Font by Mehr Nastaliq Web

مرادآباد کے شاعر اور ادیب

کل: 30

جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کے بانی

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اور اپنی صوفیانہ شاعری کے لئے مشہور

جامعہ اشرفیہ حبیبیہ برکاتیہ، فتح پور، مرادآباد کے مدرس

اوگھٹ شاہ وارثی کے چہیتے مرید

ہندوستان کے ممتاز ادیب، صوفی مزاج دانشور اور سماجی مصلح تھے جو حضرت خادم حسن اجمیری کے شاگرد اور معروف تصنیف "خم خانۂ تصوف" کے مصنف تھے، جنہوں نے علم، ادب، تصوف اور خدمتِ خلق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

مرادآباد کے معروف حکیم اور صاحبِ اسلوب شاعر تھے، پیشۂ طب کے ساتھ شعر و ادب سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے اور اپنی قادرالکلامی، پختہ مشقی اور ادبی صلاحیت کے باعث اہلِ قلم میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔

ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لیے معروف

گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔

1857 کی جنگ کے مجاہد

اپنے عہد کے جید عالم، منطق و فلسفہ کے ماہر اور عربی و فارسی کے صاحبِ ذوق شاعر تھے۔

’’صدرالافاضل‘‘ کے نام سے مشہور

مولانا لطف اللہ علی گڑھی کے شاگرد خاص

اوگھٹ شاہ وارثی کے والد محترم

شہر پونہ کے معروف شطاری بزرگ

مولانا علی نقی صفی لکھنوی کے شاگرد

بولیے