اس شوخ حسینوں پہ جو مائل نہیں ہوتا
اس شوخ حسینوں پہ جو مائل نہیں ہوتا
کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا
کچھ وصل کے وعدے سے بھی حاصل نہیں ہوتا
خوش اب تو خوشی سے بھی مرا دل نہیں ہوتا
فریاد بھی کرتا ہوں تو اللہ سے اپنے
اس در کے سوا میں کہیں سائل نہیں ہوتا
جس بزم میں وہ رخ سے ہٹا دیتے ہیں پردہ
پروانہ وہاں شمع پہ مائل نہیں ہوتا
تم اور کوئی کام امیرؔ اس کو سکھاؤ
تڑپانے تڑپنے کے لیے دل نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.