سرمد ہولی کھیل رہا ہے سرمد ہی کے سنگ
سرمد ہولی کھیل رہا ہے سرمد ہی کے سنگ
سرمد ہی کے گال گلابی سرمد ہی کا رنگ
اپنی آمد پر اپنے کو خوب سجایا ری
آپ ہی اپنا روپ نہارا آپ ہی ہو گئی دنگ
اپنے عشق میں مارے مارے پھر رہے تھے یعنی
اپنے جیسا روپ بنایا اپنے جیسا ڈھنگ
دیکھ اذان فجر سے لڑتی شنکھ کی یہ آواز
جیسے دو سکھیاں کرتی ہوں اک دوجے کو تنگ
مولا جیوندے وسدے رہن ایہہ سچے پیر فقیر
مولا اوہدی خیر ہووے جنہوں عشق دا چڑھایا رنگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.