ذکر خیر حضرت جنابحضور شاہ امین احمد فردوسی بہاری
کسی بھی شئے کو ممتاز اور خوشگوار بنانے کے لیے غیر معمول صفت کا ہونا ضروری ہوتا ہے خواہ وہ شاہانِ زمانہ ہو یا صوفیائے کرام جن کی حسین تر زندگی یعنی اخلاق و کردار کی بنا پر وہ شہر جہاں یہ بستے ہیں ممتاز ہوتی ہے،اس طرح امتداد زمانہ کے بعد رفتہ رفتہ ان شاہوں کے رسوخ میں کمی آنے لگتی ہے اور ایک دن یہ شاہانِ زمانہ بھی اپنی چند جھلکیوں کے ساتھ معدوم ہوجاتے ہیں، وہیں دوسری طرف صوفیائے کرام کہ ہزار برس بعد بھی آپ کے معتقد اسی شان و شکوہ کے ساتھ حاضر ہوکر اپنی من کی مرادپاکر آپ کی شخصیت کو متعارف کراتے رہتے ہیں انہیں مقتدر صوفیوں میں اک نام حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری (متوفیٰ۷۸۲ھ) کا ہے، جن کے مکتوبات و ملفوظات سے خاصان و عامیان ہر زمانے میں فیضیاب ہوتے چلے آرہے ہیں بلکہ شاہانِ زمانہ کے ساتھ ساتھ محترم اصحابِ فکر کی مخصوص جماعت نے بھی مکتوبات صدی کو اپنے لیے اخلاق واخلاص اور تذکیہ نفس کا بہترین نسخہ قرار دے کر معتقدین کے دلوں کو آباد و شاد کیا اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بعد کی شخصیات نے تعلیماتِ مخدوم کو عام نہ بلکہ خوب سے خوب کیا لیکن رحلت مخدوم کے تقریباً پانچ برس بعد جب ضرورت تھی بہار شریف کو عالم باعمل کی ، شاعر بے بدل کی جو صوفیانہ کردار کے ساتھ عارفانہ شاعری میں بھی عدیم المثال ہو، مثنوی گوئی میںبھی کمال ہو،وہ مختلف اصناف سخن کے لیے مشہور ہو بالخصوص ضرورت تھی اولاد بنت مخدوم کے خانوادوں کی جو حسن و جمال لیے فریفتہ بے مثال ہو ، مسند رشدو ہدایت کے ساتھ وہ بے شمار کرامتوں کے لیے عام و خواص میں مقبول ہو یعنی ضرورت تھی خانقاہ معظم کے ایسے سجادہ امین شرف کی جو ہر اعتبارسے امین و یگانہ عصر ہو اور یہ خواہش بارھویں صدی ہجری کے وسط میں حضرت جنابحضور شاہ امین احمد فردوسی المتخلص بہ ثبات ؔ شوقؔ بہاری کے ذریعہ پوری ہوئی۔
شاہ امین احمدکی پیدائش ’حیاتِ ثباتؔ‘کے مطابق ۲۳ ؍رجب المرجب ۱۲۴۸ھ شنبہ کی گزری ہوئی شب میں ہوئی ،نام امین احمد،لقب جنابحضور،والد ماجد حضرت شاہ امیرالدین فردوسی المتخلص بہ ظلوم ؔوجدؔ بہاری نے ’’اختر مجد‘‘اور بخشش الٰہی ‘‘سے مادۂ تاریخ اخذ کیا ہے ،ابتدائی تعلیم خاندان کے مقتدر بزرگوں سے حاصل کی اور اس کی تکمیل صوبہ بہار کے مشاہیر علماسے کی ،تعلیم کے بعد مطالعہ کاشوق کافی رہا بلکہ ابتدائی دور ہی سے قدیم کتب کے دلدادہ ہوئے کہاجاتا ہے کہ اسی میں آپ اپنی ظاہری بینائی سے محروم ہوگئے لیکن باطنی بینائی نے آپ کو مزید بصارت بخشی ،تحریری معاملات میں خوش نویس تھے خط و نستعلیق لکھنے میں ایک خوشنما انداز تھا علمی ذوق تحریری معاملات میں خوب رکھتے ،معاصر علما و مشائخ میں تصنیف و تالیف کے لحاظ سے صفِ اول میں شمار کئے جاتے آپ کے زمانہ طفلی کا واقعہ ہے جس سے آپ کی ذہنی صلاحیت و صلابت اور یادادشت قوی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ والد ماجد نے دوجز وکی مثنوی کہیں سے دیکھنے کو منگوائی تھی اس کو جنابحضور اپنے مطالعہ کے لیے خلوت میں لے کر آئے اور جو صاحب شریک جلسہ تھے ان کو پڑھ کر سنایا پھر وہیں خلوت میں مثنوی کو رکھ دی ،تھوڑے دنوں بعد خود والد صاحب نے اس مثنوی کو طلب کیا اور اتفاق وقت ڈھونڈ ھنے پر کہیں نہ ملی،سخت اضطراب ہوا مگرآپ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں مثنوی لے کر حاضر ہوتا ہوں اور دوات، کاغذ و قلم لے کر بیٹھ گئے مِن و عَن مثنوی لکھ ڈالی اسی اثناہ میں اصل مثنوی مل گئی جب نقل کو اصل مثنوی سے ملائی گئی تو صرف دوچار مصرعوں میں کچھ الفاظ کا ایرپھیر تھا ورنہ معنی ایک تھے،فارسی زبان سے آپ کو طبعی مناسبت تھی خود فرماتے ہیں کہ’ دیوان حافظ‘ کی چند غزلیں پڑھی تھیں کہ پوری استعداد فارسی کی ہوگئی ،خاندانی روش کی اگر بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ والد کے متروکات سے بہت کافی جائیداد ملی تھی پرورش رئیسانہ ہوئی ، تربیت امیرانہ رہی مگر کبھی بھی اسے سمیٹ کر نہ رکھا بلکہ اسے تقسیم کرکےخوش و خرم رہتے کیونکہ جس ذات کے ساتھ اتنے وسیع تعلقات ہوں اس کی شرعی زندگی کیسی ہوگی اس کا اندازہ خود لگائیں الغرض ایک دفعہ بیک وقت تین صاحبزادوں کو زہر دے کر معصوموں کی زندگی چھین لی گئی، صاحبزادہ و صاحبزادی کے انتقال کرنے سے د ل مایوس ہوامگر آپ نے اُف تک نہ کی اور دشمنوں سے کچھ بدلانہ لیا، محض صبر سے کام لیا ایسے جگر خراش واقعات آپ کی زندگی میں بیشتر ہوتی رہی مگر صبرایوب آپ پر پوری طرح غالب تھا، صاحب مراۃ الکونین لکھتے ہیں کہ
’’اپنی زندگی ریاضت و فکر میں کاٹی ،صابرایسے کہ یادگار حضرت ایوب علیہ السلام کہوں تو ہر گز مبالغہ نہ ہوگا ،کاسب بے مثل، مرتاض بے عدیل ، شیخ وقت، یگانہ روزگار ہیں، ایسے ایسے مصائب دنیاوی و بلائے آسمانی میں مبتلا ہوئے کہ اگر آسمان پر بھی وہ صدمے گزرتے تو پیش از نشوروہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا مگر رضائے معبود میں ایسے صابر و ثابت قدم رہے کہ آدمی کیا فرشتے بھی حسد کریں، الغرض آپ کی ذات ایسی جامع صفات ملکوتی ہے کہ سبحان اللہ سبحان اللہ حق جل و علا آپ کے وجود باوجود کو ذلہ خواران کے نصیبوں سے تادیر گاہ قائم و برقرارکھے کہ ذات والاصفات ایک زینہ خدا سری کا طالبانِ حق کے لیے اس وقت اس زمانہ میں ہے آمین ثم آمین ‘‘
آپ کی پانچ شادیاں ہوئیں جس سے کئی اولادہوئی جو علم و فضل کے اعتبار سے بلند مقام رکھتے ہیں ،علمی مجلس اور عملی خدمات میں اکثر پیش پیش رہتے، جنابحضور تعلیم ظاہری میں جب کامل و اکمل ہوئے تو تعلیم باطنی کی جانب متوجہ ہوئے چنانچہ حضرت شاہ جمال علی بلخی (سجادہ نشیں:خانقاہ حضرت شعیب فردوسی ،شیخ پورہ ) کے دست بامیمنت پر سلسلۂ فردوسیہ میں بیعت ہوئے خلافت سے نوازے گئے ،پیرومرشد نے تازمانۂ حیات بدرجہ عنایت و شفقت مبذول فرماتے رہے اور اپنے فیضان صحبت سے مالامال کرتے رہے، کبھی کبھی بذریعہ خط و کتابت بھی ارشاد و فتح باب فرماتے رہے، رفتہ رفتہ آپ کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا گیا،پیر ومرشد کی رہنمائی سے جلد اپنے عہد کی ممتاز شخصیت قرارر دیئے گئے ،پیر کی رحلت کے بعد حضرت شاہ ولایت علی ہمدانی ابوالعُلائی اور اپنے والد حضرت شاہ امیر الدین فردوسی وغیرہ سے بھی خلافت اور خصوصی توجہ حاصل رہا ،ان بزرگوں نے آپ کی شہرت و بزرگی کی بشارت کم سِنی ہی میں دے دی جو بعد میں صادق القول ثابت ہوئی کہ جنابحضور کی شہرت و پاکیزگی کا فیضان دور دور تک پہنچا ، ہندوستان کے مختلف گوشوں میں آپ کے تربیت یافتہ تلامذہ کے علاوہ کثیر تعداد میں مریدین کی جماعت و خلفا کی کثرت پائی جاتی تھیں جن میں مولاناشاہ فضیلت حسین پٹنہ،مولانا شاہ ابو محمد اشرف حسین اشرفی،شیخ محمد اسمعیل یمنی،حاجی حیدر علی کابلی ثم مکی وغیرہ مکمل حلقہ ارادت کا احاطہ کرنا ناشاد کے بس کی بات نہیں واضح ہوکہ جس طرح ارادت میں آپ کادائرہ وسیع وعریض تھا وہی مقام و مرتبہ علم و ادب و فن سخن میں تھا ،والد کی صحبت بابرکت نے ابتداسے ہی شعری ماحول قائم کیا، کثرت مطالعہ اور صحبت والدین کریمین کی وجہ سے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا جس کو خود اک شعر میں ظاہر کرتے ہیں۔
ہوں میں اک تلمیذ رحمانی فیض روحی سے کہ گاہ
شعر گوئی میں منہ نہ دیکھا کسی استاد کا
مگر بقول مسلم شعرائے بہار
’’مشہور ہے کہ حضرت سیّدشاہ امین الدین احمد معروف بہ جنابحضور سجادہ نشیں خانقاہ مخدوم الملک بہاری جب کوئی کلام فارسی میں تحریر فرماتے تو سب سے پہلے حضرت (سیّدشاہ عبدالکریم ) رکنؔکو دیکھنے کو دیتے جن سے جناب حضور قدس سرہٗ کے تعلقات اور مراسم خاص الخاص تھے‘‘
دوسری جگہ صاحب تذکرہ مسلم شعرائے بہار رقمطراز ہیں کہ
’’آپ کی قادر الکلامی زمانے میں مشہور ہے،مثنوی گوئی میں آپ بے عدیل تھے‘‘
وقت کے قادر الکلام شاعر ہوئے اور والد کی نگرانی میں یہ سلسلہ بہ آسانی پار کرگئے ،شاعری میں غالبؔ اور میرؔ کی رفاقت کرتے بقول، خود جنابحضور شوقؔبہار ی کہ
طرزِ غالبؔ مجھے اب شوقؔبہت ہے مرغوب
ابتدا میں تو کچھ معتقدِ میرؔ بھی تھا
الغرض مثنوی گوئی میں کمال حاصل تھا، متعدد مثنویاں آپ کی تبحر علمی پہ دال ہے، سلسلۃ الالی، روضۃ النعیم وغیرہ کے علاوہ گلِ بہشتی میر نجات اصفہانی (متوفیٰ ۱۱۳۶ھ ) کی شکل میں لکھی گئی ہے جو مطبع انوارِ محمدی، لکھنؤ سے شائع ہوکر مقبول انام ہوئی جن میں حضرات خواجگان کی شان میں منقبتیں پیش کی گئی ہیں، خصوصاًہمارے حضرت سیّدنا امیر ابوالعلا جو ہندوستان کے اؤلیائے کبار میں شامل ہیں راقم اسی خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ کا فرزند ہے،جنابحضور نے آپ کی خوب مدح سرائی کی، اس کے علاہ ہمارے حضرت سیّدنا کے فضل و کمال اور عظمت و جلال کو ثباتؔنے رغبت و شوق کے ساتھ منظوم کیا ہے ، مثنوی کے اخیر میں معاصر صوفی سخن فھم حضرات کے قطعۂ تاریخ موجود ہے جن میں حضرت شاہ محمد سجاد ابوالعُلائی داناپوری (متوفیٰ۱۲۹۸ھ)،حضرت شاہ محمد یحییٰ ؔابوالعُلائی عظیم آبادی (متوفیٰ۱۳۰۲ھ) وغیرہ قابل ذکر ہیں، ثباتؔ کے کلام میں حقائق و معارف کی تعلیم ملتی ہے اور عشق مجازی اور عشق حقیقی کی بھی جھلک نمایاں ہے،آپ کے یہاں صوفیانہ خیالات بڑے دل کش پیرائے میں پایا جاتا ہے، تصوف میں عشق و مستی کی بڑی قدر ہے اس لیے کہ اسی سے منازل سلوک طے ہوتے ہیں ،فارسی اور اردو کلام محفوظ ہے جس کی جھلک سہ ماہی مخدوم اردو میں کبھی ذوقؔسے تو کبھی شوقؔ سے ملتی ہے واضح رہے کہ ’’جنابحضور شاہ امین احمد فردوسی ثباتؔحیات و آثار‘‘کے عنوان سے مولانا شاہ ارشدعلی شرفی نے پٹنہ یونیورسیٹی سے تحقیقی مقالہ لکھ کر ۱۹۸۲ء میں پی،ایچ،ڈی کی ڈگری حاصل کی، ہمارے پیرانِ سلسلہ و طریقۂ ابوالعُلائیہ سے جنابحضور کو دیرینہ محبت ہو چکی تھی ،حضرت شاہ ولایت علی کے توسل سے یہ سلسلہ آپ پر بھی بارش رحمت کی طرح پورے جوش و خروش کے ساتھ برس رہاتھا بقول صاحبِ تاریخ سلسلۂ فردوسیہ
’’جو شخص آپ کی مرضی پر چھوڑدیتا اس کی بیعت سلسلہ فردوسیہ میں لیتے اور ابوالعُلائی تعلیم دیتے ‘‘
بلکہ دوسری جگہ تو رقمطراز ہیں کہ
’’حضرت سیّدشاہ وصی احمد عرف براتی پر ابوالعُلائیت کا بڑا غلبہ تھا‘‘
اور کیوں نہ ہوا جن کے دادا یعنی حضرت امیر الدین فردوسی کو ابوالعُلائی تعلیم شاہ ابوالحسن ابوالعُلائی خلف حضرت ابوالبرکات ابوالعُلائی (متوفیٰ ۱۲۵۶ھ ) سے اخذ کیا ہو۔ بلکہ اُن کا ذکر ساقی نامہ میں یوں کیا ہے۔
من بعد زفضل منعماں تو
دمے جامے ابوالحسن سے ایک چلو
آنکھوں کی میری وہ روشنائی
صاحب نشہ ابوالعُلائی
حیاتِ ثبات کامصنف رقمطراز ہے کہ
’’منشی لیاقت حسین صاحب مختار کا بیان ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ ابوالعُلائیہ طریقہ میں بڑا قوی اثر ہے اور بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے اول تو یہ کہ اس طریقہ میں آنا ضروری نہیں، دوسرے یہ کہ اس قدر مجاہدہ و ریاضت شاقہ لازمی نہیں،زیادہ محنت کریگا زیادہ فائدہ اٹھائگا ،کم محنت کریگا تو بھی محروم نہ رہے گا مثلاًاس طریقہ کا ذاکر و شاغل نمازِ عشا کے بعد مختصر سا وظیفہ پڑھ کر اور تین بار ذکر ابوالعُلائیہ باشرائط ادا کرکے سورہے اور دوسرے طریقہ والامع نماز تہجد و ذکر و اوراد صبح کردے، صبح کی نماز کو جب دونوں کھڑے ہوں گے تو احوال و معانی و فیضان و یافت کے اعتبار سے قلبی حالات دونوں کی مساوی ہوگی‘‘
یہی نہیں بلکہ جب کبھی مریدین و معتقدین کی خاصی جماعت اجمیر معلیٰ حاضر ی کی نیت سے جاتا تو اسے مطلع فرماتے کہ اکبرآبادٹھہر کرجانا اور حضرت سیّدنا امیر ابوالعلا کے حضور میں حاضر ہونا اور عرض کرنا کہ پیر نے مجھ کو آپ کی بارگاہ میں بھیجا ہے تب اجمیر کی راہ لینا جب حضور کی خواہش ہو ،اگر بارگاہ سے اجازت ملے تو اجمیر جاؤ ورنہ لوٹ آؤ، لوگوں نے عرض کی یاحضرت اجازت کاحال کیسے معلوم ہوگا ؟فرمایاوہ اس طرح کہ اس ارادہ میں استحکام پیدا ہوگا بغیر گئے ہوئے دل نہ مانے گا بلکہ خود بھی بڑی عقیدت کے ساتھ ہمارےحضرت کی بارگاہ میں حاضر ہواکرتے، عشق و محبت کی مثال سلسلۂ فردوسیہ اور سلسلۂ ابوالعُلائیہ میں آپ نے لکھ دی ہیں، سفر در وطن تو رہتا ہی تھا جب غلبۂ شوق بڑھتا تو پھر اکبرآباد حاضر ہوتے اور ہمارے حضور کی عنایت کردہ عشق ومستی کو اپنے اندر محسوس کرتے جہاں جہاںحضراتِ ابوالعُلائی آرام فرمارہتے بڑی عقیدت سے حاضر ہوتے اور عقیدت کی جھولی میں محبت کاجام بھر کر واپس آتے ،یہی وجہ تھی جو اس خانوادہ کی یہ روایت بن گئی کہ جو صاحبان سلسلہ فردوسیہ اجمیر جاوے وہ ہمارے حضرت کے آستانہ ملائک سے گزرکر جاوے۔
الغرض کہ جناحضور کے افکار و نظریات بڑے وسیع وعریض تھے ،خالص علما ہوں یا مشائخ غرض کہ مختلف مکاتیب کے لوگ آپ کی بزرگی و ا خلاقی کردار سے ہمیشہ مستفیض و مستنیر ہوتے رہے،عقائد کے معاملات میں بڑے محتاط رہتے ،ناموسِ رسالت اور تحفظِ رسالت کا خاص خیال رکھتے ،ضعف و پیرکے باوجود عقائد اہل سنت کی خاطر ہمہ وقت کوشاں رہتے ،علما و مشائخ نہ صرف ان کی تکریم نسبت مخدوم کی وجہ سے کرتے بلکہ خود کی ذاتی لیات و صلابت دینی کی وجہ سے سب ان کی شخصیت کے معترف تھے، ہمعصر علما فرماتے تھے کہ ہندوستان میں سوز وگداز جنابحضور کے سوا دوسرے میں نہیں پاتا ہوں ، علمائے اہل سنت کا حسین قافلہ جب عظیم آباد وارد ہوا تو مجلس اہل سنت کے صدر باتفاق آرا جنابحضور منتخب ہوئے ’’بقیۃ السلف ،حجۃ الخف ،زبدۃ العلما،سلالۃ الاکابرالعرفا‘‘ جیسے القاب سے آپ یاد کئے جانے لگے،جب آپ پر افترااور تہمت کا بہتان لگانا شروع ہوا اور شخصیت کو مجروح کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی تو آپ نے اپنے مرید قاضی عبدالوحید فردوسی کے نام خط ارسال کیا جوماہنامہ تحفۂ حنفیہ کے شمارے شائع کیا گیا جسے یہاں درج کیا جاتا ہے
’’بعد دعوات ترقی درجات مطالعہ باد،الحمداللہ بہمہ نوع خیریت ہے،خیریت آپ کی اور جمیع متعلقین کی خدائے کریم کی درگاہ سے مستدعی ہوں،خال تازہ بتقریب عرس شریف مولوی سلیمان صاحب بہار آئے،شریک عرس شریف ہوئے اور مجھ سے بھی ملاقات کی دوسرے روز میرے یہاں کئی صاحبوں کی دعوت تھی میں نے انہیں بھی مدعو کیا چنانچہ وہ دس گیارہ بجے آئے تو کچھ ادھر اُدھر کی بات ہوتی رہیں پھر وہ ندوہ کے متعلق باتیں کرتے رہے ،میں چپکا سنتا رہا وہ چلے گئے یہاں سے جاکر انہوں نے مشہور کیا کہ شاہ صاحب نے ندوہ کو بہت سی دعائیں دیں اور اپنی موافقت ظاہر کی ان ذرا ان لوگوں کی کیدردیکھیے اول تو ناشدہ بات وہ بھی کسی وہم و گمان سے باہر اور کہاں اسی شہر میں یوں مشہورکی،خداجانے کس قماش کے یہ لوگ ہیں ،امین احمد،از بہار ‘‘
رد ندہ وۃ العلما کانفرنس میں آپ کی ذات پیرانہ سالی کے باوجود پیش پیش رہی،بقول حیات ثبات کہ مولانا عبدالقادر بدایونی جلسہ مصلحین ندوۃ العلما میں تشریف لائے تھے اور جنابحضور بھی تشریف لے گئے تھے پہلی ملاقات جلسہ عام میں ہوئی، مولانا نے بعد سلام کے قدم مبارک کا بوسہ دیا اور فرمایا
اے لقائے تو جواب ہر سوال
مشکل از تو حل شود بے قیل و قال
اس پاکیزہ مجلس میں ہندوستان کی معتبر اور مقدس خانقاہوں کے سجادگان ذیشان علی العلوم اور بہار کی خانقاہوں کے سجادگان خصوصیت کے ساتھ سرپرستی فرما رہے تھے جن میں حضرت امین احمد فردوسی (سجادہ نشیں:خانقاہ معظم حضرت مخدوم جہاں ، بہار شریف) کے علاوہ حضرت مولانا شاہ محی الدین قادری(سجادہ نشیں: خانقاہ مجیبیہ ، پھلواری شریف)،حضرت مولانا شاہ محمد محسن ابوالعُلائی (سجادہ نشیں:خانقاہِ سجادیہ ابوالعُلائیہ ،داناپور)،حضرت مولانا شاہ عزیزالدین حسین(سجادہ نشیں: خانقاہ منعمیہ قمریہ ، میتن گھاٹ،پٹنہ)،حضرت مولانا شاہ نصیر الدین چشتی (سجادہ نشیں: خانقاہ چشتیہ ،نوآبادہ خورد،پٹنہ)، حضرت مولانا شاہ شہودالحق چشتی (سجادہ نشیں:آستانہ چشتی چمن ، پیربیگھہ) وغیرہ جلسہ ردّندوۃ العلما منعقدہ پٹنہ میں سات بجے شام کو مولانا عبدالقادر بدایونی نے فرمایا کہ برکت کے لیے کچھ جناب بھی فرمائیں ،جنابحضور نے فرمایا کہ آپ لوگ عالم ہیں شوق سے بیان کیجیے مگر مولانا ممدوح کے اصرار و حاضرین جلسہ کی آرزو بھری تائید نے آپ کومستعد کیا اور منبر پر جاتے ہی پہلے پانچ چھ منٹ تک ساکت رہے ،اس وقت کا سماں سبحان اللہ پورا پنڈال کیفیت اور نسبت سے معمور ہو رہا تھا ،تب پھر جنابحضور نے یہ حدیث پڑھی
’’الھم احٰنی مسکینا و امتنی مسکینا و احشرنی فی زمرۃ المساکین ‘‘
پھر ترجمہ کیا جس سے سامعین کو رقعت ہوئی، آپ کے بعد مولانا عبدالقادر بدایونی منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ جس نے صحابۂ کرام کو نہ دیکھا ہو وہ حضرت کو دیکھ لے اور موتو قبل ان تموتو کی تفسیر دیکھنا ہوتو وہ حضرت مخدوم جہاں کے سجادہ نشیں کو دیکھے پھر اسی مذکورہ بالاحدیث سے بیان شروع کیا ،مولانا احمد رضا خاں جس وقت جلسہ مصلحین ندوۃ العلما کی شرکت کو پٹنہ تشریف لائے تھے جنابحضور سے ملنے کو برابر تشریف لایاکئے اور جنابحضور سے جیسا خلوص تھا وہ چند اشعار میں نظم فرمایا ہے ، عربی قصیدہ منظوم آمال الابراروالام الاشرارمیں لکھتے ہیں ۔
بقیتہ الاؤلیاء امین احمد
امین احمد امنِ حمود
شمائلہُ تذکرنا الصحابۃ
سحائبۃ علی کل تجود
دوسری جگہ صمصام حسن بردابر فتن میں حسن رضاؔبریلوی فارسی مثنوی میں لکھتے ہیں کہ
واں چمن آرائے بہار بہار
شاہِ امین احمد عالی وقار
حامی دی اختر برج شرف
پیر ہدیٰ گوہر درج شرف
یہی نہیں بلکہ جنابحضور کے صاحبزادۂ والاتبار شاہ محمد سعید احمد فردوسی کے متعلق لکھتے ہیںکہ
ع و تجل جناب مولانا سعید
ترجمہ : اور ہمارے جنابحضور کے صاحبزادے مولانا شاہ سعید احمد۔
ختمت کما بدات بہ لہینیک
حسن البدر والرجعی وحیدؔ
جیسا جنابحضورکے نام سے شروع تھا اسی پر ختم کیا
تجھے خوبی و دنیا و آخرت کی ائے وحیدؔ
علاوہ ازیں اس تحریک کو خلوص و اعتقاد کے ساتھ جنابحضور کے علاوہ ان کے صاحبزادگان و خلفا بھی شاملِ حال رہے جن میںمولاناشاہ سعید احمد فردوسی ،مولانا شاہ وصی احمد فردوسی عرف براتی،شاہ فاضل فردوسی بہاری،شاہ فضیلت حسین فرودسی،شیخ خیرات حسین فردوسی بہاری وغیرہ کے علاوہ اصحاب فکر و فن مثلاً مولانا عبدالواحد خاںرام پوری، مولانا قاری نور محمد دہلوی،مولانا حافظ فتح الدین (مدرس و صدر مجلس اہل سنت )، مولانا امیر علی(مدرس اعلیٰ نارمل اسکول ،نائب صدر مجلس اہل سنت)سر فہرست ہیں خود تحریک کے سب سے متحرک و فعال شخصیت قاضی عبدالوحید فرودسی آپ کے دائرۂ ارادت میںداخل ہوکر تحفظ و بقا کی خاطر نکل پڑے اور حد درجہ کامیاب و کامران ہوئے ،یاد رہے کہ علمائے اہل سنت فاضل بریلوی کے ہمراہ جنابحضور کی دعوت خاص پر خانقاہ معظم حاضر ہوئے اور جامع مسجد میں جامع اور مانع تقاریر سے سامعین لطف اندوز ہوتے رہے جس کی صدارت خود شاہ صاحب قبلہ فرمارہے تھے الغرض یہ ذات تمام اوصاف و کمالات کی جامع معلوم ہوتی ہے خود حضرت شاہ محمد اکبرابوالعُلائی داناپوری اپنی مشہور زمانہ کتاب نذرِ محبوب میں آپ کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیںکہ
’’آپ کے اوصاف حمیدہ اور اخلاق پسندیدہ حدتحریر سے باہر ہیں تمام تعریف اور اوصاف کا ماخذ یہی ہے کہ آپ حضرت مخدوم الملک کی اولاد اور سجادہ ہیں ،ہمارے حضرت پیرو مرشد برحق مولانا سیّدشاہ محمد قاسم رضی اللہ عنہ سے بھی آپ مشرف بہ معانقہ ہوئے ہیں اور حضرت والد قدس سرہٗ سے متواتر مجالس عرس میں ہنگامہ وجد میں معانقہ کئے ہیں،حضرت قدس سرہٗ کی کتاب نجاتِ قاسم کو آپ نے فارسی نظم میںبہت خوب ترجمہ کیاہے ،فن شعر میں ید طولیٰ حاصل ہے ابھی سے سجادگی کے واسطے اپنے فرزند رزید نور چشم برہان الدین سلمہٗ اللہ تعالیٰ کو نام زد کردیا ہے،یا اللہ یہ متبرک سجادہ تاقیام پاک نفس اور برگزیدہ لوگوں سے خا ل نہ رہے آمین ثم آمین،بے جوڑ اس ننگ خاندان کا واسطہ نسب بھی حضرت مخدوم لملک شرف الدین بہاری رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
کوئی مجھ سا بھی صحیح النسب اکبرؔ کم ہے
سلسلہ اپنا کسی زلف سے جاملتا ہے ‘‘
کیالکھوں کیا کہوں ایک دن یہ ستارہ بھی اپنی چند جھلکیوں کے ساتھ ڈوب کر خلع پیدا کرگیا۔
ڈوب کر بحر محبت سے نکلنا کیسا
پار ہونے کی تمنا ہے تو ڈوبے رہنا
۷۲؍برس کی عمر ۴؍جمادی الآخر ۱۳۲۱ھ کو روح قفس عصری سے پرواز کرگئی ، مرقد انور آستانہ حضرت مخدوم جہاںکے پائیں حلقۂ سجادہ نشینان میں ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.