لکھنؤ کے شاعر اور ادیب
کل: 89
عالم لکھنوی
- سکونت : لکھنؤ
عبدالرحمٰن صوفی
ادیب لکھنوی
ادیب مصطفیٰ آبادی
ایک عالمِ دین اور طبیب تھے جنہوں نے تعلیم و تبلیغ کے لیے لکھنؤ اور صومالیہ میں خدمات انجام دیں۔
افقر موہانی
معروف ہندوستانی شاعر اور حاجی وارث علی شاہ کے مرید
افسرؔ میرٹھی
معروف شاعر، سچے محب وطن اور آزاد خیال قوم پرور انسان تھے
اختر گوپاموی
امن لکھنوی
امین الدین وارثی
روحانی شاعر اور "وارث بیکنٹھ پٹھاون" کے مصنف
اسد علی خاں قلق
اسیر لکھنوی
مصحفی کے نامور شاگرد، فنِ عروض کے امام اور امیر مینائی جیسے عظیم شعرا کے استاد تھے۔
عزیزؔ لکھنوی
- پیدائش : جموں اور کشمیر
- سکونت : لکھنؤ
- Shrine : لکھنؤ
بشیر فاروقی
- سکونت : لکھنؤ
بیدم شاہ وارثی
معروف نعت گو شاعر اور ’’بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ‘‘ کے لیے مشہور
بیخود موہانی
ادبی میدان میں ایک انفرادی رنگ کے مالک، مایۂ ناز شاعر اور ہر دل عزیز صاحب تصنیف و تالیف تھے
فقیر محمد گویا
ناسخ کے شاگرد، مراٹھا حکمراں یشونت رائو ہولکر اور اودھ کے نواب غازی الدین حیدرکی فوج کے سپاہی
فتح محمد حقیرؔ
نابینا حافظِ قرآن، صاحبِ تصنیف اور اردو و فارسی کے حمد و نعت گو شاعر تھے۔
غرقاب نظامپوری
گوپی ناتھ امن
- سکونت : ملیح آباد
حفیظ سلمانی
سراج لکھنوی اور عمر انصاری کے شاگرد، صاحبِ دیوان شاعر اور آئینہ خانہ کے خالق تھے۔
حمید صدیقی لکھنوی
اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ابتدا میں غزل کہتے تھے مگر سفرِ حجاز کے بعد نعت گوئی کو اپنا مستقل میدان بنایا، گیارہ مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی، جس کے باعث ’’زائرِ حرم‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے، ان کے نعتیہ مجموعوں میں گلبانگِ حرم، بستانِ حرم اور الاسماء المنظومہ لنبی الرحمۃ نمایاں ہیں۔
حنیف اخگر
- پیدائش : ملیح آباد
- سکونت : ریاستہائے متحدہ امریکہ
- Shrine : ریاستہائے متحدہ امریکہ
اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ معاشیات تھے، شریف اثرؔ کے فرزند، اقوامِ متحدہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور "چراغاں"، "خیاباں" اور نعتیہ مجموعہ "خلقِ مجسم" ان کی نمایاں ادبی یادگاریں ہیں۔
حسرت موہانی
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور
دبستانِ کراچی کے ممتاز غزل گو شاعر تھے، ان کی شاعری زبان کی سلاست، سادگی اور سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال ہے، غزل کے علاوہ نعت، منقبت اور سلام نگاری میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں، خصوصاً امام حسین کے حضور ان کے سلام عقیدت و محبت کے جذبات سے بھرپور ہیں۔
جلال لکھنوی
اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، قواعد داں اور لغت نگار تھے، ابتدا میں لکھنؤ اور بعد ازاں ریاستِ رام پور سے وابستہ رہے، جہاں ان کی علمی و ادبی خدمات کو خاص پذیرائی ملی، شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو زبان، عروض اور قواعد پر بھی اہم کام کیا اور متعدد دیوان، لغات اور علمی رسائل تصنیف کیے۔
جوان سندیلوی
اردو کے ممتاز شاعر تھے، جن کا تعلق سندیلہ، ہردوئی سے تھا، انہوں نے 1905ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا، ابتدا میں میر منصب علی سندیلوی اور بعد ازاں آرزو لکھنوی سے اصلاحِ سخن لی، ان کا شعری سرمایہ "کلیاتِ جوان" اور "رباعیاتِ جوان خوش رنگ" کی صورت میں شائع ہوا جو ان کے پختہ شعری ذوق اور فنی مہارت کا آئینہ دار ہے۔
جگر بسوانی
اردو کے ممتاز شاعر تھے، ان کا تعلق بسواں، سیتاپور کے ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا اور شاعری کا ذوق انہیں اپنے والد شیخ امیر علی جزاؔ سے ورثے میں ملا، انہوں نے امیر مینائی کی شاگردی اختیار کی جس سے ان کے فن کو پختگی حاصل ہوئی، ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت، زبان کی شستگی اور جذبات کی لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔
جوش ملیح آبادی
- پیدائش : لکھنؤ
- سکونت : لکھنؤ
- Shrine : اسلام آباد
اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر
کشفی لکھنوی
شاہ زید ابوالحسن نقشبندی دہلوی کے مرید اور ’’ساز و نغمہ‘‘ اور ’’چراغ حرم‘‘ کے شاعر
کوکب سندیلوی
سندیلہ کے شاعر تھے، شعر و ادب کا ذوق انہیں خاندانی ورثے میں ملا، جبکہ روحانی تربیت شاہ فرخ حسن سے حاصل کی، اگرچہ ان کا کوئی مستقل شعری مجموعہ شائع نہ ہوسکا، تاہم وہ اہلِ ادب میں صاحبِ ذوق شاعر کی حیثیت سے معروف رہے۔
خورشید حسین بدر
سلام اور قصیدہ نگاری کے ممتاز شاعر تھے، رسمی تعلیم سے محروم ہونے کے باوجود فطری شعری صلاحیت کے مالک تھے، ایک عرصہ ممبئی میں زری و گلابتون کی صنعت سے وابستہ رہے جبکہ ان کی شاعری میں اہلِ بیتِ اطہار سے والہانہ عقیدت نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔
خواجہ وزیر لکھنوی
مخدوم شاہ مینا
- سکونت : لکھنؤ