Font by Mehr Nastaliq Web

اور دن سے ہیں باتیں بھی عنایت کی نظر بھی

امیر مینائی

اور دن سے ہیں باتیں بھی عنایت کی نظر بھی

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    اور دن سے ہیں باتیں بھی عنایت کی نظر بھی

    پر دیکھیے جاتے ہیں کنکھیوں سے اور بھی

    سچ کہہ دو نکل بھاگے ہو قابو سے یہ اس کے

    لب خشک ہیں اے جان پسینے میں ہوں تر بھی

    جب قتل کو آیا ہے مرے غمزۂ قاتل

    کیا تیز چھری کھینچ کے نکلی ہے نظر بھی

    ہے شوق جو باتوں کے بڑھانے کا تو اے جان

    پیدا کرو اس بوجھ اٹھانے کو کمر بھی

    پہلو میں مرے رہتی ہیں جی دیتے ہیں ان پر

    دل ہو کہ جگر دونوں ادھر بھی ہیں ادھر بھی

    بیمار میں کس کا ہوں کہ آئے جو مسیحا

    تعظیم کو اٹھا ہے مرا درد جگر بھی

    فرقت میں امیر ایسی پڑتی ہے اداسی

    روتے ہیں مرے حال پر در بھی بدر بھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے