Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

نظر والے شریک جلوہ گاہ طور ہوتے ہیں

نخشب جارچوی

نظر والے شریک جلوہ گاہ طور ہوتے ہیں

نخشب جارچوی

MORE BYنخشب جارچوی

    نظر والے شریک جلوہ گاہ طور ہوتے ہیں

    کہ ہر محفل کے دنیا میں الگ دستور ہوتے ہیں

    جہاں جلوے ہی جلوے ہوں وہاں نظریں نہیں ہوتیں

    وہ سب پردے اٹھا دیتے ہیں جب مستور ہوتے ہیں

    سیہ بختی میں ہم رنگی ہی شاید کچھ سکوں بخشے

    ترے مہمان ہم بھی اے شب دیجور ہوتے ہیں

    محبت اور بہ قید رسم توہین محبت ہے

    وہ دیوانے نہیں جو واقف دستور ہوتے ہیں

    سمجھتے ہیں فریب جلوۂ رنگیں مگر نخشبؔ

    یہ وہ منزل ہے اہل دل جہاں مجبور ہوتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے