Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیر حضرت حکیم شاہ کفیل احمد داناپوری

ریان ابوالعلائی

ذکر خیر حضرت حکیم شاہ کفیل احمد داناپوری

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    حضرت نظام الدین مشہدی کے نویں پشت کے بعد حضرت شاہ ابوالبرکات ابوالعُلائی مدن پوری ( متوفیٰ۱۳۲۶ھ) تیرہویں صدی ہجری کے اوائل میں حضرت شاہ واجدکی صاحبزادی نجیب النسا سے نکاح کے بعد شاہ ٹولی میں آ بسے، آپ کو اجازت و خلافت حضرت شاہ مبارک حسین (متوفیٰ۱۲۷۱ھ) اور حضرت حکیم شاہ علیم الدین بلخی(متوفیٰ۱۲۸۷ھ) سے حاصل تھی، جس کے شجرے خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ کے کتب خانہ میں محفوظ ہیں، آپ نے سلسلۂ طریقہ کو زور بخشا اور خانقاہ برکاتیہ کی بنیادرکھی جہاں سے لوگ اپنے دامنِ محبت میں دعا کی امیدلے کر حاضر ہوتے اور اپنی امید برلاتے، آپ کا عرس۱۰؍ذیقعدہ کو نہایت عمدہ پیمانے پر منعقد ہوتا تھا، صاحبزادگان میں شاہ خلیل احمد (لاولد)، شاہ عبدالجلیل اور حکیم شاہ کفیل احمد ابوالعُلائی والد کے بعد خاندان کی شناخت بنے، واضح ہو کہ خانقاہ برکاتیہ کے سجادہ نشیں اول مولانا شاہ عبدالجلیل ہوئے، آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے مولانا شاہ محی الدین حسین سجادہ ٔبرکاتیہ ہوئے، آپ کے وقت میں اس خانقاہ کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی مگر ۱؍محرم الحرام ۱۴۰۱ھ کو آپ کے وصال کے بعد سے یہ خانقاہ معدوم ہوگئی۔

    آمدم برسر مطلب حکیم شاہ کفیل احمد ابوالعُلائی کی پیدائش شاہ ٹولی میں ہوئی، والد کی صحبت نے جلد آپ کو تعلیمی میدان کا شہسوار بنا دیا، آپ حکیم عبدالعزیز (بانی تکمیل الطب کالج، لکھنؤ) کی شہرت سن کر آپ کے زیرِ سایہ رہ کر فن طب کی تکمیل کی، فن حکمت کے بعد باضابطہ شاہ ٹولی میں مطب قائم کیا جس کے بعد سے شہر کے لوگوں کا تانتا لگ گیا، دوردراز کے لوگ آپ کی جانب فن حکمت سے متاثر ہوکر آتے رہے، آپ نے حکمت کے میدان میں وہ نسخہ جات منکشف کئے جو کسی زمانے سے معدوم ہوچکے تھے، کچھ دنوں میں صوبہ و غیر صوبہ میں آپ سے متاثر لوگ آپ کے قائل ہوتے چلے گئے،نسخہ نہایت سہل ہوتا، شہر کے امیر و غریب علاج و معالجہ کے لیے کثرت سے آیاجایاکرتے تھے، حکمت کے میدان کے مستقل عادی ہونے کے باجود عالمانہ روش اختیار کرتے، بزرگوں کے لیے سالانہ عرس کا خاص اہتمام کرتے، داد و دہش اور کثرت مال کو لوگوں میں خوب تقسیم کرتے، مہمان کی ضیافت داری کا خوب اہتمام کرتے، آپ نے دو نکاح کیا تھا، محل اولیٰ سے ایک دختر جو موضع پالی ضلع جہان آباد میں منسوب ہوئی اور محل دوم سے پانچ صاحبزادے اور چار صاحبزادی ہیں، ماشاء اللہ سب آباد و شاد ہیں کراچی، جمشیدپور اور داناپور میں ہنوز آباد ہیں، واضح ہوکہ حکیم صاحب کی ہمشیرہ بی بی تمیز النسا کا نکاح حضرت شاہ نظیر حسن سے ہوا یعنی آپ کی ہمشیرہ شاہ ظفر سجاد کی نانی ہوئیں، شاہ عبدالجلیل اور شاہ کفیل احمد شاہ ظفر کو خوب عزیز رکھتے، خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ کی محافل میں آپ دونوں برادران روزانہ تشریف لایاکرتے اور نشست کا سلسلہ برقرار رکھتے، شاہ محسنؔ داناپوری سے آپ کے تعلقات کم سنی سے ہی رہے مگر آپ کے بعدنہ ہی میدانِ حکمت رہی اور نہ ہی خانقاہی رواداری، اقبالؔ کہتے ہیں کہ

    ع زوال بندۂ مؤمن کا بے ذری سے نہیں

    (تاریخ اطبائے بہار، ص؍۱۵۹)

    انتقال آپ کا ۱۷؍شوال المکرم ۱۳۶۱ھ بمقام شاہ ٹولی ہوا، قطعۂ تاریخ وصال ملاحظہ ہو۔

    ڈھا گیا چرخ کیا ستم پر ستم

    کس طرح تم کو یہ سنائیں ہم

    آپ کرتے تھے دل ہی دل سب کی

    آپ کا سب کسی پر دست کرم

    کون لے گا خبر غریبوں کی

    غم اگر ہے تو بس اسی کا غم

    خوب ہے نورؔ مصرعہ تاریخ

    ’’رفت جنت کفیل وائے الم‘‘

    ۱۳۶۱ھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے