Font by Mehr Nastaliq Web

سرمد ہولی کھیل رہا ہے سرمد ہی کے سنگ

نعیم سرمد

سرمد ہولی کھیل رہا ہے سرمد ہی کے سنگ

نعیم سرمد

MORE BYنعیم سرمد

    سرمد ہولی کھیل رہا ہے سرمد ہی کے سنگ

    سرمد ہی کے گال گلابی سرمد ہی کا رنگ

    اپنی آمد پر اپنے کو خوب سجایا ری

    آپ ہی اپنا روپ نہارا آپ ہی ہو گئی دنگ

    اپنے عشق میں مارے مارے پھر رہے تھے یعنی

    اپنے جیسا روپ بنایا اپنے جیسا ڈھنگ

    دیکھ اذان فجر سے لڑتی شنکھ کی یہ آواز

    جیسے دو سکھیاں کرتی ہوں اک دوجے کو تنگ

    مولا جیوندے وسدے رہن ایہہ سچے پیر فقیر

    مولا اوہدی خیر ہووے جنہوں عشق دا چڑھایا رنگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے