دنیا کی فضا بس ایک نظر میں زیر و زبر ہو جاتی ہے
دنیا کی فضا بس ایک نظر میں زیر و زبر ہو جاتی ہے
وہ دیکھتے ہیں ان نظروں سے نظروں کو نظر ہو جاتی ہے
وہ دنیا سے کھو جاتا ہے اور کیا سے کیا ہو جاتا ہے
اس مست نظر کی جس پر بھی اک بار نظر ہو جاتی ہے
جب آتی ہے رات وہ آتے ہیں ساتھ اپنے اجالا لاتے ہیں
چھا جاتا ہے اندھیرا آنکھوں میں جس وقت سحر ہو جاتی ہے
تدبیر کوئی چلتی ہی نہیں تقدیر کبھی ٹلتی ہی نہیں
ہر چند بدی سے بچتا ہوں اس پر بھی مگر ہو جاتی ہے
ہر وقت گزرتا رہتا ہے یہ دریا بہتا رہتا ہے
ہو عید کا دن یا شام الم ہر حال بسر ہو جاتی ہے
موجود جو شئے ہو جاتی ہے معدوم نہیں پھر ہو سکتی
دنیائے وجود میں اے امجدؔ تغییر صور ہو جاتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.