Sufinama

اس طرف بھی کرم اے رشک مسیحا کرنا

بیدم شاہ وارثی

اس طرف بھی کرم اے رشک مسیحا کرنا

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    اس طرف بھی کرم اے رشک مسیحا کرنا

    کہ تمہیں آتا ہے بیمار کا اچھا کرنا

    بے خود جلوہ سے کہتا ہے یہ جلوہ ان کا

    لطف نظارہ اٹھا ہوش سنبھالا کرنا

    اے جنوں کیوں لئے جاتا ہے بیاباں میں مجھے

    جب تجھے آتا ہے گھر کو مرے صحرا کرنا

    جب بجز تیرے کوئی دوسرا نہیں موجود

    پھر سمجھ میں نہیں آتا ترا پردہ کرنا

    یہی وہ کام ہیں ناکام محبت کے لئے

    کبھی ان کا کبھی تقدیر کا شکوہ کرنا

    ہم بھی دیکھیں ترے آئینۂ رخ کو لیکن

    شاق ہے گرد نظر سے اسے دھندلا کرنا

    کوئی جا ہو دیر و حرم ہو کے صنم خانہ ہو

    ہم کو نقش قدم یار پہ سجدہ کرنا

    دیکھ لے جا کے وہ دریا پہ تماشائے حباب

    جس کو منظور ہو نظارۂ دنیا کرنا

    پردۂ ہستی موہوم ہٹا لو پہلے

    پھر جہاں چاہو وہاں یار کو دیکھا کرنا

    شکوہ اور شکوۂ محبوب الٰہی توبہ

    کفر ہے مذہب عشاق میں شکوہ کرنا

    ایک تم ہو کہ تمہیں بات کا کچھ پاس نہیں

    اور اک ہم کہ ہمیں منہ سے جو کہنا کرنا

    وہ مرے اشک کو دامن پہ جگہ دیتے ہیں

    یعنی منظور ہے اس قطرے کو دریا کرنا

    ایسی آنکھوں کے تصدق مری آنکھیں بیدمؔ

    کہ جنہیں آتا ہے اغیار کو اپنا کرنا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    مکرم علی وارثی

    مکرم علی وارثی

    جاوید حسین

    جاوید حسین

    نصرت فتح علی خان

    نصرت فتح علی خان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے