Font by Mehr Nastaliq Web

سیالکوٹ کے شاعر اور ادیب

کل: 17

سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے

عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا' و 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق

پنجاب کے علمائے اجلہ اور فضلائے کبریٰ میں سے ایک تھے، جنہوں نے شریعت و طریقت میں ایسا قدم راسخ رکھا کہ کسی علمائے عہد اور مشائخِ وقت کو آپ کے قول و فعل پر نکتہ چینی نہ تھی۔

سیالکوٹ کے ممتاز شاعر، صحافی اور ادیب تھے، آپ نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کی اور شاعری، سوانح نگاری اور سماجی موضوعات پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب تھے، آپ کا تعلق سیالکوٹ سے تھا، تقسیمِ ہند کے بعد دہلی اور پھر کینیڈا میں مقیم رہے، منور لکھنوی کے شاگرد تھے اور ماہنامہ "حقیقت بیانی" کے سرپرست بھی رہے۔

برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، صوفی، مصنف اور سلسلۂ نقشبندیہ کے بزرگ تھے، آپ آل انڈیا سنی کانفرنس کے صدر رہے اور مسجدِ شہید گنج تحریک میں اہم کردار ادا کیا، دینی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کے میدان میں آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں۔

کپتان واحد بخش سیال (ریٹائرڈ) سلسلہ چشتیہ صابریہ سے وابستہ ایک پاکستانی صوفی تھے۔

شاعر، مدیر اور آزادی کی جد و جہد میں حصہ لینے والے ایک سرگرم سیاسی کارکن

بولیے