Font by Mehr Nastaliq Web

وہ شے کہ لوگ جسے آفتاب کہتے ہیں

برق وارثی

وہ شے کہ لوگ جسے آفتاب کہتے ہیں

برق وارثی

MORE BYبرق وارثی

    وہ شے کہ لوگ جسے آفتاب کہتے ہیں

    ہم اس کو اپنی نظر کا شباب کہتے ہیں

    ہر اک ادا کو تری لا جواب کہتے ہیں

    ستم کو بھی کرم بے حساب کہتے ہیں

    ہر اک شے میں ہے آباد حسن کی دنیا

    ہر اک ذرے کو ہم آفتاب کہتے ہیں

    تہ نقاب نہیں وہ تجلیٔ زیبا

    ہم اپنے ضعف بصر کو نقاب کہتے ہیں

    عروس دہر کی ہے اک حسین سی کروٹ

    جہاں والے جسے انقلاب کہتے ہیں

    فروغ دے کے اسے بحر بیکراں کر دو

    وہ زندگی جسے حباب کہتے ہیں

    یہ تیری چشم خمار آلود و حیا آلود

    جو مجھ سے پوچھو اس کو شراب کہتے ہیں

    شباب عشق کا میرے وہ ایک پرتو ہے

    وہ اپنے حسن کا جس کو شباب کہتے ہیں

    کچھ اور چاہیے مضراب زندگی کے لئے

    اداس اداس سا ہے یہ رباب کہتے ہیں

    ہر اک سوال پر الٹا سوال ہوتا ہے

    ترے جواب کو ہم لا جواب کہتے ہیں

    تلاش کر لے جو کثرت میں حسن وحدت کو

    اسی نگاہ کو ہم کامیاب کہتے ہیں

    سکون جسم ہو جس میں سکون روح نہ ہو

    ہم اس سکوں کو اک اضطراب کہتے ہیں

    وہی ہے راگ جسے دل کا ساز بھی گائے

    رباب دل کو ہم اصل رباب کہتے ہیں

    وہ اپنے حسن پہ نازاں تو اپنے عشق پہ ہم

    ہم اپنے آپ کو ان کا جواب کہتے ہیں

    ہر ایک جزو ہے آئینہ وسعت کل کا

    ہر ایک حرف کو ہم ایک کتاب کہتے ہیں

    شعاع حسن درخشاں نہیں نقاب سے کم

    وہ اپنے حسن کو کیوں بے نقاب کہتے ہیں

    یہ زندگی کہ ہے رحمت تری رفاقت میں

    ترے بغیر ہم اس کو عذاب کہتے ہیں

    مسرتیں بھی ہیں اے برقؔ غم کا آئینہ

    سکون کو بھی تو ہم اضطراب کہتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے وارثیہ (Pg. 154)
    • مطبع : فائن بکس پرنٹرس (1993)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے