزند سیّد محمد رمضان علی ہوئے جس کی سال ولادت ۱۲۹۳ھ ہے ، حضرت یحییٰؔ عظیم آبادی نے اس قطعہ کہاہے۔

    ’’تاریخ صاحبزادۂ حضرت سیّدشاہ عزیزالدین حسین صاحب ‘‘

    ’’بفرزند مبارک ابن پسر عزیز مبارکباد‘‘

    ۱۲۹۳ھ

    قطعہ اول

    بشر ماعزیزالدین حسین

    حق پسر داد و خاطرم بشگفت

    ملہم غیب در سہ یحییٰؔ

    نام و سالش ’’غلام حیدر‘‘گفت

    ۱۲۹۳ھ

    قطعہ دوم

    بجناب عزیز الدین حسین

    کرد یزداں عطا نرینہ پسر

    گفت سال ولادتش یحییٰؔ

    ’’بارک اللہ بنور شمس وقمر‘‘

    ۱۲۹۳ھ

    قطعہ سوم

    فرزند ارجمند جناب عزیز دین

    انوار کند از چراش سطوع

    یحییٰؔ نوخت سال ولادت بلوح وپیر

    ماہ عزیز ’’گشتہ برافع علا طلوع‘‘

    ۱۲۹۳ھ

    قطعہ چہارم

    آں سیّدشریف عزیز الوجود ما

    چشم و چراغ او روشنی افزائے خاندان

    پاکیزہ خوخجستہ خصال و قمر جمال

    دارد بستہ نسبت جد پدر نہاں

    چوں نیرد رجوانیش ایز عطا نمود

    را بر منیر و عقل متین در برادرآں

    یزداں نرینہ پور مبارک بقا شی داد

    اقران و مخلصان ہمہ گشتند شادمان

    تاریخ دل پیش اہل فہم

    ’’ماہ قمر طلوع براوج شرف‘‘بخواں

    ۱۲۹۳ھ

    (کنزالتواریخ ،قلمی ،ص۱۷۹)

    آپ کی دو صاحبزادی تھیں ،پہلی صاحبزادی کی پیدائش پر بھی حضرت یحییٰؔ عظیم آبادی نے قطعہ کہاہے۔

    ’’قطعہ تاریخ ولادت دخترنیک اختر حضرت سیّدشاہ عزیز الدین حسین متولدہ رابع ذیجہ‘‘

    مادۂ’’دخت عزیزالدین صاحب‘‘

    ۱۲۹۴ھ

    قطعہ اول

    ایزد پاک عزیز الدین را

    دختر زہرہ حسینی بخشد

    مصرع سال ولادت اینست

    ’بنت فرزند مبارک گردید

    ۱۲۹۴ھ

    (کنزالتواریخ ،قلمی ،ص؍۱۹۰)

    واضح ہوکہ شاہ عزیز الدین حسین کی دونوں صاحبزادی مولانگر، مونگیر کے شاہ صاحبان شاہ کاظم اور شاہ حاتم سے بیاہی تھیں۔

    شاہ عزیزالدین حسین کی زندگی بالاخر ۵۶؍برس کی عمر میں تمام ہوئی، مختصر الفاظ میں یہی کہاجاسکتا ہے کہ ’زندگی ایک آہ تھی جسے حضرت عزیز نے واہ میں تبدیل کردی‘‘۔

    حضرت شاہ محمد محسن ابوالعُلائی داناپوری (متوفیٰ ۱۳۶۴ھ)اپنے سفینہ میں لکھتے ہیںکہ

    ’’بروز جمعہ بتاریخ سیوم ماہ رمضان المبارک بعدمغرب جناب عموی سیّدشاہ عزیز الدین صاحب رحلت فرمودند،اناللہ وانا الیہ راجعون‘‘ (سفینۂ حضرت محسن،مخزونہ کتب خانہ خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ)

    ۳؍رمضان المبارک ۱۳۲۳ھ تاریخ وصال ہے۔

    حضرت غفورالرحمن ابوالعُلائی حمدؔکاکوی(متوفیٰ۱۳۵۷ھ)نے قطعۂ تاریخ رحلت کہی ہے ۔

    ’’قطعہ تاریخ رحلت سیّدشاہ محمد عزیزالدین حسین صاحب عظیم آبادی‘‘

    سیّدشاہ عزیز الدین عالی نسب

    عارف و ہم ماجی وہم صوفی و سنی مِلل

    خاندانش درعظیم آباد بس روشن تراست

    شاہ قمرالدین جدش او بود شیخ اجل

    بود برسجادہ اجد اد خود راجلوگرہ

    دادرو اے سلسلہ را زود از حسن مثل

    کرد بیعت جناب حضرت سجاد شاہ

    عقدہ ہائے فقرراز فیض او بنمود حل

    درجوانی کرد رحلت ایں جہاں بے بقا

    چوں رسیدہ پیش خالق یافت در جنت محل

    جانشین شد رضی الدین برخورد او

    در حق طالب وجودش ایں نعم البدل

    بہر سال ارتحالش گفت ہاتف ’حیف وآہ‘

    ’شمع بزم صوفیا را کردگل باداجل‘

    ۱۳۲۳ھ

    (کلیات حمدؔ ،مخزونہ کتب خانہ خدابخش خاں،شعبۂ مخطوطات اردو)

    آپ کا مزار آستانہ حضرت شاہ قمرالدین حسین،میتن گھاٹ کے سرہانے ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے