یا لیت صبا قطب نگری موہے پی کی کھبریا سنا تو سہی
یا لیت صبا قطب نگری موہے پی کی کھبریا سنا تو سہی
مور چین گیا موری نیند گئی وا کی نکہت زلف سنگھا تو سہی
ز فراق تو بر من حال زبوں جو گزرتی ہے بپتا وہ کس سے کہوں
توئے گھٹ میں رکھوں کبھی جائے ندوا موری نینوں میں آ کے سما تو سہی
چو روز ازل تو بگفت ز ما توری بتیاں وہ سگری ہیں یاد پیا
وہ ہی لب پہ ہے نغمۂ قالو بلیٰ تو الست کی مرلی بجاوت ہے
اسے دل تو عبث گھبراوت ہے موری
تورا شیام کھینا وہ آوت ہے واکی راہ میں پلکن بچھا تو سہی
مجھے راہ میں دیکھ کے مورے کنور کا ہو کیسی نہ لطف و کرم کی نجر
گہے گفت نہ از من خستہ جگر کہ تو جات کہاں ذرا آ تو سہی
بر حال تباہ منت بن کر پیا نیند نہ آوت آٹھ پہر
موہے سونی سجریا پہ لاگے ہے ڈر جرا لوریاں گا کے سلا تو سہی
چو بہ طیبہ گزر گئی باد صبا تو یہ کہنا نبی جی سے بہر خدا
ایک طاہرؔ زار جو ہند میں ہے وا کو اپنے دوارے بلا تو سہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.