Font by Mehr Nastaliq Web

دنیا میں کس کو ہے بقا آخر فنا آخر فنا

محمد ولی

دنیا میں کس کو ہے بقا آخر فنا آخر فنا

محمد ولی

MORE BYمحمد ولی

    دنیا میں کس کو ہے بقا آخر فنا آخر فنا

    سن لے ذرا مرد خدا آخر فنا آخر فنا فنا

    دولت پہ مت کر تو گماں رہ جائے گی ساری یہاں

    قارون بھی تو کہتا گیا آخر فنا آخر فنا

    حور و پری جن و بشر دنیا کے سارے جانور

    کہتے ہیں سب یہ برملا آخر فنا آخر فنا

    دکھلا کے اپنا بانکپن کمّل کو کر کے زیب تن

    سب کہہ گئے شاہ و گدا آخر فنا آخر فنا

    اس حسن پر گر گمان دو روز کا ہے مہمان

    یوسف نے مرتے دم کہا آخر فنا آخر فنا

    شاہ سکندر نے ولا جب موت کا چکھا مزا

    دنیا سے یہ کہتا گیا آخر فنا آخر فنا

    ہے موت تیری تاک میں مل جائے گا تو خاک میں

    قرآن میں ہے یہ لکھا آخر فنا آخر فنا

    کر لے جو کرنا ہے تجھے آخر کو مرنا ہے تجھے

    سچ ہے بزرگوں نے کہا آخر فنا آخر فنا

    کہنا ولیؔ کا مان لے مرنے کی دل میں ٹھان لے

    کر لے جو کرنا ہے بھلا آخر فنا آخر فنا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے