ہر شئے میں اپنا یار نے جلوہ دکھا دیا
ہر شئے میں اپنا یار نے جلوہ دکھا دیا
دل سے ہمارے غیر کا نقشہ مٹا دیا
بھاتا نہیں مجھے جو وہ کرتا ہے ذکر غیر
ہم نے تو دل میں یار کا نقشہ جما دیا
وہ حسن دل ربا ہے تمہارا جہان میں
لیلیٰ دکھا کے اس لیے مجنوں بنا دیا
موسیٰ کو کوہ طور پہ جب بیکلی ہوئی
پھر رخ سے اپنے یار نے برقع اٹھا دیا
آرام و عیش سے وہاں ملک عدم میں تھے
لا کر کے دام عشق میں ہم کو پھنسا دیا
دنیا کے میکدے میں تو سوتے تھے بے خبر
سوتے تھے بسکہ یار نے ہم کو جگا دیا
بیت الحرام میں دیر میں جو کچھ وہی تو ہے
مومن کوئی جہاں میں برہمن بنا دیا
اک دن تمہاری بزم کے دوری میں ساقیا
جام مئے توحید کا ہم کو پلا دیا
شاہد کے دل سے اس لیے جاتی رہی دوئی
مرشد نے ہم کو برزخ صغریٰ بنا دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.