Font by Mehr Nastaliq Web

کتاب: تعارف

معراج العاشقین ایسا ہدایت نامہ ہے جس میں کثرت سے خواجہ صاحب کے ملفوظات اور آپ کے وعظ اور اذکار کے حالات درج ہیں۔ حالانکہ یہ موضوع زیر بحث ہے کہ معراج العاشقین خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی تصنیف ہے یا نہیں۔ بہرحال اسے اردو نثر کی پہلی نثری کتاب مانا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب کو مولوی عبد الحق نے اپنے مقدمہ کے ساتھ شائع کیا ہے، اور مقدمہ میں اس بات پر لمبی بحث کی ہے کہ یہ کتاب خواجہ صاحب کی ہی ہے۔ اس کے علاوہ مقدمہ میں خواجہ بندہ نواز کے حالات زندگی بھی درج کئے ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

سید محمد حسینی جو تاریخِ تصوف میں حضرت بندہ نواز گیسو دراز کے نام سے مشہور ہیں، سلسلۂ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ اور حضرت نصیرالدین محمود چراغِ دہلی کے ممتاز مرید و خلیفہ تھے، آپ کا سلسلۂ نسب حضرت علی مرتضیٰ تک پہنچتا ہے، آپ کے آبا و اجداد کا تعلق ہرات سے تھا، تاہم بعد میں خاندان کے بعض افراد دہلی میں آ کر آباد ہوگئے، حضرت بندہ نواز گیسو دراز کی ولادت 4 رجب 721ھ کو دہلی میں ہوئی، آپ کے والد سید یوسف حسینی نہایت متقی اور صالح شخصیت کے مالک تھے اور حضرت نظام الدین اؤلیا سے عقیدت و وابستگی رکھتے تھے، سلطان محمد بن تغلق کے عہد میں جب دارالحکومت کو دہلی سے دولت آباد منتقل کیا گیا تو بے شمار علما، مشائخ اور اہلِ علم کے ساتھ آپ کا خاندان بھی دولت آباد منتقل ہوگیا، اس وقت آپ کی عمر تقریباً چار برس تھی، دولت آباد میں آپ کے ماموں ملک الامرا سید ابراہیم مصطفیٰ کو اہم منصب حاصل تھا، جس سے خاندان کو علمی اور سماجی اعتبار سے استحکام ملا، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ دوبارہ دہلی تشریف لائے اور حضرت نصیرالدین چراغِ دہلی کی خدمت میں حاضر ہو کر روحانی و علمی تربیت حاصل کی، آپ نے فقہ، حدیث، تفسیر اور تصوف کی تعلیم متعدد جید علما سے حاصل کی اور کم عمری ہی میں علمی و روحانی کمالات کے حامل بن گئے، حضرت گیسو دراز کی تعلیمات میں انسان دوستی، صبر و استقامت، اخلاقِ حسنہ، رواداری اور مختلف مذاہب و عقائد کے ماننے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو خاص اہمیت حاصل تھی، آپ نے اپنے اقوال و اعمال کے ذریعے محبت، اخوت اور باہمی احترام کا درس دیا، 1397ء میں سلطنتِ بہمنی کے فرماں روا تاج الدین فیروز شاہ بہمنی کی دعوت پر آپ گلبرگہ تشریف لے گئے، وہاں آپ نے درس و تدریس، اصلاحِ باطن اور اشاعتِ تصوف کا عظیم کام انجام دیا، آپ کا فیض پورے دکن میں پھیلا اور ہزاروں افراد نے آپ سے روحانی استفادہ کیا، حضرت گیسو دراز نے تقریباً ایک صدی پر محیط بابرکت زندگی گزاری اور 16 ذی القعدہ 825ھ میں وصال فرمایا، آپ کا مزارِ مبارک کلبرگی میں مرجعِ خلائق ہے جہاں آج بھی لاکھوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید
بولیے