ذکرِ خیر حضرت سیّد نثار علی ابوالعلائی اکبرآبادی
چودھویں صدی ہجری میں ہندوستان کی سرزمین سے کئی ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنی کردار و عمل اور اپنے قلم سے تاریخ میں نام پیداکیا ،شعر و سخن کا جب تذکرہ چھڑتا ہے تو اکبرآباد کاتذکرہ سرفہرست نظر آتا ہے ،میرؔ ہوں یا غالبؔ ،نظیرؔ ہوں یا شہیدؔ سبھوں نے اکبرآباد کی سرزمین ہی سے پروان چڑھا اور زمانے میں نام پید اکیا اسی فہرست میں ایک نام حضرت سیّد نثارؔعلی ابوالعُلائی اکبرآبادی کا بھی ہے جنہوں نے اردو شاعری کی، آپ ایک زمانے تک خدمت کی وہ ایک صوفی مُنش اور شاعرِ مشاق گزرے ہیں، آپ کا حلقۂ تلامذہ وسیع و عریض پیمانے پر پھیلا ہوا تھا جن میں بیدمؔ وارثی کو خاصی شہرت حاصل ہوئی۔
حضرت نثارؔ اکبرآبادی کا تعلق قصبہ نیتونی ضلع لکھنؤ سے ہے آپ کے والد ماجد میر مشتاق علی بن سعادت علی آگرہ میں وکالت اور فوج داری وغیرہ کا شغل کرتے تھے، نہایت مہذب اور نستعلیق بزرگ تھے،مذہب ان کا اثنا عشری تھا مگر متعصب نہ تھے۔
آپ کے جد امجد سیّد سعادت علی بسلسلۂ کوتوال آگرہ آئے ،بقول مفتی انتظام اللہ شہابی
’’یہ جگہ کچھ ایسی بھائی کہ یہیں کے ہورہے،میر مشتاق علی آگرہ ہی میں پیدا ہوئے، بعد تحصیل علم و کالت کا امتحان دیا، بعد کامیابی شغل وکالت رہا،صدر نظامت کے وکلا میں نام آور تھے ،مفتی انعام اللہ خاں الشہابی خان بہادر سے بے حد راہ و رسم تھی، اس وقت آگرہ میں مفتی صاحب کے مکان واقع نیل کھاتہ میں ایک مجلس اہل علم کی قائم تھی، جس میں مولانا محمد قاسم داناپوری ،مولانا غلام امام شہیدؔ،خواجہ منشی غلام غوث خان بہادر ذوالقدر بیخبرؔ، مولوی محمد شفیع وکیل، مولوی قمرالدین خاں قمرؔ (مدیر : سعدالاخبار)،منشی نبی بخش حقیرؔ، بابوبین پرشاد وکیل، مولوی طفیل احمد خیرآبادی،مفتی محمد حسن ؔ گوپاموی،مفتی نوراللہ ،مفتی کریم الدین وغیرہ جیسے لوگ شریک تھے ،میر صاحب پُرانے وضع کے بزرگ تھے،علمی دلچسپی تھی،شریف گھرانہ میں شادی کی، ان سے حضرت نثارؔ پیداہوئے ،غدر کے وکیل صاحب کا انتقال ہوا‘‘
(ماہنامہ شاعر،آگرہ،جنوری ۱۹۳۸ء ،ص؍۲۷)
نثارؔ اکبر آبادی کے ابااثناعشری تھے خود نثارؔ اس بات کو لکھتے ہیںکہ
’’میں نابالغی کے زمانے تک اس مذہب پر رہاجب مجھ کو شعور ہوا تو میں نے اپنی استعداد کے موافق تحقیقات کی ‘‘
(دل ،ص؍۳)
کہاجاتاہے کہ نثارؔ کی پیدائش ۲۰؍ربیع الثانی ۱۲۶۸ھ کے آس پاس ہوئی، کہتے ہیں کہ آپ کا پدری نسب حضرت امام زین العابدین سے جاملتاہے،آپ قصبہ نیوتنی کے معزز اور علم دوست خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔
ابتدامیں نثارؔ اکبرآبادی دینی ومذہبی کتابیں اپنے والد سے پڑھیں پھر کچھ دنوں بعد مرزاحاتم علی بیگ مہرؔ کی صحت میں بیٹھے اور مہرؔ کی جمالیات شخصیت سے نثارؔ نے کافی استفادہ کیا،مہرؔ کی نظر شفقت بھی ان پر کم نہ تھی جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ بہت کم عمرمیں نثارؔ نے عربی و فارسی ،اردو اور ہندی سے گہری واقفیت حاصل کرلی ،نثارؔ کو جو اپنے بڑوں کی صحبت ملی تھی وہ کسی استاد سے کم نہ تھی اس لیے مفتی انتظام اللہ شہابی لکھتے ہیںکہ
’’فارسی عربی کی استعداد معقول تھی، مطالعۂ کتب رفیق طبیعت تھی،ہندی بھی خوب جانتے تھے‘‘
(ماہنامہ شاعر،آگرہ،جنوری ۱۹۳۸ء ،ص؍۲۷)
نثارؔاکبرآبادی کو آگرے میں علمی اوصاف وکمالات حاصل تھیں، وہ اکثر و بیشتر ادبی محافل میں علمی موضوعات پر روشنی ڈالتے تھے اور قواعد کے اصولوں سے اپنے احباب کو واقف کراتے تھے، انہوں نے عربی و فارسی سے اپنی خاص دلچسپی حاصل کرلی تھی ، نثارؔ عہد شباب میں پہنچے تو معاش کی فکر نے انہیںملازمت کی راغب کیا ،والد کا غدر کے بعد انتقال ہوگیا ، اس سلسلہ میں مفتی انتظام اللہ شہابی رقمطراز ہیں کہ
’’اولاًبا پ کے اثاثہ سے گزران کی پھر درس و تدریس کا شغل اختیار کیا ،معلمی تابہ مرگ رہا مکتب داری کے پابند رہے، انگریزی مدارس کے طلبہ کو پڑھاتے، آخر عمر میں نواب محمد اسمٰعیل خاں مرحوم کے یہاں معلمی پر منسلک ہوگئے تھے ،نواب صاحب آپ کی توقیر ومنزلت کرتے تھے ‘‘
(ماہنامہ شاعرآگرہ،جنوری ۱۹۳۸ء ،ص؍۲۷)
نثارؔخط و کتابت بھی کیاکرتے تھے وہ نستعلیق اور تعلیق دونوں پر مہارت رکھتے تھے ،مطبع اور پریس وغیرہ میں نثار ؔ بطور کاتب بھی کام کیاکرتے تھے ،نثارؔ اکبرآبادی سے حضرت شاہ اکبر داناپوری کی خط و کتابت بھی خوب ہوا کرتی تھی اس کا ایک مجموعہ ’’مکتوبات اکبر‘‘ کے نام سے شاہ عبدالوکیل ابوالعُلائی ہلسوی نے جمع کیاہے ، اس میں نثارؔ کے علم دوستی کا بین ثبوت ہے،شاہ اکبرؔ داناپوری کے تلامذہ اور خلفانے قادیانی گروہ کے خلاف خوب لکھاہے، اس سلسلے میں نثارؔ نے بھی پیش قدمی کی ہے۔
نثارؔخوش اخلا ق،تواضع،نیک خو،ہر ایک شخص سے خوش خلقی سے پیش آتے، ہر شخص آپ کے ساتھ تواضع سے پیش آتا تھا ،مفتی انتظام اللہ شہابی لکھتے ہیں کہ
’’معلمی افتخار کا پیشہ ہے، تمام گھر کے کام کاج شاگردوں کے ہاتھو ں انجام پاتے ہیں مگر مولوی نثار علی صاحب خود لکڑیاں بغل میں دبائے لیے جارہے ہیں، انگرکھے کے دامن میں دوسرا سودا ہے، ہاتھ میں گھی کی پیالی ہے، شاگرد ساتھ ہیں مگر کسی کو چھونے نہیں دیتے ،راقم السطور کے مکان کے قریب رہاکرتے تھے اور میرا چھوٹا بھائی محمد اسلام اللہ صوفیؔ ان کا شاگرد تھا، اگر مولوی صاحب سوداسلف لینے آتے تو میں اپنے بھائی سے کہتا کہ مولاناکے ہاتھ سے سامان لے لو اور مکان پہونچاآؤ مگر مولانا مرحوم نے کبھی صوفی سے کام نہ لیا،پس محبت میں شاگرد گھر پر سامان پہنچا آتے تو بہت معذرت کیاکرتے تھے، معلم گیری میں خوش وقتی سے وقت نہیں کٹتا تھا فکر مند ہی پایا‘‘
(ماہنامہ شاعرآگرہ،جنوری ۱۹۳۸ء ،ص؍۲۸)
نثارؔ چوگشیہ ٹوپی پہنتے تھے ،انگرکھا اور صدری غرض کہ پائخوں کا پائجامہ پہنتے ،سلیم شاہی جوتہ زیر پارہتا، کاندھے پر ایک گزری کا رومال جس کے کونے میں بٹوا بندھا رہتا تھاگردن میں خلال ڈالارہتاتھا، پاجامہ ٹخنے سے اونچا ہی رکھتے تھے ، سانولارنگ ،دُبلا جسم اوسط درجہ کا قد ریش کے ساتھ مونچھیں ترشی ہوئی رکھتے تھے ۔
انجمؔ اکبرآبادی لکھتے ہیں کہ
’’کبھی کسی کازیربار احسان ہونا گوارا نہ کیا، درس و تدریس مشغلۂ حیات تھا، اکابر و اصاغر شاگرد تھے اور ان سے بے نیاز رہے اورانتہائی عزت کے علاوہ خدمت کو سعادت سمجھتے تھے لیکن آپ نے متوکل علی اللہ آخردم تک دنیاکی مکر وہات سے بے نیاز رہے اور کبھی کسی سے سوال ڈالنا ننگ سمجھتے‘‘ (تذکرہ بزم ابوالعُلا،جلد دوم،ص؍۲۲۴)
نثارؔ نو عمری میں مہرؔ،باطنؔ،بیخبرؔ،ساحرؔ،راجہ ؔ کے مشاعروں میں شریک ہوتے ، مفتی افہام اللہ ساحرؔ نیل کھاتہ میں مشاعرہ کرتے ،راجہ بلوان سنگھ کا شی کے یہاں شعراکی محفل گرم ہوتی ،مہرؔکے مکان پر پندرہ روزہ مجلس شعرا منعقد ہوتی ،قاضی باقر علی خاں کے برادر زادہ منشی سیّد نظام علی خاں افضل ؔ(منصف فتح آباد)کے یہاں بڑے پیمانے پر مشاعرہ اور دعوت و طعام ہوتی، نثار ؔ کو بھی شعر کہنے کا شو ق ہوا فکر سخن کرتے رہے اور مہرؔ سے مشورہ لیاابھی کچھ ہی روز گزرے تھے کہ حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کی خدمت میں آنے جانے لگے اور پھر انہیں کے ہوگئے، نثارؔ خود کہتے ہیں کہ
’’طفویت سے مجھے خدمت میں حضرت مرشدی و مولائی و ملجائی و ماوائی، پیر دستگیر امامنا و ہادینا سیّدشاہ حاجی محمد اکبر صاحب ابوالعُلائی داناپوری مدظلہ العالی کا شرف صحبت حاصل رہاتو کچھ ایسی موانسبت قلبی ہوگئی کہ بتوسل مکرمی ومعظمی فخر برادران جناب اخی ریاض الدین صاحب ابوالعُلائی الاکبری دامت برکاتہ دست حق پرست پر حضرت صاحب قبلہ کے داخل سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ ابوالعُلائیہ ہوگیا‘‘
(دل،ص؍ ۵)
حضرت شاہ اکبرؔ داناپوی کے مرید ہوئے اور پھر ان سے ہی اپنے کلام پر اصلاح لینے لگے ،صوفیہ کی صحبت اور متسوفانہ کتب کا مطالعہ،پیرومرشد کے ارشادات و ملفوظات اور اس کی تشریح غرض اسی رنگ میں رنگ گئے اور یہ رنگ نثارؔ کو اؤلیاو اصفیا کا دلدادہ اور پاک خلق خداکا دیوانہ بنادیا ،آپ میلاد بڑے ذوق و شوق سے پڑھتے تھے، آپ کی آواز نہایت خوبصورت اور دردبھری ہوتی تھی ،پڑھتے پڑھتے آنکھو ں سے اشکوں کی برسات ہونے لگتی،آگرہ میںآپ کا میلاد پڑھنا آج بھی بوڑھے پُرانے لوگوں کو یاد ہے ،نثار رفیق القلب بزرگ تھے، روتے روتے آشوبِ چشم میں مبتلا ہو جاتے، اہل دل لوگوں میں سے تھے ،ہر وقت یادِ الٰہی میں مست رہتے تھے،پیر و رشد کی ایسی تعظیم کرتے تھے کہ ایک لمحے کے لیے بھی نہ بیٹھتے ،حضرت کی غیر موجودگی میں بھی حجرہ ٔ اکبری کی چوکھٹ سے سر لگائے کھڑے رہتے اور کہتے کوئی حکم ہے حضور ؟ جب لوگ آپ کو دیکھتے تو پھر آپ کو گھر پہنچا تے اور کہتے حضرت ابھی داناپور میں ہیں۔
نثارؔ اکبرآبادی اپنے عہد کے استاد تھے، شاعر تھے اور شعرا ئے متاخرین میں قابل فخر ہستی تھے، ان کے کلام کی فصاحت نظام کی مقبولیت ان کی حیات ہی میں ہوچکی تھی بقول شہابی
’’میلاد خوانوں نے بزم میلاد میں،موسیقی نوازوں نے بز م عیش و نشاط میں خوب خوب دادِ کلام دی، ہر طبقہ میں مولانا کا کلام مرغوب و مقبول تھا‘‘
(ماہنامہ شاعرآگرہ،جنوری ۱۹۳۸ء ،ص؍۲۸)
نثارؔ اکبرآبادی کی زبان نہایت صاف اور شستہ بندش چست شوکت معانی سے الفاظ لبریز بلند خیالی ہر شعر سے ظاہر کہیں شوخی کہیں متانت غرض کہ آپ کو ماہر فن تسلیم کرانے کے لیے کافی و وافی ہے، اپنی وضع داری آخر تک بناکررکھی ،رکھ رکھاو میںآپ کا جواب نہیں تھا،کیا نواب کیا غریب سب کو ایک نظر سے دیکھتے، آپ کے تلامذہ میں بڑے بڑے نوابین بھی شامل ہوتے تھے مگر کبھی کسی قسم کی خدمت نہیں لی ،ماسٹر شنکر دیال (تلمیذ غالبؔ)اپنے فرزند شامؔ کو آپ کی شاگردی میں دیا،حاجی وارث علی کے مرید بیدمؔ وارثی کو حضرت اکبر نے آ پ کی صحبت میں رکھا، اس کے علاوہ مظہرؔ اکبرآبادی، صوفیؔ اکبر آبادی، سراج ؔ اکبرآبادی،مفیدؔ اکبر آبادی، محفوظؔ اکبر آبادی، شفیقؔ اکبر آبادی وغیرہ پر بھی بے حد نوازشات رہیں،نثارؔ کے غزل پڑھنے کا ایک خاص انداز تھا، جب غزل پڑھتے تو آہستہ آہستہ تحت اللفظ پڑھتے کہ ارباب محفل بے انتہا محظوظ ہوتے۔
اساتذہ ٔ وقت میں ایک دوسرے میں چشمک رہاکرتی تھی مگر نثارؔ ہی ایک ایسے تھے کہ آگرہ کے استاد شعرا میں مرزا رئیسؔ اکبرآبادی، واصف ؔعلی اکبرآبادی،بزرگ علی عالی ؔ اکبر آبادی بھی ان کا احترام کرتے تھے اور یہ بھی ان کے ساتھ خلوص کا برتاؤ رکھتے، مرزا رئیس استاذۂ وقت میں کسی کا احترام نہیں کرتے تھے اور اگر کسی کا احترام کیاہے تو وہ جنابِ نثار کی ذات ہے ۔
صباؔ اکبرآبادی لکھتے ہیںکہ
’’آپ اساتذہ میں امتیازی شان رکھتے تھے ،متوکل گوشہ نشین ، نام و نمود سے بے پرواہ، خوش اخلاق،صاحب علم و فضل اور صوفی کامل تھے، آپ کاکلام معرفت و تصوف کے بیش بہامضامین سے مالامال ہوتاتھا‘‘
(ماہنامہ مشورہ ،آگرہ،جولائی ۱۹۳۶ھ،ص؍۷۱)
مزید رقمطراز ہیں کہ
’’غزلیات میں مولانا کا رنگِ سخن اس قدر صاف اور پاکیزہ ہے جو شاید بہت اردو شعرا کے حصہ میں اس وقت آیا تھا، دلی جذبات، مشاہداتِ عالم، جذب و سلوک کے مراحل، الٰہیات و روحانی ارتقا کے مسائل مولانا اپنے کلام میں اس خوبی سے نظم فرما جاتے تھے کہ سامعین تڑپ تڑپ جاتے تھے، شاعرانہ آن بان وضعداری اور رکھ رکھاؤ میں اپنی نظیر آپ تھے، کبھی کسی کا زیر بار احساں ہونا گوارا نہ کیا‘‘
(ماہنامہ مشورہ ،آگرہ،جولائی ۱۹۳۶ھ،ص؍۷۱)
میکشؔ اکبرآبادی رقمطراز ہیں کہ
’’مولانا نثار علی صاحب نثارؔ کو میںنے اچھی طرح دیکھا ہے ، چوگشیا کڑھی ہوئی ٹوپی،چشمہ لگائے ہوئے نیچا کرتا اور اس پر صدری، گندمی رنگ، شرعی داڑھی، آنکھوں میں آشوب کی قسم کا کوئی مرض یہ ان کی وضع قطع تھی، میرے رشتے کے بھائیوں نے ایک انجمن بنائی تھی جس میں ماہانہ مشاعرہ ہوتاتھا ،چارپانچ ہم چچا زاد،پھوپھی زاد بھائی ، چارپانچ ہمارے کلاس فیلو بیٹھ جاتے اور الٹی سیّدھی غزلیں پڑھتے اور خوش ہولیتے،اس انجمن میں ایک لڑکا نثارؔ صاحب کا شاگرد ہوگیا،وہ کبھی کبھی مولانا نثار صاحب کو بھی ان مشاعروں میں لے آتا،مولانا بڑے خلوص اور قاعدے سے شریک ہوتے،اچھے شعروں کی داد دیتے اور آخر میں اپنی غزل سناتے،کبھی کسی کے شعر پر اعتراض نہ کرتے ،نہ اصلاح دیتے، نہ شاگرد بنانے کی کوشش کرتے،بڑے درویش صفت آدمی تھے، یہ پہلے مرزاحاتم علی بیگ مہرؔ کے شاگرد تھے پھر جب شاہ محمد اکبرؔ داناپوری کے مرید ہوئے تو غزل بھی شاہ صاحب ہی کو دکھانے لگے، آگرے اور آگرے سے باہر مولانا کے شاگرد بہت تھے،جن میں بیدمؔ وارثی،مظہرؔ اکبرآبادی اور بابو پربھودیال شامؔ نے مولانا کانام خوب روشن کیا،ان میں سے خداکاشکر ہے کہ شام صاحب زندہ ہیں، ان کے دم سے مولانا کے ساتھ اگلی شرافت اور تہذیب بھی زندہ ہے،شعر بھی خوب کہتے ہیں اور تحت اللفظ پڑھنے میں دور دور تک اپناجواب نہیں رکھتے، ان کے والد ماسٹر شنکر دیال صاحب آگرے کے نامی وکیل تھے،عاشقؔ تخلص کرتے تھے اور سنا ہے کہ مرزا غالبؔ کے شاگرد تھے، شام صاحب کے چھوٹے بھائی بابو کشن دیال آگرے کے بڑے نامی وکیل تھے، میرے بچپن میں مشاعرے مولانا نثار صاحب کی سرپرستی میں ہوا کرتے تھے‘‘
(آگرہ اور آگرے والے،ص؍۵۷)
مجید احمد مجیدؔ ناروی لکھتے ہیں
’’…نثار ؔ اکبرآبادی …کا نام آج بھی ادبی خدمات نمایاں کررہاہے‘‘ (اعجازِ نوح ،ص؍۸۷)
آج بیدمؔ وارثی کے کلام پر لوگ رقص کرتے ہوئے داد وتحسین دیتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ بیدم ؔ کو شعر وسخن کا فیض جنابِ نثارؔ سے مرحمت ہوا، کیا اردو کیا فارسی کیا ہندی نثارؔ ہرسہ زبان میں اپنی فوقیت رکھتے ہیں۔
نثارؔ اکبرآبادی بظاہر ایک شاعر معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقت میں ایک صوفی تھے اور اپنے دل کو مطمئن بخش رکھنے کے لیے شعری ذوق کو زندہ رکھتے تھے،ان کی شاعری میں معرفت ،عبادت اورفنائیت کا مضمون پایاجاتا ہے وہ محاورے کی شاعری بھی کرتے تھے جیسے
آنسوؤں سے بجھ گئی نارِ جہیم
حشر میں کام آگئیں آنکھیں
نثارؔ کا زیادہ تر وقت آستانہ حضرت سیّدنا امیرابوالعُلا پر گزرتا تھا، وہ مشاعروں میں جانے سے گریز کرتے تھے،احباب اور شاگرد وں کی محبت کی وجہ کر چند مشاعروں میں شرکت بھی کی ہے جہاں نثارؔ کی اسفار کی بات ہے تو وہ داناپور ،دہلی کے علاوہ یوپی کے تقریباً اکثر و بیشتر جگہوں پر آمد ورفت رہی ہے، غازی آباد،بنارس،لکھنؤ خاص طور پر جایاکرتے تھے ،نثار جہاں گئے جس سے ملے اسے اپنا گروید ہ بنالیا، وہ ایک مہمان نواز اور خوش گفتار انسان تھے۔
صباؔ اکبرآبادی لکھتے ہیں کہ
’’نثارؔ کاکلام لوگوں کے دل میں چبھ کر لوگوں کو انہیں داد دینے پر مجبور کرتاتھا اوائل عمر میں رنگ سخن زمانہ کی ہوالیے ہوا تھا مگر عمر کے آخری حصوں میں جوانی کی شوخی اور جذبات کی بے اختیاری متانت اور پاکیزگی میں تبدیل ہوگئی اور رفتہ رفتہ یہ چیز ان کے کلام کی خصوصیات اور تخیل بندی تھی اور انہیں خصوصیات نے انہیں بہت جلد اکبرآباد کے اساتذہ کی صفِ اول میں بیٹھا دیا…شاعر اور درویشی دونوں باتیں اپنے مرشد زبدۃ العارفین مولانا شاہ محمد اکبرؔ ابوالعُلائی داناپوری سے حاصل کیں اور صحیح مفہوم میں نثارؔ اپنے استاد کی یادگار بن گئے‘‘
(ماہنامہ شاعر ،آگرہ نمبر،جون و جولائی ۱۹۳۶ھ ، ص؍۶۴)
اگر ہم نثارؔ کے معاصرین کا جائزہ لیں تو ان میں خصوصیت کے ساتھ یہ چند نام شامل رہیں گے،مرزا رئیس ؔ اکبرآبادی، ماسٹر تصوف حسین واصفؔ اکبرآبادی،شیخ بزرگ علی عالیؔ اکبرآبادی،شاہ محسن ؔداناپوری،حمدؔ کاکوی،شوقؔ اجمیری،فضاؔ اکبرآبادی،امیرؔ مینائی، جلیل ؔ مانک پوری،سیماب ؔ اکبرآبادی وغیرہ۔
حضرت اکبرداناپوری نے نثارؔ کی اعلیٰ قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہیں اجازت و خلافت بھی عنایت فرمایاجس کا اثر مولانا کی ذات پر خوب ہوا ،نثارؔ شاہ اکبر داناپوری کے تلامذہ میں سب سے کامیاب شعر گو ثابت ہوئے، ان کی دیوان دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس پایہ کے شاعر تھے ،اردو ادب میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہے، انہوں نے مختلف انداز کی حمد ، نعت، منقبت، غزلیں، مسدس، قصیدہ،قطعات، قطعاتِ تاریخ، نظم، شجرات وغیرہ کہی ہیں۔
نثارؔ کی مطبوعہ تصنیفات میں مذاقِ عشق،خمارِ عشق، دل وغیرہ شامل ہے، اس کے علاوہ ان کی ایک مکمل دیوان اور ایک غیر مکمل دیوان کے علاوہ فارسی کلام اور ہندی کا مجموعہ بھی ہے جو ہنوز طبع تشنع طبع ہے۔
نثارؔ نے اپنے پیر ومرشد حضرت اکبر کے ملفوظات کو جمع کرکے ’’دل‘‘ کے عنوان سے ۱۳۱۱ھ میں آگرہ سے شائع کرایا، اس کے علاوہ پیرومرشد کی اکثر تصنیف پر قطعاتِ تاریخ بھی لکھے ہیں ۔
شفقؔ اکبرآبادی کاکہنا ہے کہ
’’نثارؔ ایک صاحبِ دل بزرگ تھے، انہوں نے عبادت و ریاضت بکثرت کی ہیں، ان کی ذات سے کرامات کا صدور بھی ہواہے‘‘
(تذکرہ بزم ابوالعُلا،جلد دوم،ص؍ ۲۲۷)
نثارؔکا عقد میر کرامت علی اکبرآبادی کی صاحبزادی محمدی بیگم سے ہو اتھا جن کا خاندان عظمت و شوکت اور نجابت و شرافت کے لحاظ سے آگرہ میں مشہور تھا،اللہ نے آپ کو پانچ اولاد سے نوازہ تھا ایک صاحبزادہ احسان علی اور چار صاحبزادیاں کلثم بیگم،حبیبیہ بیگم،الطافی بیگم اور وحیدن بیگم لیکن چھوٹی صاحبزادی کے علاوہ آپ کی تمام اولاد انتقال کر گئی ،نثار ؔ کو تاحیات اس کا صدمہ رہا۔
نثار ؔ ایک عرصہ تک آشوبِ چشم میں مبتلا رہے لیکن شاعری نہیں چھوڑی، آخر ۱۶؍ شعبان ۱۳۳۹ھ کو رہ گزائے عالم جاودانی ہوئے اور حسبِ و صیت آستانہ حضرت امیر ابوالعلا میں مدفون ہوئے،شاہ محسنؔ داناپوری اور سیمابؔ اکبر آبادی نے قطعۂ تاریخِ رحلت کہا ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.